بڑا پُر کیف رہتا ہے بڑا مسرور رہتا ہے
غلامانِ محمد کا قلب پُر نور رہتا ہے
چَھن چھَن کے نکلتا ہے لحد میں بھی نہیں چُھپتا
ثناخوانِ محمد پہ حُسن بھر پُور رہتا ہے
رسائی کیسے ممکن ہے درِ یزداں پہ ایسے کی
جو تُجھ سے با خدا شاہا ذرا بھی دُور رہتا ہے
سخن شیریں حُسن ازلی بدن طاہر لگن تازہ
عشاقِ محمد پہ یہ رنگ و نور رہتا ہے
تیرے دَر کی گدائی سے جسے بھچھیا ملا آقا
اُسی کا دو جہانوں میں ظرف معمور رہتا ہے

!معزز سامعین محترم

اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین
میرے دوستو!اگرآپ کائنات کے سارے انسانوں کے متعلق غور کریں توآپ کو معلوم ہوگاکہ سارے برابر نہیں بلکہ کچھ فیض لینے والے ہیں اور کچھ فیض دینے والے ہیں،کچھ پڑھانے والے ہیں اور کچھ پڑھنے والے ہیں ،کچھ سکھانے والے ہیں اور کچھ سیکھنے والے ہیں،کچھ دینے والے ہیں اور کچھ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے متعلق ایک قانون مقرر فرمایا ہوا ہے جیسے کہ سورج کی کرنیں سمندر کے پانی کو آبی بخارات کی شکل دیتی ہیں جن سے بادل بنتا ہے اور وہی بادل بارش کا سبب بنتا ہے اور بارش زمین سے ہریالی پیدا کرنے کا موجب ہے اسی طرح اللہ کریم نے ہدایات کا بھی تمام سلسلہ نبوت کے ابرِ رحمت کا محتاج بنایا ہے جنہوں نے ہر زمانے اور ہر دور کے اندر دلوں اور ذہنوں کی خشک زمینوں کو سیراب کرکے رضائے خدا تعالیٰ کے مطابق سرسبز بنایا ہے اور جس نے اپنے پیدا کردہ سورج کے ذریعے جہاں ظاہری دنیا کو روشن فرمایا وہاں ہی دنیا کے مکینوں کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خورونوش کا سبب بنایا ،اللہ تعالیٰ کی تخلیقی مثالوں میں سے یہ ایک بہت بڑی مثال ہے جسے سورج کہا جاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے فیض دینے والا بنایا ہے اور کائنات کے مکینوں کو فیض لینے والا بنایا ہے ،غور کیا جائے تو ہر فیض بخش وجود دوسرے سے لے کر تقسیم کررہا ہے، مجموعی طور پر سارا فیض تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے مگر دنیا کے ہرنظام میں وسیلہ در وسیلہ تقسیم کیا گیا ہے،مگر غور کیاجائے تو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری تخلیق میں سورج ایک ہی بنایا ہے،جو اپنی مثال آپ ہی ہے جو کسی بہت بڑی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔


ہاں میرے دوستو وہ حقیقت سراجاً منیراًہیں یعنی حضرت محمد مصطفیﷺ،جن کو اللہ تعالیٰ نے چمکا دینے والا آفتاب بنا کر بھیجا ہے بلاشبہ جنکو اللہ تعالیٰ نے ایسا چمکایا ہے کہ ہماری دنیا پر طلوع ہونے والا سورج تو صرف ظاہر چمکاتا ہے مگر سراجاً منیراً ظاہر اور باطن دونوں کو چمکانے والے ہیں، اُن کے ذریعے ہی سے تمام انبیاء کرام کو ابرِرحمت کی پیاری شان عطا فرمائی گئی ہے،جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تخلیق فرمائے ہیں،اور اُن کے نور سے ہر چیز کو بنایا اور چمکایا ہے، جیسا کہ حضورﷺکا اپنا فرمان ہے۔


ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر3،فضائل رسولوں کے سردار،صفحہ217
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا،یارسول اللہﷺ! آپ پر نبوت کب ثابت ہوئی؟فرمایا ،جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘


مصنف عبدالرزاق:۶۳،اسناد صحیح


’’حضرت عبدالرزاقؒ روایت کرتے ہیں حضرت معمرؒ سے،وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن المنکدرؓ سے اور وہ روایت کرتے ہیں حضرت جابرؓسے،وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟تو حضورﷺنے فرمایا کہ اے جابرؓ!اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کے نورکوپیدا فرمایا‘‘۔


اوّل و آخر ظاہر و باطن تیرے جلوے میری خاطر
جانِ جاناں جانِ عالم نورِ مطلق بخدا ہو


کیوں کہ جہاں وہ چمکانے والے ہیں وہاں وہ رحمتیں لٹانے والے بھی ہیں کیوں کہ وہ عالمین کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں انھیں کے فیضان سے نبوت کی روشنیاں ہیں اورجب وہ خود بشریت میں جلوہ گر ہوئے تو اُن پر سلسلہ نبوت ہمیشہ کیلئے ختم کردیا گیا کیونکہ آپ کی تشریف آوری سے شانِ نبوت کی تکمیل ہوگئی
اور یہی بہت بڑا اور واضح ثبوت ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہرلحاظ سے لامثال بنایا ہے ،اب اگر کوئی آپ سے بہتر ہوتا تو آپ کے بعد شانِ نبوت کے ساتھ بھیجا جاتا ،کیونکہ آپ انتہا ہیں اور انتہا کی کوئی انتہا نہیں ہوتی،اسی لیے آپ پر ہمیشہ کیلئے نبوت کا دروازہ بند کردیا گیا ہے یعنی اب سارا زمانہ آپ ہی کی نبوت کا زمانہ ہے،سارا فیض آپ ہی تقسیم فرمارہے ہیں جیسا کہ آپ کا فرمانِ عالیشان ہے۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر71صفحہ نمبر137


’’نبی کریمﷺنے فرمایا، بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے‘‘۔
یعنی آج بھی سراجاً منیراًکے فیضانِ انوار جاری وساری ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ سابقہ انبیاء کرام کے زمانوں میں آپ کے انوار سے پیدا ہونے والے ابرِرحمت نبوت کی شان سے نزول فرماتے رہے اور اب ولایت کی شان سے فیضیاب فرما رہے ہیں،جن کی نورانی کرنوں سے بے شمار مخلوقِ خدا فیض یاب ہوکر صراطِ مستقیم کو اپنائے ہوئے ہے بلکہ جن کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے جن کے بارانِ رحمت سے خشک دلوں کو توحید ورسالت کی تری نصیب ہورہی ہے جس کے سبب سرِ زمین قلوب آباد ہوکرریاضِ حق کا نظارا پیش کررہیں ہیں۔
ہاں میرے دوستو آج جن کے ذریعے سے ہمیں سیراب کیا جارہا ہے وہ سراجاً منیراًسے فیض لے کر سارے جہان میں تقسیم فرمارہے ہیں جن کو اولیاء کرام کہا جاتا ہے یعنی اولیاء اللہ ،اللہ تعالیٰ کے دوست،جن کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ

ترجمہ!’’خبردار بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم,  سورہ یونس ،آیت نمبر۶۲   

