تیری شان آقا بڑی ماوریٰ ہے
حدِ خرد سے تیری ابتداء ہے
جانا کسِی نے بھی رُتبہ نہ تیرا
تیرے زیر سایہ تو عرش ِ عُلیٰ ہے
تیرے نقشِ پاء کی قسم رب اُٹھائے
محبت کی دیکھو یہی انتہا ہے
یہ قرآن رحمٰن توحیدِ اکمل
بُرھان اِس کی میرا مصطفی ہے
ہمیں کیا خبر تھی خدا کی ذرا بھر
تمھارے تصدق یہ مانا خدا ہے
معزز سامعین محترم!
اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین
میرے دوستو!آج آپ کے سامنے جو آیتِ کریمہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اسمیں اللہ کریم اپنے محبوبﷺ کی ایسی عظمت بیان فرما رہے ہیں جہاں عقلِ انسانی کو رسائی حاصل نہیں اسی لیے اس کمالِ شان کو ہم معراج شریف کے نام سے پکارتے اور یاد کرتے ہیں جس کا عام فہم معنی یہی ہے کہ وہ عظمت جس سے زیادہ خیال میں بھی نہ آسکے،اللہ اور اللہ کے حبیبﷺکی ایسی ملاقات پر مبنی یہ واقعہ ہے جس کی قربت کے متعلق اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
اہلِ عرب اپنی اصطلاح میں دوکمانوں یا دو ہاتھوں تک کی نزدیکی ایسی حالت میں بیان کرتے تھے جس سے انتہائی قربت مراد ہوتی تھی اس لیے اللہ کریم نے بھی اپنے محبوبﷺ کی ملاقات کو اہلِ عرب کی زبان میں دوہاتھ کا فاصلہ بیان فرمایا ہے جس سے مراد ایسی نزدیکی ہے جہاں خیال کو بھی رسائی حاصل نہیں،اوراسی ملاقات یعنی معراج کے متعلق اللہ کریم نے سورہ الاسراء ،آیت نمبر ۱،میں اس طرح فرمایا ہے کہ
ترجمہ!’’پاک ہے وہ جو اپنے خاص بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت دے رکھی ہے کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے‘‘(سورہ الاسراء،آیت ۱)
میرے دوستو! اس عظیم ملاقات کے متعلق پہلے یہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ اس کو عقل سے نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ عشق سے مانا جاسکتا ہے کیونکہ یہ اُس رب تعالیٰ کی اپنے محبوبﷺسے ملاقات کا تذکرہ ہے جس کی ذات کو عقلِ انسانی سے سمجھا نہیں جاسکتا بلکہ عشق سے صرف مانا جاسکتا ہے اس لیے اس واقعہ کو جب حضورﷺنے بیان فرمایا تو سب سے پہلے انہی لوگوں نے اس کا انکار کیا اور تمسخر اڑایا جو عقیدہِ توحید کے سخت انکاری تھے،اسی لیے تو اہلِ ایمان اسے معراج شریف کہتے ہیں یعنی اللہ کے حبیبﷺکی ایسی عظمت جہاں تک کسی کے عقل وفکر کو رسائی حاصل نہیں۔
تیری شان آقا بڑی ماوریٰ ہے
حدِ خرد سے تیری ابتداء ہے
جانا کسِی نے بھی رُتبہ نہ تیرا
تیرے زیر سایہ تو عرش ِ عُلیٰ ہے
یہی وجہ ہے کہ اللہ کریم نے آیتِ مبارکہ کے شروع ہی میں اپنی پاکی بیان فرما کر ہر اعتراض کرنے والے کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے کہ اعتراض کرنے والو ں کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو سرِ عرش بلانے کی طاقت نہیں رکھتا؟کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کے مختصر حصے میں محبوبﷺکو اتنی طویل سیر نہیں کرا سکتا،کیا تم ابوجہل وغیرہ کی طرح اس واقعہ کو جو ۲۷رجب کو ہوا محض میرے محبوبﷺکا خواب تصور کرتے ہو؟کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میرے محبوب ﷺ نے میرا دیدار نہیں کیاوغیرہ تمھارے ہر اعتراض کا جواب آیت کے شروع میں موجود ہے یعنی اپنے محبوبﷺسے شبِ معراج کو ملاقات کرنے والا رب ہر کمزوری اور ہر عیب سے پاک ہے اسی لیے آیت کے شروع ہی میں فرما دیا کہ پاک ہے وہ ذات،یعنی تمھارے کسی اعتراض سے اُس ذات کو کچھ فرق نہیں پڑتا، جب تم رب ہی کو نہیں سمجھ سکتے تو اُس کی اپنے محبوبﷺسے ملاقات کو کیسے سمجھ سکتے ہو،اگر اس پر ایمان لاؤ تو وہی تمھارے اپنے حق میں بہتر ہے۔
دوسری اور اہم بات یہ بھی ہے کہ ملاقات سے مراد ایک ذات نہیں بلکہ اللہ اور اُسکے رسولﷺکی دو ذاتیں مراد ہیں اسی لیے دو کمانوں کا فاصلہ بھی بیان فرمایا گیا ہے تو پھر ملاقات کرنے والی کسی ایک ذات کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا،سفر معراج کرانے والا اللہ تعالیٰ خود ہے اور یہ سفر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے حبیبﷺ ہیں پھر اعتراض کرنے والا اللہ تعالیٰ کو تو ماننے والا ہو نہیں سکتا یقینی بات ہے کہ وہ سنتِ صدیقِ اکبرؓ پر قائم نہیں بلکہ طریقہ ابوجہل پر قائم ہے۔
