آثار بتاتے ہیں سرکار ہیں محفل میں
پروانوں چلے آؤ دلدار ہیں محفل میں
رحمت کی تجلیاں ہیں دلگیرو چلے آؤ
کچھ غم نہ کرو وَاللہ غم خوار ہیں محفل میں


!معزز حاضرینِ محترم


اللہ کریم کے ہم پر بے شمار انعام و اکرام ہیں جن کاجسقدربھی شکر ادا کریں تو ہم ایک بال برابر بھی حق ادا نہیں کرسکتے اور انعامات کی تعداد اس قدر ہے کہ کبھی بھی گنتی کرنا چاہیں تو گن نہیں سکتے،جو کسی محنت یا اعمال کا معاوضہ نہیں بلکہ محض ربِ کریم کے احسانات ہیں،جیسے اشرف المخلوقات میں پیدا فرمانا۔۔۔اور پھر اپنے محبوبﷺکی امت سے پیدا فرمانا ۔۔۔جن کی رحمت دنیا سے لے کر قبر وحشر تک سایہ فگن ہے اور جو ہر امتی کیلئے اُس سے زیادہ اُس کی بخشش کے فکر مند ہیں پھر اللہ کریم نے ہمیں اُس برصغیرکے خطہ میں پیدا فرمایاجہاں اسلام اولیاء کرام کے وسیلہ جلیلہ سے پھیلا۔۔۔ جن کی قربتوں نے مخلوقِ خدا کو محبتِ رسالت مآبﷺکے ساتھ ایسی ایمانی حلاوت بخشی ہے جس کے سامنے دنیا کا ہرنشہ ہیچ تر ہے ۔


میرے دوستو!آج آپ کے سامنے آیتِ مقدسہ بھی اللہ کریم کے احسانات منانے کیلئے تلاوت کی ہے،آیتِ مقدسہ کا ترجمہ بیان کرنے سے پہلے چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتاہوں۔

 

میرے دوستو!اس زندگی کی رونقوں اور دل لگیوں کو جب سزائے موت ہم سے چھین لیتی ہے تو دنیا کا ہر صاحبِ شعور انسان اس زندگی کی حقیقت کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اُسے یہ بات تو سمجھ میں آچکی ہوتی ہے کہ یہ دنیا اور اس میں ہمارا رہنا سب کچھ عارضی ہے یقیناًوہ یہ بات بھی سمجھ چکا ہوتا ہے کہ یہ جگہ منزل نہیں ہے بلکہ ایک گمنام جنگل ہے وہ اپنے طریقہ اور بساط کے مطابق اس جنگل سے نکلنے کا پُرامن راستہ تلاش کرنے لگتا ہے اور اس کی اپنی حالت برف بیچنے والے کی طرح ہوتی ہے جو اپنے گاہکوں کو بار بار صدا لگاتا ہے کہ میرے مال اور میرے حال پر رحم کرو ۔۔۔اگر تم نے مجھ سے برف نہ خریدی تو یہ خودبخود پانی بن جائے گی اورمیں اپنے گھر کس منہ سے جاؤں گاجب کہ میرے گھر والے اپنی ضروریات کو لیے ہوئے میرا انتظار کررہے ہیں،عین اسی طرح صاحبِ شعور انسان بھی اس برف کی مانند زندگی سے نفع حاصل کرکے پُرامن راستہ کے ذریعہ گمنام جنگل سے نکل کر مقصدِ حیات کو پانا چاہتا ہے وہ کہاں تک اس مقصد میں کامیاب ہوتا ہے وہ یہ نہیں جانتا مگر اس کوشش کے نتیجے میں کسی نہ کسی راستے کو سیدھا راستہ سمجھ کر ضرور اختیار کرلیتا ہے لیکن جب کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اُس کا اپنی سوجھ بوجھ سے چُنا ہوا راستہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ سخت بے چینی کے ساتھ مایوس بھی ہونے لگتا ہے، اُس سے اگر ایسی حالت میں پوچھا جائے کہ تم کس کی تلاش میں پریشان ہو؟ تو وہ ایک ہی جواب دے گا کہ اس جنگل سے نکلنے کیلئے پُرامن اور سیدھا راستہ تلاش کررہا ہوں کاش مجھے کوئی اس جنگل سے باہر نکال کر مقصدِ حیات تک پہنچا دے، کاش مجھے کوئی راہنما مل جائے۔


