اے غمگسارِ عاصیاں مُشکل کشائی کیجئے
بے آسروں کا آسرا ہو یک نگاہی کیجئے
آپ کی ہے رحمتوں سے پورے عالم پہ شباب
آپکی ہے بادشاہی بادشاہی کیجئے
مشکلوں میں حوصلہ ہے دَم قدم سے آپکے
اُلجھنوں میں زندگی ہے رہنمائی کیجئے


   !معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسول ﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین
میرے دوستو!آج جو آپ کے سامنے آیتِ مبارکہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اسمیں اللہ کریم اہلِ ایمان کی ایک قدیمی دعا کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام کی زینت بنایا ہے، تاکہ آنے والے اہلِ اسلام اس دعا سے بھرپور استفادہ کرسکیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی حاصل کرسکیں لہٰذا سورہ ابراہیم کی اس آیت کو غور سے سماعت فرمائیں۔

 

ترجمہ! ’’اے ہمارے پروردگار!مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس روز جبکہ(عملوں کا) حساب ہونے لگے‘‘سورہ ابراھیم، آیت ،۴۱

 

یہ وہی مقدس دعا ہے جو آپ نماز میں بھی مانگتے ہیں جسمیں آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ یا پروردگار ہماری بھی بخشش فرما اور ہمارے ماں باپ کی بھی اور قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کی بھی مغفرت فرما،یعنی صرف اپنے لیے دُعا مانگنے کا طریقہ اللہ کریم نے تلقین نہیں فرمایا بلکہ اپنے ماں باپ اور تمام اہلِ ایمان کیلئے بھی دعا مانگنا سکھایا ہے بلکہ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ماں باپ میں حضرت آدم ؑ اور مائی حواؑ بھی شامل ہیںیعنی اہلِ ایمان کی مانگی ہوئی یہ دُعائے مغفرت زمانہء ماضی سے لے کر قیامت تک کے اہلِ ایمان کو فائدہ دیتی ہے،صرف ماں باپ تک بھی دعا کو محدود نہیں فرمایا گیا بلکہ جملہ اہلِ ایمان کو اس میں شامل فرمایا گیا ہے اسی طرح سورہ الحشر،آیت نمبر۱۰ میں حکمِ خداوندی ہے کہ

 

ترجمہ’’اور ان سے بعد میں آنے والے لوگ یہ دُعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے تو ہماری بھی بخشش فرما اور ہمارے اُن بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے سلامتی ایمان کے ساتھ چلے گئے ہیں‘‘۔سورہ الحشر،آیت نمبر ۱۰


اس آیتِ مبارکہ میں اللہ کریم اہلِ ایمان کے دعا مانگنے کا طریقہ بتا رہے ہیں اور اس طریقہ کو رب تعالیٰ نے اس قدر پسند فرمایا ہے کہ قرآن پاک کی زینت بنا لیا ہے یعنی اہلِ ایمان کا یہ قدیمی طریقہ تھا کہ جو اُن سے پہلے ایمان والے وفات پاجاتے اُن کیلئے بعد میں آنے والے اہلِ ایمان دُعائے مغفرت کیا کرتے ، جہاں اپنے لیے رب تعالیٰ سے بخشش کی دُعا مانگتے وہاں اپنے سے پہلے وفات پانے والو ں کیلئے بھی دُعائے بخشش کرتے۔


 !میرے دوستو


اللہ کریم کے اپنے کلام سے ثابت ہے کہ کسی فوت شدہ اہلِ ایمان کیلئے دُعائے مغفرت کرنا کوئی نئی ایجاد(بدعت) نہیں بلکہ قرآن پاک کا بتایا ہوا اور پسندیدہ طریقہ ہے الحمدُللہ جس طریقہ پر آج بھی اہلِ ایمان ثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ رہیں گے،کیونکہ حکمِ پروردگار ہے کہ

ترجمہ! ’’اے ہمارے پروردگار!مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس روز جبکہ(عملوں کا) حساب ہونے لگے‘‘سورہ ابراھیم، آیت ،۴۱