بعض نے کہا کہ یہ ملاقات خواب میں ہوئی تھی لیکن اِنہیں یہ خیال نہیں رہا کہ جب حضورﷺنے شبِ معراج کا تذکرہ فرمایا تو سب سے پہلے کفارِ مکہ نے اعتراض کیا جن کا اعتراض ثبوت ہے کہ حضورﷺ ۲۷ رجب کو مع نعلین ظاہری طور پر سرِ عرشِ معلی تشریف لے گئے کیونکہ کوئی بھی صاحبِ عقل کسی کے خواب پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کرتا ،جیسا کہ کوئی بیان کرے کہ میں نے خواب میں ساری دنیا کا چکر لگایا ہے تو اس خواب پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟لیکن ۲۷ رجب کے واقعہ معراج شریف کے متعلق کفار کا اعتراض بتاتا ہے کہ حضورﷺ نے خواب نہیں بیان فرمایا بلکہ ظاہری طور پر مع نعلین سیاحت فرمائی ہے ،اسی لیے تو رب تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ سفرِ معراج پر لے جانے والاہر کمزوری سے پاک ہے۔
بعض نے کہا کہ یہ سفر روحانی طور پر ہوا تھا،لیکن اس اعتراض کا جواب بھی اسی آیتِ مبارکہ میں موجود ہے یعنی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کے متعلق اپنا خاص بندہ کہہ کر خطاب کیا ہے اور اس پیارے خطاب میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے کیونکہ بندہ جسم وروح کے مرکب ہی کو کہتے ہیں ،اگر روح کے بغیر جسم ہو تو اُسے لاش یا میت پکارا جاتا ہے اور صرف روح ہوتو اُسے روح یا آتما کہا جاتا ہے ،جب یہ دونوں اکھٹے ہوں تو پھراُس مرکب کو بندہ کہا جاتا ہے ، اسی لیے رب تعالیٰ نے اپنا خاص بندہ کہہ کر تمام اعتراض کرنے والوں کو پہلے ہی جواب عطا فرما دیا ہے کہ میرا محبوبﷺروح وجسم سمیت مع نعلین سرِ عرشِ معلی تشریف فرما ہوا،اسی لیے آیت میں (خاص) بندہ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے بندوں ان پر صرف نبوت کی انتہا نہیں بلکہ عظمت کی بھی انتہا ہے،ایک تم بندے ہو کہ اپنی خواہشات کے جال سے نہیں نکل سکتے ایک یہ بندے ہیں کہ جنہوں نے عرش معلی پر اپنی محبت کا جال ڈالا ہوا ہے،ایک تم ہو کہ ان پر ناز نہیں کرتے اور ایک یہ ہیں کہ ان کے ناز بے نیاز اٹھاتا ہے کیونکہ یہ جس کے محبوبﷺہیں وہ ہر کمزوری سے پاک ہے اور اسی نے اپنے محبوبﷺکو رات کے تھوڑے سے حصے میں اُس مقام پر فائز کیا جس کے متعلق واضح طور پر فرما دیا ہے کہ
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
معراج شریف کی حکمتیں:
اصل حقیقت تو اللہ کریم اور اُسکا رسولﷺہی بہتر جانتے ہیں لیکن بظاہر جو واضح ہیں اُن میں ایک یہ ہے اللہ کریم نے جوحضورﷺسے پہلے انبیاء کرام کوالگ الگ عظمتیں عطا فرمائی ہیں وہ تمام اپنے حبیبﷺکی ذات پر اکھٹی فرما دی ہیں یعنی اُن تمام سے اپنے محبوبﷺکو زینت عطا فرمائی ہے کیونکہ آپﷺپر نبوت کی انتہا ہوچکی تھی اسی لیے صاحبِ نبوتﷺپر عظمتوں کی بھی انتہا فرما دی گئی،یوں سمجھ لیں کہ آپﷺاللہ تعالیٰ کے حبیبﷺہیں اور ایسے عظمت والے ہیں کہ آپ پر نبوت کا اختتام فرما دیا گیا، کیونکہ چاند اور ستارے سورج کی غیر موجودگی میں تو ضرور خوبصورتی اور راہنمائی کا ذریعہ ہیں مگر سورج کے طلوع ہوتے ہی تمام چاند تارے ماند پڑجاتے ہیں، اسی لیے حضورﷺکواللہ تعالیٰ نے سراجاً منیراً فرمایا ہے۔
یہاں ایک فرمانِ نبویﷺ مع حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
سب سے زیادہ عزت والے آقاﷺ:
ترمذی،دارمی بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،فضائل رسولوں کے سردار،صفحہ218
