• Khazano Ki Kunjia

    خزانوں کی کنجیاں
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1502،صفحہ692

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1502 Page 692


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،میں سو رہا تھا کہ مجھے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں دے دی گئیں۔

  • Emaan Yamni Hay

    ایمان یمنی ہے
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1512،صفحہ697
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1513،صفحہ697
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1515،صفحہ698

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1512 Page 697

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1513 Page 697

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1515 Page 698


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا،ایمان یمنی ہے یعنی یمن والوں کی خصوصیت ہے،تمھارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں جو دل کے نرم اور رقیق القلب ہیں،اور فتنہ وفساد ادھر ہے(نجد کی جانب اشارہ کیا) جہاں سے شیطان کا سینگ نکلنا ہے۔


    اس سے معلوم ہوا کہ رقت کا طاری ہونا ایمان والوں کی علامت ہے ،جب کہ نجد کے متعلق فرمایا کہ وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔توحید پرست تو دونوں ہی ہیں جو خاص پہچان ہے وہ حضورﷺکی محبت ہے جس سے ایمان مکمل ہوتا ہے اور اُسی سے ایمان کی حلاوت بھی نصیب ہوتی ہے ،یعنی ایک توحیدِ مقبولِ بارگاہِ خدا ہے اور ایک توحید کا عقیدہ شیطان مردود والا ہے ،ایک سے اللہ ورسول ﷺ نے نفرت کا اظہار فرمایا ہے جب کہ ایک کے متعلق محبت کا اور صاحبِ ایمان ہونے کاارشاد فرمایا ہے،حدیث نمبر 1515میں فرمایا کہ دین کی سمجھ(فقہ) بھی یمنی ہے اور حکمت بھی۔

  • Tazeem Walon Ka Tarika

    تعظیم والوں کا طریقہ
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1541،صفحہ707

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1541 Page 707

     

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ مجھے صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بھیجا تاکہ ان کیلئے سواریاں طلب کروں جبکہ وہ غزوہ تبوک کیلئے جارہے تھے،پس میں عرض گزار ہوا کہ اے نبی اللہ ﷺ!آپ کے اصحابؓ نے مجھے حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ ان کیلئے سواریوں کا سوال کروں، آپ نے فرمایا،خدا کی قسم!میں تمھیں کوئی سواری نہیں دوں گا،اتفاق سے اس وقت آپ ﷺجلال کی حالت میں تھے اور اس حالت کو میں سمجھ نہ پایا تھا،میں نبی کریم ﷺکے انکار فرمانے کے باعث رنج وملال کی حالت میں واپس لوٹ آیااور دوسری جانب مجھے یہ غم کھا رہا تھا کہ کہیں نبی کریم ﷺمجھ سے ناراض نہ ہوجائیں،میں اپنے ساتھیوں کی جانب لوٹا اور انہیں بتا دیا جوکچھ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا،ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ میں نے حضرت بلالؓ کی آواز سُنی کہ عبداللہ بن قیسؓ،پس میں نے جواب دیاتو انہوں نے فرمایا،آپ کو رسول اللہﷺ بُلا رہے ہیں،جب میں آپ کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوا تو فرمایا، یہ فلاں فلاں جوڑے یعنی چھ اونٹ لے جاؤ،آپ نے اسی وقت وہ اونٹ حضرت سعدؓ سے خریدے تھے پس انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کی طرف جاؤ اور ان سے کہہ دیناکہ بیشک اللہ اور اس کے رسول ﷺنے تمھیں سوار ہونے کیلئے عطا فرمائے ہیں لہٰذا ان پر سوار ہوجاؤ،پس میں انہیں لے کر چلا گیا اور انہیں بتا دیا کہ یہ نبی کریم ﷺنے تمھاری سواری کیلئے عطا فرمائے ہیں۔


