!معزز سامعین محترم


اللہ کریم اپنے حبیبِ مکرمﷺکے طفیل ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جوکہ انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے اور انعام یافتہ بندوں کے فیض بخش آستانوں اور محفلوں سے عشقِ خدا ورسولﷺکے فیوض وبرکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے۔۔۔اور جن لوگوں پر غضبِ خداوندی نازل ہوا ہے اُن کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے ۔ امین۔
میرے دوستو!آج جو آیتِ مقدسہ میں نے آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اس کو سمجھنے سے پہلے سورہ فتح کی آیت نمبر۸ جس پر اس سے پہلے گفتگو ہوچکی ہے اس کو ذہن میں رکھ کرآج کی تلاوت شدہ آیت کا ترجمہ اور تشریح سماعت فرمائیں،جیسا کہ اللہ کریم نے فرمایا ،’’بے شک ہم نے آپ کو بھیجا حاضر وناظر اور(نیکوکاروں کو)خوشی اور(سرکشوں کو)ڈر سناتا‘‘


میرے دوستو!اللہ کریم نے اسی طرح کے الفاظ سورہ الاحزاب میں بھی فرمائے ہیں اب بات کو سمجھانے کیلئے یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ ہم اگر حضورﷺکے یہ اوصاف دل وجان سے مان لیتے ہیں توہمیں ان سے حاصل کیا ہوگا،ہاں دوستو اسی سوال کا جواب ہی آج کا موضوع ہے یعنی سورہ فتح کی آیت نمبر ۹ میں حکمِ پروردگار ہے کہ
ترجمہ!’’تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو‘‘ (سورہ الفتح آیت۹)

معلوم ہوا کہ جب ہم حضورﷺکے اوصاف کو دِل وجان سے مان لیں گے تو یہی نعمت ہمارے کمزور یقین کو ایمانِ کامل میں تبدیل کردے گی۔۔۔اور جب ایمان کامل ہوجائے گا تو پھر ہم رسول کی تعظیم وتوقیر کریں گے ،مطلب یہ ہوا کہ ایمانِ کامل کی پہچان حضورﷺ کی تعظیم وتوقیر ہے جب رسول اللہﷺ کی تعظیم وتوقیر کا صحیح ڈھنگ آگیا تو اب وقت ہے کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ کی پاکی بولواور لذتِ جاوداں سے بھرپور فوائد حاصل کرو،یعنی رب تعالیٰ کی عبادت اُس وقت تمھیں فائدہ دے گی جب تم رسول اللہﷺ کی تعظیم وتوقیر کرو گے۔


میرے دوستو!کلامِ الہیٰ کی ترتیب پر غور فرمائیں ،پہلے اللہ کریم نے اپنے محبوبﷺکے اوصاف بیان فرمائے ہیں پھر اُن کو ماننے کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ جب تم میرے محبوبﷺ کے اوصاف مان لو گے تو پھر ایمان لے آؤ گے اگر تمھیں دولتِ ایمان میسر آگئی ۔۔۔تو پھرتم ہر لحاظ سے میرے محبوبﷺ کا ادب واحترام کرو گے۔۔۔ جب رسول اللہﷺکے ادب واحترام میں مکمل ہوگئے تو پھر تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر وازکار فائدہ دیں گے،ورنہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔


میرے دوستو!اگر آپ گنتی کا ایک لکھ کر اُس کے ساتھ زیرو کا اضافہ کریں تو دس بن جائے گا اسی طرح زیرو بڑھاتے جائیں تو رقم بڑھتی چلی جائے گی،شرط یہ ہے کہ ساتھ ایک قائم رہے اگر ایک ہٹا دیا جائے تو دس زیرو بھی زیرو ہی کہلائیں گی، اُن کی کوئی قدر وقیمت نہیں عین اسی طرح نماز،روزہ حج ،زکوٰۃ،کلمہ، قربانی ودیگر اعمالِ صالحہ سب زیرو کی مانند ہیں۔۔۔ جن کے ساتھ رسالت مآبﷺ کی محبت کا ایک ہو تو سب کی قیمت ہے اگر محبت نہ ہو تو اعمال کا سارا خزانہ خود بخود زیروہوجائے گا، لہٰذاضرور اچھے اعمال کریں مگر حضورﷺ کی ذات کا عشق و احترام سینے میں بسا کرورنہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔


درسِ توحید کیا ہے تیرا عشق جو نہ ہو تو
دینِ خدا کی اوّل پہچان شاہِ عربیﷺ
الفت تیری سے روشن قُربِ خدا کی راہیں
تیرا شوق عشقِ اکمل ایمان شاہِ عربیﷺ


میرے دوستو اچھے اعمال بہت فائدہ دیتے ہیں مگر اُسی کو جو حضورﷺ کی بارگاہ میں بآدب ہے کیونکہ ان کی ذات سے محبت بنیادی عقیدہ ہے جس پر توحید سے لے کر قبر وحشر تک کی ساری عمارت کھڑی ہے اور درست عقیدہ درست رخ کی مانند ہے اور اچھے اعمال رفتار کی مانند ہیں اگر منزل سے رخ پھر جائے تو بہت تیز رفتار بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی لیکن رخ درست ہو تو آہستہ رفتار بھی منزل پر پہنچا دیتی ہے ۔۔۔اسی طرح میرے دوستو اگر شاہِ مدینہﷺسے رخ پھرگیا تو اعمال کا کثیر خزانہ بھی عذاب ہی کا موجب بنے گا۔


مخفی خدائی مخزن بٹتا ہے تیرے صدقے
محور ہے ذات تیری سلطان شاہِ عربیﷺ


یہی وجہ ہے کہ حضورﷺکے صحابہ کبارؓ جن کا زمانہ تمام زمانوں سے افضل ہے وہ دورانِ نماز بھی حضورﷺکے ادب واحترام کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ دورانِ نماز حضورﷺ کا استقبال بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو آگاہ بھی کرتے ہیں کہ حضورﷺ کی طرف پشت نہ کرو،آئیے میں آپ کو افضل زمانے والوں کا عشقِ رسولﷺاور تعظیمِ رسولﷺ کا دلکش منظر حدیث سے پیش کرتا ہوں ،سماعت فرمائیں اور اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔

 

بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر648صفحہ نمبر338

بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1139صفحہ نمبر504
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1123صفحہ نمبر499
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1156صفحہ نمبر511
بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر2499صفحہ نمبر983


حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے پس رسول اللہﷺ کو رُکنا پڑا اور نماز کا وقت ہوگیاتوحضرت بلالؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضرہوکر کہا،نبی کریمﷺکو رُکنا پڑگیالہٰذا آپ لوگوں کی امامت فرمائیں،فرمایااچھا اگر آپ حضرات چاہتے ہیں پس حضرت بلالؓ نے نماز کی اقامت کہی تو حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھ کر نماز پڑھانے لگے،پس رسول اللہﷺ تشریف لے آئے اور صفوں میں سے چلتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوگئے،لوگوں نے تالی بجائی لیکن حضرت ابوبکرؓ نماز میں ادھر اُدھر توجہ نہیں کیا کرتے تھے جب لوگوں نے زیادہ بجائیں تو رسول اللہﷺ اُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیتے ہیں کہ نماز پڑھاتے رہیں،حضرت ابوبکرؓ نے ہاتھ اُٹھا کر اَلْحَمدُ لِلِہ کہا اور اُلٹے پاؤں پیچھے آگئے،رسول اللہﷺ آگے بڑھ گئے اورلوگوں کو نماز پڑھائی،جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا اے لوگو!تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں کوئی چیز دیکھتے ہو تو تالیاں بجانے لگتے ہو،تالی تو عورت کے لیے ہے اگرنماز میں کوئی چیز دیکھو تو سُبْحانَ اللہ کہو،کیونکہ جو بھی سبحان اللہ سُنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا،اے ابوبکرؓ!تمھیں کس چیز نے روکا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہتے جب کہ میں نے تمھیں اشارہ کیا تھا؟حضرت ابوبکرؓعرض گزار ہوئے،ابنِ ابوقحافہ میں یہ جرات نہیں کہ رسول اللہﷺکے آگے کھڑا ہوکر نماز پڑھے۔


