عُقدہ کُھلا توحید کاتیری نگاہِ ناز سے
اے مہرباں ذکرِ خدا تیرا دِیا صلے علیٰ
تیرے ہی فیض سے مِلے ہر دم مِلے ملتا رہے
اے دلرُبا پیکر تیرا حاجت روا صلے علیٰ
ہیں عمرانؔ تجھ سے بخدا یہ آب وگِل کی رونقیں
اے دِلکشا خیر الورٰی جلوہ تیرا صلے علیٰ

 !معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسولﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لو گوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین۔
میرے دوستو !آج جوآیہ کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ کریم اپنے محبوبﷺکے اوصاف میں سے ایک وصف کا ذکر فرما رہے ہیں جو کہ اللہ کریم کی اپنے محبوبﷺپر عطا ہے یعنی یہ آیتِ کریمہ صرف حضورﷺ کی نعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد بھی ہے کیونکہ جہاں اللہ کریم اپنے محبوبﷺکے اوصاف کا ذکر فرما رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف اپنی عطا اور سخا کا بھی تذکرہ کررہے ہوتے ہیں لہٰذا اس آیتِ کریمہ میں حکمِ خداوندی ہے کہ


ترجمہ!اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں , سورہ تکویر،آیت۲۴


مطلب کیا ہوا کہ نبی کریمﷺ غیب بتانے میں سخی ہیں یعنی اللہ کریم نے اپنے حبیبﷺ کو اس قدرعلومِ غیب عطا فرمائے ہیں کہ خود ہی اپنی عطا کا تذکرہ بخیل نہ ہونے کے ساتھ فرمایا ہے جس کا معنی یہی ہے کہ رسول اللہﷺ اللہ کی عطا سے علومِ غیب تقسیم کرنے میں غنی بھی ہیں اور سخی بھی ہیں جس کے پاس کچھ ہو ہی نہیں اُس نے سخاوت بھی کیا کرنی ہے؟سخاوت بھی تو وہی کرے گا جو سخاوت کرنے کیلئے اپنے پاس کچھ رکھتا ہو۔


میرے دوستو !ایک بہت اہم بات یادرکھیں کہ حضورﷺکے جملہ اوصاف اور بلند شانیں جہاں حضورﷺ کی نعت ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی حمد بھی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہی سے حضورﷺ کی بلند شانیں ہیں جب کوئی شخص حضورﷺ کے کسی وصف پر اعتراض کرتا ہے درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی عطا وسخاپر اعتراض کررہاہوتا ہے یعنی اعتراض کرنے والا دراصل اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ( معاذاللہ) کسی کو کچھ نہیں دیتے،یہ ان کی اپنی گندی اور جہل سوچ ہے اور میں نے جو آپ کے سامنے بات کی ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ قرآن پاک کی آیتِ مقدسہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ کریم خود ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم میرے متعلق خیال کرتے ہو کہ میں کسی کو کچھ نہیں دیتا ،اے بے خبروں ،میرا کلام پڑھو ،میرا واضح اعلان سنو کہ میری عطا سے میرا محبوبﷺ بھی بخیل نہیں بلکہ سخی ہے۔

 

ترجمہ!اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں , سورہ تکویر،آیت۲۴

 

اللہ کریم کے اپنے ارشادِ گرامی سے واضح ہوا کہ اللہ نے اپنے حبیبﷺکوتمام غیب کا جاننے والا بنا کر بھیجا ہے جب رسول اللہﷺسے اللہ تعالیٰ ہی غیب نہیں تو پھر اُن سے کونسی شے اور کون سا علم پوشیدہ ہوسکتا ہے یقیناًوہ تمام غیب سے اس طرح غنی اور سخی ہے کہ خود رب تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ میرا نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ہے یعنی غنی اور سخی ہے۔


