میرے محسن شاہِ احسن آسیوں کے آسرا ہو
جانِ جاناں جانِ عالم نورِ مطلق بخدا ہو
شہنشاہِ حُسن و خوبی منبعِ جود و کرم ہو
آفتابِ نورِ یزداں نیرِ صِدق و صفا ہو
دستگیرِ عاجزانِ بے نوا عمرانؔ تم ہو
المدد نظرِ کرم میرے سخی مشکل کشا ہو


!معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین۔


میرے دوستو!آج جو کلامِ الہیٰ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیاہے اسمیں اللہ کریم نے ایسی حقیقت کا اعلان فرمایاہے جس کی صداقت پر ہر مذہب کاہر شخص قائل ہے،تقریبا چودہ صدی پہلے ہونے والا اعلانِ برحق آج کی ترقی یافتہ اور سائنسی دنیا کو ہرطرح سے اس حقیقت کو ماننے پر مجبور کیے ہوئے ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس سے متعلقہ ہر ترقی کی آخری سٹیج موت ہی ہے جیسا کہ حکمِ خداوندی ہے کہ


کُلُّ نَفْسٍ ذَآئقَۃُ الْمَوْتِ۵ , سورہ آلعمران،آیت ۱۸۵
ترجمہ!ہرجان کو موت چکھنی ہے


اس حقیقت کو جھٹلانے کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں بلکہ اس کا جواز اور علاج تلاش کرنے والے بے شمار عقل والوں نے عقل کھودی ہے اور موت کی ابدی نیند سو گئے ہیں اور ان کی ہرناکامی اعلان کررہی ہے کہ محمدمصطفیﷺکے رب کا یہ اعلان حقیقت ہے جو کسی عقلی کوشش سے تبدیل ہونے والا نہیں ہے اور اسلام کو اپنانے کیلئے یہ بہت بڑا درس ہے جس سے صرف عقلِ سلیم کے مالک ہی فیض یاب ہورہے ہیں۔


لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ پس موت ہی اختتام ہے اس سے آگے کچھ نہیں تو اس کی یہ سوچ بھی موت سے عقلی بغاوت کی طرح ہے جس طرح انسان دوسروں کو مرتا دیکھ کر عملی طورپر سبق حاصل نہیں کرتا اور دنیوی رونقوں میں مصروف رہتا ہے اور یہی سمجھتا ہے کہ یہ موت تو صرف دوسروں ہی کیلئے ہے مگر اس کا ہر دن اور ہر شب موت سے قریب کررہی ہے جوں ہی وہ وقت آتا ہے تو اس کے پاس بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی،چاہے اس حقیقت کو عملی طور پر تسلیم کرنے سے آنکھیں بند کیے رکھے یااس کی طرف پشت کیے رکھے ،کوئی فرق نہیں پڑتا،یہ حکمِ لاتبدیل پورا ہو کررہے گا،اور ہر کسی پر یہ بات واضح ہوکررہے گی کہ جس کا حکم پوری دنیاکے سب عقل والے تبدیل نہیں کرسکے وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے بلاشبہ ازلی اور دائمی اسی کی بادشاہی ہے اور ہر چیز اُس کے قبضہ واختیار میں ہے اور وہ اپنے پیارے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اختیارات اور بادشاہت عطا فرماتا ہے، اور اُس کے باقی احکامات بھی اسی طرح حق اور سچ ہیں جس طرح موت کا حکم ہے۔


لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ پس موت ہی اختتام کا نام ہے تو وہ بالکل غلط ہے کیونکہ موت اختتام کا نام نہیں بلکہ تبدیلی کا نام ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا راستہ ہے،یعنی دنیا کی زندگی سے مقامِ قبرمیں جانے کا راہِ قدیم ہے۔


اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ


کُلُّ نَفْسٍ ذَآئقَۃُ الْمَوْتِ۵ , سورہ آلعمران،آیت ۱۸۵
ترجمہ!ہرجان کو موت چکھنی ہے


