میرے مکی مدنی ڈھولن تُوں رب دولتاں سار یاں واریاں نے
وچ شان محمد؂ عربی دے اُس آیتاں کُل اُتاریاں نے
اِیہہ عرش فرش تے لوح و قلم اِیہہ تاج تخت تے سلطا نی
میرے آقا کارن اللہ نے اِیھ نذراں کُل گزاریاں نے
کسے اہل نظر تُوں پچھ بیبا اِیہہ راز الہی سمجھن دا
اِک سوہنے کارن مولا نے اِیہہ جائیں سب سنگھاریاں نے
اُوہ کھیل حیاتی جتیاں نے اُوہ سکھیاں بھاگاں والیاں نے
جو رنگ بلالیؓ رنگیاں نے جو عشق دی موتے ماریاں نے
اُوہ بن دے مال نے دوزخ دا جو خالی عشق محمد؂ تُوں
جتھِے حُب عمرانؔ محمد؂ دی اُوہ سنگتاں خاص پیاریاں نے
ِ محترم!اللہ کریم اپنے پیارے محبوبﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے بلاشبہ دنیا وآخرت کی ہر کامیابی اسی راستہ پر قائم رہنے سے وابستہ ہے۔
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
میرے دوستو آج جو آیتِ مبارکہ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اسمیں اللہ کریم اپنے محبوبﷺپر اپنی عطاوں کی ایسی نمایاں شان بیان فرما رہے ہیں جس کے بعد اعتراض کرنے والوں کے جملہ دروازے بند ہوجاتے ہیں لیکن ’’میں‘‘ نہ مانو کا علاج تو کوئی ہونہیں سکتا،جاننے والوں کے لئے اور جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھتے ہیں یعنی جو اللہ کو غنی اور سخی مانتے ہیں اُن کو یہ آیت مبارکہ واضح طور پر بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو ایسا غنی اور سخی بنا کر بھیجا ہے جس کی کوئی حد اور کوئی حساب نہیں ،کیونکہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
یعنی اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکو کثیر نہیں،اکثر نہیں،کثار نہیں بلکہ کوثر سے فیض یاب فرمایا ہے،بعض نے کوثر کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا،اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکو خیرکثیر عطا فرمایا،بعض نے فرمایا کہ بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں، کچھ نے کہا،حوضِ کوثر کامالک بنایا،کچھ نے نام کی بلندی اور شفاعت کا تذکرہ کیا ، بہرحال سب نے اپنی شان کے مطابق بجا فرمایا مگر اہلِ ذکر نے تمام اسلاف کے مفہوم یکجا کر کے یہی معنی بیان کیا کہ اللہ کریم نے اپنے محبوب ﷺکو بے حد وبے حساب عطا فرمایاکیونکہ کوثرکا جو معنی بھی مدنظر ہو اُس پرسب کا اتفاق ہے کہ نہ اُس عطا کی کوئی حد ہے اور نہ کوئی حساب ہے،عطا فرمانے والا بھی ہر حد سے افضل ہے اور جس کو عطا فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا محبوبﷺبھی عقل وخرد کی دسترس سے اس طرح افضل ہے کہ اُس کی شان کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اسی لیے فرمایا کہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
بلاشبہ عطا کرنے والا رب ہے اور جس کو عطا فرمایا ہے وہ رب تعالیٰ کا محبوب ہے ، اب کوئی حساب کرے بھی تو کیا کرے؟پھر یہی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو بے حد وبے حساب عطا فرمایا ہے،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کے شروع میں اِنَّا کہہ کر شک کرنے والوں کو بتادیا ہے کہ اے شک کرنے والو یہ کلام اُس کا ہے جو ہر کمزوری اور ناطاقتی سے پاک ہے جس پر شک کرنے والا ابوجہل وابولہب کی صف میں کھڑا کردیا جاتا ہے ،جن کا نام دنیا میں بھی ہر بھلائی سے محروم ہے اور آخرت میں بھی،یہ تو یہود کا عقیدہ ہے کہ (معاذاللہ)رب تعالیٰ کسی کو کچھ نہیں دیتا،جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ کے شروع ہی میں فرمادیا ہے کہ ’’بے شک‘‘ہم نے اپنے محبوبﷺکو بے حد وبے حساب عطا فرمایا ہے۔
قلیل اور عظیم:
قابلِ غور بات ہے کہ اللہ کریم نے دنیا کے سارے مال ومتاع کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ قلیل ہے یعنی سورہ النسآ ء آیت نمبر۷۷ میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ ’’ فرما دیجئے دنیا کا متاع تھوڑا ہے ‘‘