اللہ تعالیٰ کے فرمان سے واضح ہے کہ مومن ایک دوسرے کے لیے بخشش کی دُعا مانگتے ہیں اگر ایک مسلمان کی مانگی ہوئی دُعا دوسرے کے لیے فائدہ مند نہ ہوتی تو فرض نمازوں سے لے کر نوافل تک مذکورہ دُعا مانگنے کاکیا مطلب ہے؟یہ امر قابلِ غور ہے کہ یہ دُعا کسی بشر کی ایجاد کردہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے، اگر دُعا قبول نہ ہوتی یا کسی مسلمان کی بخشش مانگنا جائز نہ ہوتی تو اللہ پاک نے یہ دُعاکیوں تعلیم فرمانی تھی ؟دُعا تو خالق اور مخلوق کے درمیان ایک تعلق کا نام ہے بیان شدہ آیاتِ مبارکہ اِس عظیم تعلق کو بحال رکھنے کی تلقین فرما رہی ہیں۔
اور بالخصوص فوت شدہ مسلمانوں کیلئے دُعا مانگنا توکثیر احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کو خود تعلیم فرمایا وہاں اللہ کے نبیﷺ نے بھی عملی طور پر اس کا شعور بخشاہے۔
آج کل دعائے مغفرت کے اس طریقہ کو عرف عام میں ایصالِ ثواب کہا جاتا ہے، ایصالِ ثواب یعنی ثواب کا کسی دوسرے کی طرف منتقل کرنا اور اُس کیلئے دعا مغفرت کرناہے،بنیادی طور پر ایصالِ ثواب دُعا اور صدقہ کا مرکب ہے یعنی کسی دوسرے مسلمان کیلئے دُعا بھی کرنا اور صدقہ بھی کرنا اسی عمل کو ایصالِ ثواب کہتے ہیں،قرآن پاک کے ساتھ ساتھ اب میں آپ کے سامنے فوت شدگان کیلئے یہی عمل احادیثِ مبارکہ سے پیش کرتا ہوں۔


ابوداؤد،ابنِ ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد اوّل صفحہ۳۹۴


’’حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ جب تم میّت پر نماز پڑھ لو تو اس کے لیے خلوصِ دل سے دعا کرو‘‘۔


اب اس حدیثِ مبارکہ پر غور فرمائیں جس میں حضورنبی کریمﷺجنازے کے بعد دعا مانگنے کی تلقین فرما رہے ہیں چاہے فوراً بعد کی جائے یا دوسرے اور تیسرے دن کی جائے یا سال بعد کی جائے سبھی جنازے کے بعد کے حکم میں شامل ہیں ۔


ابوداؤد شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب عذابِ قبر،صفحہ46


حضرت عثمانؓ سے روایت ہے،فرماتے ہیں،’’جب نبی کریمﷺمیت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھہرتے اور فرماتے ،اپنے بھائی کیلئے دُعائے مغفرت کرو پھر اس کیلئے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں‘‘۔
اس حدیثِ مبارکہ سے بھی واضح ہے کہ فوت شدگان کیلئے دُعا کرنا حضور پاکﷺکا اپنا بتایا ہوا طریقہ ہے یعنی حضورﷺ کا حکم بھی ہے اور سنت بھی ہے،اسی طرح نبی کریمﷺجنتُ بقیع میں تشریف لے جاتے، جہاں اہلِ ایمان کی قبریں تھیں اور وہاں اُن کے لیے بخشش کی دُعا فرماتے ،جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ


مسلم شریف بحوالہ مشکوۃ شریف جلد نمبر اوّل باب زیارتُ القبور صفحہ415


حضرت عائشہؓ صدیقہ سے روایت ہیکہ رسول اللہﷺ کا طریقہ تھا کہ جب رسول اللہﷺ کی اِن کے ہاں شب کی باری ہوتی تو آپﷺ آخر رات میں بقیع کی طرف نکل جاتے ...فرماتے اے مومن قوم کے گھر والوں تم پر سلام ہو، خدایا بقیع والوں کو بخش دے۔


بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1454،صفحہ668


حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ جنگِ حنین سے فارغ ہوئے توآپﷺ نے حضرت ابوعامرؓ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر ایک مہم پرروانہ فرمایا، حضرت ابوموسیٰؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعامرؓ کے ساتھ حضورﷺنے مجھے بھی روانہ فرمایا تھا،پس جنگ کے دوران حضرت ابو عامرؓ کو تیر لگا،انہوں نے مجھے اپنے آخری وقت میں فرمایاکہ اے بھتیجے!نبی کریمﷺ سے میرا سلام کہنااور میری جانب سے عرض کرنا کہ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں ، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کی وصیت کے مطابق رسول اللہﷺ کی،بارگاہ میں عرض کیا تو رسول اللہﷺنے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر ان کیلئے بخشش کی دُعا فرمائی ۔
ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ فوت شدگان کیلئے دُعائے مغفرت کرنا کوئی نئی ایجاد(بدعت)نہیں بلکہ نبی کریمﷺکی سنت ہے کیونکہ رب تعالیٰ کا حکم ہے کہ

