غریباں دی کُلی سجا طیبہ والےﷺ
اُڈیکاں دے دوزخ بجھا طیبہ والےﷺ
اَکھاں نوں مکھڑے دی سِک دے ہمیشہ
دلاں نوں تو مَسند بنا طیبہ والےﷺ
مینوں وَل نہ کوئی صدا کنج کریندی
خطا پوش بخشو خطا طیبہ والےﷺ
میں کمزور عمرانؔ تیرا گدا ہاں
توں اپنا بنا کے نبھا طیبہ والےﷺ


 !معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین۔


میرے دوستو آج جو آیات مبارکہ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ کریم تمام انسانوں کو بہت اہم درس دے رہے ہیں جسمیں تمام بنی آدم کا اپنا فائدہ ہے یعنی فرمایا جارہا ہے کہ میرے خاص بندوں کے ساتھ تعلق استوار کرلو،اُن کے قریب ہو جاؤ جو پہلے ہی سے رب تعالیٰ کے قریب ہیں اس طرح اُن کی قربت کے باعث اللہ تعالیٰ تمھیں بھی اپنے قریب کر لے گااور اگر تم نے یہ کام ٹھیک طرح سے کرلیا تو پھر تم کو بے شمار اجر ملے گا یعنی جنت عطا کی جائے گی ،جیسے حکمِ خداوندی ہے کہ


فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدیْ ۵وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۵ , الفجر،آیات ۲۹،۳۰
ترجمہ!پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ


میرے دوستو کیا ہی جنت میں داخلے کا بہترین طریقہ عطا فرمایا گیا ہے ،یعنی جس جنت کے حصول کیلئے ہر مسلمان اپنے اپنے انداز میں کوشش کرتا رہتا ہے اللہ کریم نے اُن تمام جنت کے طلب گاروں اور امیدواروں کو واضح طور پر جنت میں داخل ہونے کا طریقہ ارشاد فرما دیا ہے کہ تم ازخود جس قدر بھی کوشش کرتے رہو تمھارے لیے کامیابی ممکن نہیں اگر تم جنت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہوجاؤ جن کا راستہ بالکل سیدھا جنت کو جارہا ہے اور یہی راستہ تم ہر نماز میں مانگتے ہولہٰذا ان کی سنگت میں داخل ہوکر ان ہی کے ہوجاؤ ۔۔۔کیونکہ یہ رب تعالیٰ کے ہیں،جب تم ان کے ہوگئے تو رب کے ہوجاؤ گے اور جو رب کا ہوجائے پس جنت تو اُسی ہی کے لیے ہے۔


اسی طرح سورہ التوبہ،آیت نمبر ۱۱۹ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ


ترجمہ!’’اے ایمان والو!اللّٰہ سے ڈرواور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ


اسی طرح سورہ لقمان،آیت نمبر۱۵ کے اندر فرمانِ خداتعالیٰ ہے کہ


ترجمہ!’’اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا


میرے دوستو! اللہ کریم نے کس قدر واضح طور پر اپنے خاص بندوں کے ساتھ وابستہ ہونے کے ارشادات فرمائے ہیں اب بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اُس پر افسوس کو افسوس ہی کہا جاسکتا ہے ،بلاشبہ اللہ کریم اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہیں اسی لیے بار بار ہدایت فرمائی کہ تم اکیلے گمراہ ہوسکتے ہو لہٰذا خاص بندوں کا قرب حاصل کرو اور اُن کی قربت ہی ذریعہ نجات ہے اُسی کے ذریعے تم مقامِ دیدار یعنی جنت تک پہنچ سکتے ہو،اسی لیے اللہ کریم نے آخرت کے متعلق بھی سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر ۷۱ کے اندر واضح طور پر فرمایا ہے کہ ترجمہ!’’جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے‘‘
مطلب واضح ہے کہ ہر ایک اپنی سنگت اور امام کے ساتھ ہی پہچانا جائے گا اور اُسی پہچان کے ساتھ ہی بلایا جائے گاجیسے حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ انسان اُسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس دنیا میں محبت رکھتا ہے اگرکسی خوش نصیب نے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے ساتھ اس دنیا میں تعلق اور سنگت قائم کرلی ہے تو آخرت میں بھی انھیں کے ساتھ جنت کے مزے لے گا اور اگرکسی نے خدانخواستہ کسی گمراہ کے ساتھ وابستگی قائم کرلی ہے تو اُسی کے ساتھ حشر ہوگالیکن جس نے کسی کامل کے ساتھ وابستگی قائم نہیں کی اُس کے متعلق اہلِ ذکر فرماتے ہیں کہ وہ شیطان کے ساتھ ہوگا،جیسے حدیثِ نبوی ﷺ میں آتا ہے کہ