اور حضورﷺکے متعلق اسی سورہ النسآء آیت نمبر ۱۱۳ میں فرمایا ہے کہ
ترجمہ! ’ ’ اور اللّٰہ کا آپ پر بڑا فضل ہے ‘‘
اور سورہ القلم،آیت نمبر۶۸ میں حضورﷺکے خلق کے متعلق فرمایا ہے کہ
ترجمہ’’ اور بے شک آپکا خلق عظیم ہے ‘‘
میرے دوستو اللہ کریم نے دنیا کے سارے مال ومتاع کو قلیل قرار دیا ہے اگر ہم پوری دنیا کے نقشے پر غور کریں تو ہمارے ملک پاکستان کا وجود نہایت چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے لیکن پاکستان کے اندر سیر کرنا چاہیں تو پورا پاکستان دیکھنے کیلئے کافی وقت درکار ہوگا اور پھربھی بہت سارے مقام ایسے ہوں گے جو رہ جائیں گے اس ملکِ خداداد کو اللہ کریم نے جن نعمتوں سے نوازا ہے اُس کا حساب کریں تو کافی مدت کے بعد بھی ہمارا علم ناقص ثابت ہوگا،جیسے ابھی تک زمین کے اندر موجود معدنیات کے خزانے تلاش کیے جارہے ہیں اور کثیر جگہوں سے نکالے بھی جارہے ہیں وغیرہ،لہٰذا جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف پاکستان کا مال ومتاع ہی حساب سے باہر ہے پھر ساری دنیا کا مال ومتاع کس قدر زیادہ ہے کوئی کیا اندازہ لگا سکتا ہے؟بل آخر یہی کہنا پڑے گا کہ دنیا کا مال ومتاع اللہ تعالیٰ کی نظر میں قلیل ہے ہماری نظر میں تو بے حد وبے حساب ہے ،مگر اللہ کریم نے اپنے محبوب ﷺکے متعلق فرمایا کہ بے شک آپ کا خلق عظیم ہے چنانچہ جس تھوڑے کو ہم شمار میں نہیں لاسکے تو جو رب تعالیٰ کی نظر میں عظیم ہے اُس کا کیسے شمار کیا جاسکتا ہے،اسی لیے تو رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
معلوم ہوا کہ اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکو اسقدر نوازا ہے کہ جس کا کوئی شمار نہیں کرسکتا ،حضورﷺکے جملہ اوصاف میں سے جس وصف کو دیکھا جائے تو اُس کا کوئی حساب نہیں لگایا جاسکتا،کیونکہ آپ معجزات لے کر نہیں آئے بلکہ معجزہ بن کر تشریف لائے ہیں۔۔۔بلاشبہ آپکا ذکر بلند ہے۔۔۔آپ کی رحمت عالمین کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔۔۔آپکی نورانیت ظاہر وباطن کے اندھیروں کو دور کرنے والی ہے کیونکہ آپ ہی سراجاً منیراً ہیں۔۔۔آپ پر اترنے والا قرآن ہر تبدیلی سے پاک ہے۔۔۔آپکا در قیامت تک کیلئے گناہ گاروں اور سائلوں کی پناہ گاہ ہے، آپکی شفاعت کا سایہ گرمی محشر میں ٹھنڈ عطا فرمانے والا ہے۔۔۔آپ پر خالق سے لے کر مخلوق تک سبھی درودوسلام کا تحفہ بھیجتے ہیں۔۔۔آپ کے چہرہ انور آسمان کی طرف اٹھتا ہے تو قرآن کی آیات بن جاتی ہیں۔۔۔آپ کے قلبِ اطہر میں پیدا ہونے والی دلیل سے قبلہ تبدیل ہوجاتا ہے۔۔۔آپ کے اشارے پر بے جان پتھرزندہ ہوکر کلمہ سنانے لگتے ہیں۔۔۔آپ کو صرف رب تعالیٰ ہی محبوب نہیں رکھتے بلکہ بے جان پہاڑ بھی آپکے حُسن سے جاندار ہوکر محبت کرنے لگتے ہیں اور آپکی آمد کی خوشی میں رقص کرتے ہیں۔۔۔جس زمین پر آپ قدم رکھتے ہیں اُس کی قسمیں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اٹھاتے ہیں۔۔۔جو آپ پر جان فدا کرتا ہے اُس کی موت بھی شہادت کے مقام پر فائز ہوجاتی ہے۔۔۔آپ کی وفاداری کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دوستی کا نام دیا ہے، آپ کی رضا کو رب تعالیٰ نے اپنی رضا قرار دیا ہے اور آپ کی عطا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عطا قرار دیا ہے۔۔۔ آپ کے ہاتھ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔۔۔ آپکا سخن رب تعالیٰ کا سخن ہے ۔۔۔آپ کا حُسن رب تعالیٰ کا حُسن ہے۔۔۔آپ کی اطاعت رب تعالیٰ کی اطاعت ہے۔۔۔آپ کی محبت ایمان ہے اور آپ ایمان والوں کی جانوں کے مالک ہیں جیسے سورہ الاحزاب، آیت نمبر ۶میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ!’’یہ نبی اہلِ ایمان کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے‘‘
حضورﷺ مومنین کے مالک:
بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1891،صفحہ915