ترجمہ! ’’اے ہمارے پروردگار!مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس روز جبکہ(عملوں کا) حساب ہونے لگے‘‘سورہ ابراھیم، آیت ،۴۱

 

میرے دوستو! قرآن واحادیث کے ان دلائل کے بعد کیا کوئی مسلمان دُعائے مغفرت کو بدعت وغیرہ کہہ سکتا ہے ؟ہرگز نہیں ان دلائل سے واضح ہے کہ دُعائے مغفرت کرنا اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکا حکم اور سکھایا ہوا طریقہ ہے ۔

 

اب آپ کے سامنے ایصالِ ثواب کا دوسرا حصہ یعنی صدقہ پر چند فرموداتِ نبویﷺپیش کرتا ہوں جس سے آپ دُعا اور صدقہ کے مرکب یعنی ایصالِ ثواب کی حقیقت کو سمجھ جائیں گے۔


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1298صفحہ نمبر562


’’حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالتﷺمیں عرض گزار ہوا کہ میری والدہ محترمہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے ،اگر انہیں قوت گویائی حاصل رہتی تو صدقہ کرتیں،اگر میں ان کی جانب سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انھیں ثواب ملے گا؟فرمانِ رسالتﷺہوا،ہاں(تم)ان کی جانب سے خیرات کرو‘‘۔


بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر33صفحہ50
بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر34صفحہ51


اسی طرح حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہؓ نے رسول اللہ ﷺسے فتویٰ پوچھا اور عرض کیا کہ میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمے ایک منت کا پورا کرنا باقی ہے،ارشاد فرمایا،تم ان کی طرف سے پوری کرو۔


حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے جو بنی ساعدہ کی برادری سے تھے،جب ان کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا تو یہ ان کے پاس موجودنہ تھے،یہ بارگارہِ رسالتﷺمیں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اللہﷺ میری والدہ محترمہ کامیری عدم موجودگی میں انتقال ہوگیا ہے، اگرمیں اِن کی جانب سے کچھ صدقہ خیرات کروں تو کیا انھیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے،ارشاد فرمایا،ہاں...عرض گزار ہوئے تو میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرامنحراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔


تیرے پاک وہ زمانے مہتاب کی مثل ہیں
شبِ زندگی میں روشن منزل دِکھا رہے ہیں


ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ فوت شدگان کو جہاں دُعا کا فائدہ پہنچتا ہے وہاں ہی صدقہ وخیرات کا بھی فائدہ پہنچتا ہے اور اِنہی دونوں کاموں کوہی ایصالِ ثواب کہتے ہیں یعنی فوت شدگان کو دُعا اور صدقہ کے ذریعے فائدہ پہنچانا 


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر215صفحہ نمبر188
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1271صفحہ نمبر553
بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر989صفحہ نمبر390


حضرت ابن عباسؓ سے روایت کہ نبی کریمﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ انھیں عذاب ہورہا ہے اور کسی کبیرہ گناہ کے باعث نہیں، ان میں سے ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا،پھر ایک سبز ٹہنی لی اور اُس کے دو حصے کرکے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا،لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہﷺایسا کیوں کیا؟فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں تو شاید ان کے عذاب میں کمی ہوتی رہے۔


معلوم ہوا کہ اہلِ قبور کو فائدہ پہنچانا حضورﷺکی سنت ہے اسی لیے سرکار ﷺ نے سبز شاخ کو قبروں پر گاڑھ دیا کیونکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ ہر چیزسَبَّحَ للّٰہ مَا فِی السّٰمٰوٰتِ وَالْاَرضکے تحت اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی جائے وہاں عذاب نہیں آتا اس لیے صالحین واہلِ حکمت اپنے مسلمان بھائیوں کی مزاروں پر قرآن شریف کی تلاوت کے علاوہ پھول اور سبز پتے نچھاور کرتے ہیں تاکہ صاحبِ مزار کو ذکرِ الہی سے تسکین ملے...بعض اہلِ ذکر نے فرمایا کہ جب تم کسی مسلمان کی مزار پر جاؤ تو درود شریف کی کثرت سے تلاوت کر و کیونکہ ایک دفعہ درود پاک تلاوت کرنے سے دس مرتبہ خدا تعالیٰ رحمت نازل فرماتا ہے،جہاں رحمت برس رہی ہو وہاں عذاب نازل نہیں ہوتا۔


