صورت بھی لامثل تو سیرت بھی لامثل ہے
لاریب تیرا پیکر قرآن شاہِ عربیﷺ
الغیب کا عقیدہ محکم تجھی سے شاہا
گفتارِ لم یزل ہے بزبانِ شاہِ عربیﷺ


!معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرمﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین۔


میرے دوستو!آج جو کلامِ الہیٰ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اسمیں اللہ کریم ایک خاص گروہ سے محبت کا اعلان فرما رہے ہیں اور وہ گروہ ہے متقین کا ،یعنی حکمِ خداوندی ہے کہ


فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۵ , سورہ العمران، آیت ۷۶
ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے‘‘


سبحان اللہ کیا شان اور مقام ہے متقین کا، بلاشبہ بہت بڑی عظمت ہے، آج اگر کسی شخص کومعمولی صوبہ کے وزیرِ اعلیٰ صاحب لفٹ کرا دیں تو اُس کے فخر سے زمین پر پاؤں نہیں لگتے ،جہاں تک اُس کی رسائی ہے وہ دوستوں وغیرہ پر یہ برتری ظاہر کرنے سے گریز نہیں کرے گاکہ فلاں وزیر صاحب نے مجھ سے نہایت محبت کے ساتھ ملاقات کی ہے وغیرہ پھرجو خالقِ کائنات تمام جہانوں کا مالک اور بادشاہ ہے وہ اگر اپنے کسی بندے سے خود اپنے کلام میں بے شک کہہ کر محبت کا اظہار فرمادیں تو یقیناًاُس سے بڑا خوش قسمت کوئی ہوہی نہیں سکتا، بلاشبہ اصل برتری تو اُسی خوش نصیب کی ہے۔۔۔ جس سے اللہ کریم محبت کا بھرپور طریقہ سے اعلان کی صورت میں اظہارفرمارہے ہیں اورجس سے رب تعالیٰ محبت فرماتے ہیں۔۔۔ حقیقی اور دائمی عظمت وعزت اُسی کوہی حاصل ہوتی ہے ،نہ اس سے بڑی کوئی عزت ہوسکتی ہے اور نہ اس سے بڑا کوئی شان ہوسکتا ہے یقیناًجسے رب تعالیٰ عزت عطا فرمائیں اُس کی عزت کرنے ہی میں اپنی عزت ہے اور جسے رب تعالیٰ عظمت عطا فرمائیں اُس کی عظمت کو تعظیم کے ساتھ تسلیم کرنے ہی میں اپنی عظمت ہے یعنی رب تعالیٰ کے محبوب بندوں کا ادب واحترام درحقیقت رب تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔
میرے دوستو اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ہم اگر اللہ کے محبوب بندوں سے محبت کریں تو ہمیں کیا حاصل ہوگا؟یقیناًیہ بہت اہم سوال ہے اور اکثر ذہن میں ہلچل پیدا کرتا رہتا ہے؟تو اس متعلق سب سے پہلے رب تعالیٰ کاایک فرمانِذی وقارہے ،

 

سورہ الزخرف،آیت نمبر ۶۷ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ 

ترجمہ!’’گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگرمتقین


یعنی قیامت کے روز دنیا داری کے تمام رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ۔۔۔ہرکسی کو صرف اپنی ہی فکر ہوگی۔۔۔کوئی دنیوی دوستی اور رشتہ کام نہیں آئے گا لیکن اُس نازک وقت میں جب تمام تعلق چھوڑ جائیں گے ایسی حالت میں ایک تعلق بگڑے ہوئے سارے کام بنا دے گا اور وہ تعلق ہوگا متقین کا، یعنی جہاں دنیوی تعلق کام نہیں آئیں گے وہاں متقین کا تعلق کام آئے گا، اسی بات کی وضاحت پر مشتمل ایک حدیثِ پاک ملاحظہ فرمائیں۔


بخاری شریف جلد2حدیث نمبر885صفحہ408
بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1099صفحہ431


حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے نبی کریمﷺسے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟فرمایا،تم نے اس کیلئے کیا تیار کر رکھا ہے؟عرض گزار ہوا،میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہوں...فرمایا،تم ان کے ساتھ ہو جن سے محبت رکھتے ہو،حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اتنا کسی چیز نے خوش نہیں کیا،جتنا نبی کریمﷺکے اس فرمان نے کیا کہ تم اُس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو‘‘