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا اور آخرت میں جس کی جان کا میں اس سے زیادہ مالک نہ ہوں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو’’نبی(ﷺ)مومنوں کا اُن کی جان سے زیادہ مالک ہے‘‘پس جوبھی مومن مال چھوڑے تو اس کے رشتہ دار ہی میراث پائیں گے لیکن اگر اس کے سر پر قرض ہے یاکسی کا مال ضائع کیا تھا تو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اس کا ذمہ دار میں ہوں‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ تمام مومنین کی جانوں سے زیادہ اُن کے مالک ہیں ،اس میں صرف اپنے حاضر زمانے کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ واضح الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی، میں ہی مالک ہوں ، لہٰذا جس پر قرض ہو، وہ حضورﷺ ہی اُس کا قرض ادا کریں گے اسی لیے آپﷺ نے سورہٗ الاحزاب کی آیت تلاوت فرمائی ۔جس سے عیاں ہے کہ حضورﷺہی جان سے زیادہ مالک ہیں اور مشکل کُشا بھی وہی ہیں لیکن یہ حکم صاف بتا رہا ہے کہ آپ صرف مومنین کے مالک ومشکل کشا ہیں ،اسمیں منافقین یا کفار وغیرہ شامل نہیں،جہاں جہاں اور جس جگہ اور جس زمانے میں ایمان والے بستے ہیں حضورﷺاُن سب کے مالک ومشکل کُشا ہیں۔
دَم قدم سے آپ کے یہ نور ہے سرور ہے
عاشقوں کی جان میں ایمان کا ہے سلسلہ
آپ کا وجودِ اقدس دنیا سے لے قبرحشر تک ہر عذاب سے بچانے والا ہے،یہی وجہ ہے کہ سابقہ اقوام پر گناہوں کے باعث عذاب کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور اب آپ کی وجہ سے سارا جہان عذاب سے محفوظ ہے ،جیسا کہ سورہ الانفال ،آیت نمبر۳۳میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ!’’اور اللّٰہ کاکام نہیں کہ انھیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔‘‘
حضورﷺ کی وجہ سے عذاب نہیں:
بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1759،صفحہ817
بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1760،صفحہ818
حضرت انسؓ نے ابوجہل کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ اے اللہ!اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا،یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لے آ،اس پر یہ وحی نازل ہوئی،’’اور اللہ کاکام نہیں کہ اُن پر عذاب کرے جب تک اے محبوب!تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں ہے‘‘(سورہٗ الانفال،آیت ۳۳)
آپ کا سر بھی تمام مخلوق سے بلند ہے اور اُس پر تاجِ نبوت کا بھی اختتام ہے،مختصراً جس پہلو سے آپ کی ذاتِ اقدس کو دیکھا جائے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی عطاوسخا کا ایسا شاہکار ہے جس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے۔
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
غور فرمائیں کہ اس سے کون سی چیز باہر ہے جس کے متعلق کچھ لوگ بحث ومباحثہ کرتے ہیں کہ فلاں کا علم نہیں تھا اور فلاں کا اختیار نہیں تھا،درحقیقت اللہ کریم نے حضورﷺکو بے حد وبے حساب عطا فرمایا ہے ،اس بات کا انکار کرنے والے حضورﷺکے فرمان کے مطابق خود دین سے باہر ہیں (ان احادیثِ مبارکہ سے مستفید ہونے کے لئے ہماری کتب’’خُطباتِ صابری جلد اوّل یا سراجِ یزداں کا مطالعہ کریں، یہاں صرف ایک روایت درج کی جاتی ہے)۔
دین سے نکلے ہوئے لوگ:
بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر51،صفحہ52
حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سُنا کہ تم میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی کہ اپنی نمازوں کو تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں،اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں حقیر جانو گے،وہ قرآنِ کریم پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا،وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
یہ حدیثِ پاک بخاری شریف کی جلدنمبر 3میں تقریباً9دفعہ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ موجود ہے،حدیث نمبر درجہ ذیل ہیں۔