سرکارِ دوعالمﷺکے زمانہِ مقدس میں ایک شخص عاص بن وائل فوت ہوگیا،اُس نے مرتے وقت وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں،لہٰذا جب وہ مر گیا تو اُسکے ایک بیٹے ہشام نے اپنے حصے کے پچاس غلام آزاد کر دئیے اور دوسرے بیٹے عمرؓ نے کہا کہ میں اپنے حصیّ کے پچاس غلام حضورﷺکی اجازت کے بغیر آزاد نہیں کرونگا، چنانچہ وہ دربارِ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا،یارسول اللہﷺ! میرا باپ فوت ہوچکا ہے،اس نے وصیت کی تھی کہ اُس کے مرنے کے بعد سو غلام آزاد کر دئیے جائیں اور میرے بھائی نے اپنے حصّے کے پچاس غلام آزاد کر دئیے ہیں اور میرے حصّے کے پچاس غلام رہتے ہیں، اگر میں باپ کے لیے اس کی وصیت کے مطابق اپنے حصّے کے پچاس غلام آزاد کردوں تو کیا میرا باپ جو کہ فوت ہوچکا ہے،اس کو کوئی نفع پہنچے گا؟سرکارِ دو عالمﷺنے ارشادِ پاک فرمایا۔

تو رسول اللہﷺنے فرمایا،اگر مسلمان ہوتا تو پھر تم اُس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا اُس کی طرف  سے حج کرتے تو وہ اُسے پہنچتا۔ مشکوٰۃ ص۲۱۶

 

اس فرمانِ عالیشان سے واضح ہوا کہ ایک مسلمان کا دوسرے فوت شدہ مسلمان کے لیے کیا گیا صدقہ پہنچتا ہے اسی طرح حج ، طواف، نماز،قرآن شریف کے پڑھنے کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔


میرے دوستو! ایصالِ ثواب میں ہر طرح سے فائدہ ہے یعنی آپ جس فوت شدہ اہلِ ایمان کیلئے تلاوتِ قرآنِ پاک یا درود ،کلمہ وغیرہ پڑھیں گے توتلاوت کرنے والے کو بھی فائدہ پہنچے گا اورمرنے والے کو بھی فائدہ پہنچے گا ،اگر آپ کسی مسکین کو کھانا کھلائیں گے تو پھر بھی دونوں کو فائدہ پہنچے گا، اسی لیے حضورﷺنے ایک شخص کے سوال پر فرمایا ہے کہ


بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر 11صفحہ نمبر 111


’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا،یارسول اللہﷺبہتر اسلام کیاہے؟فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو‘‘۔
آج بھی ہم اگر کسی کامل ولی اللہ کے مزار پر جائیں تو وہاں مکمل طور پر بہترین اسلام کی جھلک نظر آتی ہے جہاں حاضری دینے والے سنت کے مطابق سلام عرض کرتے ہیں تو وہاں ہی دربار پر زائرین اور مساکین کے لنگر کا وسیع انتظام ہوتا ہے۔


بشار بن غالب کا بیان ہے کہ میں حضرت رابعہ بصریؒ کے وصال کے بعد ہر رات اُن کیلئے ایصالِ ثواب کیا کرتا تھا،ایک رات میں نے خواب میں اُن کی زیارت کی پس انھوں نے فرمایا اے بشار!ہر رات تمھارا تحفہ مجھ تک پہنچتا ہے بعدازاں فرمایاجوکوئی فوت شدگان کیلئے صدقہ اوردُعا کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے قبول فرماکر فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس ثواب کو نوری طباق میں رکھ کر نورانی کپڑوں سے ڈھانپ دو پھر اُٹھا کر قبر کے پاس لے جاؤ اور صاحبِ قبر کو مخاطب کرکے بتاؤ یہ اُس کیلئے فلاں بن فلاں نے تحفہ بھیجا ہے۔مفید السالکین،صفحہ۱۵۳