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ بیٹھے، پھر حضورانورﷺ تشریف لائے حتیٰ کہ ان حضرات سے قریب ہو گئے تو انہیں کچھ تذکرہ کرتے ہوئے سُنا،ان میں سے بعض نے کہا کہ اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنا دوست بنایا،دوسرے صاحب بولے کہ اللہ نے حضرت موسیٰؑ سے کلام فرمایا،ایک اور صاحب بولے کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کا کلمہ اس کی روح ہیں،ایک دوسرے نے کہا،آدمؑ کو اللہ نے برگزیدہ کرلیا اورفرمایا کہ ہم نے تمھاری گفتگو اور تمھارا تعجب کرنا سُنا،یقیناًابراہیمؑ اللہ کے خلیل ہیں اوروہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰؑ راز کی بات کرنے والے ہیں،واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰؑ اللہ کی روح اور کلمہ ہیں،وہ ایسے ہی ہیں،آدمؑ کو اللہ نے چُن لیا،واقعی وہ ایسے ہی ہیں مگر خیال رکھوکہ میں اللہ کا محبوب ہوں،فخریہ نہیں کہتا،قیامت کے دن حمد کاجھنڈا میں ہی اٹھائے ہوں گا،جس کے نیچے آدمؑ اوران کے سواء ہوں گے،فخریہ نہیں کہتا،میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور پہلا مقبول الشفاعت قیامت کے روز میں ہوں،فخریہ نہیں کہتا،میں پہلا وہ ہوں جوجنت کی زنجیر ہلائے گاتب اللہ کھولے گا پھر اس میں مجھے داخل کرے گا،میرے ساتھ فقراء مسلمان ہوں گے،فخریہ نہیں کہتا میں سارے اگلے اور پچھلوں میں اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا ہوں۔
آبرو تیرے ہی دم سے آب و گِل کی بن گئی
احسنُ و تقویم تم ہو عزتِ ارض و سما ہو

یعنی حضورﷺکی ذاتِ اقدس پر اللہ کریم نے ہر کمال کی انتہا فرمادی ہے اسی لیے آپ پر نبوت کی بھی انتہا فرمادی ہے ،جیسے اللہ کریم نے حضرت موسیٰ ؑ کو ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا اور حضرت عیسیٰؑ کو چوتھے آسمان پر مکین کیا،اور حضرت ادریسؑ کو جنت میں بلالیا وغیرہ مگر حضورﷺکو شبِ معراج ایسی عظمت عطا فرمائی کہ سارے آسمانوں کے مکین پیچھے رہ گئے اور حضورﷺآگے نکل گئے پھر جنت اور دوزخ کا معائنہ بھی فرمایا اوراللہ تعالیٰ سے ہمکلام بھی ہوئے اور اس سے اگلی اور اہم بات کہ جس مقام پر متمکن ہونے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اُس مقام پر جلوہ افروز ہوئے بلکہ جہاں سارے مقام ختم ہوجاتے ہیں،وہاں تشریف لے گئے، اسی لیے اس جگہ کوبھی لامکان پکارا جاتا ہے۔
وہاں صرف اللہ تعالیٰ سے شرفِ کلام حاصل نہیں ہوا بلکہ دیدارِ الہیٰ سے بھرپور فیضیاب ہوئے اور قربت کا وہ مقام حاصل کیا جس کیلئے یہی کہا جاسکتا ہے۔
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵
(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
اور احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ
مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،دیدار کابیان،صفحہ190
’’حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے پوچھا،کیا آپ نے رب کو دیکھا؟فرمایا،میں نے اُسے دیکھا ہے نوروالا ہے‘‘۔
مسلم شریف،ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،دیدار کابیان،صفحہ190
’’حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے،فرمایا کہ حضورﷺنے رب کو اپنے دل سے دوبار دیکھا‘‘۔
میرے دوستو!حضورﷺسے قبل تمام انبیاء کرام کی توحید پر شہادت سنی ہوئی تھی کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ کیا تھا لہٰذا جب آپ کی ذات پر نبوت کے مرتبہ کی انتہا ہوگئی تو اب ضروری تھا کہ سنی ہوئی شہادتوں کے بعد دیکھی ہوئی شہادت پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائے لہٰذا حضورﷺکو اللہ کریم نے اپنے انوارِ دیدار سے فیض یاب فرمایا ،اس لیے حضورﷺکی توحید پر شہادت سنی ہوئی نہیں تھی بلکہ دیکھی ہوئی تھی،اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا کہ
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سوال:
ایک دفعہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یارب العالمین حضرت محمد مصطفیﷺ تیرے حبیب ہیں جبکہ میں تیرا کلیم ؑ ہوں ،ان دونوں میں تیرے نزدیک کیا فرق ہے؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ اے موسیٰ علیہ السلام کلیم ؑ وہ ہے جو اپنے رب کی رضا کا طلب گار ہو اور جس طرح رب تعالیٰ حکم فرمائے اسی طرح کرے مگر حبیبﷺ وہ ہے جس کی رب تعالیٰ رضا چاہتا ہو،کلیم ؑ وہ ہے جو رب تعالیٰ کو چاہتا ہو جبکہ حبیبﷺ وہ ہے جسے رب تعالیٰ چاہتا ہو،کلیم ؑ وہ ہے جو کوہ طور پر حاضر ہوکر دیدار کا طلب گارہواور اُسے منع کیا جائے،حبیبﷺ وہ ہے جو بستر پر آرام فرما ہو تو جبریلؑ (خداتعالیٰ کے حکم پر)حاضرِ بارگاہ ہوکر ایک گھڑی میں اُس مقام پر لے آئیں جہاں مخلوقات میں سے کسی کی بھی رسائی نہ ہوئی ہو‘‘۔(نزہۃُ المجالس جلد ۲،صحفہ۷۴)
