اِک اوٹ زمانے میں غمخوار محمد ہیں
لجپال غریبوں پہ لگاتار محمد ہیں
اِک دعویٰ نہیں میرا شیدائی خدائی ہے
ہر دِل ہے تمنائی دِلدار محمد ہیں
تنہا نہ ہمیں سمجھو اے رہزنِ ہستی تم
ہم خستہ حالوں کے سالار محمد ہیں
تاریخِ زمانہ میں تم جیسا نہیں کوئی
ہر ایک کی مشکل میں دیوار محمد ہیں
حالات نہیں میرے کوئی بات نہیں میری
مجھ جیسے نِکمے کا گھر بار محمد ہیں
حالتِ گلشن سے مایوس نہ ہو عمرانؔ
ہر پت جھڑ موسم میں بہار محمد ہیں


 !معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین
میرے دوستو!آج جو آپ کے سامنے پارہ نمبر ۹ سے مختصرحصہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اسے آپ اکثر تقریر سے شروع خطبہ میں سنتے بھی ہیں ،ان دو قرآنی سخنوں میں اللہ کریم نے اپنے محبوب بندوں کی اسقدر شان بیان فرمائی ہے کہ ہر وہ عقیدہ جس میں اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی نفی کی جاتی ہے کہ ان کے پاس کوئی طاقت نہیں وہ کسی کے کچھ کام نہیں آسکتے وغیرہ ،کی ایسی نفی ہوجاتی ہے جس کا چمکدار ثبوت آج کا تلاوت شدہ کلام الہیٰ ہے۔یعنی


وَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِینَ ۵ . پارہ نمبر ۹،سورہ الاعراف،آیت ۱۲۸
ترجمہ!اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے


توجہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ آخر کار میدان متقین کے ہاتھ ہے یعنی دنیا وآخرت میں کامیابی متقین کے قبضہ میں ہے،صرف اپنے لیے نہیں بلکہ جس کے لیے وہ پسند کریں گے اللہ تعالیٰ اُس کو بھی کامیاب فرمائے گا،جیسا کہ پارہ نمبر۲۵،سورہ الزخرف،آیت۶۷ میں حکمِ خداوندی ہے کہ


ترجمہ!’’گہرے دوست قیامت والے دن ایک دوسرے کے دشمن ہونگے مگر متقین‘‘


معلوم ہوا کہ جہاں سب تعلق اور دنیوی رشتے دشمن بن جائیں گے وہاں متقین کا مقدس رشتہ کام آئے گاکیونکہ حکمِ خداتعالیٰ ہے کہ آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے اب آپ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سننے کے بعد اس عقیدہ کی بات بھی سنیں جو کہتے ہیں کہ متقین یعنی اللہ کے محبوب بندوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں جب دنیا آخرت کا سارا میدان ہی اللہ کریم نے ان کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو پیچھے کیا بچتا ہے جس کے متعلق بحث میں وقت ضائع کیا جائے ۔


جیسے ایک بادشاہ اپنے دوست کو بے شمار انعام واکرام سے نوازا کرتا تھا جس کے باعث دوسرے درباریوں میں حسد کی وبا پھیل گئی وہ آئے دن بادشاہ کے سامنے اُس کی شکایات کا سلسلہ گرم رکھتے ،ایک دن بادشاہ نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تمھاری اور میری اور ان درباریوں کی ہتھیلی کے اندر بال کیوں نہیں؟ بادشاہ کے دوست نے نہایت ادب سے عرض کیا ،جناب!آپ سخی ہیں اور آئے دن سخاوت کرتے ہیں جس کے باعث آپ کی ہتھیلی میں بال نہیں اور میں جناب سے ہر وقت خیرات حاصل کرتا ہوں اسی لیے جناب سے لے لے کر میری ہتھلیوں میں بھی بال نہیں اور ان درباریوں کی ہتھلیاں خالی رگڑ رگڑ کرخالی ہوگئی ہیں ۔


میرے دوستو بالکل اسی طرح بعض اللہ کے دشمنوں کے اپنے ہاتھ خالی ہیں وہ اس لیے شور مچاتے ہیں کہ ہماری طرح سب کے ہاتھ خالی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ


وَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِینَ ۵ . پارہ نمبر ۹،سورہ الاعراف،آیت ۱۲۸
ترجمہ!اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے

میرے دوستو اس کی وجہ کیا ہے کہ اللہ کریم نے متقین کو اسقدر بڑامقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے ؟بڑی وجہ تووہی جو پچھلے صفحات پر قرآن پاک کے حوالے سے بیان کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺکے عشق وادب کے طفیل متقین کو اپنا دوست بنا لیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ


ترجمہ! اور بے شک اللہ متقین سے محبت فرماتا ہے . سورہ العمران، آیت ۷۶


بلاشبہ حضور ﷺکے عشق وادب کے طفیل اللہ کریم نے مخصوص دلوں کو تقویٰ کیلئے چن کر اپنی دوستی کیلئے خاص کرلیا ہے اور اسی دوستی کے سبب ہی دنیا وآخرت کے سارے میدان اُن کے ہاتھ میں رکھ دئیے ہیں،یعنی کوئی چیز بھی اُن کے قبضہ واختیار سے باہر نہیں،مزید وضاحت کیلئے قرآن پاک سے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔


سورہ نمل میں اللہ تعالیٰ نے ایک واقعہ کچھ اس طرح بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کا جائزہ لیتے ہوئے ،فرمایاکہ آج کیا وجہ ہے کہ مجھے یہاں(اپنے دربار میں) ہد ہد(ایک پرندے کا نام)نظر نہیں آرہا،اگر وہ بلا عذر غیر حاضر ہے تو میں اُسے سخت سزا دوں گایا ذبح کرادوں گا یاپھر وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے گا یعنی اُس کی معافی اس شکل میں ہوسکتی ہے کہ وہ دربار سے غیر حاضری کا کوئی سبب بیان کرے گا،اس سے معلوم ہوا کہ تمام پرندے حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر رہتے تھے اور اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتے تھے،آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہدہد حاضر ہوگیااور سلیمانؑ کے روبرو عرض گزار ہوا کہ حضور! میں شہرِسبا سے ایک نہایت اہم خبر لایا ہوں وہ یہ کہ میں نے وہاں ایک عورت کو حکمرانی کرتے دیکھا ہے اور اُسے دُنیا کی ہر چیز میسر ہے اور اُس کا ایک بہت بڑا تخت ہے اور وہ سورج کی عبادت کرتے ہیں یہ سُن کر نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم تحقیق کریں گے کہ تم نے جو بات بیان کی ہے وہ ٹھیک ہے یا کہ غلط،اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک خط تحریر فرمایا اوروہ ہد ہد کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خط اُس ملکہ’’بلقیس‘‘کو پہنچا دو اور خود ہٹ کر اُن کی گفتگو سُننا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں لہٰذا ہد ہد نے حسبِ حکم عمل کیا،جب شہزادی بلقیس نے خط دیکھا تو اپنے وزیروں اور مشیروں کو اکٹھا کر کے کہا،اے سرداروں!بے شک میری طرف ایک عزت والا خط بھیجا گیا ہے جو کہ سلیمانؑ کی طرف سے ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے نام سے شروع ہوتا ہے جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے،خط کا مضمون یہ ہے کہ تم مجھ پر برتری نہ چاہو اور تم مسلمان ہوکر میرے حضور حاضر ہوجاؤ۔

(پارہ 19سورہ النمل،آیات20تا31)


خط سنانے کے بعد شہزادی بلقیس نے اپنی ریاست کے سرداروں اور وزیروں سے مشورہ مانگا کہ اب کیا کیا جائے؟ چنانچہ اُن سورج پرستوں نے اپنی جنگی مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ کیلئے تیار ہیں اور ہمیں کوئی خطرہ خوف نہیں ہے، شہزادی بلقیس نہایت سمجھ دار تھی جب اُس نے وزیروں کا مشورہ سُنا تو کہا کہ میں جنگ کو پسند نہیں کرتی کیونکہ جب جنگ ہوتی ہے تو شہر کے شہر ویران ہوجاتے ہیں اور شریف لوگوں کا سکون تباہ وبرباد ہوجاتا ہے،میں یہ چاہتی ہوں کہ قیمتی تحائف بھیج کر امتحان لیا جائے اگر صرف بادشاہ ہوا تو ہدایا و تحائف لے کر خود بخود نرم پڑ جائے گا اگر حقیقتاً اللہ کا نبی ہواتو ہرگز تحائف لے کر نرم نہیں پڑے گا اور تمام تحفے ٹھکرا کر ہمیں اپنے دین کی تقلید کا حکم دے گا لہٰذا شہزادی بلقیس نے پانچ سو لونڈیاں پانچ سو غلام نہایت خوبصورت لباس اور پانچ صد سونے کی اینٹیں،قیمتی تاج ،نادر عطریات اور بیش قیمت زیوروں پر مبنی تحائف بھیج دئیے جسمیں ایک خط بھی روانہ کیا،ہد ہد یہ سب کچھ دیکھ کرتیزی سے پرواز کرتا ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچا اور تمام احوال عرض کردئیے،چنانچہ کچھ ایام میں بلقیس کا قاصد سامان لے کر پہنچا تو حضرت سلیمانؑ نے نہایت جلال میں فرمایا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔


’’پھر جب وہ سلیمان کے پاس آیا،فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللّٰہ نے دیا وہ بہتر ہے اُس سے جو تمھیں دیا بلکہ تم ہی اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی اُنھیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم اُن کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے‘‘(پارہ19سورہ النمل ،آیات36,37)


چنانچہ قاصد نے واپس پہنچ کر شہزادی کو تمام احوال سے آگاہ کیا،صورتِ حال سے شناسا ہونے کے بعد شہزادی سمجھ گئی کہ حضرت سلیمانؑ کوئی دنیادار بادشاہ نہیں ہیں یقیناًوہ اللہ تعالیٰ کے برحق نبی ہیں اُس نے خود حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر ہونے کا پروگرام بنا لیا...اور ضروری سامان کے ساتھ روانگی اختیار کی ،ابھی وہ راستہ میں ہی تھی کہ ادھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شہزادی کے یہاں پہنچنے سے قبل کیوں نہ اُس کا تخت یہاں پہنچ جائے، یاد رہے کہ وہ کوئی عام چارپائی نما تخت نہیں تھا، مختلف تفاسیر میں آتا ہے کہ اُس تخت کی لمبائی اسی80گز جبکہ چوڑائی چالیس40گز تھی اور سونے وچاندی کے قیمتی جواہرات سے مزین تھایعنی ایک پورا محل نما تخت تھا اسی لیے قرآنِ کریم نے بھی شہزادی بلقیس کے تخت کے متعلق فرمایا کہ اُس کا بہت بڑا تخت تھا،جب سلیمان علیہ السلام کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ تخت میرے دربار میں ملکہ بلقیس کے آنے سے پہلے پہنچ جائے توآپ نے اپنے درباریوں سے فرمایا،جیسا کہ خداتعالیٰ فرماتے ہیں۔


’’ سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اُس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا کہ وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بے شک اس پر قوت والا امانت دار ہوں‘‘
(سورہ النمل،آیات38,39)


قوی ہیکل جن کا بیان سننے کے بعد نبی سلیمانؑ نے فرمایا کہ میری یہ خواہش ہے کہ اس سے بھی پہلے وہ تخت میرے دربار میں پہنچ جائے،آپ کی یہ گفتگو سماعت فرمانے کے بعد آپکی امت کے ولی اللہ اور آپ کے وزیر یعنی حضرت آصف ؒ بن برخیا عرض گزار ہوئے جیسا کہ رب تعالیٰ فرماتے ہیں۔


ترجمہ!’’اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اُسے حضور میں حاضر کر دوں گاآپ کی آنکھ جھپکنے سے ے‘‘سورہ النمل،آیت40


لہٰذا حضرت آصفؒ بن برخیا نے اجازت ملنے پر اپنی روحانی طاقت سے آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے حاضر کردیا۔


قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ۔ سورہ النمل،آیت40
‘‘ترجمہ!’’پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھے ہوئے دیکھا(تو)کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں یعنی اولیاء اللہ کو بے شمار قوت کا خزانہ عطا فرمایا ہے جیسا کہ حضرت آصفؒ بن برخیا نے حضرت سلیمانؑ کے حکم پر اتنا وزنی تخت جو کہ کئی مہینوں کی دوری پرموجود تھاایک لمحہ سے بھی پہلے آپکے سامنے حاضر کردیااور خود اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں جسے دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا،یعنی حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے ،اب جیسا کہ خالی ہاتھ رگڑنے والے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے مدد مانگناجائز نہیں بلکہ شرک ہے چاہے یوں سمجھ کر مانگو کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طاقت ہے اور چاہے یوں سمجھ کر مانگو کہ اس کی ذاتی طاقت ہے دونوں حالتوں میں شرک ہوگا،میرے دوستو! میں اس قرآنی واقعہ کو تحریر کرنے کے بعد اُن لوگوں سے سوال کرتا ہوں ،کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو بیان فرما کر معاذ اللہ ہمیں شرک کی تعلیم دی ہے اورکیا اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں سے مدد مانگ کر شرک کے مرتکب ہوئے ہیں؟بالکل ایسا نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ہمیں سبق دیا کہ میرے ولیوں کے پاس میری ہی عطا کردہ طاقت کا ذخیرہ ہے جب تم لوگ مشکل کے وقت کسی ولی سے مدد مانگو گے تو کوئی نیا کام نہیں کرو گے بلکہ قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق عمل کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے نبی ؑ کی سنت ادا کرو گے حالانکہ وہ تخت خود حضرت سلیمان علیہ السلام بھی لاسکتے تھے مگر آپ نے یہی کام اپنی امت کے ایک ولی سے کرواکر بتادیا ہے کہ اولیاء اللہ کے پاس اللہ تعالیٰ کی ہی دی ہوئی طاقت ہوتی ہے اسی لیے تو آپ نے فرمایا کہ یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے،یعنی یہ غیر اللہ نہیں بلکہ اللہ کافضل ہیں، قرآنی وضاحت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ولی، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت سے بڑی بڑی مشکلیں ٹال سکتے ہیں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ حضرت سلیمانؑ کی امت کے ولی اللہ آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے محل نما تخت دربارِ سلیمان میں پہنچا سکتے ہیں تو جو حضرت سلیمانؑ کے بھی امام یعنی امام الانبیاء ﷺہیں اُن کی امت کے اولیاء اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتے ،بلاشبہ سرکاردوعالم ﷺکی امت کے اولیاء ،اللہ تعالیٰ کی عطا سے بہت کچھ کرنے پر قادر ہیں کیونکہ جس طرح حضور ﷺامام الابنیا ﷺہیں اسی طرح آپ کی امت کے ولی سابقہ امتوں کے اولیاء اللہ کے سردار ہیں۔ 

 ؒبقول مولانا روم
سُرمہ کُن درچشمِ خاکِ اولیاء تا بہ بینی ابتدا تا انتہا
(اولیاء کرام کی مٹی کا سرمہ آنکھ میں ڈال تاکہ تو ابتدا سے انتہا تک دیکھ سکے)


اِن کی طاقت کا اصل سرچشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے ،یہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ ڈیوٹیاں ہر وقت اور ہر جگہ انجام دیتے ہیں۔یہ مصورِ ازلی کے وہ شاہکار ہیں جن کی زیارت اور قربت سے مصورِ غیب پر ایمان مضبوط ہوجاتا ہے،اگر ان سے فیض حاصل کرنا...شرک ہوتا تو کبھی بھی اللہ تعالیٰ اس واقعہ کو قرآنِ پاک کی زینت نہ بناتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سلیمانؑ اپنے درباریوں سے اس طرح مخاطب ہوکرمدد مانگتے اور نہ ہی حضرت آصفؒ بن برخیا تختِ بلقیس حاضر کرتے،ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ


وَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِینَ ۵ . پارہ نمبر ۹،سورہ الاعراف،آیت ۱۲۸
ترجمہ!اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے

میاں محمد بخش ؒ صاحب اَف کھڑی شریف کا ایک خادم تھا جس کا نام تھا سائیں حسیب،جو بچپن ہی سے میاں صاحبؒ کی خدمت میں قبول ہوگیا تھا اور تمام زندگی ولی اللہ کی بارگاہ میں حاضر رہا ،وہ بچپن میں اکثر شرارتیں کرتا جس کے باعث اُسے میاںؒ صاحب سے سخت سزا ملتی،سزا ملنے کے کچھ دیر بعد اُسے میاںؒ صاحب اپنی خدمت میں بلاتے اور پتاسے وغیرہ دیتے اور پیار کرتے ،جس سے وہ خوش ہوجاتا،ایک دفعہ اُس کے والد اور بھائی بھی آئے ہوئے تھے کہ جس کے سبب اُس کی شرارتوں کا سلسلہ پورے عروج پر پہنچاہوا تھا، یہاں تک کہ اُسے سخت سزا ملی،سزا کے بعد وہ ایک جگہ بیٹھ کر رو رہا تھا کہ اُس کے بھائی(جوکہ ایک آنکھ سے محروم تھا)نے کہا کہ آج جب تمھیں میاں صاحبؒ بلائیں تو پتاسے وغیرہ لینے سے انکار کردینا اور کہنا کہ آج میں اُس وقت تک خوش نہیں ہوں گا جب تک آپ میرے اور میرے بھائی کی مغفرت کی ذمہ داری نہیں لے لیتے،


