• Halki Phulki Nimaz

    ہلکی پھلکی نماز پڑھائیں
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1043صفحہ409

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1043 Page 409


    حضرت ابومسعودؓ نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی کریمﷺکی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ میں فلاں شخص کی وجہ سے عشاء کی نماز میں شامل نہیں ہوا کیونکہ وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں،راوی کابیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کودورانِ وعظ اس روز سے زیادہ غصے کی حالت میں نہیں دیکھا،ان کا بیان ہے کہ پھر آپ نے فرمایا،اے لوگو!تم میں سے جو لوگ نماز پڑھائیں تو ہلکی پھلکی پڑھائیں کیونکہ نمازیوں ،میں بیمار،بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔


    لحد پہ بھی پھُول ہونگے لحد میں بھی مہک ہوگی
    کچھ چُن لو پھُول تم بھی گلزارِ مصطفیﷺ سے

  • Ghusay Per Qaboo

    غصے پر قابو پانا
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1046صفحہ411

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1046 Page 411

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو بچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہی ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔

  • Hakam K Liye Nasihat

    حاکم کیلئے نصیحت
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1056صفحہ414

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1046 Page 411

     

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہﷺنے انہیں اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو حاکم بنا کربھیجا تو دونوں سے فرمایا،لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرنا،سختی میں نہ ڈالنا،خوش کرنا ،نفرت نہ دلانا اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا۔

  • Mohabbat Se Akhrat

    محبت سے آخرت

    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1100صفحہ432
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1101صفحہ432

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1100 Page 432

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1101 Page 432


    حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا،اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں، جوکسی قوم سے محبت رکھے لیکن اسے نہ پائے؟پس رسول اللہﷺنے فرمایا کہ آدمی اُسی کے ساتھ ہے جس سے محبت رکھتا ہے۔


    اور حضرت ابوموسی اشعریؓ کی روایت جوکہ اسی جلد ۳ اور حدیث نمبر۱۱۰۲ کے الفاط اس طرح ہیں کہ کسی نے نبی کریمﷺسے دریافت کیا کہ ایک آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے مِلا نہیں،فرمایا کہ آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔


    جہدے نال اے پیار جہان اندر محشر اُوس دا سنگ نصیب ہوسی
    جہڑا اَج قریب قریب تیرے دن حشر دے ہور قریب ہوسی
    آپو اپنی سب مُراد پاسن روبرؤ رحمان حسیب ہوسی
    مدنی ماہیﷺ نوں جس عمرانؔ منگیا کون اُوس تھیں خوش نصیب ہوسی

  • Hazoor S.A.W.W Per Qurban

    حضورﷺپر قربان
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1115صفحہ437

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1115 Page 437

     

    حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ وہ اور حضرت ابوطلحہؓ دونوں نبی کریمﷺ کے ہمراہ آرہے تھے اور حضرت صفیہؓ حضورﷺکے پیچھے سواری پر بیٹھی تھیں، راستہ چلتے ہوئے ایک جگہ اونٹنی کا پیر پھسل گیا تو نبی کریمﷺاور آپ کی زوجہ مطہرہ دونوں گِرپڑے ،حضرت ابوطلحہؓ اپنے اُونٹ کے اوپر سے ہی کود پڑے اور رسول اللہﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے،یانبی اللہﷺ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے،آپ کو کوئی تکلیف تونہیں پہنچی؟ فرمایا کہ نہیں لیکن عورت کو سنبھالو،چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور اُم المومنینؓ کی طرف بڑھے،پھر ان کے اوپر ان کا کپڑا ڈال دیا تو وہ کھڑی ہوگئیں۔


    حدیثِ پاک سے واضح ہے کہ رسول اللہﷺکے اصحابؓ آپﷺ سے کسقدر ٹوٹ کرمحبت کرتے تھے ،اسی لیے جب حضرت ابوطلحہؓ نے دیکھا کہ اونٹنی کا پیر پھسل گیا ہے تو فوراًاپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے اونٹ سے کود پڑے اور جس جذبے نے آپ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا اُس کو الفاظ میں اس طرح بیان کیا کہ یارسول اللہﷺ!مجھے اللہ تعالیٰ آپ پر قربان کرے یعنی آپ کی ہرتکلیف مجھے پہنچے اور آپ کوکبھی بھی کچھ نہ ہو،یہی ایک سچے عاشق کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے کہ میرے محبوب کے ایک بال کو بھی تکلیف نہ پہنچے ۔ یہی وہ محبت ہے جو ایمان کو مکمل کرتی ہے ۔