جناب علی مرؒ افقی فرماتے ہیں کہ میرا ایک دوست وفات پاگیا اور میں ایک عرصہ تک وہاں نہ جاسکا ایک دن مجھے شدت سے خیال آیا کہ میں نے ابھی تک اپنے دوست کی قبر پر فاتحہ تک نہیں پڑھی لہٰذا میں اُس کی قبر پر آیا اور نماز پڑھ کراُس کیلئے دُعائے مغفرت کی ،جب دُعا سے فارغ ہوا تو مجھے نیند کا شدید غلبہ ہوا پس میں سوگیا ۔۔۔خواب میں دیکھا کہ فرشتے اُسے سخت عذاب دے رہے ہیں،میں نے اُس سے پوچھا کہ اے دوست تمھارا یہ کیا حال ہے؟اُس نے کہا جب سے مرا ہوں اسی عذاب میں ہی مبتلا ہوں،میں اس خوفناک منظر سے شدید غمناک ہوا اور واپس گھر لوٹ آیا،ابھی تین ہی دن گزرے تھے کہ میں نے دوبارہ اُسے خواب میں دیکھا کہ اُس نے نورانی لباس اور نورانی تاج پہن رکھا ہے،میں نے حیران ہوکر پوچھا کہ پہلے تو تم عذاب میں مبتلا تھے اب یہ شاہانہ ٹھاٹ کہاں سے آیا؟اُس نے کہا،اے دوست!کچھ دن پہلے ایک قافلہ مصر سے آیا اور ہمارے قبرستان سے گزرا اُس میں ایک نیک بخت اللہ کے ولی بھی تھے جنہوں نے ایک دفعہ تسمیہ کے ساتھ سورہ اخلاص پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا، یارب العالمین!میں تجھے گواہ کرکے پڑھے ہوئے کلام کا ثواب اس قبرستان میں مدفون مسلمانوں کو بخشتا ہوں پھر وہ کلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تمام مردوں میں تقسیم کیا گیا جو میرے حصے میں آیا اُس سے میری نجات ہوگئی یہ جو تم میری عزت واکرام دیکھ رہے ہو یہ سب اُس ہی کی بدولت ہے۔مفید السالکین،صفحہ۱۵۵


میرے دوستو! اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دُعا مانگنے کا درس دیا ہے کہ

 

ترجمہ! ’’اے ہمارے پروردگار!مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس روز جبکہ(عملوں کا) حساب ہونے لگے‘‘سورہ ابراھیم، آیت ،۴۱

 

شاہؒ صاحب اپنی کتاب انفاس العارفین کے صفحہ111پر تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں شیخ سعدیؒ شیرازی کے اشعار خوب شوق وذوق سے گُنگُنا رہا تھا کہ اچانک چوتھا مصرعہ ذہن سے اُتر گیا جس سے طبیعت میں انتہائی بے چینی پیدا ہوئی اسی دوران ایک فقیر، دراز ...زُلفیں، ملیح چہرہ نمودار ہوئے اُنھوں نے مجھے بھولا ہوا مصرعہ یاد دلایا، میں انتہائی مسرُور ہوا بعدازاں وہ تیزی سے واپس پلٹے، میں سمجھ گیاکہ یہ کوئی اہلِ اللہ کی رُوح انسانی لبادہ میں تشریف فرما ہے میں نے آواز دی کہ اپنا اسمِ گرامی تو بتاتے جائیں تاکہ ایصالِ ثواب کرسکوں، اُنھوں نے فرمایا اس فقیر کو سعدیؒ کہتے ہیں۔ 


میرے دوستو اس ساری وضاحت سے ثابت ہوا کہ ایصالِ ثواب کوئی نیا اور نقصان دہ عمل نہیں ہے بلکہ قرآن واحادیث کا بتایا ہوا طریقہ ہے جسمیں ہرطرح سے فائدہ ہے یعنی اس طریقہ پر عمل کرنے والے کا بھی فائدہ ہے اور جس کے لیے عمل کیا جارہا ہے اُس کا بھی فائدہ ہے۔کیونکہ

 

ترجمہ! ’’اے ہمارے پروردگار!مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے مسلمانوں کو بخش دے اس روز جبکہ(عملوں کا) حساب ہونے لگے‘‘سورہ ابراھیم، آیت ،۴۱

 

آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرم ﷺکے طفیل اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ نجات کو آگے پھیلا کر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

امین امین امین


بَشری قباء سے سَج کے پُرنور آ گیا ہے
تشریف آوری سے اندھیرا چلا گیا ہے
باطل کے سب اندھیرے نابود ہو گئے ہیں
طلوعِ سحر کا جلوہ شب کو مِٹا گیا ہے
کونین کی ہے رحمت عمرانؔ شاہِ عربی
آمد ہے رحمتوں کی موسم وہ آ گیا ہے

 

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)