میرے دوستو!یہ وہ حقیقت ہے جس کی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کبھی نہ کبھی ہر صاحبِ شعور انسان سخت ضرورت محسوس کرتا ہے اسی لیے خالقِ کائنات نے بھی انسان کی اسی ضرورت کو اپنے کلام میں بنیادی اور مرکزی حیثیت عطا فرمائی ہے یہ بھی اُس ذاتِ کریم کا اپنے بندوں پر بے شمار فضل وکرم ہے کہ اُس نے اپنے بندوں کی حقیقی کامیابی اور دائمی تسکین کا ہر راز اپنے کلام میں بیان فرما دیا ہے آئیے اب اللہ کریم کے کلامِ برحق سے اسی پریشانی کا حل تلاش کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اس گمنام اور بے چینی کے جنگل سے کون سا راستہ محفوظ اور سیدھا منزل کی طرف نکلتا ہے،اُس کی علامت کیا ہے،ہمارے اس سوال پر کتابِ مقنون کی پہلی سورہ ہی بول اُٹھتی ہے کہ آؤ مجھے غور سے پڑھو تمھاری اس پریشانی کا جواب میرے اندر موجود ہے،لہٰذا وہ رازِ لامثال توجہ کے ساتھ سن کر بھرپور فائدہ حاصل کرؤ۔


ترجمہ! ’’ ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ اُن کا جن پر تو نے انعام کیا ‘‘ سورہ فاتحہ،آیات نمبر۵،۶


میرے دوستو! اس مقدس سورہِ فاتحہ کو کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں سورہ دعا،سورہ شفا وغیرہ مشہور نام ہیں اور جس کے متعلق نبی کریمﷺکا فرمان ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہے اسی لیے ہر نمازی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو لازمی تلاوت کرتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سورہ مقدسہ میں وہ بنیادی بات کون سی ہے جس کیلئے اس سورہ کو ہر نمازی بار بار تلاوت کرنے کا شرف حاصل کرتا ہے، مجموعی طور پر یہ سورہِ مقدسہ نمازی کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اپنے حق میں مانگی گئی دُعا پرمشتمل ہے اور خاص بات اور احسانِ عظیم یہ ہے کہ یہ دعا نمازی کے حق میں خود معبودِ برحق نے تجویز فرمائی ہے، بلاشبہ اس سورہِ پاک کا آغاز تو اللہ کریم کی تعریف سے ہو رہا ہے ۔۔۔تعریف کے بعد ہر نمازی عرض کرتاہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں،کیا مدد مانگتے ہیں؟ یہ مانگتے ہیں ۔


ترجمہ! ’’ ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ اُن کا جن پر تو نے انعام کیا ‘‘ سورہ فاتحہ،آیات نمبر۵،۶


معلوم ہوا کہ نمازاللہ کریم کی عبادت بھی ہے اور مقامِ دعا بھی ہے یعنی ہر نمازی اللہ کریم کی بارگاہ سے یہ مدد مانگتا ہے کہ مجھے سیدھے راستہ پر چلا اور راستہ اُن بندوں کا جن پر انعام واکرام کیا گیا ہے، مطلب یہ ہوا کہ ہر راستہ درست راستہ نہیں اورہر راہی از خود منزل پر نہیں پہنچ سکتا ،بلکہ درست راستہ کی واضح طور پر پہچان عطا فرمائی گئی ہے اوروہ پہچان کیا ہے؟وہ پہچان ہے انعام یافتہ بندوں کا گروہ، یعنی راہنما کی راہنمائی ہی کامیابی کی دلیل ہے، یہی مقام غور ہے کہ جس خالقِ کائنات نے ہر انسان کو پیدا فرمایا ہے وہی اپنی تعریف کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب بندوں کی سنگت میں شامل ہونے کی دعا بھی کروا رہا ہے،اسی دعاہی میں ہر نمازی اور حقیقت کے متلاشی کی اصل نجات اور کامیابی ہے، کیونکہ کلامِ حق نے سب حقیقت کے متلاشیوں پر واضح فرما دیا ہے کہ سیدھا راستہ انعام یافتہ بندوں ہی کا راستہ ہے،اب ہم یہ تو کہتے ہیں کہ نماز پڑھو مگر دوسری طرف نماز ہی میں مانگی جانے والی دعا کی مخالفت بھی کرتے ہیں یہ کیسی نماز ہے ؟ نماز تو حقیقت میں وہ نماز ہے جو انعام یافتہ بندوں کی پیروری میں ادا کی جائے کیونکہ یہ معبودِ برحق کا اپنا حکم اور خوشنودی کا ذریعہ ہے۔


اللہ کریم کے کلامِ پاک سے یہ تو واضح ہوگیا کہ سیدھا راستہ صرف اور صرف انعام یافتہ بندوں ہی کا راستہ ہے۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ انعام یافتہ بندے کون سے ہیں؟ کیا جو رنگ برنگے لباس پہن کردستار اور پگڑی سجا لیں وہی انعام یافتہ ہیں؟