یعنی موت فناہ ہونے کا نام نہیں بلکہ موت کا ذائقہ دے کر مقامِ قبر میں منتقل کیا جائے گا۔۔۔اور یہ تبدیلی پہلے بھی ہوتی رہی اور دنیا کی زندگی میں بھی ہورہی ہے یعنی بچپن سے لے کر بوڑھاپے اور موت تک سب تبدیلی ہی ہے جس طرح پہلے بھی عالمِ بالا سے ماں کے پیٹ میں منتقل کیا گیا اور ماں کے پیٹ سے اس دنیا میں منتقل کیا گیااسی طرح اس دنیا سے موت کے ذریعہ قبر میں منتقل کیا جائے گا، اسی لیے رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جہاں موت دنیا سے دل ہٹانے والی اور رلانے والی شے ہے وہاں ہی یہ موت مومن کیلئے تحفہ ہے۔

 

میرے دوستو موت کا ذائقہ لینے کے بعد جہاں انسان کو منتقل کیا جاتا ہے اُس مقام کا نام مقامِ قبر یا برزخ ہے۔۔۔اور یہ مقامِ قبر صرف مٹی کے گھر کو ہی نہیں کہتے بلکہ مقامِ قبر ایک دور یا عرصے کا نام ہے،جس کے بعد میدانِ قیامت کا عرصہ شروع ہوجائے گا،یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ رب تبدیلی سے پاک ہے اور اُس کی مخلوق مسلسل تبدیلی کا شکار رہتی ہے مگر یہ ساری تبدیلی مقصد کے بغیر نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا مقصد پوشیدہ ہے جس کاراز اس دنیا کی زندگی میں ہی بتادیا گیا ہے یعنی قبروں میں تمھارا امتحان ہوگااور وہ امتحان اسی تیاری سے لیا جائے گا جو ہم دنیا کی زندگی میں ساتھ لے کر جائیں گے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے یعنی جب انسان اس دنیا کی زندگی کو گزار کر مقامِ قبر میں منتقل ہوتا ہے تو اس سے امتحان لیا جائے گا جس کے متعلق اللہ کے پیارے حبیبﷺنے واضح طور پر اپنے امتیوں کو بتا دیا ہے کہ وہ امتحان کیا ہے ؟ احادیث کی مستند کتب میں قبر کے متعلق تین سوالوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی صاحبِ قبر سے یہ پوچھا جاتا ہے،۱. تیرا رب کون ہے؟۲،تیرا دین کیا ہے؟۳،اس ہستی یعنی محمدمصطفیﷺ کے متعلق کیا کہا کرتا تھا؟اگر مومن ہو تووہ ان تین سوالوں کے ٹھیک جواب دے لیتا ہے جب تیسرے سوال کی باری آتی ہے تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ بتا اس ہستی یعنی محمدﷺ کے متعلق کیا کہا کرتا تھا اُس وقت حضورﷺ قبرمیں موجود ہوتے ہیں جب مومن حضورﷺکی پہچان کرلیتا ہے تو اس کو بخشش وجنت کی خوش خبری سنا دی جاتی ہے لیکن قبر کے متعلق سو ال وجواب کی جو تفصیل بخاری شریف (جو تقریباًتمام مکتبہ فکر کے نزدیک قرآن پاک کے بعد دوسرے نمبر پر احادیث کی کتب مانی جاتی ہے)میں درج ہے اُس کے مطابق قبر میں صرف ایک ہی سوال درج ہے اور وہ کیا ہے یہ جاننے کیلئے مکمل حوالہ جات کے ساتھ حدیثِ مبارکہ سماعت فرمائیں۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1251صفحہ نمبر544
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1284صفحہ نمبر557


حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،بندے کو جب اُس کی قبرمیں رکھا جاتا ہے اور اُس کے ساتھی لوٹتے ہیں اور وہ اُن کے جوتوں کی آہٹ سُن رہا ہوتا ہے تو اُس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اور اُسے بٹھا کرکہتے ہیں،تو اس ہستی کے متعلق کیا کہا کرتا تھایعنی محمد مصطفیﷺکے متعلق؟اگر مومن ہوتو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں.اُس سے کہا جائے گاکہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے پس دونوں کو دیکھتا ہے.قتادہؓ نے ہم سے ذکر کیا کہ اُس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے. پھر حدیثِ انسؓ کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا ،اگرمنافق یاکافر ہوتو اُس سے کہا جاتاہے کہ تو اس ہستی کے متعلق کیا کہا کرتا تھا؟وہ کہتا ہے مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا جولوگ کہتے تھے.اُس سے کہا جاتا ہے،تونے نہ جانا اور نہ سمجھا. اُسے لوہے کے گُرز سے مارا جاتا ہے تو وہ چیختا چلاتا ہے جس کو سب قریب والے سُنتے ہیں سوائے جنوں اور انسانوں کے۔


اس حدیثِ نبویﷺسے معلوم ہوا کہ ہر مردہ سُنتا ہے جب ہر مردہ سن سکتا ہے توپھر اللہ تعالیٰ کے نبی اور ولی کیسے نہیں سن سکتے؟ یقیناًوہ بھی سُنتے ہیں اس بات کا انکار جہالت کی دلیل ہے اور اگلی بات کہ ہر قبر میں حضورپاکﷺکی تشریف آوری ہوتی ہے اور بخشش کا سارا دارومدار اُن کی پہچان پرہی موقوف ہے اور حضورﷺ کی پہچان صرف کامل ایمان والا ہی کرسکے گا.اور یہ بھی معلوم ہواکہ جو ہر قبر میں تشریف لاتے ہیں وہ ہمہ وقت موجود ہیں یعنی حاضر وناظر ہیں. قابلِ غور بات ہے جب انسان یہ دنیا کی زندگی گزار کر مقامِ قبر میں پہنچتا ہے تو اس کی نجات صرف حضورﷺہی کی پہچان سے ہوگی.اور پہچان صرف وہی کرپائے گا جس نے اس دنیا میں حضورﷺسے بنا کررکھی ہوئی ہے.اسی لیے جب فرشتے مومن کا صحیح جواب سُنتے ہیں تو کہتے ہیں دیکھ پہلے تمھارا ٹھکانہ جہنم تھا صرف اس کے بدلے میں یعنی پہچانِ مصطفیﷺکے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تمھارا وہ ٹھکانہ بدل کر تمھیں جنت میں عطا فرمادیا ہے۔


پہچان سے حضورؐ کی سوال ہوگئے ختم
آپ تک ہی منکر و نکیر کا ہے سلسلہ


میرے دوستو اس حدیثِ پاک اور اس کی وضاحت سے واضح ہے کہ مقامِ قبر میں نجات ہی حضورﷺکی ذاتِ اقدس پر رکھی گئی ہے جن احادیث میں تین سوال ہیں وہاں بھی تیسرے سوال پر ہی بخشش وجنت کا انعام عطا کیا جاتا ہے۔


اب سوچنے والی بات ہے کہ جب انسان دنیا کی پوری زندگی گزار کر جاتا ہے تو اس سے پہلے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تو نے اعمالِ صالحہ کس قدر کیے ہیں بلکہ عقائد کے متعلق فیصلہ کن سوال پوچھا جارہا ہے کہ تو اس ہستی یعنی محمدمصطفیﷺکے متعلق دنیا میں کیا کہا کرتا تھا ؟قابلِ غوربات ہے کہ سوال تو قبر کے اندر ہی پوچھا جارہا ہے مگر یہ نہیں پوچھا جارہا کہ اب تو اس ہستی کے متعلق کیا کہتا ہے بلکہ پوچھا یہ جارہا ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس ہستی کے متعلق کیا عقیدہ رکھتا تھا،کیا صرف اپنے جیسا بشر ہی مانتا تھا ؟کیا دوسرے لوگوں کی سن کر ہی اپنا عقیدہ قائم کرلیتا تھا، کیا ان کو بے اختیار اور مرکے مٹی میں مل جانے والا ہی سمجھتا تھا ؟دیکھ یہ کسقدر صاحبِ اختیار اور حیاتِ جاوداں کے مالک ہیں کہ تیرے سامنے موجود ہیں اور پوری دنیا کے اندر جہاں کہیں کوئی مرتا ہے یہ اُس کی قبر میں تشریف لے جاتے ہیں اگرتو نہیں پہچانتا تو عذاب کیلئے تیار ہوجا،جس طرح کہ حدیثِ پاک میں ذکر ملتا ہے کہ اُسے لوہے کے گرز سے مارا جاتا ہے لیکن پہچان کرنے والے مومن کو بخشش اور جنت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے اور پہچان کا تعلق حضورﷺ کی سچی اور پکی محبت سے ہے جو ایک عام کلمہ گو کومومن کے مقام پر فائز کرتی ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر 14صفحہ نمبر 112