۱۰۹۵،۱۸۲۱،۱۸۲۲،۱۸۲۳، ۱۸۲۴،۱۸۲۵،۲۲۸۲،۲۴۰۷
خزانوں کی کنجیاں:
بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1502،صفحہ692
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،میں سو رہا تھا کہ مجھے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں دے دی گئیں۔
بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر229صفحہ126
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،ایک روز جبکہ میں سو رہا تھاتومیرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں۔
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اپنے محبوبﷺکو عطا فرمادی ہیں یعنی اس دارالعمل سے جس کو جو کچھ ملے گا وہ حضورﷺہی کی مرضی اور عطا سے حاصل ہوگا،زمین کے بسنے والے تمام ذی روح حضورﷺ ہی کے سائل اور محتاج ہیں چاہے کوئی مانے یانہ مانے،کوئی حلال کرکے کھائے یا حرام کرکے،کوئی شکر ادا کرکے کھائے یا ناشکری کرکے،مگر ملتا سبھی کو اُسی سرکارﷺ سے ہے۔
میں آزاد عمرانؔ ہر دم فکر سے
ہاتھوں میں دامن سخی کا لیا ہے

آخری نبی اللہﷺ:
بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر2004،صفحہ972
حضرت جبیرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ میرے کتنے ہی نام ہیں،میں محمد(ﷺ)ہوں اور میں احمد(ﷺ)ہوں اور میں ماحی(ﷺ) ہوں کہ اللہ تعالیٰ کُفر کو میرے ذریعے مٹائے گا اور میں حاشر (ﷺ) ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں اکٹھا کیا جائے گا اور میں سب سے آخری نبی(ﷺ) ہوں۔
یہ ہے دعویٰ سبھی کا ہمارے ہو تم یقیناًسبھی کے سہارے ہو تم
ہو زمینِ دہر یا میدانِ حشر تیرے بِن توگزارا نہیں مصطفیﷺ
حضرت ابوہریرہؓ اور اصحابؓصُفہّ کو دودھ پلایا:
بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1372صفحہ536
حضرت ابوہریرہؓ فرمایا کرتے کہ میں اکثر بھوک کے باعث زمین پرپیٹ کے بل لیٹ جاتا یا پیٹ پر پتھر باندھ لیتا،ایک روز میں لوگوں کی عام گزر گاہ پر بیٹھ
گیاتوحضرت ابوبکرؓ گزرے تو میں نے اُن سے قرآنِ کریم کی ایک آیت پوچھی ،میں نے سوال اسی لئے کیا کہ وہ مجھے کھانا کھِلا دیں،لیکن وہ گزر گئے اور ایسا نہ کیا،پھر میرے پاس سے حضرت عمرؓ گزرے تو میں نے اُن سے بھی کتابِ الہیٰ کی ایک آیت پوچھی اور اُن سے بھی کھانے کے باعث سوال کیا تھا،چنانچہ وہ بھی گزر گئے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا پھر میرے پاس حضرت ابوالقاسمﷺ گزرے اور مجھے دیکھ کر تبسم فرمایا کیونکہ آپ نے میری دلی خواہش اور چہرے کی حالت کو جان لیا تھا،چنانچہ فرمایا،اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺمیں حاضر ہوں،فرمایا کہ آگے آؤ اور آپﷺ چل دئیے تو میں بھی آپﷺ کے پیچھے چلنے لگا،چنانچہ آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی اجازت مرحمت فرمائی پس میں اندر داخل ہوا،چنانچہ آپ نے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟گھروالوں نے جواب دیا کہ فلاں مرد یافلاں عورت نے بطور ہدیہ آپﷺ کیلئے پیش کیا،فرمایا کہ اے ابوہریرہؓ! عرض گزار ہوا کہ یارسولﷺمیں حاضر ہوں،فرمایا کہ اہلِ صُفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بُلا لاؤ،حضرت ابوہریرہؓ کابیان ہے کہ اہلِ صُفہّ اسلام کے مہمان تھے،اہل وعیال،مال اور کسی شخص کے پاس نہیں جاتے تھے، جب آپﷺکی خدمت میں صدقہ آتا تو اُن کیلئے بھیج دیتے اور خود اُس میں سے ذرا بھی تناول نہ فرماتے اور جب آپکی خدمت میں ہدیہ پیش کیا جاتاتو اُس میں اہلِ صُفہ کوبھی شامل فرمالیتے،مجھے یہ بات اچھی نہ لگی اور اپنے دل میں کہا کہ یہ دودھ اہلِ صُفہ کا کیا بنائے گا؟جبکہ اس کا زیادہ حقدار میں ہوں اگر یہ دودھ مجھے عطا فرما دیا جائے اور میں اِسے پی لوں تو کچھ جان میں جان آئے،پس جب وہ آئیں جیسا کہ مجھے حکم فرمایا گیا ہے اور میں انہیں دوں تو غالب گمان ہے کہ یہ دودھ مجھ تک تو پہنچے گا ہی نہیں،لیکن اللہ اور اُس کے رسولﷺ کا حکم مانے بغیر چارہ نہیں،پس میں گیا اور انہیں بُلالایا،چنانچہ وہ آئے پھر انہوں نے اجازت مانگی تو انہیں اجازت دے دی گئی اور وہ گھر کے اندر بیٹھ گئے،فرمایا کہ اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!