میرے دوستو!اس فرمانِ ذی وقار سے معلوم ہوا کہ انسان کی آخرت اُسی کے ساتھ ہوگی جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں محبت رکھتا ہے بلاشبہ یہ بہت بڑا انعام ہے یعنی ایک عام آدمی بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں سے محبت کرکے بروزِ قیامت اُن کے انعام واکرام اور اُن کی رفاقت سے فیضیاب ہوسکے گا۔


ہے جس سے محبت ہے محشر اُسی سے
ابھی عاقبت کا بھلا مانگ لو


میرے دوستو!اسی طرح ہمارے آقاومولاﷺکے چند اور فرمودات ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات پوری طرح ذہن نشین ہوجائے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے مشکلیں آسان فرمائیں گے۔


ترمذی،دارمی،ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،شفاعت کابیان،صفحہ174


حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ میرے ایک امتی کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۔


ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،شفاعت کابیان،صفحہ174


حضرت ابی سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض وہ ہیں جو ایک جماعت کی شفاعت کریں گے بعض وہ ہیں جو ایک خاندان کی شفاعت کریں گے بعض وہ ہیں جوایک کنبہ کی شفاعت کریں گے بعض وہ ہیں جو صرف ایک آدمی کی شفاعت کریں گے حتیٰ کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔


ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،شفاعت کابیان،صفحہ175


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ دوزخی لوگ صف بستہ ہوں گے توجنتیوں میں سے ایک شخص ان پرگزرے گا توان میں سے ایک دوزخی کہے گا کہ اے فلاں!کیا تومجھے پہچانتا نہیں،میں وہ ہی ہوں جس نے تجھے ایک گھونٹ پانی پلایا تھا اور کوئی دوزخی کہے گا کہ میں وہ ہوں جس نے تجھے وضو کا پانی دیا تھاوہ جنتی ان کی شفاعت کرے گاپھر اسے جنت میں داخل کرے گا۔
اسی حوالے سے حکمِ خداتعالیٰ ہے ،سورہ الاعراف آیت نمبر۱۲۸ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔


ترجمہ!’’اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے


بابا فرید شکر گنج قدس سرہ‘ فرماتے ہیں کہ خواجہ بہاؤاؒ لحق ملتانی کی عادت تھی جب کوئی فوت ہوجاتا تو آپ اس کے جنازے کے پیچھے پیچھے جاتے اور جب وہ مُردہ دفن کیا جاتا تو آپ اس کی قبر پر جا کر کچھ دیر درود پاک وغیرہ پڑھتے اور پھر واپس آجاتے ۔ایک دن آپ کا ہمسایہ فوت ہوگیا۔آپ اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق جنازے کے پیچھے ہو لئے اور جب اسے دفن کر چکے تو آپ کچھ دیر اس کی قبر کے پاس بیٹھ گئے ازاں بعد آپ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اورکہا الحمدللہ...صدرالدینؒ وہاں موجود تھے اُنہوں نے سبب دریافت کیا تو فرمایا۔ جب اس شخص کو دفن کیا گیا تو منکر نکیر آگئے۔ازاں بعد آگ نے اسے جلانا چاہا اتنے میں اس کے پیرشائخ جلالؒ الدین زکریا آگئے اور درمیان میں کھڑے ہوگئے اور آگ کو للکارا کہ دور ہو جا یہ میرا مرید ہے.....آواز آئی اے جلال الدینؒ !ہے توایسا ہی جیسے تو نے کہا ہے ،لیکن اس نے تیرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو چھوڑ دے تاکہ اسے آگ جلائے۔شائخ جلال الدین زکریاؒ نے عرض کی میرے مولا اس نے اگرچہ میری مخالفت کی ہے لیکن اتنا تو کہتا تھا کہ میں جلال الدؒ ین کا مرید ہوں...حکمِ الہٰی ہوا اچھا ہم نے تیری خاطر اسے معاف کردیا۔
(خلاصتہ العارفین)