سفرِ معراج:
نبوت کے بارہویں برس ۲۷ رجب کو حضورﷺاپنی چچازاد ہمشیرہ حضرت امِّ ہانیؓ بنت ابی طالب کے مکان پر محو استراحت تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ارشاد فرمایا کہ اے جبریل ؑ !آج کی رات بہت اہم رات ہے اسمیں عرش کے تمام مکینوں کو زیب وزینت کا حکم سنا دو،آج رات اہلِ قبور سے عذاب اٹھا دیا جائے اور عزرائیل کسی کی روح قبض نہ کریں،دوزخ کوسرد کردیا جائے اور جنت کی آرائش کو بڑھا دیا جائے،حورانِ بہشت سے لے کر تمام اہلِ عرش میرے محبوبﷺکے استقبال کیلئے تیار ہوجائیں،آج میرا محبوبﷺ میرا مہمان ہوگا، لہٰذا تم براق اور برات لے میرے محبوبﷺکی بارگاہ میں بآدب حاضر ہوکر عرض کرو،
’’بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتاہے اور آپ کو بلاتا ہے اور میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے کیلئے حاضر ہوا ہوں‘‘۔
(معارج النبوۃ رکن سوم باب چہارم)
۲۷ رجب اور نورانیت:
میرے دوستو!اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکو اپنی تمام نشانیاں دکھانے کیلئے رجب کی آخری راتوں میں سے ۲۷ رجب کا انتخاب فرمایا،حالانکہ بہتر طریقہ سے مشاہدہ تو دن کے وقت یا روشن راتوں میں کیا جاسکتا تھا، اس میں کیا راز پوشیدہ ہے کہ اللہ کریم نے نہ دن اور نہ چاندنی راتوں کاانتخاب فرمایا بلکہ مہینہ کی آخری راتوں میں سے ۲۷ کو منتخب فرمایا جب کہ چاند آخری مرحلہ میں ہوتا ہے ، آخر اس میں حکمت کیا تھی؟ہاں میرے دوستواللہ تبارک وتعالیٰ نے اس میں اپنے محبوبﷺکی ایک بہت بڑی عظمت کا اعلان فرمایا ہے یعنی اگر دن کے وقت بلایا جاتا تو کوئی نادان یہ سمجھتا کہ سورج کی روشنی سے مشاہدہ کرایا گیا، اور اگر چاند کی روشن رات کو بلایا جاتا تو کوئی یہ خیال کرسکتا تھا کہ چاند کی چاندنی میں مشاہدہ کرایا گیا ،بتانا یہ مقصود ہے کہ میرا محبوبﷺنہ سورج کی روشنی کا محتاج ہے اور نہ چاند کی چاندنی کا محتاج ہے بلکہ چاند وسورج اُس کے محتاج ہیں کیونکہ ہم نے اُسے سراجاً منیراً بنا کر بھیجا ہے،وہ خودصرف چمکنے والانہیں بلکہ چمکا دینے والا آفتاب ہے اُسے بھلا کسی کی محتاجی کی کیا ضرورت ہے بلکہ وہ اپنے رب سے لے کر تقسیم فرمانے والا ہے اسی لیے ۲۷ رجب کا انتخاب فرمایا گیا ہے کہ وہ خود نورانی بشر ہے ،اُسے نہ کوئی رکاوٹ روک سکتی ہے اور نہ کوئی اندھیراغالب آسکتا ہے کہ وہ خود نور ہے۔
جیسے بعض نے کہا کہ حضورﷺآسمانوں سے کیسے گزر گئے جبکہ آسمان کو کوئی سوراخ نہیں؟شاید اعتراض کرنے والوں نے رب تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ،
ترجمہ!’’بے شک اللّٰہ کی طرف سے تمھار ے پاس نور آیا اورروشن کتاب‘‘(پارہ۹،سورہ المائدہ،آیت نمبر۱۵)
مطلب یہ ہواکہ حضورﷺاللہ تعالیٰ کا نور ہیں اور نور کے لیے کوئی رکاوٹ اڑے نہیں آسکتی،وہ رکاوٹ سے اس طرح گزر جاتا ہے کہ معلوم بھی نہیں ہوتا،جس کی ایک ادنیٰ مثال یوں سمجھ لیں کہ ہماری آنکھ میں موجودمختصر نور ایک لمحہ بھر میں آسمان کی بلندیوں کو دیکھ لیتا ہے نہ اُسے زم ہریر رکاوٹ ہے اور نہ خلا،تو جن کا سارا جسم ہی نورانی ہے اُن پر کسی رکاوٹ اور دوری کا کیا اثر ہوسکتا ہے،جیسے ہم کسی شفاف شیشے کو دیکھیں تو دوسری جانب کی ہر چیز ہمیں نظر آنے لگتی ہے مگر شیشے کو کوئی سوراخ نہیں ہوتا،اسی طرح حضورﷺکا نورانی جسم آسمانوں سے گزر گیا اوراعتراض کرنے والوں کو کوئی خبر نہ ہوئی۔
شمس و قمر ستارے روشن اُنہی سے سارے
یہ کہکشاں کے جلوے شاہا کی رہگزر ہے