مسلم وبخاری بحوالہ مشکوٰۃ جلد3صفحہ 18


’’حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا،یارسول اللہ ﷺاس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی سنگت کے ساتھ محبت کرے اور ان سے ملا نہ ہو؟فرمایا،انسان اُس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے‘‘۔


سبحان اللہ، رسول اللہ ﷺ کے فرمانِ عالیشان سے معلوم ہوا کہ آج ہم جس گروہ یا جس ہستی کے ساتھ محبت کریں گے اُسی کے ساتھ ہمارا انجام بھی ہوگایعنی ہماری آج کی محبت میں آخرت کا پھل پوشیدہ ہے اور اگر یہ محبت اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں سے خالص ہوگئی تو آخرت میں بھی اُن کے انعام واکرام میں داخل کردے گی اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ


فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدیْ ۵وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۵(الفجر،آیات ۲۹،۳۰)
ترجمہ!پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ


اسی لیے نبی کریمﷺ نے آخرت کے حالات بیان فرماتے ہوئے جہاں اپنی شفاعت کا ذکر فرمایا وہاں اپنے خاص غلاموں کا بھی تذکرہ فرمایا کہ وہ بھی شفاعت کریں گے،جیسے ایک طویل حدیثِ پاک میں آخرت کے حالات بیان کرتے ہوئے ایک جگہ اس طرح فرمایا ہے کہ


بخاری شریف جلد3 حدیث نمبر2288


’’حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن بڑی شدت کے ساتھ آخرت میں اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ ہم نجات پاگئے تو وہ دوسروں کے متعلق عرض کرینگے کہ ہمارے رب ہمارے کچھ ساتھی دنیا میں ہمارے ساتھ تھے ،پس اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ تو اُسے نکال لواور اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو آگ پر حرام کردیگاپس وہ اُن کے پاس آئیں گے اور نکال لیں گے،پھر واپس لوٹیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس کے دل میں نصف دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اُسے بھی نکال لو،پس وہ پہچانیں گے اور نکال لیں گے پھر واپس لوٹیں گے تو فرمائے گا کہ جس کے دل میں ذرے کے برابر بھی ایمان پاؤ نکال لو چنانچہ پہچانیں گے اور نکال لیں گے‘‘


اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے وہی ہیں جو رسول اللہﷺ کے سچے اور پکے غلام ہیں کیونکہ وہی اہلِ ایمان ہیں اور وہی بخشش کی ضمانت ہیں،جب اُن کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا تو وہ تنہاجنت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ اپنے گناہ گار ساتھیوں کی بخشش کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شدت کے ساتھ عرض کریں گے جس کے باعث اللہ کریم انھیں اجازت عطا فرمائیں گے کہ جاؤ اُن میں سے جس کے دل میں دینارکے برابر بھی ایمان ہے انھیں جہنم سے نکال لو ،اسی طرح وہ بار بار اپنے ساتھیوں کیلئے عرض کرتے رہیں گے یہاں تک کہ حکم ہوگا کہ جس کے دل میں ذرے برابر بھی ایمان ہے اُسے بھی دوزخ سے نکال کر اپنے ساتھ جنت میں لے جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما رکھا ہے کہ


فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدیْ ۵وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۵(الفجر،آیات ۲۹،۳۰)
ترجمہ!پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ


حضرت خواجہ حسنؓ بصری حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مشہور خلیفہ ہیں، آپ کا ایک ہمسایہ شمعون نامی آتش پرست تھاایک مرتبہ وہ شدید بیمار ہوگیا اور بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی،آپ اُس کی بیمار پُرسی کیلئے تشریف لے گئے،اور اُسے زندگی کے آخری لمحات میں اسلام کی دعوت پیش کی،شمعون نے عرض کیا کہ اگر آپ مجھے جنت کی سند تحریر کر دیں تو میں کلمہ پڑھ لیتا ہوں،حضرت حسنؓ ؒ بصری نے اُس کی شرط منظور فرما کر سند تحریر کردی اوروہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا ،شمعون نے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو یہ کاغذ میرے ہاتھ میں دے کر مجھے دفن کیا جائے۔لہٰذا جب وہ فوت ہوگیا تو اُسے وصیت کے مطابق دفن کردیا گیا ،اُسی رات حضرت خواجہ حسنؓ بصری نے شمعون کو خواب میں دیکھا ،اُس نے انتہائی خوبصورت لباس پہن رکھا تھااورچہرے پر نورانیت ہی نورانیت جلوہ گر تھی،خواجہؓ صاحب نے پوچھا،سناؤ کیسے ہو؟اُس نے کہا کہ آپ سے کیا پوشیدہ ہے ،آپ کی سند کے تصدق مجھے رب تعالیٰ نے بے شمار انعام واکرام سے نوازا ہے اور اپنے جمالِ لازوال سے فیض یاب فرمایا ہے،چنانچہ اب مجھے اس سند کی ضرورت نہیں آپ واپس لے لیں ،یہ کہہ کر شمعون نے سند خواجہؒ صاحب کے دستِ اقدس میں دے دی،جب خواجہؒ صاحب بیدار ہوئے تو سند آپ کے ہاتھ میں تھی،اس طرح ایک ولی اللہ کے تصدق ایک دوزخی جنت میں پہنچ گیا۔