    عمرانؔ اِس نظر میں جچتا نہیں ہے کوئی
    صورت پہ تیری آقاؒ ایسی نظر جمی ہے

  • Ibnul Mosayyab Key Dada

    ابن المسیبؓ کے دادا
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1120صفحہ438
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1124صفحہ439

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1120 Page 438

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1124 Page 439

     

    عبدالحمید کابیان ہے کہ میں ابن المسیبؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے اپنے دادا حزن کے بارے میں بتایا کہ وہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپﷺنے فرمایا کہ تمھارا نام کیا ہے؟عرض کیا کہ میرا نام حزن ہے،فرمایابلکہ تم سہل ہو،عرض گزار ہوئے کہ میں اس نام کو تبدیل نہیں کروں گا جو میرے والد نے رکھا ہے، ابن المسیبؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد حزن و ملال نے ہمارے گھر میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔


    پہلی روایت کے الفاظ ہیں کہ اُس کے بعد حزن وملال ہمارے خاندان کی قسمت ہوکر رہ گیا۔

  • Pasina Or Moe Mubarak

    حضورﷺکا پسینہ اور موئے مبارک
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1211صفحہ478

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1211 Page 478

     

    ثُمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺکیلئے حضرت اُم سلیمؓ چمڑے کا گدا بچھایا کرتیں اور آپ اُسی گدے پرقیلولہ فرمایا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ جب نبی کریمﷺسو جاتے تو میں آپ کا مقدس پسینہ اور موئے مبارک جمع کرلیتا اور انہیں ایک شیشی میں ڈال کر خوشبو میں ملا لیا کرتا،ثُمامہ کا بیان ہے کہ جب حضرت انسؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ وہ خوشبو اُن کے کفن کو لگائی جائے اُن کا بیان ہے کہ وہی خوشبو اُن کے کفن کو لگائی گئی۔


    مِلی بھیک ہے مہتاب کو ، خوشبو مِلی ہے گلاب کو
    تیرے جسم سے یا نبیﷺ ، صَلّو عَلیہ وَآلہٖ

  • Ashaab E Sofa R.A Ko Dood Pilaya

    حضرت ابوہریرہؓ اور اصحابِؓ صُفّہ کو دودھ پلایا
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1372صفحہ536

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1372 Page 536

     