آئیے ایک سوال اور اس کے جواب کے متعلق عرض کرتا ہوں جو کہ راقم الحروف پر ہوا،ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ کسی بندے کو علمِ غیب ہوسکتاہے یا نہیں؟ اگر ہوسکتا ہے تو آپ اس کے متعلق قرآن واحادیث سے جواب دیں؟میں نے اُس سے پوچھا کہ جناب!بندے سے کیا مراد ہے؟کہنے لگا کہ کوئی نبی یا ولی ؟میں نے کہا پہلے آپ یہ بتائیں کہ شیطان کو یہ طاقت حاصل ہے یا نہیں ؟ اُس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ، ہاں جی شیطان کو یہ طاقت حاصل ہے کیونکہ جب کوئی بندہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اُس کو برائی کی طرف اُکساتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُسے یہ طاقت حاصل ہے اسی لیے وہ بندے کے ارادے سے آگاہ ہوکر ہی برائی کی طرف مائل کرتاہے پھر میں نے اُس پر دوسرا سوال کیا کہ اب آپ یہ بتائیں کہ اُس نے یہ طاقت کہاں سے حاصل کی ہے؟کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ سے، میں نے کہا اب یہ بھی بتا دیں کہ اُس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسا ہے ،کیا دوستی کا تعلق ہے یانفرت کا؟کہنے لگا نفرت ہی کا تعلق ہے،یہ سُن کر میں نے اُس سے کہا کہ عجیب بات ہے کہ طاقت کا سرچشمہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اُس نے اپنے دشمن(بقول تمھارے) کو تو طاقت عطا فرمادی اور کیا اپنے دوستوں کو محروم رکھاہے؟کیا تم نے دنیاکا بھی کوئی ایسا دانا سناہے جو اپنے دوستوں کو کمزور اور دشمنوں کو طاقتورکرتا ہوپھر جو تمام داناؤں کو دانائی عطا فرمانے والا ہے وہ بھلا کیسے دشمن کو طاقتوراور دوستوں کمزور کرسکتا ہے اُس کے دوست وہ ہیں جو پوری دنیا میں توحید کی صدائیں بلند کرتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی دوستی ہی کے حوالے سے مشہور ہیں،یہ جواب سُن کر اُس شخص نے اعتراف کیا اور دوبارہ ملنے کا کہہ کر روانہ ہوگیا لیکن دوبارہ نہیں آیا۔


حالانکہ اللہ کریم تو اپنے دوستوں کو اس قدر طاقتیں عطا فرماتا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی، جیسا کہ پچھلے صفحات پر حدیثِ قدُسی گزری ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے ولی کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، قابلِ غور بات ہے جس کی آنکھیں اللہ کریم خود بن جائے اُس سے کیا پوشیدہ ہوسکتا ہے یعنی جو دیکھ ہی اللہ سے رہا ہو اُس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔


میرے دوستو!کوئی بھی ولی اللہ اُس وقت ہی ولی اللہ بنتا ہے جب نبی کریمﷺ کی غلامی اور عشق میں کامل ہوجاتا ہے،جیسے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں


میں ہوواں سگ مدینے دی گلی دا
اِیہہ رتبہ ہے ہر کامل ولی دا


غور کرنے کا مقام ہے کہ جس نبیﷺ کی غلامی ہی کی وجہ سے اولیاء اللہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اُس نبی اللہﷺسے کوئی چیز کیسے پوشیدہ ہوسکتی ہے؟ یقیناًحضورﷺ کا مقام تو سمجھ سے ماوریٰ ہے اُن کے غلام بھی اُن کی عطا ہی سے دیکھ رہے ہیں اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

 

ترجمہ!اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں , سورہ تکویر،آیت۲۴

 

مطلب یہ ہے کہ نبی اللہﷺ خود تو ہر غیب جانتے ہیں بلکہ غیب بتانے پر سخی بھی ہیں جن کی سخا اور عطا سے اُن کے غلام بھی غیب جانتے اور بتاتے ہیں۔


آئیے اس متعلق چند مستند احادیثِ مبارکہ پیش کرتا ہوں،سُن کر اپنا ایمان مضبوط کریں۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر86صفحہ نمبر143


حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی،پھر فرمایاکہ کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے دکھائی نہیں گئی تھی لیکن وہ میں نے اس جگہ دیکھ لی یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر215صفحہ نمبر188
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1271صفحہ نمبر553
بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر989صفحہ نمبر390


حضرت ابن عباسؓ سے روایت کہ نبی کریمﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ انھیں عذاب ہورہا ہے اور کسی کبیرہ گناہ کے باعث نہیں، ان میں سے ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا،پھر ایک سبز ٹہنی لی اور اُس کے دو حصے کرکے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا،لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہﷺایسا کیوں کیا؟فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں تو شاید ان کے عذاب میں کمی ہوتی رہے۔
ان احادیث سے واضح ہے کہ حضورﷺسے قبر اور عالمِ برزخ کے حالات مخفی نہیں،یہاں تک کہ آپ نے واضح فرمادیا کہ ان قبر والوں کو کس عمل کی وجہ سے عذاب ہورہا ہے،بعض روایات میں آتا ہے کہ قبروں والوں کے حالات اور عذاب کو آپ کی سواری یعنی خچر نے بھی آپ کی نسبت ہونے کی وجہ سے دیکھ لیا جس کے باعث وہ بِدکا،


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر404صفحہ نمبر255
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر703صفحہ نمبر357