کیا جو گھر بارکو خیرباد کہہ دیں اور کاروبارِ دنیا سے بالکل علیحدہ ہوجائیں وہی انعام یافتہ سمجھ لیے جائیں،کیاجو بیوی بچوں کو چھوڑ دیں اور حقوق العباد سے کٹ جائیں وہ انعام یافتہ ہیں ۔۔۔ہرگز نہیں، وہ انعام یافتہ نہیں ہیں ، اہلِ ذکر فرماتے ہیں کہ انعام یافتہ وہ نہیں جو گھر بار اور بیوی بچوں کو چھوڑ دیں بلکہ انعام یافتہ وہ ہیں جو گناہوں کی دنیاکو چھوڑ دیں،ہاں میرے دوستو یہی وہ بہترین نشانی ہے ،کوئی تسبیح مصلہ جبہ ودستار علامت نہیں۔۔۔ کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ حسب ونسب پہچان نہیں، پہچان ہے تو اللہ کریم کے محبوب بندوں کی یہ ہے کہ اُن کے کردار اور گفتار سے توحید ورسالت کی خوشبو آتی ہے اور وہ اپنے مالک کی ہر نافرمانی سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچاتے ہیں اسی لیے تو رب تعالیٰ نے اُن کے راستہ ہی کو سیدھا راستہ قرار دیا ہے اور اپنے ایسے ہی انعام یافتہ بندوں کا سورہ النساء آیت نمبر۶۹ اور ۷۰میں اس طرح ذکر فرمایا ہے ،ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

 

اور جو اللّٰہ اور اُسکے رسول کی اطاعت کرے تو اسے اُن کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے انعام کیایعنی انبیاء اور صدیقین اور شہید اور صالحین یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں یہ اللّٰہ کا انعام ہے‘‘  سورہ النساء آیات، نمبر۶۹ اور ۷۰


واضح ہوا کہ نجات کیلئے سیدھے راستے کی ضرورت ہے اور سیدھا راستہ فقط انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں میں اللہ کریم نے چار گروہوں کا ذکر فرمایا ہے یعنی انبیاء کرام ، صدیقین، شہدا اور صالحین، اور اِنہی کے متعلق فرمایا کہ انکی سنگت و رفاقت بہت اچھی اور خوب تر ہے۔


آثارِ راہگزر تو جُملہ بتا رہے ہیں
منزل کو پانے والے تیرے ہمنوا رہے ہیں


میرے دوستو!پہلے گروہ کا سلسلہ تو ہمارے آقا ومولاﷺپر ختم کردیا گیا مگر باقی تین گروہوں کا فیضان باطفیلِ مصطفیﷺجاری وساری ہے جوکہ تمام کے تمام حضورﷺکے ہی غلام و امتی ہیں جو ان انعام یافتہ گروہوں کے فیضان کا گلدستہ ہیں جن کوعرفِ عام میں اولیاء کرام کہا جاتا ہے جو جسم وجان سے لے کر خون تک توحید ورسالت کی شہادت بھی دے رہے ہیں اور صداقت و تقویٰ کے اوصاف سے بھی مزین ہیں،جن کی قربت اختیار کرنے والا انسان تو انسان کتا بھی محروم نہیں رہتا بلکہ اُس کا ذکر قرآن کریم کی آیات بن جاتا ہے جس کا نمایاں ثبوت سگِ اصحاب کہف ہے،اسی لیے اُن کی تعظیم وتوقیرکرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے، اُنکی زیارت عبادت ہے اور انکا راستہ اور نسبت اختیار کرنا اللہ کریم کا حکم ہے اور اُن کی سنگت کو بہترین کہنا بھی اللہ کریم ہی کا طریقہ ہے جیسے سورہ النساء کی آیت نمبر ۶۹ کے آخر میں رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں،یہاں تک کہ اُن کی طرف توبہ کے ارادہ سے سفر کرنے والا زمانے کا بدکار اور قاتل بھی بخشا جاتا ہے ، یہ بات میں نے اپنے پاس سے نہیں کہی بلکہ یہ سرورِکائناتﷺکی حدیثِ پاک ہے آئیے توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔


بخاری شریف جلد2حدیث نمبر687صفحہ332


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ۹۹قتل کیے تھے،پھر اس کا حکم پوچھنے کی غرض سے ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟اس نے جواب دیا کہ نہیں ہوسکتی.اس نے راہب کوبھی ملکِ عدم پہنچا دیاوہ اسی طرح مسئلہ پوچھتا رہا،یہاں تک کہ اس سے ایک آدمی نے کہا کہ تو فلاں بستی (شریف)میں چلا جا،قضائے الہٰی سے اُسے راستے میں موت آگئی اور اس نے اپنا سینہ اس بستی(شریف)کی جانب جھکا دیا،اب رحمت اور عذاب کے فرشتے آکر جھگڑنے لگے،پس جس بستی کی طرف وہ جارہا تھااللہ تعالیٰ نے اسے نزدیک ہونے کا حکم دیا اور جس بستی سے وہ آیا تھا اسے پرے ہٹ جانے کا حکم فرمایا،پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کی جائے وفات سے دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لو،تو اس بستی(جو اللہ تعالیٰ کے ولیوں کی بستی تھی) سے ایک بالشت نزدیک نکلا،پس اس کی مغفرت فرما دی گئی۔


یہ حدیثِ مقدسہ صحاح ستہ کی دیگر کتب میں بھی موجود ہے یہاں یہ روایت اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہے،اس میں حضورﷺنے بنی اسرائیل کے ایک ۹۹قتل کرنے والے شخص کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ایک دن وہ گناہوں کی دنیا سے تنگ آکر توبہ کاراستہ پوچھنے ایک راہب کے پاس گیالیکن اُس نے اُسے مایوس کیا بل آخر اُس نے راہب کو بھی قتل کردیا لیکن اور زیادہ ندامت میں اسیر ہوگیا ایک دن اُسے ایک شخص نے بتایا کہ فلاں بستی شریف کی طرف چلا جا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کے ولی رہتے ہیں تو اس طرح ضرور تیری توبہ قبول ہوجائے گی لہٰذا وہ روانہ ہوگیا اور راستہ میں اُسے موت آگئی ،مرتے وقت اُس نے اپنا سینہ ولیوں کی بستی کی طرف جھکا دیا،بعدازاں اُس کے متعلق فرشتوں میں تکرار شروع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ اس طرح فرمایا کہ اس کی لاش سے زمین کی پیمائش کرنے کا حکم صادر فرمایا اگر اپنے گھر کے نزدیک نکلے تو جہنم رسید کیا جائے اگر ولیوں کی بستی کی طرف نکلے تو جنتی شمار کیا جائے یہ فیصلہ دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ ولیوں کی بستی کی طرف سمٹ جا،لہٰذا جب پیمائش کی گئی تو وہ ایک بالشت ولیوں کی بستی کی طرف نکلا اسطرح اُس کی مغفرت فرما دی گئی۔


سامانِ حق ہے سارا عمرانؔ کیا نہیں ہے
دامن پھیلا کے بھر لو بازارِ اولیاء سے


سبحان اللہ کسقدر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اللہ کے ولیوں کا مقام ومرتبہ بلند ہے کہ ان کی طرف سفر کرنے والا زمانے کا بدکار شخص بھی بخشا جاتا ہے اس مستند حدیثِ نبویﷺسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے اپنے اولیاء اللہ پر اسقدر انعام فرمایا ہے کہ ان کا وجودِ اقدس ہمارے لیے بخشش ومغفرت کا سبب بنا دیا ہے،اس لیے رب تعالیٰ جہاں ان کا راستہ ہمیں مانگنے کا حکم صادر فرما رہے ہیں تو دوسری طرف ان مقرب بندوں کے دشمنوں سے جنگ کا اعلان بھی کررہے ہیں ، حاضرین اس حدیثِ قدسی یعنی رب کے فرمان کو سُن کر خود فیصلہ فرمائیں کہ اولیاء اللہ کو کسقدر عظمت حاصل ہے۔


بخاری شریف جلد 3، حدیث نمبر1422،صفحہ 553


’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے کسی وَلی سے دُشمنی رکھے میں اِس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں...میرا بندہ(ولی اللہ) برابر نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو اُس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سُنتا ہے اور اُس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور اُس کا ہاتھ بَن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اوراُس کا پَیر بَن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے اگر وہ مُجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اُسے عطا فرماتا ہوں اگر وہ میری پناہ پکڑے تو ضرور میں اُسے پناہ دیتا ہوں‘‘۔

 

