قسم شہرِ مکہ دی مولا نے چائی
جو نقشِ قدم مصطفی پا گئے نے
اُوہ وسدے نے عمرانؔ ڈیرے قدیمی
جھتے وی سوہنے پھیرا پا گئے نے
جس کا واضح ثبوت قبلہ کی تبدیلی سے بھی عطا فرمایا یعنی جب حضورﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو کچھ مدت کیلئے بیتُ المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوگیا مگر حضورﷺنے چاہا کہ میرے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ گھرہی قبلہ بنادیا جائے لہٰذا آپ نے دورانِ نمازاس ارادے سے آسمان کی طرف دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیرکردہ مکہ والے گھر کو قبلہ بنا دیا جائے،یہ ادا اللہ کریم کو اتنی پسند آئی کہ اس ادا پر مشتمل قرآن پاک کی آیت نازل فرمادی اوردورانِ نماز ہی قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادرفرمادیا،جیسا کہ اللہ کریم نے سورہ بقرہ،آیت نمبر ۱۴۴ میں فرمایا ہے کہ
ترجمہ!’’ہم دیکھ رہے ہیں باربار تمھارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تم کو پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمھاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیردو مسجد حرام کی طرف‘‘(سورہ بقرہ،آیت نمبر۱۴۴)
اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺکعبہ کے بھی کعبہ ہیں،آپ کا آسمان کی طرف دیکھنا تھا کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم آگیا،ابھی آپ نے دعا نہیں فرمائی بلکہ صرف خیال مبارک فرمایا ہے اوراُس خیال کے مطابق ہی چہرہ مقدس آسمان کی طرف اٹھانا تھا کہ اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکی رضاکو اپنی رضا بنا لیا۔
تیرے دم قدم نال کعبہ معزز پئیا اُس نوں جھکدا اِیہہ سارا زمانہ
ہے عمرانؔ صدقہ تیرے نقشِ پاء دا خدا نے قسم تیری گلیاں دی چائی
بلاشبہ اللہ کریم نے اُنہی مقامات کو عزت اور تعظیم کے لائق بنایا ہے اور اپنی نشانی قرار دیا ہے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں سے ہوگئی ہے،اگر آپ سارے مقاماتِ مقدسہ پر غورفرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اصل نشانی تو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہی ہیں،اور انہی کی یاد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور انہی سے نسبت رکھنے والے مقامات ہی زیارت کے لائق ہیں،اور انہی کے نشانات کا ادب واحترام ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے، اور اِنہی کی تعظیم ہی حق پرستی ہے ،اوراِنہی کے تذکرے ہی رب تعالیٰ کو پسند ہیں کیونکہ وہ رب تعالیٰ کی اپنی سنت ہیں۔
وَاذْکُرْفِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِےْمَ اِنَّہ‘ کَانَ صِدِّےْقاً نَّبِیّاً۵
ترجمہ!’’اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بے شک وہ صدیق تھا (نبی)غیب کی خبریں بتاتا‘‘(سورہ مریم،آیت نمبر۴۱)
میرے دوستو حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی زیارت بھی حج سے کم نہیں جیسے ایک عارف مرد نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
مرشد دا دیدار باہو سانوں لاکھ کروڑا حجاں ہو
یہی وجہ ہے کہ حضورﷺکو محبت سے ایک نگاہ دیکھنے والے اُس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ بعد والا کوئی امتی اُن صحابہ کبارؓ کی برابری نہیں کرسکتا،اگر آج کوئی ساری زندگی بھی حرم شریف کے اندر بیٹھا رہے اور مسلسل زیارتِ کعبہ کے علاوہ نوافل پڑھتا رہے مگر وہ اُن کے قدموں تک بھی نہیں پہنچ سکتا جس نے ایک مرتبہ بحالتِ ایمان محبت سے حضورﷺکے چہرہ کو دیکھ لیا ہے اور صحابیت کی صف میں شامل ہوگیا ہے،اسی لیے صحابہ کبارؓ کے جس قدر حضورﷺکی تعظیم کے متعلق واقعات ہیں اُن کی نظیر نہیں ملتی،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم کو سارے مقامات حضورﷺکی ہی نسبت سے حاصل ہوئے ہیں لہٰذا صحابہؓ کی تعظیمِ رسولﷺ کے متعلق صرف یہاں ایک روایت ملاحظہ فرمائیں۔