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،تم کیا یہی دیکھتے ہو کہ میرا منہ اِدھر ہے؟خدا کی قسم،مجھ پر نہ تمھارا خشوع وخضوع پوشیدہ ہے اور نہ تمھارے رکوع،میں تمھیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
اس حدیثِ پاک میں حضورﷺ کا فرمانا کہ مجھ پر تمھارے خشوع ورکوع پوشیدہ نہیں ہیں،اس میں خود حضورﷺنے واضح فرمادیا کہ میری نگاہ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے کیونکہ رکوع تو ظاہری اور جسمانی فعل کا نام ہے مگر خشوع تو قلبی کیفیت کا نام ہے جو خوفِ خدا سے پیدا ہوتی ہے،یہ بھی واضح فرما دیا کہ میں تمھیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور تمھارے رکوع مجھ پر ظاہر ہیں اور ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ تمھاری قلبی کیفیت بھی مجھ پر عیاں ہے کیونکہ دیکھنا آنکھوں میں موجود اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور کاکام ہے اور جن کا مکمل سراپاء ہی اللہ تعالیٰ کا نور ہو بھلا اُن سے کوئی چیز کیسے پوشیدہ ہوسکتی ہے یعنی نہ حضورﷺ کی نگاہ سے ہمارے ظاہر پوشیدہ ہیں اور نہ ہی باطن،اسی طرح اگلی حدیث میں بھی فرمایا۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر405صفحہ نمبر256


حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایاکہ نبی کریمﷺنے ہمیں نماز پڑھائی پھر منبر پر جلوہ افروز ہوکر نماز اور رکوع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمھیں پیچھے سے بھی اُسی طرح دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے تمھیں دیکھتا ہوں۔
یہ مضمون کچھ کمی بیشی کے ساتھ جلد نمبر1 حدیث نمبر 703,686, 681 ,680میں بھی موجود ہے،حدیث نمبر702صفحہ357کے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں۔


ہر سُو نگاہ ہے اُن کی لاجیں نبھا رہے ہیں
ایسے وہ دِلرُبا ہیں واللہ حبیبِ اللہﷺ


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر709صفحہ نمبر359
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر990صفحہ نمبر454


حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایاکہ نبی کریمﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج کو گرہن لگاتوآپﷺنے نماز پڑھی،لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہﷺ آپ نے اپنی جگہ پر کوئی چیز پکڑی تھی؟پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے،فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اُس میں سے ایک خوشہ پکڑنے لگا تھا اور اگر میں اُسے لے لیتا تو تم اُس میں سے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے۔


سبحان اللہ نگاہِ حبیبِ خداﷺسے کچھ پوشیدہ نہیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو معاذ اللہ دیوار کے پیچھے کا علم نہیں حالانکہ یہ مستند حدیث بتارہی ہے کہ بظاہر حضورﷺ مدینہ منورہ میں نماز پڑھا رہے ہیں اور آپ کی نگاہ ساتوں آسمانوں کوچیر کر جنت میں پہنچ گئی جبکہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو برس کے راستے کے برابر ہے بھلا اُن کی نگاہ سے زمین کا کوئی راز کیسے چھپا رہ سکتا ہے اور اگلی بات کہ صرف جنت کا نظارہ نہیں کیا بلکہ واضح فرمادیا کہ میں اگر خوشہ پکڑ نا چاہتا تو پکڑ سکتایعنی جہاں نگاہِ مصطفیﷺنظارہ کرتی ہے وہاں دستِ مصطفیﷺکی رسائی بھی ہے پھر اُن سے اس دنیا کی کوئی چیز کیسے مخفی ہوسکتی ہے،معلوم ہوا کہ نہ حضورﷺسے کوئی چیز پوشیدہ ہے اور نہ آپ کے قبضہ واختیار سے باہر ہے۔


باطل کے سب اندھیرے نابود ہو گئے ہیں
طلوعِ سحر کا جلوہ شب کو مِٹا گیا ہے


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر976صفحہ نمبر448
بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر1971صفحہ نمبر777