میں حاضر ہوں،فرمایا کہ اسے لیکر انہیں دو،انکا بیان ہے کہ میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک آدمی کو دیا ،چنانچہ جب وہ شکم سیر ہوگیا تواُس نے پیالہ مجھے واپس کردیاپھر دوسرے نے پیالہ مجھے دے دیا، اس طرح میں نبی کریمﷺتک پہنچ گیا اور اصحابِ صُفہ سب شکم سیر ہوچکے تھے چنانچہ آپﷺنے پیالہ لے لیا اور اُسے اپنے دستِ کرم پر رکھاپھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا،ارشاد ہوا،اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!میں حاضر ہوں،فرمایاکہ اب میں اور تم باقی رہ گئے،میں عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!آپ نے سچ فرمایا،ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور پےؤ، چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے پیا پھر فرمایا کہ پےؤ،لہٰذا میں نے پھر پیا،آپ برابر یہی فرماتے رہے کہ اور پئیو،یہاں تک کہ میں نے انکار کرتے ہوئے عرض کیا،قسم ہے اُس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے،مجھے اب کوئی گنجائش نظر نہیں آتی،فرمایا کہ مجھے دکھاؤ،پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور خود دودھ نوش فرمایا۔
کئی باتیں اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہیں یعنی حضورﷺ دلوں کی پوشیدہ باتوں کوجاننے والے ہیں جیساکہ حضرت ابوہریرہؓ نے خود بیان فرمایا کہ جب حضورﷺنے مجھے دیکھا تو تبسم ریزی فرمائی کیونکہ وہ میرے دلی ارادہ سے آگاہ ہوچکے تھے یعنی حضورﷺسے کوئی بات پوشیدہ نہیں،شانِ کوثر کا واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ حضورﷺنے ایک ہی دودھ کے پیالے سے ۷۰ اصحابِ صُفہ (جوکہ ہمہ وقت تن من دھن نثار کیے ہوئے اپنے آقاﷺکے دیدار کے طلبگار رہتے تھے)اور خود حضرت ابوہریرہؓ کو شکم سیر کردیا اور بار بار حضرت ابوہریرہؓ سے فرمایا کہ اور پئیو یہاں تک کہ انھوں نے خود عرض کیا ،اب مجھے اپنے اندر کوئی گنجائش نظر نہیں آتی،وہی دودھ کا ایک پیالہ سب نے نوش کیا مگر وہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا،ختم ہوبھی کیسے سکتا تھا جبکہ وہ ساقیِ کوثر ﷺنے عطا فرمایا تھا۔
مُشکل نہیں ہے راستہ جو ساتھ اُن کا مِل سکے
روشنی کا ہے سفر یہ کاروانِ زندگی
ایک سوتیس آدمی شکم سیر کیے:
بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر349صفحہ177
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریمﷺکے ہمراہ ہم ایک سو تیس افراد تھے،نبی کریمﷺنے فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟اُس وقت ایک آدمی کے پاس ایک صاع کے لگ بھگ کھانا(آٹا) تھا،پس اُسے گوندھا گیا،اتنے میں ایک لمبا تڑنگا مشرک ریوڑ کو ہانکتا ہوا آگیا،پس نبی کریمﷺنے اُس سے فرمایا،کیا تم بیچنے یاعطیہ و ہبہ کے طور پر (کوئی بکری) دینے کیلئے تیار ہو؟اُس نے کہا،نہیں بلکہ بیچتا ہوں،راوی کابیان ہے کہ آپ نے اُس سے ایک بکری خرید لی،پس نبی کریمﷺنے اُس کی کلیجی بھوننے کا حکم فرمایا،،خدا کی قسم!ایک سوتیس آدمیوں میں سے ہر ایک کو اُس کلیجی سے حصّہ مل گیا،جو حاضر تھے انہیں حصّہ دے دیا گیا اور جو موجود نہ تھے اُن کا حصّہ رکھ دیا گیا،پھر بکری کا گوشت دوکونڈوں میں نکالا گیا تھا،پس ہم سب نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا اور دونوں کونڈوں میں بچ بھی رہا،جو ہم نے اونٹ پر لاد لیا۔
سبحان اللہ اس حدیثِ مبارکہ سے کس قدر شانِ کوثر واضح ہے کہ حضورﷺ کی عطاسے اُسی ایک بکری کی کلیجی کا حصّہ ایک سوتیس آدمیوں نے کھایا اور اسی طرح تمام گوشت میں بھی اس قدر برکت ہوئی کہ صرف وہاں موجود تمام لوگوں نے شکم سیر ہوکر نہیں کھایا بلکہ جو موجود نہ تھے اُن کا حصّہ بھی رکھ لیا گیا ،اور باقی ماندہ اونٹ پر لاد لیا گیا۔