خود سے چلے جو وہ بھٹکے پڑے ہیں
سوئے خدا راہنما لے کے چل


یہ تو معلوم ہوگیا کہ اللہ کریم کی بارگاہ میں متقین کا بہت بڑا مقام ومرتبہ ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ متقین کی جماعت میں شامل ہونے کیلئے کون سا راستہ جاتا ہے، یعنی متقین کیسے بنا جاسکتا ہے ،اس کے لیے ایک عام مسلمان کو کیا کرنا ہوگا ، آئیے یہ طریقہ بھی اللہ تعالیٰ کی لاریب کتاب ہی سے دریافت کرتے ہیں لہٰذا جب ہم اس سوال کو قرآن پاک پر پیش کرتے ہیں تو سورہ الحجرات،آیت نمبر۳ سے آواز آتی ہے کہ مجھے غور سے پڑھو اورپڑھ کر عمل کرو تو تم متقین میں شامل ہوسکتے ہو اور پھر اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔۔۔اور باقی لوگوں پر تم کو فضیلت حاصل ہوجائے گی کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری حاصل نہیں لیکن جو تم میں متقی ہیں یعنی متقین کو برتری حاصل ہے ۔۔۔اور تم اس نسخہ پر عمل کرکے ہی قیامت کے روز دوسروں کوبھی فائدہ پہنچا سکتے ہوچنانچہ اب متقین بننے کا راز سورہ الحجرات سے معلوم کرتے ہیں تاکہ اس پر عمل کرکے ہم بیان کردہ عظمتیں حاصل کرسکیں۔


ترجمہ!’’بے شک جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللّٰہ کے حضوروہ ہیں جن کے دل اللّٰہ نے تقویٰ کیلئے چُن لیے ہیں ان کیلئے بخشش اور بڑا ثواب ہے‘‘ , سورہ الحجرات،آیت نمبر ۳


معلوم ہوا کہ جو خوش نصیب بارگاہِ نبوی ﷺمیں بآدب ہیں یعنی حضور ﷺ کے معاملہ میں ہمیشہ تعظیم وتوقیر سے کام لیتے ہیں کبھی گستاخی کے مرتکب نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی گستاخ کی سنگت اختیار کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ آدب والوں کے پاس بیٹھتے اور انکی ہی پیروری اختیار کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ کریم نے تقویٰ کے لیے چُن لیے ہیں اور ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا ثواب ہے۔
واضح ہوا کہ رسول اللہﷺ ہی کی وہ ذات ہیں جن کے بآدب قریبی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ عزت اور عظمت سے نوازے جاتے ہیں اور حضور ﷺ کے معاملہ میں معمولی بے ادبی ہرقسم کے اعمالِ صالحہ کوپل بھر میں نیست ونابود کردیتی ہے۔ جیسے اسی سورہ الحجرات کی آیت نمبر۲ میں حکمِ پروردگار ہے کہ


ترجمہ!’’اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے(نبی) کی آواز سے اور ان کے حضوربات چلّا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمھار ے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمھیں خبر نہ ہو‘‘
(سورہ الحجرات ، آیت نمبر۲)


مطلب یہ ہوا کہ حضورﷺکی ذاتِ اقدس کے ہر معاملہ میں اونچی آواز بے ادبی ہے ،اونچی آواز سے مراد گستاخانہ کلام ہے نہ کہ محض آواز کا لیول مراد ہے ورنہ حضرت ثابت بن قیسؓ جو سماعت کی کمزوری کے سبب اونچا سنتے اور اونچا ہی بولتے تھے کو رخصت نہ ملتی،لہٰذا رسول اللہﷺکے آدب واحترام کے سبب ہی اللہ تعالیٰ دلوں کو تقویٰ کیلئے چُن لیتا ہے اور حضورﷺکی معمولی بے ادبی کے باعث ہی تمام اعمال کو تباہ و برباد فرما دیتا ہے۔


میرے دوستو!خلاصہ یہ ہوا کہ حضورﷺکی محبوبیت کے طفیل ہی اللہ تعالیٰ محبوب بناتا ہے اور حضور ﷺکی بے ادبی کے سبب ہی مردودونامراد بنادیتا ہے۔