اس حدیثِ مبارکہ سے صحابہ کبارؓ کے عشق اور تعظیمِ رسولﷺ کے رنگ نمایاں ہیں،کیونکہ صحابہ جانتے ہیں حضورﷺ کی کامل محبت ہی کامل ایمان کا معیارِ برحق ہے جب محبت اس قدر کامل ہوجائے تو اُسے عشق کہا جاتا ہے اوررسول اللہﷺ کی تعظیم وتوقیر کرناعشق والوں ہی کا کام ہے،کیونکہ عشق کے درخت کا پھل ادب ہی ہے اسی لیے جب حضورﷺ عمرو بن عوف قبیلہ میں صلح کروانے کیلئے تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جماعت کروائی اور دوران نماز حضورﷺ تشریف لے آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوگئے،جس صحابی کی نظر حضورﷺ پر پڑی اُسی نے ہی تالی بجانی شروع کردی حتیٰ کہ جب بہت زیادہ تالیاں بجنے لگیں تو حضرت ابوبکرؓ نے بھی امامت کا مصلہ خالی چھوڑ دیا حالانکہ حضورﷺنے اشارہ سے حکم بھی دیا کہ آپ نماز پڑھاتے رہیں مگر حضورﷺکے ادب میں حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ آئے اور بعد میں حضورﷺ نے نماز مکمل کرائی،بعد از نماز سرکارﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ میرے صحابہ!تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی میری تعظیم وتکریم کرنے لگے ہو لہٰذا تمھاری نماز نہیں ہوئی دوبارہ پڑھ لو،ایسا کوئی کلمہ کسی حدیث میں نہیں آیا، صرف فرمایا،اے ابوبکرؓ!تمھیں حکم بھی دیا تھا کہ تم نماز پڑھاتے رہتے، جس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ!ابن ابو قحافہ یعنی ابوبکرؓ کی مجال نہیں کہ وہ حضورﷺکے آگے کھڑا ہوکر اور حضورﷺکی طرف پشت کرکے نماز پڑھے اس طرح ابوبکرؓ کی نماز نہیں ہوتی،میرے دوستو یہ ان کا عمل ہے ،جن کے زمانے کابھی کوئی ثانی نہیں اور جن کی عبادتوں کی بھی کوئی مثل نہیں،کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ


ترجمہ!’’تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو‘‘ سورہ الفتح آیت۹


تعظیمِ شاہِ عربی فرائض کی اصل روح ہے
صحابہؓ نماز میں بھی تالی بجا رہے ہیں

 

بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر644صفحہ نمبر336

بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر645صفحہ نمبر337


حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اُنھیں نبی کریمﷺکی بیماری میں نماز پڑھایا کرتے جس میں کہ وصال فرمایا،یہاں تک کہ جب پیر کا روز ہوا اور وہ نماز میں صف بستہ تھے تو نبی کریمﷺنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور ہماری طرف دیکھنے لگے،آپ کھڑے تھے اور آپ کا چہرہ انور گویا مصحف کا ورق تھا پھر تبسم ریزی فرمائی۔۔۔ہم نے مضبوط ارادہ کرلیا کہ از راہِ مسرت نبی کریمﷺکا دیدار کرتے رہیں پس حضرت ابوبکرؓ ہٹنے لگے کہ صف میں مل جائیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ نبی کریمﷺشاید نماز کیلئے تشریف لے آئیں ، آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ گِرا دیا،نبی کریمﷺنے اُسی روز وصال فرمایا۔