اس فرمانِ خدا تعالیٰ سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے وَلی سے اِس قدر محبت ہے کہ اولیاء اللہ کے خلاف معمولی دُشمنی پر بھی معمولی سزا کا حکم نہیں سُنایا بلکہ براہِ راست فرمایا ہے کہ میں اپنے وَلی کے دُشمنوں سے اعلانِ جنگ کرتا ہوںیعنی رب تعالیٰ اپنے اولیاء کرام کے ساتھ بُغض رکھنے والوں کے خلاف کُھلم وکھلا اعلانِ جنگ فرمارہے ہیں، صرف یہاں بات ختم نہیں فرمائی بلکہ یہاں سے بات کا آغازفرمایاہے،یہ فیصلہ سنانے کے بعد اپنے اولیاء کی شان کو بیان کرتے ہوئے کیا اندازاختیار فرمایا ہے کیونکہ جس کے دوست ہیں وہی ان کا مقام و مرتبہ بہتر جانتا ہے ،یعنی میں( اللہ تعالیٰ) اپنے وَلی کی سماعت...بَصارت اورہاتھ بن جاتا ہوں اور آخر میں تو تعریف کی انتہا ہی فرما دی کہ میں اپنے ولی کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا پھرتا ہے اب جو اللہ کا دوست اللہ کے ذریعے دیکھتا،سنتا ،بولتا ،پکڑتا اور چلتا ہے اُس کے مقام و مرتبے کا کوئی کیا اندازہ لگاسکتا ہے اور پوری کائنات میں اس سے بڑا کیا مقام ہوسکتا ہے،اب کوئی سوال کرے کہ فلاں ولی اللہ نے اتنے دور سے کیسے دیکھ لیا اوراتنی دور سے فریادی کی فریاد کیسے سُن لی اورکیسے مدد کی؟توجہ کریں کہ سائل کا اعتراض کس پر ہے؟ اُس سے پوچھنا چاہیے کہ اللہ کیا نہیں کرسکتا،جب دیکھنے والا،سننے والا اور مدد کرنے والا اللہ ہی سے دیکھ بھی رہا ہے اوراللہ ہی سے سن بھی رہا ہے اوراللہ ہی سے مدد بھی کررہا ہے تو کیا پھر اعتراض کا مقصد معاذ اللہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرسکتا؟ یہ انکارتو چام چٹھ کے اِنکارِ آفتاب کی مانند ہے، جِس کے نہ ماننے سے آفتاب کی دَرخشانی میں کوئی فرق سَرزد نہیں ہوتا۔


آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشہ دیکھے
دیدہِ کور کو کیا نظر آئے کیا دیکھے


اِس مُستند حدیثِ قُدسی میں رَب تعالیٰ نے جُملہ اولیاء اللہ کے دُشمنوں کو اپنا دُشمن قرار دیتے ہوئے اپنی طرف سے جنگ کا اعلان سُنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اعتراض کرنے والوں...اور نقطہ چینوں...اچھی طرح سمجھ لوکہ میرے وَلی کا دیکھنا، اُس کا دیکھنا نہیں بلکہ میرا(رب تعالیٰ کا) دیکھنا ہے، تمھارا یہ اعتراض کہ اللہ کا وَلی ہزاروں مِیل دُور کیسے دیکھ لیتا ہے؟پوشیدہ بات سے کیسے آگاہ ہوسکتاہے؟ پھر تم یہ بھی کہتے ہو کہ یہ تو رَب کے کام ہیں، اے متعرض... کیا تُو نے یہ بات نہیں سمجھی کہ وَلی جس آنکھ سے دیکھ رہا ہے اُسی آنکھ کی نِسبت ہی تو رَب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اُس کی آنکھیں بَن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ واضح کردیا کہ میں اُس کی سماعت بَن جاتا ہوں... جس سے وہ (وَلی اللہ) سُنتا ہے، اَب یہ کہناکہ اتنی دُور سے نہیں سُن سکتے ... اِس لیے یاغوثؒ ، یا فریدؒ ، یاصابرؒ وغیرہ نہ پُکارا کرو، کسی جاہل نے کہا کہ اُن کا ہاتھ فلاں ملک میں کیسے پہنچ گیا...کِسی نے کہا، بارہ بَرس کی غرق شُدہ ناؤ کیسے زندہ وسلامت دَریا سے نکال لی،کیسے اَپنا جنازہ خود پَڑھایا...پاکستان میں بیٹھ کر دوسرے ملک کیسے پہنچ گئے ...لاعلاج مریض کو وَلی کے دیکھنے سے شفا کیسے حاصل ہوگئی وغیرہ، مذکورہ فرمان کے مطابق غور کیا جائے تو وَلی اللہ پہ ہر اعتراض کرنے والا دَرحقیقت مذکورہ صِفات کو رَب تعالیٰ میں ماننے سے اِنکاری ہے، جب ولی اللہ کا دیکھنا، سُننا، چلنا اور پکڑنا...اللہ کے ذریعے سے ہے تو اللہ تعالیٰ کیا نہیں کرسکتا...اللہ تعالیٰ سے دیکھنے والے کیا نہیں دیکھ سکتے ؟ اللہ تعالیٰ سے سُننے والے کیا نہیں سُن سکتے ؟اللہ تعالیٰ سے پکڑنے والے کہاں تک رَسائی حاصل نہیں کرسکتے؟جِن کے پاؤں بھی رَب تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرمادے، بلاشُبہ اُن پہ کیا جانے والا ہر اعتراض براہِ راست اللہ تعالیٰ پہ اعتراض بَنتا ہے، اِسی لیے خدا تعالیٰ نے شروع ہی میں خبردار کرتے ہوئے اعلانِ جنگ کا حکمِ لاتبدیل سُنا رکھا ہے . . . یعنی اَب کسی میں جراٗت ہے تو اولیائے کرام سے دُشمنی کرکے اللہ تعالیٰ سے جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔


اسی شان کے مالک اپنے دوستوں کے متعلق رب تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر۶۲ میں فرمایا ہے
’’سُن لو بے شک اللّٰہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم‘‘


رفیقِ سفر ہوں کامل راہی بھٹکتے کب ہیں
عقیدہ سنوارو اپنا کردارِ اولیاء سے


سلطان محمود غزنویؒ کے متعلق مشہور ہے کہ جب سلطان محمودؒ غزنوی سومنات پر چڑھائی کیلئے نکلے تو راستہ میں ایک جگہ شاہی لشکر نے پڑاؤ کیا،سلطان نے وہاں دیکھا کہ ایک پررونق کاشانہ ہے،لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں حضرت ابوالحسنؒ خرقانی اللہ کے ولی سکونت پذیر ہیں،بادشاہ نے ولی اللہ کی بارگاہ میں حاضری دینے اورکامیابی کی دعا کروانے کیلئے پروگرام بنایا،جب اس متعلق شاہی امیروں اور وزیروں کو خبر ہوئی تو انھوں نے عرض کیا،بادشاہ سلامت آپ کا اس طرح بن بلائے وہاں جانامناسب نہیں،ہم فقیر کو یہاں بلا لیتے ہیں لہٰذا چند وزیروں نے آپسمیں مشورہ کے بعد ایک خط تحریر کیا جس کے اوپر کلامِ الہیٰ سے ایک آیت مبارک تحریر کی کہ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حاکمِ وقت کی اطاعت کرو‘‘نیچے تحریر کیا کہ آپ کو حاکمِ وقت یاد فرماتے ہیں چنانچہ حکم کی تعمیل کریں، جب ایک سپاہی کے ذریعہ خط بھیجا گیا تو خواجہ صاحبؒ نے خط کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی پشت پر تحریر کیا کہ مجھے آیتِ کریمہ میں درج پہلے حکم یعنی اطاعتِ اللہ ہی سے فرصت نہیں باقی پر عمل کیسے کروں؟اس کے ساتھ ہی خط واپس کردیا جب سلطان نے خط کی پشت پر تحریر کو پڑھا تو سمجھ گیا کہ یہ واقعی اللہ کے محبوب بندے ہیں مجھے ضرور ان کے پاس حاضری کیلئے جانا چاہیے لیکن دوبارہ وزیر اور مشیر رکاوٹ بنتے ہوئے عرض گزار ہوئے،بادشاہ سلامت! آپ کا اس طرح جانا درست نہیں، پہلے ہمیں چیک کرنے دیں کہ یہ شخص اللہ کا ولی بھی ہے کہ نہیں؟سلطان نے پوچھا تم کیسے چیک کرو گے؟انھوں نے کہا کہ ہمارے لشکر میں علمِ نجوم کا ماہر نصیر الدین طوسی موجود ہے ہم یہ کام اس کے ذمے لگاتے ہیں وہ ضرور چیک کرلے گا چنانچہ نصیر الدین کو بلا کر تمام صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا،اس نے کہا،یہ بہت آسان کام ہے میں ابھی چیک کرلوں گا کہ یہ شخص اللہ کا ولی ہے بھی کہ نہیں،سلطان نے پوچھا تم کیسے چیک کرسکتے ہو...تمھارے پاس ایسا کون سا آلہ ہے؟نصیر الدین طوسی نے عرض کیا،عالیجاہ! میرا علم بتاتا ہے کہ آج بارش ہوگی اور فقیر عام طور پر صحن میں بیٹھتا ہے میں فقیر کے پاس جاکر کہوں گا کہ آج بارش ہونے والی ہے آپ اندر بیٹھ جائیں،اگر وہ میری اس بات پر حیران ہوا تو میں سمجھ جاؤں گا کہ یہ ولی اللہ نہیں کیونکہ علمِ لدنی رکھنے والوں کو آنے والے وقت کا علم ہوتا ہے اگر فقیر نے میرے سوال پر لاعلمی کااظہار کیا تو میں سمجھ جاؤں گا کہ اس سے تو میرا علم زیادہ ہے اور وہ صاحبِ علمِ لدنی نہیں ہے لہٰذا نصیر الدین اپنے پروگرام کے مطابق فقیر کی آزمائش لینے پہنچ گیا لیکن جب وہاں پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ فقیر پہلے ہی سے کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے تھے، نصیر الدین نے سلام پیش کرنے کے بعد پوچھا،بابا جی!