میرے دوستو!قابلِ غور بات ہے کہ اللہ کریم اپنے دوستوں کی شان بیان کرنے سے قبل فرما رہے ہیں کہ خبردار۔۔۔یعنی اطلاع دی جارہی ہے کہ میرے دوستو کو کوئی خوف اور کوئی غم نہیں لہٰذا خبردار ،وہ دونوں حالتوں سے بے فکر ہیں کیونکہ خوف اور غم دونوں علیحدہ علیحدہ صورتوں کانام ہے،جسکی مثال اس طرح سمجھ لیں کہ کسی نے امتحان دیا ہے اور رزلٹ کا انتظار کررہا ہے اب ایسی صورتِ حال میں وہ ناکامی اور کم نمبروں وغیرہ کیلئے جس صورتِ حال سے دوچار ہوگا وہ خوف ہی کہلاتی ہے، ہمیشہ واقعہ ہونے سے پہلے خوف ہوتا ہے اور اگر وہ واقعتا ناکام ہوجائے تو اب اُسے خوف نہیں کہیں گے بلکہ غم کہیں گے، لہٰذا اللہ کریم فرمارہے ہیں کہ میرے اولیاء ان دونوں حالتوں سے بے پروا ہیں ،نہ وہ کسی سے خوف زدہ ہونے والے ہیں اور نہ وہ کسی چیز سے غم زدہ ہونے والے ہیں اس لیے کہ وہ اللہ اور اُسکے رسولﷺکے دوست ہیںیعنی جہاں وہ فیض کا بہت بڑا خزانہ ہیں وہاں وہ بے ادب اور گستاخ کیلئے تباہی اور بربادی کا سامان بھی ہیں کیونکہ ان کے دشمنوں سے اللہ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ ہے جیسے ہم بجلی سے گھر کو روشن بھی کرتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی اس سے فوائد حاصل کرتے ہیں مگریہی بجلی لاپرواہی کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے،مگر اولیاء کرام کی شان میں لاپرواہی وبے ادبی صرف جان لیوا نہیں ثابت ہوتی بلکہ ایمان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خبردار جو میرے دوست ہیں اُن پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم، لہٰذا ادب واحترام کے ساتھ تم ان سے فیضانِ سراجاً منیراًحاصل کرکے دلوں کے اندھیروں کو دور کرسکتے ہو بلکہ اپنی قبروں کو منور کرسکتے ہو لیکن بے ادبی اور گستاخی کی صورت میں بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اللہ کے ولیوں کو نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم ،اور اس سے اگلی آیت میں اللہ کریم نے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے جوکہ اسی سورہ یونس کی آیت نمبر ۶۳ہے جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ


ترجمہ!’’ وہ جو ایمان لائے اورتقویٰ اختیار کیا‘‘سورہ یونس، آیت نمبر ۶۳


یعنی اولیاء اللہ کون ہے؟سابقہ تشریح کو سامنے رکھتے ہوئے عام فہم مفہوم یہ ہوگا کہ جو حضورﷺکو ہر چیز سے بڑھ کر چاہنے والے اور اُن کے معاملہ میں ہرلحاظ سے بآدب ہیں،یعنی سب سے پہلے ایمان وتقویٰ کی یہی تعریف توحید پر مضبوط کرسکتی ہے،یعنی حبِ رسول اللہﷺ کا نام ہے ایمان ،اور آدابِ رسالتﷺ کا نام ہے تقویٰ۔
اور اولیاء کرام حضورﷺکے عشق وادب سے ہی یہ دونوں مقام حاصل کرتے ہیں کیونکہ عشقِ کامل ہی کا پھل ادب ہے اور جس طرح اولیاء کرام حضورﷺکی بارگاہ میں بآدب ہیں اس کا اندازہ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے اس شعر سے لگالیا جاسکتا ہے۔


میں ہوواں سگ مدینے دی گلی دا
ایہہ رتبہ ہے ہر کامل ولی دا


اور انکساری ادب واحترام کا پھل ہے،یعنی عشق سے ادب اور ادب سے انکساری کا راستہ ہے اور اولیاء کرام حضورﷺکے معاملہ میں جس قدر ان زیورات سے آراستہ ہوتے ہیں اُس کی نظیر نہیں ملتی۔
یہی وجہ ہے کہ اولیاء کرام کی بارگاہ میں بھی بے ادبی تباہ وبربادی کا باعث ہے اور محبت وادب فیوض وبرکات کے حصول کا ذریعہ ہے کیونکہ سورہ یونس کی آیت نمبر۶۴ میں ارشادِ خداوندی ہے کہ