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا ۔۔۔یہاں تک کہ میں اُسے اُس کے والد،اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہوجاؤں۔
میرے دوستو! ایسی شدید محبت ہی کو عشق کہا جاتا ہے اور ایسے کامل عشق ہی سے حضورﷺ کی پہچان کرنا ممکن ہوگی،جس کے باعث دوزخ کے عذاب جنت کی راحت میں تبدیل ہوجائیں گے،بلکہ ایسی کامل محبت والوں کے دنیا میں بھی نشان بقا رہتے ہیں، جیسے


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1263صفحہ نمبر549


حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب غزوہ اُحد کا وقت آگیا تو میرے والدِ ماجد نے مجھے رات کے وقت بُلایا اور فرمایا،میں یہی دیکھتا ہوں کہ نبی کریم (ﷺ) کے اصحاب میں سب سے پہلے شہید کیا جاؤں گا اور میں اپنے بعد کسی کو نہیں چھوڑ رہا جو رسول اللہﷺ کے علاوہ مجھے تم سے عزیز ہو،میرے اوپر قرض ہے اُسے ادا کردینا اوراپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،صبح ہوئی توسب سے پہلے وہی شہید کیے گئے اور ایک دوسرے کے ساتھ قبر میں دفن کیے گئے پھر میرا دِل اس پر رضامند نہ ہواکہ دوسروں کے ساتھ چھوڑے رکھوں لہٰذا چھ(6)ماہ کے بعد میں نے انھیں نکالا تووہ اسی طرح تھے جیسے دفن کرنے کے روز تھے‘‘
اس حدیثِ پاک سے رسول اللہﷺکے عاشقِ صادق کے کئی نشانات ظاہر ہیں اوّل جو حضور نبی کریمﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے اُسے اپنی شہادت کا وقت تک معلوم ہوجاتا ہے کیونکہ حضرت عبداللہؓ نے اپنے بیٹے حضرت جابرؓ سے فرمایا مجھے سب سے زیادہ رسول اللہﷺ عزیز ہیں اُس کے بعد تم،اور ساتھ ہی فرما دیا کہ میں یہی دیکھتا ہوں کہ حضورﷺکے اصحاب میں سب سے پہلے میں شہید کیا جاؤں گا جوکہ دوسرے روز سچ ثابت ہوا، دوئم جو حضور نبی کریمﷺسے سچی محبت رکھتا ہے وہ عرب جیسے گرم علاقہ میں بھی چھ ماہ کے بعد قبر سے نکالا جاتا ہے تو اُس کا جسم بالکل تروتازہ ہوتا ہے۔


حُسنِ نبیؐ سے جن کی روشن ہیں دِل کی راہیں
باغِ بہشت واللہ ایسوں کی ہر قبر ہے


اسی طرح کا ایک اور ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔


قصبہ سلمان پاک جو بغداد شریف سے چالیس میل کے فاصلے پر ہے اور زمانۂ قدیم میں جس کا نام مدائن تھا اور جہاں اکثر صحابہ کراؓم گورنری کے عہدہ پر فائز رہے، یہاں ایک شاندار مقبرے میں حضرت سلمانؓ فارسی مشہور صحابی رسول اکرمﷺمدفون ہیں اورآپ کے گنبدِ مزارسے متصّل نبی پاکﷺکے دوصحابہ حضرت حذیفہؓ الیمانی اور حضرت جابر بن عبداللہؓ کے مزارات ہیں اِن دُونوں اصحابِ رسولﷺکے مزارات پہلے سلمان پاک سے دو فرلانگ کے فاصلے پر ایک غیرآباد جگہ پر آباد تھے۔