لہٰذا جب حضرت جبریل علیہ السلام نے حضورﷺکی بارگاہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام عرض کیاتو حضورﷺنے غسل کا ارادہ فرمایا ،توآبِ کوثر پیش کیا گیا جس سے آپ نے غسل فرمایا اور نورانی بہشتی لباس آپ کو زیبِ تن کرایا گیااور براق پیش کیا گیا جسکی رفتار برق یعنی بجلی کی مثل تھی،جو رنگت میں سفیداور گھوڑے کے قدسے قدرے چھوٹا اور گدھے سے بڑاتھاجس کے متعلق حضورﷺنے فرمایا ہے کہ’’پھر ہمیں ایسی سواری پیش کی گئی جس کا قد خچر کے قد سے چھوٹا اور گدھے کے قد سے بڑا تھا اور وہ سفید رنگ کا تھا اور اسے براق کہتے ہیں‘‘
چنانچہ شبِ اسراء کے دولہا کو جب براق پیش کیا گیا تو ۷۰ ہزار ملائکہ صف بستہ دیدار سے فیض یاب ہورہے تھے،حضرت جبریلؑ نے براق کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور حضرت اسرافیل مع ملائک اردگرد کھڑے تھے،جب براق پر سوار ہونے لگے تو اپنی گناہ گار امت کا خیال آیاکہ آج اللہ کریم نے مجھ پر تو اپنی طرح طرح کی نعمتوں کی بارش فرمائی ہوئی ہے جبکہ روزِ قیامت میری امت کا کیا بنے گا؟وہ کس طرح بخشش کے معیار پر پورا اترے گی،اس خیال سے حضورﷺپریشان ہوگئے،اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ سے فرمایا کہ میرے محبوبﷺسے پریشانی کی وجہ دریافت کرو،لہٰذا حضرت جبرائیلؑ کے دریافت کرنے پر حضورﷺنے امت کے حوالہ سے پریشانی کا اظہار فرمایا،اللہ تعالیٰ نے پریشانی کی وجہ سن کر فرمایا ،اے جبرائیلؑ !میرے محبوب ﷺسے عرض کردو کہ جس طرح آج اللہ کریم نے آپ پر اپنی نعمتوں کے دروازے کھولے ہوئے ہیں اسی طرح قیامت کے روز بھی آپ تمام بنی نوح آدم کے سردار ہوں گے اور حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں ہوگا اور آپکی شفاعت قبول کی جائے گی ،آپ کے جس امتی کے دل میں آپ کی ذرابرابر بھی محبت ہوگی اُس کو مایوس نہیں کیا جائے گا۔
حُسنِ نبی سے جن کی روشن ہیں دِل کی راہیں
باغِ بہشت واللہ ایسوں کی ہر قبر ہے
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے پیغام سے حضورﷺکا ساراغم دورہوگیا اور براق پر سوار ہوئے ،اور مکہ مکرمہ سے بڑی شان کے ساتھ روانگی اختیار کی اور لمحہ بھر میں بیت المقدس پہنچے جہاں تمام انبیاء ورسل اور ملائکہ موجود تھے جوکہ نماز کی تیاری میں تھے لیکن امامت کا مصلہ خالی پڑا ہوا تھا ،جب حضورﷺجلوہ گر ہوئے تو تمام نمازیوں نے استقبال کیا اور حضرت جبرائیلؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضورﷺ کو مصلہ امامت پر کھڑا کیا اور خود اذان وتکبیر پڑھی اور حضورﷺنے امامت فرمائی۔(شامی باب الاذان)
عمرانؔ شان تیری سمجھا ہے کون ساری
کوئی قلیل تجھ سے تھوڑا سا با خبر ہے
سبحان اللہ کسقدر اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺکا بلند وبالا رتبہ ہے کہ آج تمام انبیاء کرام وملائکہ مقتدی ہیں اور حضورﷺاُن کی امامت فرمارہے ہیں ،یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب کو بتایا جارہا ہے کہ حضورﷺپر نبوت کی بھی انتہا ہے اور عظمت کی بھی انتہا ہے اسی لیے وہ اوّل بھی ہیں اور آخر بھی ہیں،اسی لیے حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر235صفحہ نمبر194
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سناکہ ہم ہی سب سے آخری اور سب سے پہلے ہیں‘‘۔
اوّل و آخر ظاہر و باطن تیرے جلوے میری خاطر
رحمتِ عالم شانِ عالم ابتدا ہو انتہا ہو
میرے دوستو!سفرِ معراج میں زمینی سفر مسجد حرام سے لے کر مسجدِ اقصیٰ پر مکمل ہوجاتا ہے اس کے بعد آسمانی سفر کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