ترجمہ!’’انھیں خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں‘‘ سورہ یونس آیت نمبر۶۴


واضح ہوا کہ یہی دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں اس لیے نہ اب انھیں کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم ہے،یہ صرف خود کامیاب نہیں بلکہ دوسروں کو کامیاب کرنے والے ہیں، اسی لیے رسول اللہﷺنے ان کامیاب لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ
’’اللہ کے بندوں میں بعض وہ ہیں جو انبیاء اور شہداء تو نہیں لیکن انبیاء اور شہداء ان کے مرتبوں پر رشک کریں گے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ!وہ کون ہوں گے ؟حضورﷺنے فرمایا وہ وہی لوگ ہوں جو بغیر کسی قرابت داری اور دنیاوی تعلقات کے اللہ کی رحمت سے لوگوں میں محبوب ہونگے،پس خداکی قسم ان کے چہرے منور ہوں گے اور انھیں کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا.ابوداؤد شریف


اورآخر میں آپﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔

ترجمہ!’’خبردار بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم‘‘ سورہ یونس ،آیت نمبر۶۲


میرے دوستو اس دنیا میں کوئی بھی خوف وغم سے آزاد نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ولیوں یعنی حضورﷺسے نورانیت حاصل کرنے والوں ہی کی شان ہے کہ وہ حقیقی مقصد میں کامیاب ہوکر دنیا وآخرت میں ہر قسم کے خوف وغم سے آزاد ہوچکے ہیں۔


حضرت مالک بن دینار ؒ جوکہ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں،ایک مرتبہ آپ کا مناظرہ ایک دہریہ سے ہوگیا،آپ نے اُسے اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺ کی ذات پر کئی دلیلیں پیش کیں،لیکن اُس دہریہ نے ایک بھی قبول نہ کی ،بلکہ ہر طرح سے یومنون بالغیب کے عقیدے کی نفی کرتا رہااور اپنے نظریہ کے ناقص دلائل پیش کرتا رہا ...بل آخر طے یہ پایاکہ آگ جلا کر اچھی طرح تیل گرم کیا جائے،جب تیل جوش لینے لگے تو مالکؒ بن دینار کا ہاتھ دہرئیے کے ہاتھ کے ساتھ ملا کرتیل میں ڈالا جائے،پھر جس کا ہاتھ جل گیا،وہ جھوٹا اور جس کا نہ جلا وہ سچّا۔


لہٰذا ایسے ہی کیا گیالیکن آگ کی طرح گرم تیل نے دونوں کے ہاتھ نہ جلائے، حضرت مالک بن دینارؒ نے اس صورتِ حال کو دیکھا تو خداوندِ قدوس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر التجا کی کہ یا پروردگار!میں تیرے وجودِ برحق کی پرستش کرنے والا ہوں اور تیرے محبوب ﷺکا ادنی غلام وامتی ہوں، میں تو صداقت پر تھا... جبکہ دہریہ توحید ورسالت کا ہرطرح سے منکرہے ،...یا الہٰی پھر اُس کا ہاتھ کیوں محفوظ رہا؟ہاتفِ غیب سے آواز آئی کہ اے میرے ولی! اُس دہرئیے کا ہاتھ تیرے ہاتھ کی نسبت ہی کی وجہ سے محفوظ رہا ہے کیونکہ میری رحمت کو یہ بات گوارا نہیں کہ جو ہاتھ میرے ولی کے ہاتھ سے ملا ہوا ہو،اُسے آگ جلائے،یہ تو دنیا کی آگ ہے جبکہ میرے ولیوں اور ان سے نسبت رکھنے والوں پر دوزخ کی آگ بھی حرام ہے ،کیونکہ