لہٰذا جب اُسے میاں صاحبؒ نے بلایا تو سائیں حسیب نے بھائی کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق عرض کردی،جس کو سُن کر میاں صاحب کے چہرے پر جمال کی لہر دوڑ گئی اور مسکرا کر فرمایا کہ آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تمھاراکسی یک چشم عیارسے واسطہ پڑا ہے اس کے بعد چہرے پر جلال کی کیفیات ظاہر ہوئی اور جلالی لہجہ میں فرمایا کہ اے حسیب! تم تو فقیر کے آستانے پر ڈیوتی دیتے ہوتمھیں آخرت میں کسی نے کیا پوچھناہے یقین جان لو کہ جو اس فقیر کے آستانے پر محبت کے ساتھ حاضری دینے کیلئے بھی آیا تو اُسے بھی آخرت میں کوئی نہیں پوچھے گا۔کیونکہ


وَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِینَ ۵ . پارہ نمبر ۹،سورہ الاعراف،آیت ۱۲۸
ترجمہ!اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے

دیوبندیوں کے مولوی اشرف علی تھانوی حضور غوثؓ پاک کی اعلیٰ نسبت کا ایک واقعہ اپنی کتاب’’الافاضات الیومیہ‘‘میں اس طرح تحریر کرتے ہیں کہ جناب شہشاہِ بغدادؓ کا ایک دھوبی تھا جوکہ آپ کے کپڑے دھویا کرتا تھا وہ فوت ہوگیا تو قبر میں منکر و نکیر نے سوالات کیے تو اس دھوبی نے جواب دیا کہ حضور غوثِ اعظمؓ کا دھوبی ہوں،فرشتوں نے عرض کی یا مولا!اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ حکم آیا بخش دیا جائے۔(الافاضات الیومیہ جلد2صفحہ29)


لیکن یہاں اکثر اولیاء کرام نے فرمایا کہ جب اُس دھوبی نے یہ جواب دیا تو حضورغوثِ اعظمؒ قبر کے اندر روحانی طور پر تشریف لے آئے اور فرشتوں سے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس نے میرے کپڑے دھونے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور اس کے گناہ ہم نے دھو دئیے ہیں۔کیونکہ


وَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِینَ ۵ . پارہ نمبر ۹،سورہ الاعراف،آیت ۱۲۸
ترجمہ!اور آخر میدان متقین کے ہاتھ ہے

 

حضور آفتابِ سیدنؒ نے فرمایا کہ سرکار سیدن وَلیؒ کا ایک جانثار ملتان کے قُرب وجوار کا رہائشی تھا، سردی کی ایک سخت رات کا واقعہ ہے کہ وہ اپنے جانوروں کے ہمراہ کمرے میں سورہا تھا، نصف رات کے قریب اُسے سرکاؒ ر کی آواز سُنائی دی کہ غلام محمد!جانوروں سمیت کمرے سے نکل جاؤ، آنکھ کھل گئی کچھ دیر تک سوچتا رہاکہ شاید میرا وہم ہے دوبارہ سوگیا پھر وہی آواز سُنائی دی حتیٰ کہ تین چار مرتبہ اسی طرح ہوا، بِل آخر ایک جھٹکا لگا اور وہی آواز جاگتے ہوئے سُنی لہٰذا فوری طور پر اُٹھا اور سارے جانور باہر نکالے، ابھی اپنی چارپائی اُٹھا کر نکل ہی رہا تھاکہ یکایک کمرے کا چھت نیچے گِر گیا، خدا تعالیٰ کا شُکر ادا کیاجس نے اپنے وَلی کے ذریعہ جان ومال سب محفوظ رکھا۔ اگلے دن دربار شریف کے لئے روانہ ہوگیا تاکہ سرکاؒ ر کا شکریہ ادا کرسکوں جونہی سرکاؒ ر کے سامنے پہنچا تو آپ نے فرمایا، غلام محمد!اِدھر میرے قریب آؤ ...اور دونوں کندھے غور سے دیکھو، جب غلام محمد نے سرکارؒ کے کندھے دیکھے تو اُن پر شہتیر کے نشانات بنے ہوئے تھے، غلام محمد چیخ مار کر رونے لگا، سرکارؒ نے فرمایا، یہ فقیرتمام رات تمھاری چھت کا سہارا بنا رہا ہے تاکہ تم اور تمھارے جانور محفوظ رہیں۔ فیضانِ سیدنؒ صفحہ230


دُوئی نہیں ہے واللہ فیضانِ ایزدی ہے
انوارِ حق سمیٹو دیدارِ اولیاء سے
اللہ رسولِ اکرم موجود ہیں یقینا
معلوم ہو رہا ہے انوارِ اولیاء سے


آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺاور متقین کے طفیل اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ نجات کو آگے پھیلا کر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


!آباد محمد سے عمرانؔ خدا رکھے 
بے سود زمانے میں جینے کی حرارت ہے

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)