اُنکی نگاہ سے کتنے خیرات پا گئے ہیں
حبشیؓ بنے ہیں سلطان ثمرات پا گئے ہیں
گھی ختم نہ ہوا:
مسلم بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،معجزات کاباب،صفحہ272
حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اُمِ مالکؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اپنے ڈبہ میں گھی کا ہدیہ بھیجا کرتی تھیں ان کے پاس ان کے بچے آتے ان سے سالن مانگتے حالانکہ ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس ڈبے کی طرف جاتیں جس میں نبی کریمﷺکوہدیہ بھیجتی تھیں تو اس میں گھی پاتی تھیں ان کیلئے ان کے گھر کا سالن رہا حتیٰ کہ انہوں نے اسے نچوڑ لیا پھر وہ نبی کریمﷺکے پاس حاضر ہوئیں فرمایا،کیا تم نے اسے نچوڑ لیا،عرض،کیا کہ ہاں،فرمایا اگر تم اسے چھوڑ دیتیں تو وہ باقی رہتا۔
جو تیرا گدا ہے جہاں بھر کا شاہ ہے
عطا کرنے والی نگائیں ہیں تیری
تمھارے لبوں سے خدا بولتا ہے
خدا نے بھی مانی رضائیں ہیں تیری
اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
میرے دوستو حضورﷺکا حکم صرف زمین پر ہی نہیں چلتا بلکہ آسمان پر بھی سرکارﷺ کی حکومت ہے اسی لیے حضورﷺنے فرمایا کہ میرے دووزیر آسمانوں میں ہیں اور دو زمین پر ہیں آسمانی وزیر حضرت جبرائیلؑ اور حضرت میکائیل ہیں اور زمینی حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ ہیں، جہاں حکومت ہو وہاں ہی وزارت بھی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو بے حد وبے حساب عطا فرمایا ہے۔
سورج کی واپسی:
ایک دفعہ نمازِ عصرادا کرنے کے بعد حضورﷺنے مولاعلیؓ کی گود میں سرِ انوررکھ کر آرام فرما لیالیکن مولاعلیؓ نے ابھی نمازِ عصر ادا کرنی تھی کہ اسی دوران سورج غروب ہونے لگا،ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عبادت تھی تو دوسری طرف حضورﷺ کی فرمانبرداری تھی،یہاں تک کہ مولا علیؓ نے جمالِ یار پر نمازِ عصر قضا کردی،مگر ذرا برابر بھی جنبش نہیں فرمائی کہ کہیں حضورﷺکے آرام میں خلل نہ واقع ہو،اسی دوران دیکھا کہ سورج غروب ہوگیا ہے ،آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے جو رخِ مصطفیﷺکے بوسے لینے لگے،حضورﷺنے چشمانِ مبارک کھولیں اور فرمایا ،اے علیؓ!تمھیں کس چیز نے رلایا،عرض کیا،نمازِ عصر قضا ہوگئی ہے،لہٰذا شانِ کوثر والے سراجاً منیراً نے ہاتھ اُٹھائے اور دُعا فرمائی،
’’اے اللّٰہ علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا تو اس پر سورج کو واپس کردے‘‘(خصائص الکبری جلد۲ صفحہ ۸۳)
دُعا مکمل ہوئی تو سورج واپس پلٹ آیا اور مولاعلی المرتضیٰؓ نے نمازِ عصر ادا فرمائی۔
مولانا روؒ م اور صاحبِ معارج النبوت تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک قافلہ عرب کے صحرا میں پیاس کی شدت سے سخت بے حال تھا کہ اسی دوران حضورﷺ مع چند صحابہؓ وہاں تشریف لے آئے ،جب قافلے والوں نے حضورﷺکو دیکھا تو اپنی صورتِ حال کے متعلق عرض کیا،سرکارﷺنے انھیں تسلی دی اور اپنے چند صحابہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ٹیلے کی دوسری جانب ایک حبشی غلام اونٹ پر سوار ہے اور اُس کے پاس پانی سے بھرا مشکیزہ ہے ، اُسے میرے پاس لے آؤ،لہٰذا صحابہؓ کبار ٹیلے سے دوسری جانب پہنچے توحبشی غلام کو مشکیزے کے ساتھ دیکھا کہ اپنے اونٹ پر سوارتیزی سے جارہا ہے ، صحابہؓ نے اُسے حضورﷺکا پیغام دیا لیکن اُس نے کہا کہ مجھے اپنے مالک کے پاس پہنچنے کی جلدی ہے اگر دیر ہوگئی تو وہ سخت ناراض ہوگا،صحابہؓ نے فرمایا کہ تمھیں اپنے مالک کا حکم ماننا ہے اور ہمیں اپنے مالک کا حکم ماننا ہے لہٰذا صحابہ کبارؓ نے اُسے کھینچ کر حضورﷺکی خدمت میں حاضر کردیا،نبی کریمﷺنے قافلے والوں کو فرمایا کہ اس مشکیزے سے اپنی ضرورت پوری کرو، لہٰذا قافلے والوں نے خوب سیر ہوکر پانی پیا۔۔۔جانوروں کو پلایا۔۔۔مشکیزے بھرے لیکن اس حبشی کے مشکیزے میں کوئی کمی نہ واقع ہوئی،