ترجمہ!’’خبردار بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم‘‘ سورہ یونس ،آیت نمبر۶۲

 

دستِ اولیاء دستِ مصطفی است
دستِ مصطفی دستِ خدا است


سبحان اللہ حضور ﷺسے فیوض وبرکات حاصل کرنے والوں کی کسقدر بلند شان ہے کہ نہ اُن پر کچھ خوف ہے اورنہ کچھ غم ہے ،کیونکہ ان کے دل سراجاً منیراً کے انوار سے جگمگا رہیں جیسا کہ ایک بہت بڑے ولی اللہ یعنی بابافریدؒ حضرت موسیٰؑ ؑ کے متعلق ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ


جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا’’اے رب مجھے اپنا دیدار کرا دے‘‘تو رب تعالیٰ نے فرمایا،اے کلیم!اب تم میرے حضور حد سے تجاوز کررہے ہوکیونکہ میں نے اپنے محبوب محمد مصطفی ﷺاورانکی امت سے بہت پہلے یہ وعدہ کیا ہے کہ جب تک وہ میرے دیدار سے فیض یاب نہیں ہوں گے تب تک میں کسی کو اپنا دیدار نہیں کراؤں گا،حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ دولتِ اشتیاق سے مالامال تھے اس لئے سنی اَن سنی کردی اور متواتر اصرار کرتے رہے بل آخر رب تعالیٰ نے فرمایا،اے موسیٰ!تم میری ایک تجلی کو بھی برداشت نہ کرسکو گے،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، یارب العالمین !میں برداشت کرلوں گا،پھر حکم ہوا...اے موسیٰ! کوہِ طور پر آؤ ... اور میری بندگی کیلئے نماز ادا کرو...پھر پورے ادب واحترام کے ساتھ دوزانوں ہوکر بیٹھ جاؤتب ہم دیدار عطا کریں گے،موسی علیہ السلام نے حکم کی تعمیل کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک تجلی کو ظاہر فرمایا جس سے کوہِ طور ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہوکر گر پڑے،تین شبانہ روز اسی کیفیت میں مخمور پڑے رہے،پھر ندا آئی ...اے موسیٰ!ہم نے تو کہہ دیا تھا کہ تم تابِ دیدار نہ لاسکو گے بس میرے انوار کی ایک تجلی سے ازخود وارفتہ ہوگئے اور میرے راز کو بھی ظاہر کردیااور یاد رکھو اے موسیٰ!میرے محبوب حضرت محمد مصطفی ﷺکی امت میں میرے ایسے اولیاء ہوں گے کہ ان کے دل پرمیں روزانہ ہزار دفعہ اپنے انوار کی ضیاء پاشی کروں گا اور وہ آپے سے باہر نہ ہوں گے بلکہ اور فریاد کریں گے کہ ہم تو دوست کے مشتاق ہیں۔
اسرارالاولیاء صفحہ34


چھپایا حُسن کو اپنے کلیم ؑ اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں جلوہ پیرا ہے ناز نینوں میں


درحقیقت اولیاء کرام کا وجودِ اقدس حضورنبی کریمﷺکا معجزہ ہے جو سراجاًمنیراً کے انوار سے جگمگا رہا ہے یہ سارا فیضان سراجاًمنیرا ہی کا ہے جن کو محبت سے ایک نگاہ دیکھنے والے صحابہ بن گئے جن کی کوئی مثل ومثال نہیں اور اُن کی قرابت ہی کی وجہ سے اُنکی آل اہلِ بیت لامثال ہے ،حالانکہ کعبہ وقرآن کی زیارت کرنے سے کوئی صحابی نہیں بن سکتا اور نہ ہی کثیر اعمالِ صالح کے باعث کوئی صحابی بن سکتا ہے ، یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ جن کو محبت سے ایک نظر دیکھنے والے مقام ومرتبہ میں لامثال ہیں تو وہ دیدار کرانے والے سراجاً منیراً کس قدر لامثال ہیں۔