آدابِ رسول اللہﷺوصحابہ کبارؓ:
بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر4صفحہ27تا30
عروہ،مسوراورمروان کا بیان ہے
حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہﷺکی تعظیم کا شاندار منظر
’’عروہ صحابہء رسول کو حدیبیہ کے مقام پر غور سے دیکھنے لگا،راوی کابیان ہے کہ وہ دیکھتا رہاکہ جب بھی رسول اللہﷺتھوکتے تووہ کسی نہ کسی صحابیؓ کے ہاتھ میںآتا،جس کو وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا،جب آپ کسی بات کا حکم دیتے تو فوراً تعمیل کی جاتی تھی،جب آپ وضو فرماتے تو لوگ آپ کے مستعمل پانی کو حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے،ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ پانی میں حاصل کروں،جب لوگ آپ کی بارگاہ میں گفتگو کرتے تو اپنی آوازوں کو پست رکھتے تھے اورتعظیم کے باعث آپ کی طرف نظر جما کرنہیں دیکھتے تھے،اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا،اے قوم!واللہ، میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کرگیا ہوں،میں قیصروکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم!میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد(ﷺ)کے اصحابؓ ان کی تعظیم کرتے ہیں،خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعابِ دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے،جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے ،جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً اُن کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے،جب وہ وضو فرماتے ہیں تویوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا مستعمل پانی حاصل کرنے پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجائیں گے،وہ اُن کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے،انہوں نے تمھارے سامنے عمدہ تجویز رکھی ہے پس اُسے قبول کرلو‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کبارؓ اپنے آقاومولاﷺکی اسقدر تعظیم کرتے تھے جس کی مثال نہیں ملتی،اسی لیے عروہ عشاقِ مصطفیﷺکا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ اُس نے اس سے پہلے ایسی تعظیم وتکریم کسی کی ہوتی ہوئی نہ دیکھی تھی،جب حضورﷺاپنا لعابِ دہن نیچے گِرانے لگتے تو صحابہ کبارؓ نیچے ہاتھ رکھ لیتے اور فوراً چہروں وجسموں پر مل لیتے اسی طرح جب حضورﷺ وضو فرماتے تواستعمال شدہ پانی حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے،کیا صحاؓبہ کو معلوم نہیں تھا کہ وضو کا استعمال شدہ پانی مکروہ ہوتا ہے پھر وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟اس لیے کہ حضورﷺکے استعمال شدہ پانی میں ہربیماری کی شفا ہے، اور نہ ہی اُن کو حضورﷺنے ایسا کرنے سے منع فرمایا،حالانکہ وہ سب سے زیادہ حکم کی تعمیل کرنے والے تھے ،جہاں محبت کامل ہوتی ہے وہاں تعظیم وتکریم کا اظہار پوشیدہ نہیں رہتا ،اسی لیے مکہ کا مشرک تعظیمِ رسول اللہﷺدیکھ کر بول اُٹھا کہ خدا کی قسم!میں نے آج تک کسی بادشاہ کی بھی ایسی تؑ عظیم ہوتی نہیں دیکھی جیسی محمدﷺکے اصحابؓ اُن کی کرتے ہیں۔
جہاں بھر کے شاہوں سے بیشک ہیں اعلیٰ
جو ادنیٰ سے ادنیٰ بھی تیرے گدا ہیں
عشقِ محمدؐ کے شہداء تو دِیکھو
زمانے میں عمرانؔ ہر سُو بقا ہیں
کیونکہ صحابہ کو معلوم تھا کہ کعبہ کی زیارت وحجِ بیت اللہ،نماز،روزہ،کثرتِ تلاوت قرآن پاک،قربانی،کلمہ وغیرہ سے کوئی صحابی نہیں بن سکتا ،یہ انعامات اور بلند مقامات صرف اورصرف دیدارِ مصطفیﷺہی سے حاصل ہوتے رہے ہیں، بلاشبہ باقی تمام امت پر صحاؓبہ کی فضیلت کی یہی ایک واحد وجہ ہے اور کوئی وجہ نہیں۔
حضرت عثمان غنیؓ کا عقیدہ:
ایک دفعہ حضورﷺمدینہ منورہ سے مع صحابہؓ مکہ مکرمہ عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے،ابھی راستہ میں ہی تھے کہ کفارکی طرف سے خبریں ملنے لگیں کہ کفار جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں لہٰذا حضورﷺنے وادی رضوان میں پہنچ کرحضرت عثمان غنیؓ کو قاصد بنا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا چنانچہ حضرت عثمانؓ غنی نے مکہ مکرمہ پہنچ کر کفار سے ملاقات کی اور انھیں فرمایا کہ حضورﷺجنگ کے ارادہ سے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کیلئے مع صحاؓبہ تشریف لائے ہیں،یہ سُن کر کفارِ مکہ نے کہا کہ ہم محمدﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے البتہ تمھیں اجازت دیتے ہیں کہ تم طوافِ بیت اللہ بھی کر لو اورصفاومروہ کی دوڑ بھی کرلومختصراً تمھیں عمرہ کرنے کی اجازت ہے،یہ سُن کر حضرت عثمانؓ غنی نے جلال کے انداز میں فرمایا،اے قریشانِ مکہ! تم مجھے کہتے ہو کہ میں حضورﷺکے بغیر بیت اللہ کا طواف بھی کرلوں،حجرِ اسود کو بوسہ بھی دے لوں،صفاومروہ کی دوڑ بھی کرلوں،مقامِ ابراہیم پر نفل بھی پڑھ لوں،یاد رکھو کہ میں جن کی وجہ سے ان مقامات کا احترام کرتا ہوں وہ وادیِ رضوان میں موجود ہیں،اگروہ خود آئے تو جو کچھ اُنھوں نے کیا ،میں بھی کرلوں گالیکن اُن کے بغیر عمرہ تو دور کی بات ہے میں نے بیت اللہ کی طرف نظر اُٹھاکر دیکھنا بھی نہیں،مجھے حضورﷺکے بغیر ان مقامات سے کیا غرض ہے ،جن کی وجہ سے یہ تمام نشانات میرے نزدیک مقدس ہیں وہ میرے آقا ومولاﷺہیں۔
سبحان اللہ یہ ہے صحابہ کبارؓ کا عقیدہ،کہ حضرت عثمانؓ نے حضورﷺکے بغیر بیت اللہ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا،کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جس کیلئے اس سارے شہر کی رب تعالیٰ نے قسم اُٹھائی ہے وہ ذات ہمارے آقا ومولاﷺ ہی کی ہے،اُن کے بغیر تو ہمارے پاس رب تعالیٰ کا بھی کوئی ثبوت نہیں،بیت اللہ کا طواف کیا معنی رکھتا ہے۔(معارج النبوۃ جلد۳،صفحہ ۲۷۵)
بالکل میرے دوستو حقیقت یہی ہے کہ اگر ہمارے نزدیک بیت اللہ ودیگر مقاماتِ مقدسہ قابلِ احترام ہیں تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حبیبﷺہی کی وجہ سے ہیں،انہی کا وجوداللہ تعالیٰ کی برہان ہے۔
مخفی خدائی مخزن بٹتا ہے تیرے صدقے
محور ہے ذات تیری سلطان شاہِ عربیﷺ
درسِ توحید کیا ہے تیرا عشق جو نہ ہو تو
دینِ خدا کی اوّل پہچان شاہِ عربیﷺ
صحابہؓ کے عقیدہ سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لے کر جملہ مقاماتِ مقدسہ پریقین حضورﷺہی کی وجہ سے ہے،بلاشبہ اللہ ایک ہے لیکن ہمارے پاس اس عقیدے کا ثبوت کیا ہے؟ صرف اور صرف حضورﷺکی ذات،بلاشبہ قرآن رب تعالیٰ کا کلام ہے لیکن ہمارے پاس اس کا ثبوت کیا ہے صرف اور صرف حضورﷺکی ذات،اسی لیے ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اصل نشانی اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺہیں،جن کی وجہ سے ہی ہم تمام اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی تعظیم کرتے ہیں،بلاشبہ اُن سے نسبت رکھنے والے مقامات بھی ہر اہلِ ایمان کیلئے تعظیم وتوقیر کے لائق ہیں جن کے تذکر ے اور یادیں منانا رب تعالیٰ کا اپنا طریقہ ہے۔کیونکہ
وَاذْکُرْفِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِےْمَ اِنَّہ‘ کَانَ صِدِّےْقاً نَّبِیّاً۵
ترجمہ!’’اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بے شک وہ صدیق تھا (نبی)غیب کی خبریں بتاتا‘‘(سورہ مریم،آیت نمبر۴۱)
اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں بھی ان کی یاد منا رہے ہیں،صرف یہ کلمات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہی نہیں فرمائے گے بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بھی یہی فرمایا کہ میری کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت ادریس علیہ السلام ودیگرانبیاء کرام کے متعلق بھی یہی فرمایا،اوراپنی ولیہ حضرت مریم( سلام اللہ) کے متعلق بھی یہی فرمایا کہ میری کتاب میں مریم کو یاد کرو(بحوالہ سورہ مریم)،چنانچہ یہ یادیں صرف اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ہی میں نہیں منوا رہے بلکہ ہر سال ان یادوں کا جشن حج کی صورت میں منوایا جاتا ہے ،اور آج تک جسقدر اللہ تعالیٰ کے ولی دنیا میں تشریف لائے ہیں وہ اپنے سے پہلے مقبول بندوں کی یادیں منا کر اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے رہے ہیں،خودنبی کریمﷺہر سال شہدائے اُحد پر تشریف لے جاتے اور اپنے غلاموں کے لیے دُعا فرماتے اور اُن کو سلام پیش فرمایا کرتے،بالخصوص اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری سال تو حضورﷺنے جس طرح یاد منائی اس کا مکمل احوال حدیثِ مبارکہ سے سُنتے ہیں۔
شہدائے اُحد کی یاد:
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1257صفحہ نمبر546
بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر805صفحہ نمبر374
بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر1213صفحہ نمبر555
بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر1254صفحہ نمبر572
بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر1347صفحہ نمبر526
حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریمﷺشہدائے اُحد پر نماز پڑھنے کیلئے تشریف لے گئے جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر منبر پر جلوہ افروز ہوکر فرمایا،بے شک میں تمھارا سہارا اور تم پر گواہ ہوں اور بے شک خدا کی قسم،میں اپنے حوض کو اب بھی دیکھ رہاہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کُنجیاں عطا فرمادی گئی ہیںیا زمین کی کنجیاں اور بے شک خدا کی قسم مجھے تمھارے متعلق ڈر نہیں ہے کہ میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی محبت میں نہ پھنس جاؤ۔
(اس حدیثِ پاک کی وضاحت جاننے کیلئے ہماری کتاب سراج یزداں کا مطالعہ فرمائیں)
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے انعام یافتہ غلاموں کی یاد منانا حضورﷺکی بھی سنت ہے،اور ہر ولی اللہ نے اپنے سے پہلے اولیاء کرام وانبیاء کرام کی یادیں منائی ہیں اور انشاء اللہ مناتے رہیں گے۔ بقول مولانا رومؒ
یادِ اُو سرمایہ ایماں بود
ہر گدا از لطف اُو سلطاں بود
یقیناًانعام یافتہ کی یاد اور تعظیم ہی ایمان والوں کی نشانی ہے ،اس معاملے میں رب تعالیٰ کا حکم نہ ماننا شیطان ہی کا طریقہ ہے اور رب تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ
وَاذْکُرْفِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِےْمَ اِنَّہ‘ کَانَ صِدِّےْقاً نَّبِیّاً۵
ترجمہ!’’اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بے شک وہ صدیق تھا (نبی)غیب کی خبریں بتاتا‘‘(سورہ مریم،آیت نمبر۴۱)
آخر میں دُعا ہے کہ اللہ کریم اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلا کر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
امین امین امین
تیری ہی نعمتوں کے ہم گیت گا رہے ہیں
الفت کی روشنی سے دل جگمگا رہے ہیں
بڑا ناز ہم کو تیرا تم صاحبِ کرم ہو
تیری عنایتوں سے جیون نبھا رہے ہیں
تیرے پاک وہ زمانے مہتاب کی مثل ہیں
شبِ زندگی میں روشن منزل دِکھا رہے ہیں
تیرے روپ کا تصور میری زندگی کا حاصل
اسی ایک ہی لگن سے ہم بامزا رہے ہیں
ہے عادتِ کریمی منگتوں کو ڈھونڈتے ہیں
ہر آصی پُرخطا پہ رحمت لٹا رہے ہیں
عمرانؔ کا یہ رونا پُر درد پُر اثر ہے
دیکھو یہ شیخ و زاہد فتویٰ لگا رہے ہیں
ﷺﷺﷺ
عمرانؔ تیرے صدقے شب و روز کٹ رہے ہیں
کچھ غیر ہوں یا اپنے محوِ جفا رہے ہیں
ﷺﷺﷺ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)