ابن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کہا،اے اللہ!ہمیں ہمارے شام میں برکت دے اور ہمارے یمن میں،لوگ عرض گزار ہوئے اور ہمارے نجد میں،دوبارہ کہا،اے اللہ!ہمیں ہمارے شام میں برکت دے اور ہمارے یمن میں،لوگ پھر عرض گزار ہوئے اور ہمارے نجد میں،فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور شیطان کا گروہ وہیں سے نکلے گا۔
معلوم ہوا کہ شام اور یمن کے علاقے برکت والے ہیں اور نجد کا علاقہ منحوس ہے اسی لیے آپ نے دعائے رحمت سے محروم رکھاکیونکہ نگاہِ مصطفیﷺسے پوشیدہ نہیں تھا کہ اس علاقہ سے شیطان جیسی توحید کے علمبردار نکلیں گے جو ہر لحاظ سے شیطان کی پیروری کرتے دکھائی دیں گے اور کھلم کھلاانبیائے کرام واولیائے کرام کی گستاخیاں کریں گے اسی لیے حضورﷺنے فرمایا اس علاقہ سے زلزلے و فتنے اور شیطان کی جماعت نمودار ہوگی،جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برس رہی ہوگی اور وہ رحمتِ دوعالمﷺاور اُن کے عشاق سے محبت کو شرک قرار دے گی ، شیطان جیسی توحیدپرستی درحقیقت انبیاء کرام واولیائے کرام کی گستاخیوں کے علاوہ کچھ نہیں،اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین


عزازیل کے مراتب کیوں خاک میں مِلے ہیں
تعظیم کے جو مُنکر لعنت اُٹھا رہے ہیں


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1168صفحہ نمبر516
بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر65صفحہ نمبر65


حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،جھنڈا زید نے لے لیا،وہ شہید کردئیے گئے پھر جعفر نے لے لیا وہ بھی شہید کردئیے گئے پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے لے لیا وہ بھی شہید کردئیے گئے اور رسول اللہﷺکی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں تھے،پھر بغیر امیر بنائے اُسے خالدؓ بن ولید نے لے لیا اور اُسے فتح مرحمت فرمادی گئی۔
اس حدیثِ پاک سے بھی غیب دان نبیﷺکی بتائی ہوئی غیب کی باتیں نمایاں ہیں یعنی حضورﷺ مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوکر جنگِ موتہ کے علمبرداروں کی خبر دیتے رہے کہ اب جھنڈا فلاں نے اُٹھا لیااب وہ شہید ہوگئے ہیں حتیٰ کہ آخر تک بتا دیا کہ اب جھنڈا خالدؓ بن ولید نے سنبھال لیا ہے اور ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے فتح مرحمت فرمادی ہے یہ تمام خبریں حضورﷺ مدینہ منورہ میں بیٹھ کر دے رہے تھے۔


دِلدارِ لَم ےَزلؐ کی خیرات بٹ رہی ہے
نورِ خدا کی ہر سُو سوغات بٹ رہی ہے


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1388صفحہ نمبر596


حضرت ابوحُمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریمﷺکی معیت میں غزوہ تبوک کیا،جب ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو ایک عورت اپنے باغ میں تھی،نبی کریمﷺنے اپنے اصحاب سے کہا کہ اندازہ لگاؤ اور رسول اللہﷺنے دس وسق کا اندازہ کیا،اُس عورت سے فرمایا کہ جتنی کجھوریں برآمد ہوں اُن کا حساب رکھنا جب ہم تبوک پہنچے تو فرمایا،آج رات بہت سخت آندھی آئے گی لہٰذاکوئی کھڑا نہ ہواور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اُس کا گُھٹنا باندھ دے،ہم نے وہ باندھ دئیے اور سخت آندھی آئی،ایک آدمی کھڑا ہوا تو اُسے پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا،ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریمﷺکی خدمت میں ایک خچر اور چادر بطور تحفہ بھیجی،آپ نے اُس کا ملک اُسی کیلئے لکھ دیا،جب وادی القریٰ میں آئے تو اس عورت سے کہا،تمھارے باغ سے کیا حاصل ہوا؟عورت نے کہا دس وسق کجھوریں جوکہ رسول اللہﷺنے اندازہ کیا تھا، نبی کریمﷺنے کہا،میں جلد مدینہ منورہ پہنچنا چاہتا ہوں،جب اُحد نظر آیا تو فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔


میرے دوستو!بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا بنا کربھیجا ہے،جیسے آپ نے کجھوروں اور آندھی کے متعلق قبل از وقت خبر دی جس نے آندھی سے قبل حضورﷺکے حکم کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اسے آندھی نے اُٹھا کر پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا، آج بھی جو حضورﷺکے اوصاف ماننے سے انکار کرتے ہیں اور طرح طرح کی بے ادبیاں کرنے لگتے ہیں اُن کو بھی نفسِ امارہ اور شیطانی آندھیاں اُٹھا کر دامنِ مصطفیﷺسے دور پھینک دیتی ہیں۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1751صفحہ نمبر714