آپ پہلے تو اس وقت صحن میں بیٹھا کرتے تھے آج کیا وجہ ہے آپ کمرہ میں بیٹھے ہوئے ہیں؟فقیر نے فرمایا،دراصل جب موسم خراب ہونا ہوتاہے تو میرا یہ کتا کمرے میں بیٹھ جاتا ہے میں بھی سمجھ جاتا ہوں کہ آج بارش ہونے والی ہے جس کی وجہ سے کتا اندر بیٹھ گیا ہے لہٰذا میں بھی اٹھ کر اندر چلا آتا ہوں،یہ سن کر نصیر الدین حیران رہ گیا اور واپس آکر سلطان کو عرض کیا کہ آپ ضرور فقیر کے پاس حاضری کیلئے جائیے یہ واقعی اللہ کے سچے ولی ہیں کیونکہ آج تک میں نے جتنا علم سیکھا ہے وہ فقیر کے کتے کو بھی معلوم ہے،میرا علم تو فقیر کے کتے کے علم سے بھی کم نکلا ہے، یہ سُن کر سلطان محمود غزنوی اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ فقیر کی خدمت میں حاضر ہوئے،فقیر نے محبت سے ملاقات فرمائی...اور اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر ایک جو کی باسی اور سخت روٹی اپنے مہمانوں کے سامنے رکھ دی اور فرمایا کہ میرے پاس یہی میسر ہے، اسے کھائیں،سلطان نے جب روٹی کی سختی اور اپنے نرم ونازک شکم کا اندازہ لگایا تو عرض کیا،عالیجاہ!اسے شاید میرا شکم قبول نہ کرسکے،فقیر نے فرمایا کہ ہم نے اپنے مہمانوں سے کوئی چیز چھپا کرنہیں رکھی، ہمارے پاس یہی کچھ موجود تھا جو حاضر کردیا ہے،اس کے بعد سلطان نے ایک اشرفیوں سے بھری تھیلی فقیر کو نذرانہ پیش کی،اس دفعہ فقیر نے فرمایا،محمود! اسے شاید میرا شکم قبول نہ کرسکے، اسے تم اپنے پاس ہی رہنے دو،بعدازاں سلطان نے عرض کیا،حضور!میں صرف پرچمِ حق کی سربلندی کیلئے کفار کے سب سے بڑے مندر سومنات پر حملہ کرنے جارہا ہوں اور مجھے معلوم ہواہے کہ چاروں جانب سے کفار کے دستے اپنے بڑے مندر کی حفاظت کیلئے سومنات اکھٹے ہورہے ہیں،آپ دعافرمائیں کہ اللہ تعالیٰ لشکرِ اسلام کو فتح نصیب فرمائے ،یہ سن کر خواجہؒ ابوالحسن خرقانی نے دوبارہ اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور ایک نہایت بوسیدہ کپڑا باہر نکالا،محمود کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ محمود!اسے صرف پرانا کپڑا سمجھ کر نظر انداز نہ کرنا،یہ ایک خاص تحفہ ہے جب میں نصف شب اپنے مالک کی یاد میں محو ہوتا ہوں تو اس محویت کے دوران میری آنکھوں سے برسنے والے تمام اشک اسی کپڑے میں جذب ہوتے ہیں،جب تم پر اس مہم میں مشکل وقت آئے تو اسی کپڑے کا وسیلہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرکے دُعا کرنا تمھیں ضرور کامیابی حاصل ہوجائے گی اور سومنات کا مندر فتح ہوجائے گا اور تم وہاں سے بت شکن بن کر نکلو گے،تاریخ میں تمھارا نام بت شکنوں میں درج کیا جائے گا نہ کہ بت فروشوں میں،چنانچہ محمودنے وہ کپڑا اپنے پاس محفوظ کرلیااور فقیر کی دست بوسی کرنے کے بعد اپنے لشکر میں واپس آگیا ، تاریخ گواہ ہے کہ جب محمود نے سومنات پر حملہ کیا تو کفار کے کثیر لشکر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا،یہاں تک کہ فتح کی کوئی صورت نظر نہ آرہی تھی کہ یکایک محمود کو خواجہ صاحبؒ کا دیا ہوا کپڑا یاد آیا...اُسی وقت قبلہ رو ہوکر کپڑے کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے نہایت عاجزی اور گریہ زاری کے ساتھ فریادپیش کی کہ


حق پرستوں کی اگر کی تونے دلجوئی نہیں
طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں


ابھی یہ فریاد جاری تھی کہ ہر طرف سے قاصد فتح کی خوش خبری لے کر حاضر ہوگئے،جب محمود نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سومنات کے قلعہ پر اسلامی پرچم لہرا رہا تھا۔


نہ غیروں سے مانگو کبھی دربدر
جو شاہِ امم کا گدا مانگ لو


ایک نشست میں جناب حضور آفتابِ سیدنؒ (صابریہ کلسویہ دربار عزیز بھٹی ٹاؤن سرگودھا)نے فرمایاکہ ایک دفعہ آزاد کشمیر کے چند پیر بھائی سرکاؒ رسیدن ولی کی زیارت کے لئے سکنہ کلس آئے، اتفاق سے اُن دِنوں سرکارؒ موضع آہیر فتح شاہ نزد ساہیوال اپنے رقبہ پر تشریف فرما تھے، سرکارؒ کے منظورِ نظر غلام سعید صابری صاحب نے اُن پیر بھائیوں کو صورتِ حال سے آگاہ کیا، اُنھوں نے سعید صاحب سے آہیر فتح شاہ کا ایڈریس پوچھا اور روانہ ہوگئے، جب ساہیوال پہنچے تو رات کا اندھیرا پھیل چُکا تھاوہاں کچھ لوگوں سے موضع آہیر فتح شاہ کے متعلق پوچھا مگر صحیح پتہ معلوم نہ ہوسکا،تمام دوست یعنی کشمیری پیر بھائی پریشانی کی حالت میں ایک ہوٹل کے پاس کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک انتہائی خوبصورت باباجی تشریف لائے اور پوچھادوستو!کیوں پریشان ہو؟ اُنھوں نے صورتِ حال سے آگاہ کیا، بابا جی مسکرائے اور فرمایا، کیا تم جناب پیر سیدن شاہؒ صابری صاحب کو ملنے کے لیے آئے ہو؟سب بولے جی ہاں وہ ہمارے پیرومُرشد ہیں۔


بابا جی نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ چلو ہم بھی اُن کی زیارت کے لیے جارہے ہیں لہٰذا بابا جی آگے آگے چلتے گئے اور وہ ساتھی پیچھے پیچھے...، کافی دیر سفر کرنے کے بعد بابا جی نے فرمایا، دوستو! وہ سامنے دِیکھو جس کمرہ میں چراغ جل رہا ہے سرکارؒ وہیں تشریف فرما ہیں تم ملاقات کرو میں وضو کر لوں، حسبِ حکم کمرے کے قریب پہنچے تو سرکارؒ سیدن وَلی کو جلوہ افروز پایا ...سرکاؒ ر نے بڑی محبت سے ملاقات فرمائی، سب کی خیریت دریافت فرمائی اور لانگری کو حکم دیاکہ مہمانوں کے لیے لنگر لے آؤ، جب لنگر لایا گیا تو سرکارؒ نے فرمایا، تمھیں راستہ میں کافی تھکن اور تکلیف کا سامنا ہوا ہوگاچنانچہ پہلے لنگر کھا لوپھر باتیں ہوتی رہیں گی، اُنھوں نے دَست بَستہ عرض کیا، حضورؒ !ہمیں ایک ساتھی کا انتظار ہے وہ آجائیں تو سب مِل کر لنگر کھائیں گے، سرکارؒ نے تبسم ریزی کے ساتھ فرمایا، دوستو!وُہ بابا جی لنگر نہیں کھاتے صرف راستہ دِکھاتے ہیں۔


آثارِ راہگزر تو جُملہ بتا رہے ہیں
منزل کو پانے والے تیرے ہمنوا رہے ہیں


کیونکہ
ترجمہ! ’’ ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ اُن کا جن پر تو نے انعام کیا ‘‘ سورہ فاتحہ،آیات نمبر۵،۶
آخر میں دعا ہے کہ اللہ کریم اپنے محبوب ﷺ کے طفیل اور انعام یافتہ بندوں کے تصدق اس پیغامِ حق پر عمل کرنے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


محبت محمد دی ایمان سارا
گفتارِ احمد ہے قرآن سارا
گِن گِن کے دَساں تے کی آقا دَساں
دو عالم تے تیرا ہی احسان سارا
وَسدی پئی رحمت جو سارے جہاں تے
ہے تیرا ہی صدقہ اے ذیشان سارا
ہے عرشی وظیفہ تیرا اسمِ اعظم
زمانہ اے تیرا ثناء خوان سارا
زمیں اَسماں تے اِیہہ سورج ستارے
خاطر تساڈی اے سامان سارا
اِیہہ عمرانؔ ساری حیاتی دی نعمت
ہے لجپال عربی دا فیضان سارا

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)