    اس حدیثِ پاک سے کئی سبق حاصل ہوتے ہیں یعنی حضرت ابوموسیٰؓ کے سوال کرنے سے پہلے ہی حضورﷺکسی وجہ سے جلال میں تھے مگر وہ آپ کی کیفیت کو سمجھ نہ سکے اور اپنے پروگرام کے مطابق عرض کردیا ،مگر حضورﷺنے جلال کا اظہار فرمایا،جس کی وجہ سے حضرت ابوموسیٰؓ انتہائی پریشان ہوئے اور پریشانی کی وجہ حضورﷺکے غصے کا اظہار نہیں تھا بلکہ اُن کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں حضورﷺمجھ سے ناراض نہ ہوجائیں،یہی صاحبِ ایمان کے پہچان کی نمایاں علامت ہے کہ اُسے ہر چیز سے بڑھ کر اپنے محبوب کی خوشی اور ناراضگی کا خیال ہوتا ہے،اسی لیے حضرت ابوموسیٰؓ کوبھی حضورﷺ کی ناراضگی کا خیال پریشان کرنے لگا،جب حضورﷺنے دوبارہ اُن کو بُلا کر حاجت روائی فرمادی تو اُنھوں نے واضح الفاظ میں باقی صحابہؓ سے کہا کہ یہ تمھیں نبی اللہﷺنے عطا فرمائے ہیں یعنی حضورﷺکی بارگاہ میں سوال کرنا صحابہؓ کا طریقہ ہے اور عطا کرنا نبی اللہﷺکی عادتِ مبارکہ ہے۔

  • Naib Mukarar Karna

    سرکارِ علی المرتضیٰؓ کو نائب مقرر کیا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1542،صفحہ708

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1542 Page 708

     

    حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ غزوہ تبوک کیلئے نکلے تو حضرت علیؓ کو پیچھے اپنا نائب مقرر فرما دیا،وہ عرض گزار ہوئے کہ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے پاس چھوڑرہے ہیں؟فرمایا،کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارونؑ کو حضرت موسیٰؑ سے تھی،ماسوائے اس کے کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں۔

  • Wisaal Key Bad Bosa

    وصال کے بعد بوسہ دیا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1576،صفحہ729

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1576 Page 729

     

    عبیداللہ بن عبداللہؓ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نبی کریمﷺکے وصال کے بعد آپﷺکو بوسہ دیا تھا۔


    اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺکے اسمِ گرامی کو بوسہ دینا اور آپﷺ کی قبر انور کو چومنا کوئی شرک یا بدعت نہیں ہے بلکہ یہ عمل حضورﷺکی محبت کے دائرہ میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ میرے رسولﷺ کی تعظیم وتکریم کرو، اس عمل کا عبادت سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ ایسا کرنا حضرت صدیقؓ کی سنت ہے کیونکہ انھوں نے بھی حضورﷺہی کی عظمت کی وجہ سے اور حکم رب تعالیٰ کے مطابق ایسا کیا تھا لہٰذا آج بھی ایسا کرنے والے حضورﷺہی کی تعظیم وتکریم کے سبب ایسا کرتے ہیں جوکہ بالکل جائز ہے۔

  • Duran E Namaz Bolana

    حضورﷺ کا دورانِ نماز بُلانا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1591،صفحہ734
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1758،صفحہ817
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر1،صفحہ33

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1591 Page 734

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1758 Page 817

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1 Page 33

    حضرت ابوسعیدؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک روز)مسجدِ نبویﷺمیں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسول اللہﷺنے بُلایا لیکن میں آپ ﷺکے بُلانے پر حاضر نہ ہوا، فارغ ہوکر میں عرض گزار ہوا،یارسول اللہﷺ!میں نماز پڑھ رہا تھا، آپﷺ نے فرمایا،کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے،اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کے بُلانے پر حاضر ہوجایا کروجب تمھیں بُلائیں، سورہٗ الانفال،آیت۲۴


    اس سے واضح ہوا کہ حضورﷺکے حکم پر حاضر ہونا ہی اصل نماز ہے اسی لیے آقاﷺنے حضرت ابوسعیدؓ کو دورانِ نماز بُلایا،اور پھر وضاحت بھی فرما دی، معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺکی محبت کے ساتھ اطاعت کرنا ہی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا واحدذریعہ ہے۔


    مجھ کو عمرانؔ تیری لگن چاہیے شوق تیرا ہی شاہِ زمن چاہیے
    وہ تو ہوگا نہ مقبول بارِ الٰہہ جسکو تیرا اشارا نہیں مصطفیﷺ

  • Jan'nay Walay Aqa S.A.W.W

    اللہ تعالیٰ کی عطا سے سب کچھ جاننے والے آقا ﷺ
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1734،صفحہ803