    حضرت ابوہریرہؓ فرمایا کرتے کہ میں اکثر بھوک کے باعث زمین پرپیٹ کے بل لیٹ جاتا یا پیٹ پر پتھر باندھ لیتا،ایک روز میں لوگوں کی عام گزر گاہ پر بیٹھ گیاتوحضرت ابوبکرؓ گزرے تو میں نے اُن سے قرآنِ کریم کی ایک آیت پوچھی ،میں نے سوال اسی لئے کیا کہ وہ مجھے کھانا کھِلا دیں،لیکن وہ گزر گئے اور ایسا نہ کیا،پھر میرے پاس سے حضرت عمرؓ گزرے تو میں نے اُن سے بھی کتابِ الہیٰ کی ایک آیت پوچھی اور اُن سے بھی کھانے کے باعث سوال کیا تھا،چنانچہ وہ بھی گزر گئے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا پھر میرے پاس حضرت ابوالقاسمﷺ گزرے اور مجھے دیکھ کر تبسم فرمایا کیونکہ آپ نے میری دلی خواہش اور چہرے کی حالت کو جان لیا تھا،چنانچہ فرمایا،اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺمیں حاضر ہوں،فرمایا کہ آگے آؤ اور آپﷺ چل دئیے تو میں بھی آپﷺ کے پیچھے چلنے لگا،چنانچہ آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی اجازت مرحمت فرمائی پس میں اندر داخل ہوا،چنانچہ آپ نے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟گھروالوں نے جواب دیا کہ فلاں مرد یافلاں عورت نے بطور ہدیہ آپﷺ کیلئے پیش کیا،فرمایا کہ اے ابوہریرہؓ! عرض گزار ہوا کہ یارسولﷺمیں حاضر ہوں،فرمایا کہ اہلِ صُفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بُلا لاؤ،حضرت ابوہریرہؓ کابیان ہے کہ اہلِ صُفہّ اسلام کے مہمان تھے،اہل وعیال،مال اور کسی شخص کے پاس نہیں جاتے تھے، جب آپﷺ کی خدمت میں صدقہ آتا تو اُن کیلئے بھیج دیتے اور خود اُس میں سے ذرا بھی تناول نہ فرماتے اور جب آپکی خدمت میں ہدیہ پیش کیا جاتاتو اُس میں اہلِ صُفہ کوبھی شامل فرمالیتے،مجھے یہ بات اچھی نہ لگی اور اپنے دل میں کہا کہ یہ دودھ اہلِ صُفہ کا کیا بنائے گا؟جبکہ اس کا زیادہ حقدار میں ہوں اگر یہ دودھ مجھے عطا فرما دیا جائے اور میں اِسے پی لوں تو کچھ جان میں جان آئے،پس جب وہ آئیں جیسا کہ مجھے حکم فرمایا گیا ہے اور میں انہیں دوں تو غالب گمان ہے کہ یہ دودھ مجھ تک تو پہنچے گا ہی نہیں،لیکن اللہ اور اُس کے رسولﷺ کا حکم مانے بغیر چارہ نہیں،پس میں گیا اور انہیں بُلالایا،چنانچہ وہ آئے پھر انہوں نے اجازت مانگی تو انہیں اجازت دے دی گئی اور وہ گھر کے اندر بیٹھ گئے،فرمایا کہ اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!میں حاضر ہوں،فرمایا کہ اسے لیکر انہیں دو،انکا بیان ہے کہ میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک آدمی کو دیا ،چنانچہ جب وہ شکم سیر ہوگیا تواُس نے پیالہ مجھے واپس کردیاپھر دوسرے نے پیالہ مجھے دے دیا، اس طرح میں نبی کریمﷺتک پہنچ گیا اور اصحابِ صُفہ سب شکم سیر ہوچکے تھے چنانچہ آپﷺنے پیالہ لے لیا اور اُسے اپنے دستِ کرم پر رکھاپھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا،ارشاد ہوا،اے ابوہریرہؓ!عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!میں حاضر ہوں،فرمایاکہ اب میں اور تم باقی رہ گئے،میں عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہﷺ!آپ نے سچ فرمایا،ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور پےؤ،چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے پیا پھر فرمایا کہ پےؤ،لہٰذا میں نے پھر پیا،آپ برابر یہی فرماتے رہے کہ اور پئیو،یہاں تک کہ میں نے انکار کرتے ہوئے عرض کیا،قسم ہے اُس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے،مجھے اب کوئی گنجائش نظر نہیں آتی،فرمایا کہ مجھے دکھاؤ،پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور خود دودھ نوش فرمایا۔


    پہلی بات تو مذکورہ حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ حضورﷺ دلوں میں پوشیدہ باتوں کوجاننے والے ہیں جیساکہ حضرت ابوہریرہؓ نے خود بیان فرمایا کہ جب حضورﷺنے مجھے دیکھا تو تبسم ریزی فرمائی کیونکہ وہ میرے دلی ارادہ سے آگاہ ہوچکے تھے یعنی حضورﷺسے کوئی بات پوشیدہ نہیں،دوسری بات بھی اس واقعہ سے نمایاں ہے کہ حضورﷺنے ایک ہی دود ھ کے پیالے سے ۷۰ اصحابِ صُفہ (جوکہ ہمہ وقت تن من دھن نثار کیے ہوئے اپنے آقاﷺکے دیدار کے طلبگار رہتے تھے)اور خود حضرت ابوہریرہؓ کو شکم سیر کردیا اور بار بار حضرت ابوہریرہؓ سے فرمایا کہ اور پئیو یہاں تک کہ انھوں نے خود عرض کیا ،اب مجھے اپنے اندر کوئی گنجائش نظر نہیں آتی،وہی دودھ کا ایک پیالہ سب نے نوش کیا مگر وہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا،ختم ہوبھی کیسے سکتا تھا جبکہ وہ ساقیِ کوثر ﷺ نے عطا فرمایا تھا۔


    مُشکل نہیں ہے راستہ جو ساتھ اُن کا مِل سکے
    روشنی کا ہے سفر یہ کاروانِ زندگی

  • Jannat Ki Zamanat

    جنت کی ضمانت
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1394صفحہ544

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1372 Page 536

     

    حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،جو مجھے اُس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے اور اُس کی جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے تو میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