لہٰذانماز سے فارغ ہوتے ہی اُسی شان سے دوبارہ نورانی بارات روانہ ہوئی اور لحظہ بھر میں پہلا آسمان آگیا،جہاں حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے نورِ نظر کا استقبال کیا،مرحبا پکارا ۔۔۔اورمبارک باد پیش کی،اسی طرح سفر جاری وساری رہا مختلف آسمانوں پر مختلف انبیائے کرام نے استقبال کیا،دوسرے آسمان پر حضرت یحیےٰ وحضرت عیسیٰ علیہ السلام،تیسرے پرحضرت یوسف علیہ السلام، چوتھے پرحضرت ادریس علیہ السلام،پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام، چھٹے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام،ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملاقات کی،جب یہاں سے گزرے تو سدرہ کامقام آگیا،یعنی سدرہ بیری کا درخت ہے ،جس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابراور اس کے پھل مٹکے کی مثل ہیں،اور یہ سدرہ حضرت جبریل علیہ السلام کی قیام گاہ ہے ،جہاں اُن کی انتہا ہوجاتی ہے اس لیے انھوں نے دست بستہ عرض کیا کہ اے اللہ کے حبیبﷺ!میرا یہ آخری مقام ہے ،میں اس سے آگے نہیں جاسکتا،اگر ایک بال برابر بھی اس سے آگے جاؤں توتجلیاتِ الہیہ کو برداشت نہیں کرسکوں گا،یہی مقام میری آخری منزل ہے،اس سے آگے آپ جانے اور آپکا رب جانے۔یعنی جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی انتہا ہوجاتی ہے وہاں مصطفی کریم ﷺکی ابتداء ہوتی ہے ،جہاں نوریوں کے سردار کا سر نہیں پہنچتا اُس سے آگے حضورﷺکے قدم پڑتے ہیں۔
ایساخالق نے خلقیا یار اپنا چھوڑی مثل نہ کوئی جہان اُتے
گَل آخری یار دے ناں کیتی سارے حرف محفوظ قرآن اُتے
کیڈی عزت انسان دی بن گئی اے عرش فرش زمیں اَسمان اُتے
شاناں ختم عمرانؔ رحمٰن دی سونہہ شہنشاہ محمد دی شان اُتے
لہٰذاحضرت جبریل علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس سے آگے آپ جانے اور آپکا رب جانے،محبوب جانے اور محبوب کو بلانے والا جانے، میرا تویہی آخری مقام ہے ،میں اس سے آگے نہیں جاسکتا۔
نوری کھڑے ہیں پیچھے حیرت سے تک رہے ہیں
سدرہ سے آگے گزرے پرواز کِس قدر ہے
جبریلؑ کا تو سَر بھی نعلین کو نہ پہنچا
کہنے کو ابنِ آدمؑ رُتبے میں بالا تر ہے
پُرنور سب ملائک تیرے تلوے چومتے ہیں
نوری غلام تیرے کہنے کو تو بشر ہے
پُرنور کا بلاوا پُرنور جا رہے ہیں
حیرت میں سب کھڑے ہیں شاید یہ کس کا گھر ہے
ہاں میرے دوستو!یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے معذرت کر لی کہ یہ میری انتہا ہے مگر جس کی ذات پر نبوت کی انتہا ہے وہ عظمت کی انتہا کی طرف بڑھنے لگے،یہاں اہلِ ذکر بیان فرماتے ہیں کہ اگر حضرت جبرائیل ؑ خود معذرت نہ کرتے اور حضورﷺکے ساتھ چلتے رہتے تو ان پر کسی تجلی نے کوئی اثر نہیں کرنا تھا کیونکہ ان کے ساتھ رحمتِ العالمینﷺ موجود تھے۔
یہاں صاحبِ معارج النبوۃ نے روایت بیان کی ہے کہ حضورﷺ نے حضرت جبرائیلؑ سے فرمایا کہ اب اگر تمھاری کوئی حاجت ہے تو ہم سے بیان کرو،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ،اے اللہ کے حبیبﷺ!میری ایک آرزو ہے وہ یہ کہ جب بروزِ قیامت آپ کی امت پل صراط سے گزرے تو مجھے اجازت عطا ہوجائے کہ میں ان کے نیچے اپنے پر بچھا دوں۔
حضرت جبرائیل ؑ کے احسان کا بدلہ:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے آگ میں ڈالنا چاہا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ اگر آپ کو مجھ سے کوئی حاجت ہو تو میں حاضر ہوں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایاتھا کہ مجھے تم سے کوئی حاجت نہیں ،لہٰذا سدرہ المنتہیٰ پر جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے معذرت کی تو حضورﷺنے ان سے حاجت پوچھ کر وہ احسان اتار دیاجو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺکے جد امجد پر کیا تھا،یعنی حاجت پوچھی تھی ۔
تیرے ہی فیض سے مِلے ہر دم مِلے ملتا رہے
اے دلرُبا پیکر تیرا حاجت روا صلے علیٰ
سدرۃُ المنتہیٰ سے آگے:
صاحبِ معارج النبوت فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ براق اور حضرت جبرائیل علیہ السلام جب سدرہ پر رک گئے تو اس سے آگے ہم تنہا روانہ ہوئے توسبز رنگ کا رفرف ظاہر ہوا جسکی روشنی سورج کی روشنی کو ماند کررہی تھی،ہم نے اُس کے ذریعے سفرشروع کیا ،آگے حجابات کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا،جس قدر حجابات آتے گئے طے ہوتے گئے یہاں تک کہ ستر ہزار حجابات طے کرلیے اور ہر حجاب کی موٹائی پانچ سو برس کا فاصلہ تھا،بل آخر رفرف بھی رخصت ہوگیااور تنہا سفر جاری رہا،اس مقام پر مسلسل اُدْنُ مِنِیّْ کی دلنشین صدا سنائی دینے لگی یعنی اور قریب آؤ،جس قدر قدم آگے بڑھایاجاتا اسی قدر وہ دلنشین صدا بڑھتی جاتی، یہاں تک کہ قرب کی اُس منزل پر پہنچا جس کے متعلق رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