حضرت اُسامہ بن زیدؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺمدینہ منورہ کے مکانات میں سے ایک اُونچے مکان پر چڑھے تو فرمایا،کیا تم دیکھ رہے ہوجو میں دیکھتا ہوں؟ بے شک میں تمھارے گھروں پر فتنوں کے گِرنے کی جگہوں کو دیکھ رہاہوں، جیسے بارش کے قطروں کے گِرنے کے مقامات۔


حادثوں کا سلسلہ دُور تک تھا چار سُو
بچا گئی وُہ چشمِ تَر یہ کاروانِ زندگی


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1754صفحہ نمبر715


حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،کوئی شہر ایسا نہیں جس کو دجال برباد نہیں کردے گاسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے.ان کے راستوں میں سے کوئی راستہ ایسا نہیں ہوگا جس پر صف بستہ فرشتے حفاظت نہ کررہے ہوں گے پھر مدینہ منورہ کے رہنے والوں کو تین جھٹکے لگیں گے جن کے باعث اللہ تعالیٰ ہرکافر اور منافق کواس سے نکال دے گا۔


اس حدیثِ پاک میں بھی غیب دان نبیﷺنے دجال کے فتنے کے متعلق اپنے عشاق کو آگاہ فرمایا کہ دجال کا فتنہ بہت سخت ہوگا وہ تمام شہر برباد کردے گا لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا کیونکہ وہاں فرشتے صف بستہ دربانی کے فرائض انجام دے رہے ہونگے جواُس کو داخل نہیں ہونے دیں گے یہ اس لیے کہ یہ دونوں شہر اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشانیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جس طرح حضورﷺنے فرمایا کہ مکہ مکرمہ کو حضرت ابراہیمؑ نے حرم بنایا اور میں مدینہ منورہ کو حرم بناتا ہوں،اسی لیے اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں کہ جن شہروں کو میرے محبوب بندوں نے حرم بنایا وہاں دجال داخل ہوسکے،یہ بھی اس حدیث میں واضح ہے کہ ان شہروں میں کافروں اور منافقوں کا بسیرا ہونا کوئی عجیب بات نہیں مگر جب دجال کا فتنہ ظاہر ہوگا تو تمام فتنہ پسند اور فتنہ پھیلانے والے زلزلوں کے جھٹکوں کے باعث اُٹھا کر باہر پھینک دئیے جائیں گے اور وہ سبھی دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔


بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر74صفحہ70


حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت حارثہ بن سراقہؓ کی والدہ محترمہ دربارِ نبوتﷺ میں حاضر ہوکرعرض گزار ہوئیں،یانبی اللہﷺ!مجھے حارؓثہ کا حال بتائیے جو بدر کی لڑائی میں مارا گیا تھا،جبکہ اسے نامعلوم تیرلگا تھا،اگر وہ جنت میں ہے تومیں صبر سے کام لُوں،اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو میں دل کھول کر اس پر گریہ زاری کروں؟ارشاد فرمایا،اے امِ حارثہؓ!وہ جنت کے باغوں میں ہے اور بے شک تیرے لختِ جگر نے فردوسِ اعلیٰ پائی ہے۔
بلاشبہ اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکو تمام غیب کا جاننے والا بنا کربھیجا ہے اسی لیے جب حضرت حارثہؓ کی والدہ محترمہ نے حضورﷺسے حضرت حارثہؓ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کیا معلوم یہ باتیں توصرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے بلکہ آپ نے وہیں بیٹھ کر نگاہ اُٹھائی اور حضرت حارؓثہ کے مقام کی خبر دے دی کہ وہ جنت الفردوس میں مزے لے رہا ہے اور یہ بتا کر آپ نے واضح فرمادیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام طاقتیں عطا فرمائیں ہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جن کی نگاہ سے جنت اور عرشِ معلیٰ کے حالات پوشیدہ نہیں اُن کے سامنے اس دنیا کے حالات کی خبر دینا کیا معنی رکھتا ہے،اللہ تعالیٰ حق ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔(امین)کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ

 

ترجمہ!اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں , سورہ تکویر،آیت۲۴

 

ان مستند احادیثِ مبارکہ اور فرمانِ خداتعالیٰ سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضورﷺ اللہ تعالیٰ کی عطا سے تمام غیب کو جاننے والے ہیں یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اسی پر صحابہ کبارؓ اور اولیاء عظام کا عقیدہ ہے۔
آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے غیب دان نبیﷺکے تصدق اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلاکر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


یزداں کی عنایت پہ اِک شرط وفا تیری
دستورِ نبوت یا ترتیبِ محبت ہے
توحید پرستوں کا عمرانؔ عقیدہ ہے
اِک شوقِ محمد سے پُرکیف عبادت ہے

 

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)