لجپال مدینے دے بادشاہا جانے نِرا مقام خدا تیرا
ملی جسنوں خبر خاموش ہویا واعظ جاندا پتہ نہ ذرا تیرا
خبر قبر دی نشر حدیث اندر چھاں حشر دی روپ گھنا تیرا
فتح اُنہاں عمرانؔ عظیم کرنی جنہاں عشق سینے مصطفی تیرا


آج بھی جس نے باوسیلہ مرشدِ کامل سراجاً منیراً کے انوار حاصل کرلیے ہیں وہ اپنے زمانے میں ہر لحاظ سے بے مثل وبے مثال ہیں،اُن کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تقدیرِ الہیٰ بن جاتے ہیں۔کیونکہ

 

ترجمہ!’’خبردار بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم‘‘ سورہ یونس ،آیت نمبر۶۲

 

ایک دفعہ بابا فرید الدینؒ ایک مدرسہ کے قریب سے گزرے جہاں آپ نے انتہائی نحیف اور لاغر طالب علموں کو دیکھ کر دریافت کیا،اے بچو! کیا تمھیں یہاں کھانے کو کچھ نہیں دیا جاتا؟بچوں نے عرض کیا،بابا جی!ہمیں مولوی صاحب جو کھانا دیتے ہیں وہ ہماری بھوک کی نسبت انتہائی کم ہوتا ہے جسکے باعث ہم دن بدن کمزور ہوتے جارہے ہیں،یہ سُن کر بابا صاحبؒ نے فرمایا تم جلدی سے ایک بڑے برتن میں پانی بھر کر لے آؤ...آج تمھاری خوراک کا ہم انتظام کرتے ہیں،چنانچہ بچوں نے اسی وقت ایک بڑے برتن میں پانی بھر کر بابا صاحبؒ کے سامنے رکھ دیا۔

آپ نے بآواز بلند سورہ الرحمن تلاوت فرمائی اور پانی پر دم کردیااور برتن کو اچھی طرح ڈھانپ کرفرمایا کہ کل اسے کھول کر دیکھنا،یہ دیسی گھی بنا ہوگا،سب مل کر کھانا مگر مولوی صاحب کو اس کے متعلق کچھ نہ بتانا،دوسرے روز بچوں نے کھول کر دیکھا تو برتن دیسی گھی سے بھرا ہوا پایا،لہٰذا انھوں خوب سیر ہوکر کھایا.. . اپنے سروں پر لگایا...یہاں تک کہ مدرسہ کی صفوں پر بھی گھی کے واضح نشانات دکھائی دینے لگے،جب مولوی صاحب مدرسہ میں آئے تو ہر طرف گھی کے داغ دھبے دیکھ کر اور خوشبو سونگھ کر بچوں سے پوچھا کہ یہ گھی کہاں سے آیا ہے؟ بچوں نے خوفزدہ ہوکر تمام واقعہ بیان کردیا جسکو سننے کے بعد مولوی صاحب نے کہا کہ تم پہلے والا گھی ہمارے گھر پہنچا آؤ اور پھر برتن پانی سے بھر کر لاؤکیونکہ اب گھی بنانے کا نسخہ ہاتھ آگیا ہے،بچوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے والا گھی مولوی صاحب کے گھر پہنچا دیا اورعلیحدہ برتن پانی سے بھر کر مولوی صاحب کے سامنے رکھ دیا،مولوی صاحب نے بچوں سے سنے ہوئے طریقہ کے مطابق سورہ الرحمن تلاوت کی اورپانی پر دم کرتے ہی برتن کو ڈھانپ دیا...جب دوسرے روز کھول کر دیکھا توجوں کا توں پانی موجود تھامولوی صاحب نے دوسری دفعہ یہ کہہ کر دم کیا کہ شاید پہلی دفعہ کوئی غلطی رہ گئی تھی لیکن دوسری دفعہ بھی پانی ہی برآمد ہوا،علیٰ ھذا القیاس تیسری کاوش بھی ناکام رہی،کافی دن گزرنے کے بعد جب بابا صاحبؒ دوبارہ اس مدرسہ کے قریب سے گزرے تو بچوں کو پہلے کی طرح نحیف پاکر وجہ دریافت فرمائی؟بچوں نے دست بستہ تمام واقعہ عرض کردیا ،اتفاق سے اس دن مولوی صاحب بھی مدرسہ میں موجود تھے،کسی بچے نے انہیں بتایا کہ وہ گھی بنانے والے بابا جی باہر آئے ہوئے ہیں یہ سُن کر مولوی صاحب تیزی سے بابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ اس انداز سے مخاطب ہوئے،جناب!ہم نے آپ کے طریقہ کے مطابق کئی دفعہ پانی پر سورہ الرحمن تلاوت کی ہے مگر ہر دفعہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے،برائے مہربانی!اس معاملہ میں راہنمائی فرما دیں،یہ سُن کر بابا صاحبؒ نے فرمایاکہ یہ سچ ہے کہ تم بھی خدا تعالیٰ کا ہی کلام تلاوت کرتے رہے ہو مگر تمھارے پاس فریدؒ جیسی زبان نہ تھی یعنی کلام تو رب والا تھا لیکن زبان فرید والی نہیں تھی اس لیے تم ناکام رہے ہو۔