یہاں تک کہ رب تعالیٰ کے دیدار سے فیض یاب ہوئے اور ہمکلامی کا شرف حاصل کیا،انتہائی قربت کے مقام پر حضورﷺنے عرض کیا ’’اَلتَّحیاَّتُ لِلہّٰ وَالصَّلَواۃُ وَالطَّےِّبٰتُ‘‘یعنی تمام قولی عبادتیں اور تمام فعلی عبادتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں،اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’اَلسَّلَامُ عَلَےْکَ اَیُّھَا النَّبیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرکَاتَہٰ‘‘یعنی سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں،جب رب تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺپر سلام بھیجا ،تو حضورﷺکو اپنے ساتھ نیک بندوں کا بھی خیال آیااور آپ نے پڑھا’’اَلسَّلامُ عَلَےْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالحےْنَ‘‘یعنی سلام ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،
اس سے آگے کیا ہوا یہ محبوب جانے یا محبوب کا رب جانے،جہاں حضورﷺ جلوہ افروز ہیں نہ وہاں زماں اور نہ مکاں ہے،کوئی بیان کرے تو کیا بیان کرے،اللہ تعالیٰ نے کیا دیا اور محبوبﷺنے کیا لیا،اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا اور محبوبﷺ نے کیا سنا،کس قدر راز ونیاز ہوئے یہ تو اللہ اور اُس کا محبوبﷺہی بہتر جانتے ہیں،قرآن پاک نے بھی اس مقام پر یہی کچھ فرمایا ہے ،سورہ نجم،آیت نمبر۱۰ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
ترجمہ!’’رب نے اپنے (خاص)بندے کی طرف جو وحی کی وہ کی‘‘
لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر جو رب تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل کیا وہ قرآن پاک سورہ طہ میں بیان فرما دیا گیا مگر اس اسرارورموز پر مبنی ملاقات کے متعلق صرف اتنا ہی فرمایا’’رب نے اپنے (خاص)بندے کی طرف جو وحی کی وہ کی‘‘مگر اس قدر بیان فرمایا گیا کہ امت کیلئے شب وروز میں پچاس نمازوں کا تحفہ عطا ہوا،جس کے متعلق حضورﷺکا فرمانِ عالیشان ملاحظہ فرمائیں۔
نمازوں کا تحفہ:
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر339صفحہ نمبر235
اس حدیث کے راوی حضرت ابوذرؓ ہیں اور نمازوں سے متعلق حصہّ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،پس اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر پچاس نمازیں فرض کیں،میں اس کے ساتھ لوٹا اور حضرت موسیٰؑ کے پاس سے گزرا،اُنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کیلئے کیا فرض کیا ہے؟میں نے کہا کہ پچاس نمازیں،اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں یہ طاقت نہیں ہے،میں واپس لوٹا تو اُن کا ایک حصہّ کم کردیا گیا ،میں حضرت موسیٰؑ کی طرف لوٹا اور کہا کہ ایک حصہّ کردیا گیا ہے،اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف پھر جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں اِن کی طاقت نہیں ہے پس میں واپس گیا تو ایک حصہّ مزید کم کردیا گیا،میں ان کی طرف آیا تو انھوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں ان کی طاقت بھی نہیں ہے،میں واپس لوٹا تو فرمایا کہ یہ پانچ رہ گئیں اور یہی پچاس ہیں۔
اس حدیثِ پاک سے واضح ہے کہ نمازوں کا اصل تحفہ پچاس تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وسیلہ سے پچاس کی جگہ پانچ رہ گئیں یعنی جو پانچ ادا کرے گا اُسے ثواب پچاس ہی کاملے گا،اب جو انبیاء کرام واولیائے کرام کے وسیلہ کے قائل ہی نہیں،انصاف کی تو یہی بات ہے کہ اُن کو وسیلے سے کم ہونے والی نمازیں پڑھنے کا حق نہیں، بلکہ پوری پچاس ادا کرنی چاہیے ،