خود سے چلے جو وہ بھٹکے پڑے ہیں
سوئے خدا راہنما لے کے چل


ملکہ زبیدہ خاتون جوکہ خلیفہ ہارون رشید کی بیوی ہونے کے علاوہ انتہائی نیک سیرت ، سخی اور دُرویشوں سے عقیدت رکھنے والی عورت تھی ،اس کے متعلق مشہور ہے ایک دفعہ ملکہ اپنے خاوند ہارون رشید کے ہمراہ دریائے دجلہ کی سیرکو نکلی وہاں اس نے دیکھا کہ ایک اللہ کے ولی حضرت بہلول ؒ دریا کے کنارے بیٹھے ریت کو پاؤں پر اکٹھا کرکے چھوٹے چھوٹے مکان تعمیر کررہے ہیں،ملکہ نے اپنے خاوند خلیفہ ہارون رشید سے اجازت لے کر فقیر کو سلام پیش کیا،فقیر نے بغیر دیکھے سلام کا جواب دیا ...اوراپنے کام میں مصروف رہے،زبیدہ نے عرض کیا،بابا جی! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟فرمایا،جنت میں محل بنا رہا ہوں،زبیدہ نے دوبارہ عرض کیا کہ اگر کوئی لینا چاہے تو کیا طریقہ ہے؟فرمایا،صرف ایک درہم کا دے دوں گا،یہ سُن کرزبیدہ نے فوراً ایک درہم پیش کردیا،حضرت بہلولؒ نے وہ ایک درہم لے کر دریا میں پھینک دیا اور ایک مکان پاؤں کی ٹھوکر سے گرا کرفرمایا کہ ہم نے اِدھر سے گرا کر جنت میں تمھارے نام کردیا ہے،زبیدہ نے دوبارہ بآدب سلام پیش کیا اور روانہ ہوگئی،خلیفہ ہارون رشید جوکہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا...زبیدہ سے کہنے لگا،تم نے ایسا کیوں کیا؟تم بھی انتہائی بے وقوف ہو،بھلا اس دنیا کے ایک درہم سے جنت میں کیسے محل مل سکتا ہے اگر تم نے یہ ایک درہم دینا ہی تھا تو کسی اور حاجت مند کو دے دیتی جو کم از کم ایک وقت کی روٹی تو کھا لیتا اس فقیر نے تو اس درہم کوبھی دریا میں پھینک کر ضائع کردیا ہے،زبیدہ نے کہا، بادشاہ سلامت اس ایک درہم سے کیا آپ کے خزانے میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے؟ خلیفہ نے کہا، ایسی تو کوئی بات نہیں،ملکہ نے کہا پھر یہ میرے اپنے عقیدہ کا مسئلہ ہے ،مجھے فقیر کی زبان پر اعتماد ہے المختصر خلیفہ واپس آنے تک زبیدہ سے ناراضگی کا اظہار کرتا رہا،جب دونوں گھر پہنچے تو ہارون رشید معمول کے مطابق اپنے بستر پر دراز ہوا،اسی دوران آنکھ لگ گئی اورخواب میں نہایت خوبصورت جگہ نظر آئی ، جہاں کی خوبصورتی بیان سے باہر تھی اور ہر شخص کے چہرے پر رنگِ شباب جھلک رہا تھا،خلیفہ نے ایک نورانی شخص سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے؟اس نے بتایاکہ یہ جنت ہے ، خلیفہ نے دوبارہ پوچھا،کیا میں یہاں سیر کر سکتا ہوں؟اس نے کہاں بے شک کیجئے،لہٰذا خلیفہ مختلف جگہوں سے گھومتا ہوا ...ایک ایسے محل کے سامنے آیا،جس کی تعمیر ،خوبصورتی اور وسعت لامثال اور لامحدود تھی، جب خلیفہ نے غور کیا تو اس محل کے اوپر تحریر تھا کہ’’ یہ زبیدہ کا گھر ہے‘‘جب خلیفہ نے اپنی بیوی کانام لکھا دیکھا تو محل کے اندر داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا مگر وہاں دربان فرشتوں نے روک دیا کہ آپ اس محل میں نہیں جاسکتے،خلیفہ نے کافی اصرارکیا کہ یہ میری بیوی کا محل ہے مجھے دیکھنے کی اجازت دی جائے،لیکن فرشتوں نے کہا کہ یہ رشتے دنیا تک ہی محدود ہیں یہاں اگر تمھارا اپنے نام کا محل ہے تو اس میں تم داخل ہوسکتے ہو ،ورنہ نہیں، جب خلیفہ نے زیادہ اصرار کیا تو فرشتوں نے انکار کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا... جس سے خلیفہ کی آنکھ کھل گئی ، فوراً بے چینی کی حالت میں زبیدہ کوبلایا اور کہا کہ چلو اُسی فقیر کے پاس جانا ہے چنانچہ دونوں میاں بیوی دریا کے کنارے پہنچے جہاں ابھی تک حضرت بہلولؒ ریت سے مکانات تعمیر کررہے تھے اس دفعہ ہارون رشید نے آگے بڑھ کر عرض کیا،سائیں بابا!کیا بنا رہے ہیں؟حضرت بہلولؒ نے حسبِ سابق بغیر دیکھے فرمایا،جنت میں محل بنا رہا ہوں،عرض کیا کہ کتنے کا عطا فرمائیں گے؟فرمایا،دس ہزار دینار کا،خلیفہ نے حیران ہوکر پوچھا،سائیں بابا، ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ نے ایک درہم کا عطا کیا تھا،اب اس قدر زیادہ قیمت؟حضرت بہلولؒ نے تبسم ریزی کے ساتھ فرمایا کہ فرق بھی تو کافی ہے کیونکہ پہلے والا گاہک بغیر دیکھے لے گیا تھا اور تم ابھی دیکھ کر آرہے ہو،ہم تمھیں اس قیمت پر بھی نہ دیتے اگر پہلا جنتی یعنی زبیدہ تیرے ساتھ نہ ہوتی۔کیونکہ


فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدیْ ۵وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۵(الفجر،آیات ۲۹،۳۰)
ترجمہ!پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ


آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرمﷺکے طفیل ہمیں اپنے خاص بندوں کی سنگت اختیار کر نے اور اُس سنگت سے بھرپور استفادہ کرنے کی اور اس پیغامِ نجات کو آگے پھیلا کر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


ہے وسعتِ کریمی مدِنظر ہمیشہ
ورنہ مجھے سلیقہ کب ہے گداگری کا
عمرانؔ پَل رہاہوں رحمت کے بس سہارے
یہ ہے سبھی کرشمہ تیری بندہ پروری کا
ﷺﷺﷺ
مُردے صرف تو زندہ کیے نہیں ہیں شاہ نے
اُن کی نگاہ سے پتھر کلمہ سُنا رہے ہیں
ﷺﷺﷺ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)