جملہ رازاں مَشک او سیراب کرد
شترِ آں دہر کسے زاں آب خورد
چنانچہ سارا قافلہ سیراب ہوگیالیکن حبشی غلام کا مشکیزہ اُسی طرح لبریز نظر آرہا تھا ،
پیتا رَج کے سارے کروان پانی ہر کسے نے شکر ادا کیتے
پانی پی چوپائے نہال ہوئے کرم کرم محبوبِ خدا کیتے
مشک ویکھ لبریزحیران حبشی سوہنے سوچ توں کم اُولیٰ کیتے
قطرہ اِک نہ مشکوں کم ہویا غیبوں بحر سرکار؂ عطا کیتے
بعدازاں حبشی کو اجازت فرمائی مگر اُس کے دل میں سرکارﷺکی محبت پیدا ہوچکی تھی اور خوبصورت پیکر دل میں گھر کر چکا تھا،عرض کیا،حضور!تمام لشکر سیراب ہوگیا اور میں تشنہ لب ہی چلا جاؤں،شانِ کوثر کے مالک آقاﷺکو ترس آیا اور اپنا یداللہ والا گورا ہاتھ اُس کے چہرے پر پھیرا۔۔۔ ہاتھ کا پھرنا تھا کہ اُس کا صرف باطن نہیں بلکہ ظاہر بھی روشن ہوگیا،یہاں تک کہ رنگت کی سیاہی سفیدی میں تبدیل ہوگئی،جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو اُس نے پہچاننے سے انکار کردیا،کہا کہ بے شک یہ مشکیزہ اور اونٹ میرا ہے مگر تم میرے غلام نہیں۔۔۔ کیونکہ میرا غلام کالے رنگ کا بدصورت تھاجبکہ تم خوبصورت اور سفید رنگت والے ہو،بل آخر حبشی غلام نے تمام واقعہ سنایا ۔۔۔اور بتایا کہ میں وہی ہوں مگر جس نے یہ سارا رنگ چڑھایا ہے وہ مدینہ کا تاجدار ہے،اس واقعہ سے وہ مالک بہت متاثر ہوا اور اپنے قبیلہ والوں کے ہمراہ حضورﷺکے قدموں میں حاضر ہوااورکلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا،اور شانِ کوثر کے مالک کی غلامی اختیار کرلی۔
(معارج النبوت جلد ۲،مثنوی شریف)
مالک سُن کے گل غلام تائیں چھِک سینے دے نال لگاوندا اے
آکھے اُوسے سرکار دے کول چلئے جہڑا سُتے ہوئے بھاگ جگاوندا اے
سَنے نال غلام پروار لے کے درِ اقدس حضوردے آوندا اے
کلمہ پڑھ عمرانؔ ایمان آندا گیت سوہنے محمد؂ دے گاوندا اے
اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
رسول اللہﷺکا انعام:
ایک علوی بزرگ اپنی زوجہ اور چند صاحبزادیوں کے ہمراہ بلخ میں سکونت پذیرتھے،اچانک ایک روز اُن کا وصال ہوگیا،اُنکی زوجہ محترمہ اُن کے وصال کے کچھ روز بعد عسرت اور دشمنوں کے خطرہ سے ہجرت فرما کر سمرقند آگئیں،موسمِ سرما اپنے عروج پر تھا وہ صاحبزادیوں کو ایک مسجد میں بٹھا کر خودضروریاتِ زندگی کی تلاش میں گھومنے لگیں،اچانک اُنھوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ لوگ ایک بوڑھے شخص کے اردگرد جمع ہیں۔۔۔لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ شخص شہر کا شیخ ہے لہٰذا مائی صاحبہ نے آگے بڑھ کر اُس شخص کو اپنے حسب ونسب سے لے کر مکمل حالات سے آگاہ کیا لیکن اُس شیخ نے بڑی لاپروائی کے ساتھ کہا کہ اپنے علوی ہونے کا ثبوت پیش کرو،یہ سُن کر مائی صاحبہ مایوس ہوکر وہاں سے روانہ ہوگئیں اُنھوں نے کچھ فاصلے پر ایک اور بوڑھے کو دیکھا کہ اُونچی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے اور کچھ لوگ اُس کے اطراف میں جمع ہیں، لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ بوڑھا شہر کا ضامن ہے اور مجوسی مذہب رکھتا ہے،مائی صاحبہ نے سوچاکہ شاید یہاں سے کچھ فائدہ ہوجائے چنانچہ آگے بڑھ کر شہر کے ضامن کو اپنی مکمل پریشانی اور سمرقند کے شیخ کے سلوک سے آگاہ کیا نیز بتایا کہ میری بیٹیاں اس وقت مسجد میں پناہ گزیں ہیں اور ہم کئی یوم سے فاقہ کا شکار ہیں یہ سُن کر مجوسی نے اُسی وقت اپنے خادم کو بھیجا ابھی جاؤ اورمیری بیوی کوپیغام دو کہ تیار ہوکر اس علوی خاتون کے ساتھ مع کنیزیں جائے اور مسجد سے ان کی بچیوں کو اپنے گھر لے آئے اوران کے لئے رہائش اور خوردونوش کا بہترین انتظام کرے ،خادم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور مجوسی کی بیوی نے علوی خاتون کے ہمراہ جاکر عزت کے ساتھ اُن کی بچیوں کو اپنے گھر میں علٰیحدہ رہائش اور بہترین کھانوں سے خدمت انجام دی۔۔۔ پہننے کیلئے خوبصورت ملبوسات مہیا کیے اور ہر قسم کی ضروریات کو پورا کیا،اُسی شب کو سمرقند کے شیخ نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا روز ہے اور حضور نبی کریمﷺکے سرِ انور پر پرچم جھوم رہا ہے اور حضورﷺ اپنے امتیوں کی شفاعت کروا رہے ہیں۔۔۔سمرقند کے شیخ نے آگے بڑھ کر حضورﷺ کی خدمت میں سلام پیش کرنا چاہا مگر حضورﷺنے اُس کی طرف سے اپنا چہرہِ اقدس پھیر لیا،اُس نے عرض کی آقاﷺ!آپ مجھ سے چہرہِ اقدس پھیررہے ہیں حالانکہ میں مسلمان ہوں؟فرمایا،اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کرو۔۔۔یہ سُن کر وہ ششدر رہ گیا،حضورﷺنے فرمایا،کیا تمھیں یاد نہیں کہ تم نے علوی خاتون سے علوی ہونے کا ثبوت طلب کیا تھا؟وہ دیکھو جو سامنے نہایت خوبصورت محل جنت میں نظر آرہا ہے یہ اُس شخص کا ہے جس نے اُس علوی خاتون کو کھانا ولباس اور رہائش دی ہے،اس کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی،سخت نادم ہوا ۔۔۔ اور اپنے منہ پر طمانچے مارنے لگا،تمام خدام کو دوڑایا کہ معلوم کرو۔۔۔ وہ علوی خاتون کدھررہائش پذیر ہیں اور خود بھی تلاش کرنے لگا،کافی تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سمرقند کے ضامن کے مکان پر سکونت پذیر ہیں فوراً وہاں پہنچا اور ضامن سے کہا،کیا علوی خاتون آپ کے مکان پر رہائش پذیر ہیں؟ اُس نے بتایا کہ بے شک وہ میرے ہی غریب خانہ پر تشریف فرما ہیں،شیخ نے کہا میں انھیں اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں،ضامن مجوسی نے جواب دیاکہ اب ایسا نہیں ہوسکتا، شیخ نے کہا تم مجھ سے ایک ہزار دینار لے لو اور اُن کو میرے ہاں بھیج دو، ضامن نے کہا، خدا کی قسم تم مجھے ایک لاکھ دینا ربھی دو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا، جب شیخ نے زیادہ اصرار کیا تو مجوسی ضامن نے کہا،میری بات کان کھول کر سُن لو۔۔۔ جو خواب تم نے دیکھا ہے وہ میں نے بھی دیکھا ہے،اب وہ جنتی محل میرا ہوچکا ہے تم اپنے مسلمان ہونے پر غرور کرتے ہوحالانکہ اس علوی خانوادہ کی برکت سے میں اور میرے تمام اہل خانہ مسلمان ہوچکے ہیں ان کے یہاں تشریف لاتے ہی ہمارا مقدر سنور گیا ہے مجھے رسول اللہﷺ نے اپنے جمال سے فیض یاب فرمایا ہے اور جنت میں انتہائی خوبصورت محل دکھایا ہے کہ یہ تمھارا اور تمھارے گھر والوں کا ہے یہ اُس احسان کا بدلہ ہے جو تم نے علویہ کے ساتھ کیا ہے لہٰذا اب تم اور تمھارے اہلِ خانہ پکے جنتی اور اس محل کے مالک ہو۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو اپنی عطا اور سخا سے اس قدر غنی کردیا ہے کہ جن کے متعلق یہ ملکر کہنا ضروری ہے کہ
ترجمہ! ’’ بیشک ہم نے آپ کو بے حد وبے حساب عطا کیا ‘‘ (سورۃُ الکوثر،آیت نمبر۱)
آخر میں دُعا ہے کہ اللہ کریم اپنے محبوبﷺکی عطا اور سخا کو دل وجان سے ماننے کی توفیق عطا فرمائے اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلانے کا خوب خوب شوق عطا فرمائے تاکہ ہم دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرسکیں۔
امین امین امین
دو جگ نوں حُسن دی دے دولت تیرے حُسن دی رب زکوٰۃ ونڈی
گُل پُھل زمیں اَسماں سارے تیرے نور دی سب خیرات ونڈی
والفجر دی خاطر ہی فجر ونڈی وَالیل دے کارن ہی رات ونڈی
تیری نعت عمرانؔ سکھان خاطر روشن پاک قرآن سوغات ونڈی
ﷺ ﷺ ﷺ
تھک ہار کے ہار تسلیم کیتی ہاریاں ہویاں تے ترس حضور کرناں
بے بس دے وَس دی گَل ناہیں نظرِ کرم تھیں پار اِیہہ پور کرناں
چھوڑی آپ تے گَل بنائی رکھناں لِلّٰہ معاف تمام قصور کرناں
پردہ پوش عمرانؔ دا رکھ پردہ پردے نال روپوش درگور کرناں
ﷺ ﷺ ﷺ
ربِ عالم دا ہاں ناچیز بندہ اُمتی شاہ والا دوسرا دا ہاں
ہاں نام لیوا بنی فاطمہؓ دا خادم خادمانِ مصطفی؂ دا ہاں
حضرت ابو حنیفہؓ دا ہاں پیرو فردِ ملت خلؑ یلِ خدا دا ہاں
صابرؒ وَلی عمرانؔ سلطان میرے دستِ بیعت سیدنؒ پیشوا دا ہاں
ﷺ ﷺ ﷺ
میں کمزور عمرانؔ تیرا گدا ہاں
توں اپنا بنا کے نبھا طیبہ والےﷺ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)