اسی جلد نمبر اوّل کی حدیث نمبر1127صفحہ نمبر 500کے الفاظ اس طرح ہیں


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ پیر کے روز جب مسلمان نمازِ فجر میں تھے اور حضرت ابوبکرؓانھیں نماز پڑھا رہے تھے تونبی کریمﷺاُن کے سامنے ہوئے اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ ہٹادیا،آپ نے اُنھیں صف بستہ دیکھ کر تبسم ریزی فرمائی،حضرت ابوبکرؓنے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید رسول اللہﷺ نمازکیلئے تشریف لانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے اپنی نماز توڑنے کا ارادہ کیا خوش ہوکر کہ اُنھوں نے نبی کریمﷺ کودیکھا،آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ پوری کرلو،پھر حجرے میں داخل ہوگئے،پردہ گِرا دیا اور اُسی روز وصال فرمایا۔
معلوم ہوا کہ حضورﷺکے صحابہ کباؓر کسقدر ٹوٹ کراپنے آقا ومولاﷺسے محبت کیا کرتے تھے کہ دورانِ نمازبیت اللہ سے چہرہ ہٹا کر حضورﷺ کا دیدار کرنے لگے جس کا ثبوت ان کے یہ الفاظ ہیں کہ ہم نے دیکھا حضورﷺ تبسم ریزی فرما رہے تھے اور آپ کا چہرہِ انور مصحف کا ورق معلوم ہورہا تھاپھر اس قدر حضورﷺکے دیدار کی خوشی کارنگ غالب آیا کہ نمازوں کو توڑنے کا ارادہ کرلیا،ان الفاظ سے واضح ہے کہ صحابہ کا عقیدہ یہ تھا کہ دورانِ نماز حضورﷺ کو دیکھنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔۔۔کیونکہ دورانِ نماز وہ دیدار تو کررہے تھے مگر اُس وقت یہ نہیں فرمایا کہ ہماری نماز ٹوٹ گئی بلکہ دیدارکی خوشی میں نماز توڑ لینے کا ارادہ کیا لیکن حضورﷺنے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کرلو،آج بعض لوگ کہتے ہیں کہ معاذ اللہ حضورﷺ کا نماز میں خیال آنے سے نماز نہیں ہوتی،ذرا ان مستند احادیث پر غور کریں کہ صحابہ کو صرف خیال نہیں آیا ،اُنھوں نے تو خوب جمالِ مصطفیﷺکا مزا لے لے کر نماز ادا کی کیونکہ اسی جمالِ یار نے ہی تو ان کو صحابیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا تھااس لیے تو کوئی جسقدر عبادت کرلے صحابہ کی خاکِ پاء جیسابھی نہیں ہوسکتااور یہ منفرد مقام اُن کو صرف نگاہِ عشق سے محبوب برحق کے جلوے سمیٹنے سے حاصل ہوا ہے۔


تعظیم نمازوں میں عشاق کریں واعظ
تو اُن کے تخیل سے مصروفِ بغاوت ہے
کم بخت کیا جانیں توحید پرستی کو
اِک عشق محمدؐ سے سجدوں میں حلاوت ہے


میرے دوستو!آپ نے سنا کہ صحابہ کبارؓ کس طرح دورانِ نماز حضورﷺکی تعظیم وتوقیر کرتے تھے ،کیونکہ وہ جانتے تھے۔