  • Rub Tala Ka Elaan E Jung

    رب تعالیٰ کا اعلانِ جنگ
    بخاری شریف جلد 3، حدیث نمبر1422،صفحہ 553

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1422 Page 553

     

    ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے کسی وَلی سے دُشمنی رکھے میں اِس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں...میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو اُس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سُنتا ہے اور اُس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور اُس کا ہاتھ بَن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے اوراُس کا پَیر بَن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے اگر وہ مُجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اُسے عطا فرماتا ہوں اگر وہ میری پناہ پکڑے تو ضرور میں اُسے پناہ دیتا ہوں‘‘


    حدیثِ قُدسی یعنی رَب تعالیٰ کے فرمان سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے وَلی سے اِس قدر محبت ہے کہ اولیاء اللہ کے خلاف معمولی دُشمنی پر بھی معمولی سزا کا حکم نہیں سُنایا گیابلکہ براہِ راست فرمایا ہے کہ میں اپنے وَلی کے دُشمنوں سے اعلانِ جنگ کرتا ہوںیعنی رب تعالیٰ اپنے اولیاء کرام کے ساتھ بُغض رکھنے والوں کے خلاف کُھلی جنگ کا اعلان فرمارہے ہیں، صرف یہاں بات ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے بات کا آغاز کیا جارہاہے، اعلانِ جنگ کا نوٹس دینے کے بعد اپنے اولیاء کی شان میں کس قدر عیاں وضاحت کی جارہی ہے، میں(یعنی اللہ تعالیٰ) اپنے وَلی کی سماعت...بَصارت...ہاتھ اور پاؤں خود بَن جاتا ہوں، اَب بھی بات کسِی کی سمجھ میں نہ آئے تو اُس کا انکار چِام چٹھ کے اِنکارِ آفتاب کی مانند ہے، جِس کے نہ ماننے سے آفتاب کی دَرخشانی میں کوئی فرق سَرزد نہیں ہوتا...البتہٰ آنکھ والے کبھی اِنکار نہیں کرسکتے۔ بقول حضرت امام احمد رضاؒ 


    آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشہ دیکھے
    دیدہِ کور کو کیا نظر آئے کیا دیکھے


    اِس مُستند حدیثِ قُدسی میں رَب تعالیٰ نے جُملہ اولیاء اللہ کے دُشمنوں کو اپنا دُشمن قرار دیتے ہوئے اپنی طرف سے جنگ کا اعلان سُنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اعتراض کرنے والو...اور نقطہ چینوں...اچھی طرح سمجھ لوکہ میرے وَلی کا دیکھنا، اُس کا دیکھنا نہیں بلکہ میرا(رب تعالیٰ کا) دیکھنا ہے، تمھارا یہ اعتراض کہ اللہ کا وَلی ہزاروں مِیل دُور کیسے دیکھ لیتا ہے؟پوشیدہ بات سے کیسے آگاہ ہوسکتاہے؟ پھر تم یہ بھی کہتے ہو کہ یہ تو رَب کے کام ہیں، اے متعرض... کیا تُو نے یہ بات نہیں سمجھی کہ وَلی جس آنکھ سے دیکھ رہا ہے اُسی آنکھ کی نِسبت ہی تو رَب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اُس کی آنکھیں بَن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ واضح کردیا کہ میں اُس کی سماعت بَن جاتا ہوں... جس سے وہ (وَلی اللہ) سُنتا ہے، اَب یہ کہناکہ اتنی دُور سے نہیں سُن سکتے ... اِس لیے یاغوثؒ ، یا فریدؒ ، یاصابرؒ وغیرہ نہ پُکارا کرو، کسی جاہل نے کہا کہ اُن کا ہاتھ فلاں ملک میں کیسے پہنچ گیا...کِسی نے کہا، بارہ بَرس کی غرق شُدہ ناؤ کیسے زندہ وسلامت دَریا سے نکال لی،کیسے اَپنا جنازہ خود پَڑھایا...پاکستان میں بیٹھ کر دوسرے ملک کیسے پہنچ گئے ...لاعلاج مریض کو وَلی کے دیکھنے سے شفا کیسے حاصل ہوگئی وغیرہ، مذکورہ فرمان کے مطابق غور کیا جائے تو وَلی اللہ پہ ہر اعتراض کرنے والا دَرحقیقت مذکورہ صِفات کو رَب تعالیٰ میں ماننے سے اِنکاری ہے، جب ولی اللہ کا دیکھنا، سُننا، چلنا اور پکڑنا...اللہ کے ذریعے سے ہے تو اللہ تعالیٰ کیا نہیں کرسکتا...اللہ تعالیٰ سے دیکھنے والے کیا نہیں دیکھ سکتے ؟ اللہ تعالیٰ سے سُننے والے کیا نہیں سُن سکتے ؟اللہ تعالیٰ سے پکڑنے والے کہاں تک رَسائی حاصل نہیں کرسکتے؟جِن کے پاؤں بھی رَب تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرمادے، بلاشُبہ اُن پہ کیا جانے والا ہر اعتراض براہِ راست اللہ تعالیٰ پہ اعتراض بَنتا ہے، اِسی لیے خدا تعالیٰ نے شروع ہی میں خبردار کرتے ہوئے اعلانِ جنگ کا حکمِ لاتبدیل سُنا رکھا ہے . . . یعنی اَب کسی میں جراٗت ہے تو اولیائے کرام سے دُشمنی کرکے اللہ تعالیٰ سے جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔ 