بلاشبہ اولیاء اللہ کا وجود فیوض وبرکات کا بہت بڑا خزانہ ہے مگر جب کوئی بے ادبی کا مرتکب ہوتا ہے تو تباہ وبربادی اُس کا مقدر بن کے رہ جاتی ہے۔


ایک دفعہ حضورآفتابِ سیدنؒ نے گفتگوکے آغاز میں حدیثِ قُدسی تِلاوت فرمائی
’’کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو میرے کِسی وَلی سے دُشمنی رکھے میں اِس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں‘‘ آپ نے اِسی خطاب کے دوران ایک واقعہ سُنایا کہ سید احمد شاہ نامی ایک شخص سرکار سیدنؒ وَلی صابری کا غلام تھا جوکہ موضع آکی کا رہنے والا تھا غالباً (12) بارہ برس تک سرکاؒ ر کی خدمت سرانجام دیتا رہا بعدازاں بدقسمتی سے اُس کی سنگت ایک گستاخ اوراولیاء اللہ کے حاسد سے ہوگئی اُس نے احمد شاہ سے ایمانی سرمایہ چھین کر شیطانی غلاظت میں دھکیل دیا، جوزبان نبی کریمﷺاور اولیائے کرام کی ثناخوانی میں مُصروف رہتی تھی وہ اَب شیطان جیسی توحید پرستی کی نغمہ سرائی کرنے لگی، اُس بے ادب اور سیاہ باطن شخص نے احمد شاہ کوانتہائی مکاری سے اپنے جال میں پھنسا کر اپنی تقلید کا پابند بنا لیا، ایک دن اُس نے احمد شاہ کو ایک خطرناک مقصد کے لیے تیار کرتے ہوئے کہا کہ تم انتہائی سادہ لوح انسان ہو...تم سیدن شاہؒ سے بارہ سالہ خدمت کا معاوضہ کیوں نہیں مانگتے ؟ابھی جاؤ اور اُن سے اپنی بارہ سالہ خدمت کا دُنیا یا دین کی شکل میں صِلہ مانگو، یا وہ تمھیں ولایت کے کسِی اعلیٰ مقام پر فائز کریں...یا دُنیوی صورت میں اَجر دیں بہر حال اُن سے ابھی اپنی سابقہ ڈیوٹی کے معاوضہ کا مطالبہ کرو۔
احمد شاہ بغیر سوچے سمجھے اس شیطانی حربے میں بے بس ہوکر سرکاؒ ر کی جانب چل پڑا، وہاں پہنچ کر اِنتہائی گستاخانہ انداز میں شیطانی شرارے برسانے لگا، سرکارؒ نہایت محبت کے ساتھ صبر وتحمل کی تلقین فرماتے رہے لیکن وہ باز نہ آیا، نفع و نقصان سے بے پرواہ ہوکر اَدب واحترام کی تمام حدیں پھلانگتا ہوا مسلسل بارہ سالہ خدمت کا غلط انداز سے صِلہ مانگتا رہا، بِل آخر سرکارؒ کے چہرہِ انور پر جلال کے آثار نمودار ہونے لگے...صابری تلوار نیام سے باہر آنے کے لیے تیار ہوگئی یکایک فرمایا، تمھیں معلوم ہے کہ تم کسِ سے بات کررہے ہو؟