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1734 Page 803

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺنے اس طرح خطبہ دیا کہ اس طرح کا خطبہ ہم نے پہلے کبھی نہیں سُنا تھا،فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو یقیناًتم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے،یہ سُن کر رسول اللہﷺ کے اصحابؓ نے اپنے چہروں کو چھپا لیا اور رونے کی آواز آنے لگی، پھر ایک آدمی نے دریافت کیا کہ حضورﷺ!میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا کہ فلاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی،اے ایمان والو!ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمھیں بُری لگیں۔  سورہ لمائدہ،آیت۱۰۱


    میں پاپی عیبی بے فن ہوں خود آپ نبھانا رحمت سے
    نہیں تجھ سے مخفی بات کوئی ہر بات کرم کی چاہتا ہوں

  • Hazoor S.A.W.W Ki Wajah Say Azab Nahi

    حضورﷺکی وجہ سے عذاب نہیں
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1759،صفحہ817
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1760،صفحہ818

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1759 Page 817

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1760 Page 818

     

    حضرت انسؓ نے ابوجہل کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ اے اللہ!اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا،یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لے آ،اس پر یہ وحی نازل ہوئی،’’اور اللہ کا کام نہیں کہ اُن پر عذاب کرے جب تک اے محبوب!تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں ہے‘‘ سورہٗ الانفال،آیت ۳۲تا۳۴

  • Khwahishat Ka Ghulam

    خواہشات کا غلام
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1853،صفحہ883

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1853 Page 883

     

    حضرت ابن عباسؓ سے ہے کہ ایک آدمی (اسلام کا دعویٰ کرنے والا)مدینہ منورہ میں ایسا بھی آکر رہا کہ اس کی بیوی اگر لڑکا جنتی اور جانور بھی بچے دیتے تو کہتا کہ یہ دین(اسلام)بہت اچھا ہے اور اگر اس کی بیوی لڑکا نہ جنتی اور اس کے جانور بھی بچے نہ دیتے تو کہتا یہ دین بُرا ہے۔

  • Momineen Key Malak

    حضورﷺ مومنین کے مالک
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1891،صفحہ915

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1891 Page 915

     

    ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا اور آخرت میں جس کی جان کا میں اس سے زیادہ مالک نہ ہوں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو’’نبی(ﷺ)مومنوں کا اُن کی جان سے زیادہ مالک ہے‘‘پس جوبھی مومن مال چھوڑے تو اس کے رشتہ دار ہی میراث پائیں گے لیکن اگر اس کے سر پر قرض ہے یاکسی کا مال ضائع کیا تھا تو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اس کا ذمہ دار میں ہوں‘‘۔


    اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ تمام مومنین کی جانوں سے زیادہ اُن کے مالک ہیں ،اس میں صرف اپنے حاضر زمانے کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ واضح الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی، میں ہی مالک ہوں ،لہٰذا جس پر قرض ہو، وہ حضورﷺ ہی اُس کا قرض ادا کریں گے اسی لیے آپﷺ نے سورہٗ الاحزاب کی آیت تلاوت فرمائی ۔جس سے عیاں ہے کہ حضورﷺہی جان سے زیادہ مالک بھی ہیں اور مشکل کُشا بھی وہی ہیں لیکن یہ حکم صاف بتا رہا ہے کہ آپ صرف مومنین کے مالک ومشکل کشا ہیں ،اسمیں منافقین یا کفار وغیرہ شامل نہیں،جہاں جہاں اور جس جگہ اور جس زمانے میں ایمان والے بستے ہیں حضورﷺاُن سب کے مالک ومشکل کُشا ہیں۔


    دَم قدم سے آپﷺکے یہ نور ہے سرور ہے 
    عاشقوں کی جان میں ایمان کا ہے سلسلہ

  • Hazoor S.A.W.W Ki Marzi

    حضورﷺ کی مرضی پوری ہوتی ہے
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1898،صفحہ918
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر102،صفحہ73

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1898 Page 918

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 102 Page 73

     

    حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہﷺمیں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپﷺ کا رب آپ کی مرضی پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔

  • Akhri Nabi Allah S.A.W.W

    آخری نبی اللہﷺ
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر2004،صفحہ972

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 2004 Page 972

     

    حضرت جبیرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ میرے کتنے ہی نام ہیں،میں محمد(ﷺ)ہوں اور میں احمد(ﷺ)ہوں اور میں ماحی(ﷺ) ہوں کہ اللہ تعالیٰ کُفر کو میرے ذریعے مٹائے گا اور میں حاشر (ﷺ) ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں اکٹھا کیا جائے گا اور میں سب سے آخری نبی(ﷺ) ہوں۔