    رفیقِ سفر ہوں کامل راہی بھٹکتے کب ہیں
    عقیدہ سنوارو اپنا کردارِ اولیاء سے
    مُنکر سے کیا گلہ ہے اہلِ نظر سے پو چھو
    غوث و قطب بنے ہیں بے شمار اولیاء سے

  • Elm E Ghaib

    علمِ غیب
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر2154صفحہ855

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 2154 Page 855

     

    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ سورج ڈھل جانے کے بعدنبی کریمﷺ باہر تشریف لائے،پھر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی جب سلام پھیر دیا تو آپﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر فرمایا نیز ان بڑے بڑے امور کا جو اس سے پہلے ہیں پھر فرمایا کہ اگر کوئی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے تو پوچھ لے کیونکہ خدا کی قسم تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمھیں اس کے متعلق بتا دوں گا،جب تک میں اس جگہ ہوں،حضرت انسؓ کا بیان کہ لوگ زاروقطار رونے لگے اور رسول اللہﷺبارباریہ فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو،حضرت انسؓ کابیان ہے کہ ایک آدمی نے کھڑا ہو کر کہا، یارسول اللہﷺ!میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟فرمایا کہ دوزخ میں،پھر حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺ!میرا باپ کون ہے؟فرمایا کہ تمھارا باپ حذافہ ہے،راوی کا بیان ہے کہ پھرآپﷺبار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو،مجھ سے پوچھ لو،چنانچہ حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے،ہم اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اورمحمد مصطفیﷺکے رسول ہونے پرراضی ہیں،راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے یہ گزارش کی تو رسول اللہﷺخاموش ہوگئے۔


    اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے رسول اللہﷺسے کوئی بات پوشیدہ نہیں،اسی لیے آپ نے بار بار فرمایاکہ مجھ سے پوچھ لو،جب ایک آدمی نے پوچھا کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟تو رسول اللہﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ اس کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا،بلکہ آپﷺ تمام جنتی اور جہنمی لوگوں کو پہچانتے اور جانتے ہیں اسی لیے اُس آدمی سے فرمایا کہ تو جہنمی ہے،اسی طرح جب حضرت عبداللہؓ بن حُذافہ نے سوال کیا کیونکہ اُن کے باپ کے متعلق لوگ شک کرتے تھے اور طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اسی لیے انھوں نے بھی چاہا کہ آج یہ بات بھی واضح ہوجائے لہٰذا رسول اللہﷺنے فرمایا کہ تمھارا باپ حُذافہ ہے،حالانکہ بچے کے متعلق حتمی علم اُس کی والدہ ہی کوہوتا ہے مگر نثار جائیں طیبہ کے تاجدار ﷺسے جن سے کوئی بات مخفی نہیں فوراً فرمادیا تیرا باپ حُذافہ ہے۔

  • Qabar Per Dua Mangna

    قبر پر دُعا مانگنا
    ابوداؤد شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب عذابِ قبر،صفحہ46

    Abu Dawood Sharif Ref Mashqat Sharif Jild Number 1 Chapter, Azab-e-Qabar, Page 46


    حضرت عثمانؓ سے روایت ہے،فرماتے ہیں،جب نبی کریمﷺ میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھہرتے اور فرماتے ،اپنے بھائی کیلئے دُعائے مغفرت کرو پھر اس کیلئے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں۔