حضرت حُذیفہؓ نے شاہِ عراق سے خواب میں فرمایا کہ ہم دونوں کو موجودہ مزاروں سے منتقل کرکے دریائے دَجلہ سے تھوڑے فاصلے پر دفن کردیا جائے کیونکہ میرے مزار میں پانی اور جابرؓ کے مزار میں نمی شروع ہوگئی ہے، شاہِ عراق نے مسلسل دو رات خواب میں ہدایت پاکر کسِی وجہ سے عمل نہ کیا، تیسری رات حضرت حذیفہؓ نے عراق کے مفتیِ اعظم کو خواب میں ہدایت فرما کرکہا کہ ہم دو راتوں سے بادشاہ کو کہہ رہے ہیں لیکن اس نے اب تک کوئی انتظام نہیں کیا، لہٰذا تم فوراً اس کو متوجہ کرو اور بندوبست کراؤ، اگلے روز مفتیِ اعظم نورالسعید پاشا وزیراعظم عراق کو ہمراہ لے کر شاہ فیصل سے ملے اور اپنا خواب بیان کیا، شاہ فیصل نے کہا کہ میں دوراتوں سے یہی خواب دیکھ رہا ہوں، آخر کار شاہِ عراق نے مفتی اعظم سے مزارات کھولنے اور لاشوں کو منتقل کرنے کا فتویٰ لیا اور اپنے شاہی فرمان کے ساتھ عام اعلان کرا دیا کہ عید قربان پر بعد نمازِظہر دُونوں اصحابِ رسولﷺکے مزارات کھولے جائیں گے یہ خبر دُنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی، رائٹر اور دُوسری خبر رساں ایجنسیوں نے اِس خبرکو دُنیا میں پہنچا دیا، حُسنِ اتفاق سے اِن دِنوں موسم حج ہونے کے باعث تمام دُنیا سے مسلمان حج کے لئے حَرمین شریفین میں جمع ہورہے تھے اِن کی استدعا پر شاہ فیصل نے مزارات کھولنے کی تاریخ حج سے دس دن بعد مقرر کردی اور تاریخ مقررہ پر مزارات کھولے گئے تو معلوم ہوا کہ حضرت حُذیفہؓ کے مزار میں پانی داخل ہوچکا تھا اور حضرت جابرؓ کے مزار میں نمی پیدا ہوچکی تھی دونوں اصحابِ رسولﷺ کو نہایت احترام اور احتیاط سے اٹھایا گیا اور شیشے کے تابوتوں میں رکھ دیا گیا، ایک جرمن فلم ساز کمپنی نے ٹیلی ویثرن کا اعلیٰ انتظام کیا جس پر مخلوقِ خدا کو زیارت کرائی گئی، بڑے بڑے ڈاکٹر یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، لاشوں کو بالکل صحیح حالت میں پایا گیا، یہ گُمان ہوتا تھا کہ تیرہ سوسال نہیں بلکہ صرف چند گھنٹے ہوئے آرام فرمارہے ہیں، آنکھوں کی چمک دیکھ کر ایک جرمن ڈاکٹرماہرِ چشم نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر فوراً اسلام قبول کرلیا، اس کے ساتھ ہزاروں عیسائیوں اور یہودیوں نے بھی اسلام قبول کرکے کفُرسے نجات حاصل کرلی۔ از صداقتِ اسلام