    یہ ہے دعویٰ سبھی کا ہمارے ہو تم یقیناًسبھی کے سہارے ہو تم
    ہو زمینِ دہر یا میدانِ حشر تیرے بِن توگزارا نہیں مصطفیﷺ

  • Surah Ikhlas Tehaee Quran

    سورہ اخلاص تہائی قرآن
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر7،صفحہ37

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 7 Page 37

     

    حضرت ابوسعیدؓ خدری سے روایت ہے نبی کریمﷺنے اپنے اصحابؓ سے فرمایا ،کیا تم میں سے کوئی ہر رات کے اندر تہائی قرآنِ کریم پڑھنے سے عاجز ہے؟یہ بات ان حضرات کو بہت مشکل نظر آئی اور عرض گزار ہوئے کہ یارسول ﷺ!ہم میں سے کون اتنی طاقت رکھتا ہے؟ارشاد فرمایا کہ سورہ اخلاص کا پڑھنا تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔

  • Deen Se Niklay Hoe Log

    دین سے نکلے ہوئے لوگ
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر51،صفحہ52

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 51 Page 52

     

    حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سُنا کہ تم میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی کہ اپنی نمازوں کو تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں،اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں حقیر جانو گے،وہ قرآنِ کریم پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا،وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔


    یہ حدیثِ پاک بخاری شریف کی جلدنمبر 3میں تقریباً9دفعہ الفاظ کی کمی پیشی کے ساتھ موجود ہے،حدیث نمبر درجہ ذیل ہیں۔
    ۱۰۹۵،۱۸۲۱،۱۸۲۲،۱۸۲۳، ۱۸۲۴،۱۸۲۵،۲۲۸۲،۲۴۰۷ 


    اللہ تعالیٰ اپنے محبوبﷺکا صدقہ ایسے گروہ کے شر سے ہرمومن کا ایمان محفوظ رکھے۔ امین

  • Waladat Ki Khushi

    ولادت کی خوشی کا انعام
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر92،صفحہ69

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 92 Page 69

     

    عروہ کابیان ہے کہ ثُوبیہ پہلے ابولہب کی لونڈی تھی،جب ابولہب نے اسے آزاد کردیا تو اس نے نبی کریمﷺکو دودھ پلایا،جب ابولہب مرگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے بُرے حال میں دیکھا،اس نے پوچھا کہ تمھارے ساتھ کیا گزری؟ابولہب نے جواب دیا کہ تم سے جدا ہوتے ہی سخت عذاب میں پھنس گیا ہوں ماسوائے اس کے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کے باعث اس میں سے مجھے سیراب کیا جاتا ہے۔


    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ ابولہب جوکہ تاحیات اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہا ،جب مرگیا تو اپنے گھر والوں میں سے کسی کو خواب میں ملا ،اور بتایا کہ تم سے جدا ہوکر سخت عذاب میں پھنس گیا ہوں مگر جس انگلی کو اٹھا کر ثوبیہ کو آزاد کیا تھا اُس کے ذریعہ مجھے سیراب کیا جاتا ہے،واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضورﷺکی ولادت باسعادت ہوئی اُس وقت ابولہب کعبہ کا طواف کرنے میں مصروف تھا اُسی دوران اس کی زر خرید لونڈی ثوبیہ نے اس کو آکر خوش خبری دی کہ ابولہب تجھے مبارک ہو ،تیرے بھائی عبداللہؓ کے گھر انتہائی خوبصورت بیٹا پیدا ہوا ہے،ابولہب نے یہ سُن کر بھتیجے کی خوشی میں ثوبیہ کو انگلی اٹھا کر کہا کہ جا میں نے تجھے اس خوشی میں آزاد کیا،اللہ تعالیٰ نے اس کا وہ عمل بھی ضائع نہیں کیا جو کہ اس نے بھتیجے کی ولادت پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور مرنے کے بعد اس کو اتنا انعام دیا جس سے سخت سزا میں سیرابی میسر آجاتی،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو اہلِ ایمان محبت کے ساتھ حضورﷺکی ولادت کی خوشی مناتے ہیں، اللہ تعالیٰ ضرور ان کو انعام واکرام عطا فرمائے گا،حالانکہ ابولہب نے نبی اللہﷺکی ولادت کی خوشی نہیں منائی بلکہ اُس نے تو اپنے مرحوم بھائی کے بیٹے کی ولادت کی خوشی منائی تھی مگر اُس کی وہ منائی گئی خوشی بھی رب تعالیٰ نے ضائع نہیں فرمائی ،تو پھر اہلِ ایمان کی اللہ کے محبوبﷺکی ولادت پر منائی گئی خوشی کیسے ضائع کردی جائے گی۔ 