    اس سے معلوم ہوا کہ قبر پر دُعا مانگنا حضورﷺکی سنت بھی ہے اور حکم بھی ہے۔

  • Quran E Majeed Kafi Nahi

    قرآن مجید کافی نہیں
    ابوداؤد،دارمی،ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر1،قرآن وسنت کا بیان،صفحہ54

    Abu Dawood, Darmi, Abn-e-Majah, Ref. Mashqat Sharif Jild Number 1, Chapter Quran O Sunat ka Biyan, Page 54


    حضرت مقدامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ آگاہ ہوکہ مجھے قرآن بھی دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی،خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا اپنی مسہری پر کہے کہ صرف قرآن کو تھام لو اس میں جوحلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو حالانکہ اللہ کے رسولﷺکا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیسا کہ اللہ کا حرام ۔


    اسی طرح فرمانِ رسول اللہ ﷺہے ۔


    ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ جلد نمبر1،قرآن وسنت کا بیان،صفحہ54

    Abu Dawood, Tirmizi, Abn-e-Majah, Ref. Mashqat Sharif Jild Number 1, Chapter Quran O Sunat ka Biyan, Page 54

     


    حضرت ابورافعؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو مسہری پر تکیہ لگائے نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرے " احکام میں سے جس کا میں نے حکم دیا جسے میں نے منع کیا" کوئی حکم پہنچے اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے جو قرآن شریف میں پائیں گے ہم تو اس کی پیروری کریں گے۔


    خدا کا ہے دربار ، دربارِ احمدﷺ
    خدا کی ہے گفتار ، گفتارِ احمدﷺ

  • Tehatter(73) Firqay

    73فرقے
    ترمذی ،ابوداؤد،احمد بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،قرآن وسنت کابیان،صفحہ57

    Tirmizi, Abu Dawood, Ahmad Bib Humble, Reference Mashqat Sharif Jild Number 1, Chapter Quran O Sunnat Ka Biyan, Page 57


    حضرت عبداللہ اؓبن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،یقیناًبنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سوا ایک ملت کے سب دوزخی ہوں گے،لوگوں نے پوچھا،یارسول اللہﷺ وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟فرمایا وہ جس پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں۔

  • Biddat K Mutaliq

    بدعت کے متعلق
    مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،کتابُ العلم،صفحہ66

    Muslim Sharif with Reference Mashqat Sharif Jild 1, Kitab-ul-Elm, Page 66


    حضرت جریرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورﷺ کا چہرہِ انور دیکھا گویا کہ سونے کی ڈلی ہے،تب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد(بدعتِ حسنہ) کرے ،اُسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کاربند ہوں،ان کا ثواب کم ہوئے بغیر ،اور جواسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے ،اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں ، اس کے بغیر کہ ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۔


    اس سے معلوم ہوا کہ جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے یعنی بدعتِ حسنہ کا سبب بنے اُس کو اس عمل کا ثواب ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کو بھی اس کا ثواب ہوگامگر کسی کے عمل سے کچھ کمی واقع نہیں ہوگی،یعنی ایسی نئی چیز یا طریقہ اگر کوئی ایجاد کرتا ہے جس سے اسلامی روح کوفائدہ ہوتا ہو وہ حدیثِ نبوی ﷺکے مطابق ایجاد کرنے والے اور اُس پر عمل کرنے والے کیلئے ثواب کا باعث ہے، لیکن کوئی اس کے متضاد یعنی بُری چیز یا طریقہ ایجاد کرتا ہے جس سے اسلامی روح کو نقصان ہوتا ہے تو اُسے اُس کا گناہ ہوگا اور کسی کے گناہ میں کمی واقع نہیں ہوگی۔

  • Muj Se Mang Lo

    مجھ سے مانگ لو
    مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،کتابِ سجدہ،صفحہ209

    Muslim Sharif with Reference Mashqat Sharif Jild 1, Kitab-e-Sajda, Page 209

     

    حضرت ربیعہؓ بن کعب سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکے ساتھ رات گزارتا تھا،تو میں آپﷺ کے پاس وضو کا پانی اور ضروریات لایا،مجھ سے فرمایا کہ کچھ مانگ لو،میں نے عرض کیا کہ میں آپﷺسے جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ مانگتا ہوں،فرمایا کچھ اور بھی مانگ لو،میں نے عرض کیا ،پس یہی۔


    اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے حضورﷺ مختارِ کُل ہیں اسی لیے فرمایا کہ ربیعہؓ جو چاہو مجھ سے مانگ لو،حضرت ربیعہؓ نے بھی لامثال چیز مانگی یعنی میرے آقاﷺ!مجھے وہ جنت چاہیے جس میں آپﷺ میرے ساتھ ہوں تو حضور ﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ یہ ممکن نہیں بلکہ آپﷺنے فرمایا،پس یہی ،یعنی کچھ اور بھی مانگ لو،مگر عاشقِ صادق حضرت ربیعہؓ پر نثار انھوں نے عرض کیا کہ پس یہی چاہیے،یعنی آپ کا ساتھ مل جائے تو اور کیا چاہیے پھر سب کچھ مل گیا۔


    عطائے نبیﷺ تو عطائے خدا ہے
    قلب سے شرک کی نِدا مِٹ گئی ہے
    طلب سے سَوا بن صدا مِل گیا ہے
    ادائیگی سے پہلے دُعا مِٹ گئی ہے

  • MOLA ALI R.A OR HABIB E KHUDA S.A.W.W

    مولا علیؓ و حبیبِ خداﷺ
    ترمذی شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،کتابِ سجدہ،صفحہ211

    Tirmizi Sharif with Reference Mashqat Sharif, Kitab-e-Sajda, Page 211


    حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے مجھ سے فرمایا کہ اے علیؓ! میں تمھارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور تمھارے لیے وہی ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔

  • Darood Shareef Se Rehmatay

    درود شریف سے رحمتیں

    مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب درودِ پاک،صفحہ215

    Muslim Sharif with Reference Mashqat Sharif Jild 1, Chapter Darood-e-Pak, Page 215

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا،اس پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔


    سرتاج دو عالم صَدر العُلیٰ مختار محمدﷺ صَلّے علےٰ
    محبوبِ خُدا مطلوبِ جہاں سرکار محمدﷺ صَلّے علےٰ
    اوصاف زمانے سارے دے خیرات تساڈے قدماں دی
    سب ولیاں اندر روشن نے انوارِ محمدﷺ صَلّے علےٰ

  • Das Darjay Buland

    دس درجے بلند
    نسائی شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب درودِ پاک،صفحہ216
    Nisai Sharif With Reference Mashqat Sharif, Jild Number 1, Chapter Darood-e-Pak, Page 216


    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،جو مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا اور اس کے دس گناہ معاف کیے جائیں گے اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے۔


    مخلوق توں لے کے خالق تک خالق نے خود فرمایا اے
    تیرا اسم چتاریا جاندا اے لگاتار محمدﷺ صَلّے علےٰ

  • Hazoor S.A.W.W Ki Qurbat Ka Raz

    حضورﷺکی قربت کا راز
    ترمذی شریف بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب درودِ پاک،صفحہ216

    Tirmizi Sharif With Reference Mashqat Sharif Jild Number 1, Chapter Darood-e-Pak, Page 216


    حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ قیامت میں مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگاجومجھ پر زیادہ درود پڑھے گا۔


    تیرے عشق توں دورُی دوزخ اے تیرا قُرب بہار بہشتی اے
    لُوں لُوں وچ وَسدا جاندا اے تیرا پیار محمدﷺ صَلّے علےٰ

  • Allah Ta'ala Das Salam Bhejta Hay

    اللہ تعالیٰ دس سلام بھیجتا ہے
    نسائی ،دارمی بحوالہ مشکوٰۃ شریف جلد نمبر1،باب درودِ پاک،صفحہ217

    Nisai, Darmi with Reference Mashqat Sharif Jild Number 1, Chapter Darood-e-Pak, Page 217


    حضرت ابوطلحہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ تشریف لائے تو خوشی آپ کے چہرہِ انور میں تھی،فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیلؑ آئے،عرض کیا کہ اے محمدﷺ!کیا آپ اس پر راضی نہیں کہ آپکا کوئی اُمتی آپ پر ایک بار درود بھیجے گا تو اس پر دس رحمتیں نازل کروں گااور جو کوئی ایک سلام بھیجے گا اُس پر دس سلام بھیجوں گا۔


    اے صاحبِ خلقِ عظیم آقا چارہ ساز دوعالم سارے دے
    تیرا تخت سلامت شاہِ امم دِلدار محمدﷺ صَلّے علےٰ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)