آج اگر کسی مسلمان سے یہ سوال کریں کہ کوئی شخص ایک صحابی کے مکمل حالاتِ زندگی پڑھ کر اُس پر پوری طرح عمل شروع کردے،یہاں تک کہ اُن کی سیرت کا مکمل عامل بن جائے ،کیا ایسا کرنے والے کواہلِ ایمان صحابی رسولﷺکا درجہ دے سکتے ہیں؟ کہ فلاں صحابی رسولﷺکی سیرت پر عمل کرکے صحابی بن گیا ہے، ہرگز نہیں، کوئی بھی اہلِ ایمان ایسے پیروکار کو ولی اللہ وغیرہ تو کہہ سکتا ہے مگر صحابی رسولﷺ نہیں کہہ سکتا،کیونکہ فرمانِ رسول اللہﷺ ہے کہ


بخاری شریف جلد2حدیث نمبر870صفحہ402


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا،میرے کسی صحاؓبی کو گالی مت دو،اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مُد یا نصف کے برابر بھی ثواب کو نہیں پہنچے گا۔
معلوم ہوا کہ کوئی بھی آج کا مسلمان اُحد پہاڑ جتنا سونابھی خیرات کردے تو رسول اللہﷺکے صحابہؓ کی ایک مُد یا نصف کے برابر بھی ثواب میں برابری نہیں کرسکتا، بلاشبہ اُن کو یہ بلند تر مقام رسول اللہﷺکی قربت ہی کی وجہ سے ملا ہے اگر آج کوئی شخص صحاؓبہ کی مکمل حیاتِ طیبہ کے مطابق بھی عمل کرے تو وہ اُن کے قدموں تک بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتا ،آخر اس کی وجہ کیا ہے؟وہ بھی مسلمان اور آج والے بھی مسلمان ،وہ بھی حضور ﷺکے امتی اور آج والے بھی سرکار ﷺکے امتی ، فرق صرف یہ ہے کہ آج والوں کی ظاہری آنکھ کو وہ دیدار نہیں نصیب ،جوکہ صحابہؓ نے دورانِ نماز بھی نہیں چھوڑا،اگر صرف اعمالِ صالحہ کرنے ہی سے صحابیؓ بنا جاسکتا تو کیا آج عبادت گزاروں کی کمی ہے؟بلاشبہ آج اعمالِ صالحہ کرنے والے تو موجودہیں مگر جو عمل لامثال بنا دیتا ہے وہ لامثال آقا ﷺ کا دیدار ہے جو صحابہ کو لامثال بنا گیا۔


اُنہی کو یا رسول اللہؐ تمھارا قُرب حاصل ہے
خدائے لَم ےَزل جن پہ بڑا غفور رہتا ہے


اسی لیے رسول اللہﷺنے واضح فرمادیاہے کہ اے میری برابری کے دعوے کرنے والوں!تم ساری زندگی کوشش کرنے کے باوجود بھی میرے اُن غلاموں کی برابری بھی نہیں کرسکتے جنہوں نے ایمانی آنکھ سے میرے والضٰی مکھڑے کی صرف ایک جھلک دیکھ لی ہے، سبحان اللہ جس آقاﷺکا ایمان کی حالت میں دیدار کرنے والے لامثل ہوگئے ہیں تو اُس دیدار دینے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺکی عظمت کے کیاکہنے ہیں۔
میرے دوستو!بلاشبہ آج کوئی صحابی رسولﷺ تو نہیں بن سکتا البتہ متقین میں شامل ہوسکتا ہے جس کا طریقہ بھی رسالت مآبﷺکا عشق اور تعظیم ہی ہے، جیسا کہ رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صرف انہی کے دلوں کو تقویٰ کیلئے چُنا جاتا ہے جو بارگاہِ نبویﷺمیں بآدب ہیں ان کیلئے ہی بڑا ثواب اور بخشش کا انعام اور انہی کا تعلق مشکل ترین وقت میں کام آئے گا۔


کچھ ناسمجھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اللہ کی عطا سے بھی مشکل کشا نہیں ہیں حالانکہ رب تعالیٰ تو فرما رہے ہیں کہ جو میرے محبوبﷺکی بارگاہ میں بآدب ہیں وہ سب سے بڑی مشکل یعنی قیامت کے روز کی مشکل کو آسان کرنے والے ہیں جہاں اور کوئی رشتہ کام نہیں آئے گا وہاں متقین کا رشتہ کام آئے گا اور اُن عشاقِ مصطفیﷺکا مقام یہ ہے کہ

 

فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۵ , سورہ العمران، آیت ۷۶
ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے

 