کہنے لگا میں سیدن شاہؒ ولد محمد شاہ سے مخاطب ہوں، فرمایا، تو سیدن شاہؒ ولد محمد شاہ کا تو واقف ہے لیکن اُس سیدن شاہؒ کا شناسا نہیں جو مولائے کائنات کی مخصوص سپاہ میں ڈیوٹی انجام دیتاہے اور صابر پیاؒ کا منتخب شدہ غلام ہے، ابھی میرے چبوترے سے اُتر جاؤ اور یاد رکھو، تم پر فقیر کے آستانہ سے آگے یہ زمین ختم ہو جائے گی، دُنیا و آخرت میں اِسی آگ میں جلتے رہو گے جوکہ تم نے خود اپنے آپ کو لگا لی ہے، یوم محشر بھی فقیر کے مارے ہوئے زندہ نہیں ہوتے، اِدھر یہ فرمانا تھا اُدھر احمد شاہ سرکارؒ کے چبوترے سے نیچے اُترا، ابھی پاؤں نیچے رکھا ہی تھا کہ پُکارا آگ، آگ اور ایک طرف کو بھاگنے لگا پھر کبھی نظر نہ آیا۔


حضورآفتابِ سیدنؒ نے فرمایا کہ کچھ عرصہ بعد ایک پیربھائی(جوکہ موضع میاں کا بنہ کا رہائشی تھا) نے بتایا کہ میں ایک رات فصلوں کو پانی دے رہا تھا کہ مجھے احمد شاہ دوڑتا ہوا نظر آیامیں نے اُسے کافی آوازیں دیں مگر وہ یہی کہتا جا رہا تھا کہ مجھے آگ لگی ہوئی ہے ہرطرف آگ ہے میں جل رہا ہوں مجھے بچاؤ اور یونہی بھاگتا ہوا نظروں سے اُوجھل ہوگیا۔


تادِل صاحب دِلے نامد بہ درد
ہیچ قومے را خدا رُسوا نہ کرد
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ


ترجمہ!’’خبردار بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم‘‘ سورہ یونس ،آیت نمبر۶۲

 

آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے سراجاً منیراً کے طفیل اولیاء اللہ سے انوارِ توحید ورسالت محبت واَدب کے ساتھ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور اس پیغامِ فیوض وبرکات کو آگے پھیلا کر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امین امین امین


دِل جو کبھی خانہء مصطفی ہو جائے
پھر بندہِ خدا واصلِ خدا ہو جائے
عشقِ رخِ شاہا کو مَن میں بسا لے اپنے
پھر کیسے نہ لحد میں اُجالا ہو جائے
اُن کا تصور جو اُتر جائے قلب میں
تو انوار کی بارش میں بسیرا ہو جائے
گدا گر تو اُسی کا عمرانؔ زمانہ ہے
جو حقیقت میں محمد کا گدا ہو جائے

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)