میرے دوستو! یہ حقیقت بھی سمجھنی نہایت ضروری ہے کہ ایسی راحتیں حاصل کرنے کیلئے کون سی درسگاہ میں داخلہ لینا ضروری ہے جہاں سے عشقِ مصطفیﷺکی دولت حاصل ہو جس کے باعث حضورﷺکی پہچان ہوسکے اور بخشش وجنت کے انعامات حاصل ہوسکیں ،یقیناکوئی بھی چیز خود بخود چیز نہیں بنتی بلکہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ماہر کاریگر ہوتا ہے جواُس کو بامقصد چیز بناتا ہے جیسے آپ کسی فن کے ماہر سے سوال کریں کہ آپ نے یہ فن کہاں سے حاصل کیا ہے تو وہ بتائے گا کہ فلاں استاد سے یا فلاں سکول وکالج اور یونیو رسٹی وغیرہ سے، اسی طرح یہ علم بھی خودبخود حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی کامل استاد ہوتا ہے جسے پیرومرشد کہا جاتا ہے جو دنیا کی دیوانگی سے نکال کر عشقِ مصطفیﷺکی دولت سے فیضیاب کرتے ہیں جس کے سبب موت بھی زندگی بن جاتی ہے اور قبر کی امتحان گاہ دیدارِ محبوب کا مقام کہلاتی ہے جس کے متعلق حضورﷺنے فرمایا ہے کہ موت مومن کیلئے تحفہ ہے۔


تفسیر روح البیان میں ہے کہ ایک شخص نے سرکارِ دوعالمﷺ کی خواب میں زیارت کی،عرض کیا کہ یانبی اللہﷺ میں نے آپ کا فرمان سنا ہے کہ مومن کی جان ایسے آسانی سے نکال لی جاتی ہے،جیسے خمیری آٹے سے بال،کیا یہ حدیث صحیح ہے؟فرمایاہاں،عرض کیا کہ قرآن کریم نے تو جان کنی کی سخت شدت اور دشواری بیان فرمائی ہے،حدیث پاک اور قرآن پاک کے فرمان کی مطابقت ارشاد فرما دیں،فرمایا کہ سورہ یوسف پڑھو،وہاں اس کا جواب مل جائے گا،اس نے بیدار ہوکر بار بار سورہ یوسف پڑھی مگر جواب سمجھ نہ آیا،مجبور ہوکر عالمِ وقت کی بارگاہ میں حاضر ہوا،سارا ماجرا بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ سورہ یوسف میں اس جگہ تمھارا جواب موجود ہے یعنی’’مصر کی عورتوں کی زلیخا نے دعوت کی، کھانے کے بعد ان کے ہاتھوں میں لیموں اور چھری دے دی،اور پھر رخ یوسفؑ سے نقاب اٹھا کر حسن خداداد کی جھلک دکھا کر کہااب لیموں کاٹو،انہوں نے بے خودی میں بجائے لیموں کے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے،اور بولیں کہ سبحان اللہ یہ حسین انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے‘‘(یوسف ۱۲،آیت ۳۱)معلوم ہوا کہ ان عورتوں کے ہاتھ پر چاقو چلا،ہاتھ کٹا،خون بہا،درد بھی ہوا مگر جمالِ یوسفی میں ایسی محو ہوگئیں کہ نہ تو ہائے وائے کی،نہ درد کی شکایت،نہ تکلیف کا احساس بلکہ یہ حال تھا کہ ہاتھ کٹ رہا ہے اور حسنِ یوسفی کی مدح خوانی کررہی ہیں،ایسے ہی مومنین کو بوقت نزع جمالِ مصطفائیﷺکی زیارت ہوتی ہے،تب نقشہ یہ ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے اور سامنے جمالِ مصطفیﷺہے،مرنے والا دیکھ کر کہہ رہاہوتا ہے کہ تمھارے جمال پر قربان،تمھارے کمال کے صدقے،تمھارے خدوخال پر فدا،تمھارے بنانے والے رب ذوالجلال پر نثار،غرضیکہ مرنیوالا ان پر قربان ہوجاتاہے اور اسے موت کی شدت کا احساس تک نہیں ہوتا۔