خلاصہ یہ ہوا کہ حالتِ ایمان میں حضورﷺکی زیارت کرنے والے تمام امتیوں میں افضل اعلیٰ ہیں اور باقی امت میں حضورﷺ کا ادب واحترام کرنے والے متقین فوقیت رکھتے ہیں ،جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں اور اُن سے محبت کرنانجات کا ذریعہ ہے۔


میرے دوستو!اللہ تعالیٰ کا ہر ولی متقی ہوتا ہے کیونکہ یہ رب تعالیٰ کا اپنا ہی فرمان ہے،لہٰذاسورہ الانفال آیت نمبر ۳۴ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔


ترجمہ!’’اس کے اولیاء تو متقین ہی ہیں


حاضرینِ محترم!جس قدر اللہ تعالیٰ کے ولی حضورﷺکی بارگاہ میں بآدب ہیں اُس کی تو کوئی نظیر نہیں ملتی، زمانہء قریب ماضی کے ایک ولی اللہ پیرمہرعلی شاہ صاحبؒ کا صرف ایک شعر ملاحظہ فرمائیں کہ جس میں آپ نے ایک ولیِ کامل کا تعارف کرایا ہے کہ کامل ولی اللہ کہتے کسے ہیں۔


میں ہوواں سگ مدینے دی گلی دا
اِیہہ رتبہ ہے ہر کامل ولی دا


اسی لیے تو رب تعالی نے فرمایا ہے کہ

 

فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۵ , سورہ العمران، آیت ۷۶
ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے

 

اب ذرا ایسی شان کے مالک اولیاء کرام کی اپنی بیان کردہ ایک روایت ملاحظہ فرمائیں۔


بابا فرید الدین مسعود شکر گنج قدس سرہ ‘ نے فرمایا ایک دفعہ ایک نوجوان جوکہ بڑا فاسق وفاجر تھا ،ملتان میں فوت ہوا ،اس کے مرنے کے بعد اسے کسی نے خواب میں دیکھ کر دریافت کیا کہ تیرے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ؟اس نے بتایاکہ مجھے خدا تعالیٰ نے بخش دیااور عزت والوں میں شامل فرمایا ہے، جب اس نے بخشش کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا ایک دن حضرت غوث بہاؤالحق زکریا قدس سرہ‘ ایک راستے پر جارہے تھے تو میں نے عقیدت کے ساتھ ان کے دست مبارک کو بوسہ دیا تھاپس اللہ کے ولی کی تعظیم میری بخشش کا باعث بن گئی ہے، نیز بابا فرید ’’اسرارالاولیاء صفحہ182‘‘پر فرماتے ہیں کہ بروزِ حشر بہت سے گناہ گاروں کو متقین کی دست بوسی کی وجہ سے بخش دیا جائے گا اور انہیں عذابِ دوزخ سے نجات مل جائے گی۔کیونکہ

 

فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۵ , سورہ العمران، آیت ۷۶
ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے‘‘

 

عالمِ برزخ میں قاری محمد طیب مہتم دیوبند لکھتے ہیں کہ حضرت تھانوی وفات سے تقریباً دو سال قبل دانت درست کرانے کیلئے لاہور تشریف لے گئے تو واپسی سے ایک دن قبل لاہور کے قریب قبرستان کی زیارت کیلئے بھی نکلے،سلاطین کی قبروں پر بھی گئے اور مساکین کی قبریں بھی دیکھیں،فاتحہ پڑھی ایصالِ ثواب کیا،اس سلسلہ میں حضرت علی ؒ ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر پہنچ کر دیر تک مراقب رہے،جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ یہ تو کوئی بہت بڑے آدمی معلوم ہوتے ہیں،میں نے ہزارہا ملائکہ کو ان کے سامنے صف بستہ دیکھا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میں سلاطین کی قبروں پرگیاتو انہیں مساکین کی صورت میں دیکھا کہ جیسے اُنکا کوئی پُرسانِ حال نہ ہو اور مساکین کو سلاطین کی صورت میں پایا۔ عالمِ برزخ ص۲۴بحوالہ ابرارِ خطابت


کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

 

فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۵ , سورہ العمران، آیت ۷۶
ترجمہ!’’ اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے

 

آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے محبوبﷺکے تصدق اورمتقین کے طفیل اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلاکر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

امین امین امین

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)