واضح ہے کہ اس متعلق اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺ دونوں ہی نے وسیلہ پسند فرمایااور وسیلہ بھی اُن کا جن کے متعلق حضورﷺنے فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے یعنی قبر والے کا وسیلہ آسمانوں پر نمازوں کی کمی کا باعث بنا،اہلِ ذکر فرماتے ہیں دراصل اللہ تعالیٰ و رسول اللہﷺسے مخفی نہیں تھا کہ پچاس کی جگہ پانچ ہی رہ جائیں گی،یعنی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نمازوں کی کمی کا وسیلہ بنے وہاں حضورﷺحضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا وسیلہ بنے،جب اللہ تعالیٰ کی زیارت سے مستفید ہوکر آتے تو موسیٰ علیہ السلام راستہ میں بیٹھے آپ کے چہرہِ اقدس کو دیکھ کرلذتِ جمال سے فیضیاب ہوتے۔
تیرے کرم سے بامُراد زندگی کے روز و شب
ہوتی رہے تیری نگاہ نورِ خدا صلے علیٰ
اس تمام سفر سے جب واپس تشریف لائے تو ابھی بستر مبارک گرم تھا اور دروازے کی زنجیر حرکت کررہی تھی یعنی تقریباً۸۰ ہزار برس کا سفر چند لمحوں میں طے فرمایا،صبح کو جب اس واقعہ کی خبر عام ہوئی تو حضرت صدؓیق تصدیق فرما کر صدیقِ اکبر بنے اور ابوجہل وغیرہ نے انکار کیا اور زندیق بن گئے۔
اس کے متعلق اہلِ ذکر فرماتے ہیں کہ حضورﷺسارے جہان کی جان ہیں ،جس طرح ایک بدن سے جان نکل جائے تو وہ بے حس وحرکت ایک ہی جگہ پڑا رہتا ہے ،اور جب بدن میں دوبارہ جان آجاتی ہے تو وہ حرکت کرنے لگتا ہے اسی طرح جب حضورﷺاس جہان سے عالمِ بالا کی طرف تشریف لے گئے تو تمام کائنات مردہ جسم کی مانند بے حس و حرکت ہوگئی،لیکن جب دوبارہ جان عطا ہوئی تو جہاں وقت اور کائنات کا سلسلہ رُکا تھا وہی سے چل پڑا،
واقف کار بے شک خدا تیرا جانوں کوئی وی تیرے کمال دا نئیں
خاکِ قدم دی قسم قرآن اندر ایتھے حوصلہ کسِے سوال دا نئیں
تیری مثِل نہ رب بیان کیتی ممکن داخلہ کسِے مثال دا نئیں
عربی ماہی دی گَل عمرانؔ اُچی ثانی کوئی وی سوہنے بلالؓ دا نئیں
ﷺﷺﷺ
چن چڑھسی تے نالے لہہ جاسی تیرا ذکر آقا ہوندا سدا رہسی
ہر لوک اندر ہر ڈھوک اندر یا محمد دا ورد بقا رہسی
لازوال تے لامحدود چرچا عربی ماہی دا جابجا رہسی
وَرَفَعْنَا رب عمران ؔ دَسیا عرش فرش تے صلی علیٰ رہسی
میرے دوستو اس سفرِمعراج سے واضح ہوا کہ جواللہ تعالیٰ کی قربتوں کا مقام حضورﷺکو حاصل ہے وہاں تک مقرب فرشتوں کی بھی رسائی نہیں۔کیونکہ
فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۵
(سورہ النجم،آیت نمبر ۹)
ترجمہ!’’تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم‘‘
اہلِ نظر کی گفتگو:
بابا فریدؒ شکر گنج نے فرمایا،ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نعلین سمیت کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو رب تعالیٰ نے فرمایا،اے موسیٰؑ !اپنے جوتے پاؤں سے اتار دو تاکہ کوہِ طور کی خاک تمھارے قدموں سے لگ جائے اور تمھاری عظمت کا باعث بنے مگر جب ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفیﷺمعراج شریف والی رات عرشِ معلی کے نزدیک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ،اے محبوبﷺ!نعلین سمیت تشریف لے آئیں تاکہ آپ کی نعلین کے ساتھ لگی ہوئی خاک عرش پر پہنچے اور اس کی فرطِ جنبش کو قرار آجائے اور وہ لرزنے سے رک جائے،نیز فرمایا کہ جب حضرت موسیٰؑ بروزِ حشر اپنی قبر مبارک سے ظاہر ہوں گے تودیوانہ وار عرشِ الہیٰ کے کنگرے کو پکڑ کر دیدار کیلئے عرض کریں گے مگر خدا تعالیٰ فرمائیں گے، اے موسیٰؑ !ابھی صبر کرو...آج حساب وکتاب کا دن ہے...تجھے بہشت میں میرا دیدار نصیب ہوگامگر وہ بھی اُس وقت جب میرے محبوب محمدﷺ اور انکی امت دیدار سے مشرف ہوجائیں گے۔(اسرار الاولیاء )
آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم شبِ اسراء کے دولہا کے طفیل ہمیں صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور دین ودنیا کی جائز حاجات پوری فرمائے،اور عظمتِ مصطفیﷺکو دل وجان سے مان کراس فیضان کو آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
امین امین امین
ﷺﷺﷺ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)