میرے دوستو!میں آپ کے سامنے بیان کررہا تھا کہ کوئی شے بھی خود بخود شے نہیں بنتی اُسے کوئی نہ کوئی ماہر کاریگر بناتا ہے تو پھر وہ کمال تک پہنچتی ہے اور یہ بخشش وجنت یعنی عشقِ مصطفیﷺکا خزانہ حاصل کرنے کیلئے اولیاء کرام کی غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے پھر یہ دولتِ لازوال ہاتھ آتی ہے بلکہ اُن کا اپنا مقام اسی دولت کے سبب اسقدر اللہ کریم کی بارگاہ میں بلند ہوتا ہے کہ ان کے جنازہ میں بے غیرارادہ شامل ہوناوالا بھی بخشش وجنت کا حقداربن جاتا ہے۔


بغداد میں ایک اللہ تعالیٰ کی ولیہ نے وصال فرمایا،اُنکے جنازہ میں کثیر لوگوں نے شمولیت اختیار کی،جن میں ایک کفن چور بھی تھا جب مائی ؒ صاحبہ کے جسمِ اقدس کو سپردِ خاک کردیا گیا تو وہ چور رات کی تنہائی میں آیا،قبر سے مٹی ہٹا کر جب کفن اُتارنے لگاتومائی ؒ صاحبہ نے ہاتھ پکڑ کرفرمایا کہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ ایک جنتی دوسرے جنتی کا کفن اُتار رہا ہے۔یہ دیکھ کر انتہائی حیران ہوا،اور ندامت کے ساتھ عرض کی ، اے اللہ کی ولیہ!اس میں تو کچھ شک نہیں کہ آپ جنتی ہیں،دوسری بات سمجھ میں نہیں آرہی کیونکہ میں تو انتہائی گناہ گار اور کفن چور ہوں،میں جنتی کیسے ہوسکتا ہوں؟مائی صاؒ حبہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا جنازہ پڑھنے والے ہر شخص کو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اور تونے بھی میرے جنازہ میں شمولیت اختیار کی تھی پس اس وجہ سے تو بھی جنتی ہوگیا ہے یہ سُن کر کفن چور نے ہمیشہ کیلئے توبہ کرلی اور بعد میں اولیاء کرام کی نسبت اور تعظیم وخداتعالیٰ کی بندگی کے سبب اونچے مقام پر فائز ہوا۔
لہٰذا میرے دوستو اس سے پہلے کہ دنیا میں دیا گیا وقت موت کے ذائقہ سے تکمیل پرپہنچ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اعلانِ برحق ہے کہ

 

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئقَۃُ الْمَوْتِ۵ , سورہ آلعمران،آیت ۱۸۵
ترجمہ!ہرجان کو موت چکھنی ہے

 

اس وقت کی قدر کرتے ہوئے کاملین کے ساتھ تعلق استوار کرلیں جو ہمارارخ دنیا کی خواہشات سے موڑکر نعمتِ لازوال یعنی شاہِ بطحاﷺکی طرف پھیردیں گے جن کی محبت ہی رب تعالیٰ کی محبت ہے اور بخشش وجنت کا سبب ہے۔


قبر وچ سوال تے تِن ہوسن وچوں اِک سوال نجات دا اے
پہلے رب تے دین دی گل ہوسی سارا زور پر اگلی بات دا اے
نہ کوئی علم کلام دی گل اَگے نہ کوئی ذکر نماز زکوٰۃ دا اے
ہوسی بَری عمرانؔ جمال پاندا جانو جو محمدؐ دی ذات دا اے


آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم رحمتِ عالمینﷺکے تصدق اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلاکر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


لجپال مدینے دے بادشاہا جانے نِرا مقام خدا تیرا
ملی جسنوں خبر خاموش ہویا واعظ جاندا پتہ نہ ذرا تیرا
خبر قبر دی نشر حدیث اندر چھاں حشر دی روپ گھنا تیرا
فتح اُنہاں عمرانؔ عظیم کرنی جنہاں عشق سینے مصطفی تیرا
ﷺﷺﷺ
ﷺﷺﷺ
کتنے جتن اُٹھائے تیرے پیار میں پیارے
تیری خوشی کی خاطر مشکل میں دِن گزارے
درد و اَلم جواں ہے ذرا بھر سکوں کہاں ہے
چلے آؤ کچھُ خبر لو آخر ہیں ہم تمھارے
ﷺﷺﷺ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)