ترجمہ!’’تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو‘‘


سلطان محمودؒ غزنوی نے ایک دفعہ اپنے وزیرِخاص ایاز کے بیٹے کو بلا یا کہ اے ایاز کے بیٹے میرے لیے پانی لاؤ،جب ایاز نے سلطان کو اس طرح مخاطب کرتے ہوئے سنا تو فوراً پریشان ہوگئے کہ شاید میرے بیٹے سے کوئی گستاخی ہوئی ہے جس کے باعث سلطان نے اس کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا بلکہ ایاز کا بیٹا کہہ کر بلایا ہے،سلطان محمود نے جب ایاز کو پریشان حالت میں دیکھا تو فوراً پوچھا،اے ایاز!خیریت تو ہے تم اسقدر پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو؟ ایاز نے دست بستہ اپنی تمام پریشانی عرض کردی جسے سُن کر محمود نے کہا تم اس وجہ سے پریشان نہ ہو،میں تمھارے بیٹے پر ہرگز ناراض نہیں ہوں،دراصل بات یہ ہے کہ تمھارے بیٹے کے نام کے ساتھ محمد آتا ہے اور میں نے یہ نام کبھی بے وضو حالت میں زبان سے ادا نہیں کیا،جب میں نے تمھارے بیٹے کو بلایا تھا تو اس وقت میرا وضو نہیں تھا،اب میں نے وضو کرنے کے بعد تمھیں اصل حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔


گدا گر تو اُسی کا عمرانؔ زمانہ ہے
جو حقیقت میں محمد کا گدا ہو جائے


بنی اسرائیل میں ایک نہایت بدکار شخص تھا جس نے اپنی سوسالہ زندگی کو گناہوں کے اَن گنت واقعات سے بھر اہوا تھا،کبھی اس نے کوئی کام بھلائی کا نہ کیاتھا ، اکثر اوقات لوگوں کو ذلیل وخوار کرتا،اسی لیے جب وہ فوت ہوا تو لوگوں نے نہ اسے غسل دیا...نہ کفن پہنایا...نہ جنازہ پڑھا...اور نہ ہی دفن کیا بلکہ اٹھا کر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا،لیکن رب تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا کہ اُس شخص کو وہاں سے اٹھا کر جنازہ پڑھیں،حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا ، یارب العالمین!آپ کو سب معلوم ہے کہ یہ شخص نہایت سیاہ کار تھا اور لوگوں نے اس کی سیاہ کاریوں کی ہی وجہ سے اسے اٹھا کر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا،ہاں یہ سچ ہے کہ یہ شخص بدکار تھا،لیکن وہ جب تورات پڑھتاتھا اور جب اس کی نظر محمدﷺکے نامِ متبرکہ پر پڑتی تو وہ اسے چوم لیا کرتا تھا اور اپنی آنکھوں پر رکھتا تھا،پس نامِ محبوبﷺ کے ادب واحترام کی برکت سے ہم نے اس کی سو سالہ زندگی کے گناہ بخش دئیے ہیں اور اس کانام دوزخیوں سے کاٹ کر جنتیوں کی فہرست میں درج فرما لیا ہے کیونکہ رب تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ۔ خصائص کبریٰ


ترجمہ!’’تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو‘‘ سورہ الفتح آیت۹


آخرمیں دُعاہے کہ اللہ کریم اپنے محبوبﷺکے تصدق اور انعام یافتہ بندوں کے طفیل اس پیغامِ حق پر عمل کرنے کی اور اس پیغامِ حق کو آگے پھیلاکر دوسرے مسلمان بھائیوں کی بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امین امین امین


لجپال مدینے والے نوں فریاد گزاراں رو رو کے
اَکھ سکدی صورت سوہنی نوں پیا نت پکاراں رو رو کے
واہ بھاگ نصیب انہاندے نے جنہاں ویکھی صورت ڈھولن دی
تائیوں سَر قربانی کیتے نے کئیاں شہسواراں رو رو کے
تیرے باہجھ سہارا کہڑا اے تیری آس تے ساڈا ویڑہ اے
کر مُشکل حل مسکیناں دی تیرا نام چتاراں رو رو کے
توں وارث ساڈیاں جاناں دا نالے مالک کُل سلطاناں دا
محتاج دی لاج نبھا دینی سَد اُچے ماراں رو رو کے
سَرِ عرش گئے نعلین تیرے رہیا فرق نہ حق مابین تیرے
تیرا نال پیار غریباں دے میں شکر گزاراں رو رو کے

:

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)