    یومِ میلادِ عربیﷺ لاریب عیدِ اکبر
    آمد سے جنکی باطل سَر کو جھکا گیا ہے

  • Ansaar Ki Pasand

    انصار کی پسند
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر148صفحہ91

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 148 Page 91

     

    عروہ بن زبیرؓ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت کی ہے کہ اُنہوں نے ایک عورت کا نکاح کسی انصاری مرد کے ساتھ کروادیا پس نبی کریمﷺ نے فرمایا، اے عائشہؓ !تمھارے پاس تو بچیوں کے بجانے کے لئے کوئی چیز نہیں جبکہ انصار سرود کو پسند کرتے ہیں۔ 


    ابن ماجہ شریف(جوکہ صحاح ستہّ(چھ مستند کتب) میں شامل ہے) کی روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ سرکار دوعالمﷺنے حضرت عائشہ صدؓیقہ کو فرمایا کہ’’کیوں نہ تم نے گانے والا شخص ساتھ کردیا ہوتا‘‘۔

  • Habshion Ki Eid

    حبشیوں کی عید
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر175صفحہ102

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 175 Page 102

     

    حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی اپنے ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے تو رسول اللہﷺنے مجھے اپنے پیچھے چھپا لیا،یہاں تک کہ اپنی مرضی سے گئی۔


    وضاحت:حبشیوں کی عید تھی تو انھوں نے نبی کریمﷺسے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت طلب فرمائی تو حضورﷺنے اجازت عطا فرما دی اور خود نبی کریمﷺاور حضرت عائشہ صدیقہؓ وہ رقص دیکھتے رہے۔

  • Sub Ko Shakam Sair Kiya

    ایک سوتیس آدمی شکم سیر کیے
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر349صفحہ177

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 349 Page 177

     

    حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریمﷺکے ہمراہ ہم ایک سو تیس افراد تھے،نبی کریمﷺنے فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟اُس وقت ایک آدمی کے پاس ایک صاع کے لگ بھگ کھانا(آٹا) تھا،پس اُسے گوندھا گیا،اتنے میں ایک لمبا تڑنگا مشرک ریوڑ کو ہانکتا ہوا آگیا،پس نبی کریمﷺ نے اُس سے فرمایا،کیا تم بیچنے یاعطیہ و ہبہ کے طور پر (کوئی بکری)دینے کیلئے تیار ہو؟اُس نے کہا،نہیں بلکہ بیچتا ہوں،راوی کابیان ہے کہ آپ نے اُس سے ایک بکری خرید لی،پس نبی کریمﷺنے اُس کی کلیجی بھوننے کا حکم فرمایا،،خدا کی قسم!ایک سوتیس آدمیوں میں سے ہر ایک کو اُس کلیجی سے حصّہ مل گیا،جو حاضر تھے انہیں حصّہ دے دیا گیا اور جو موجود نہ تھے اُن کا حصّہ رکھ دیا گیا،پھر بکری کا گوشت دوکونڈوں میں نکالا گیا تھا،پس ہم سب نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا اور دونوں کونڈوں میں بچ بھی رہا،جو ہم نے اونٹ پر لاد لیا۔


    اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ کریم ﷺکو مختارِ کل بنا کر بھیجا ہے ، آپﷺکے کرم سے اُسی ایک بکری کی کلیجی کا حصّہ ایک سوتیس آدمیوں نے کھایا اور اسی طرح تمام گوشت میں بھی اس قدر برکت ہوئی کہ صرف وہاں موجود تمام لوگوں نے شکم سیر ہوکر نہیں کھایا بلکہ جو موجود نہ تھے اُن کا حصّہ بھی رکھ لیا گیا ،اور باقی ماندہ اونٹ پر لاد لیا گیا۔


    اُنکی نگاہ سے کتنے خیرات پا گئے ہیں
    حبشیؓ بنے ہیں سلطان ثمرات پا گئے ہیں

  • Momin Or Munafaq Ki Misaal

    مومن اور منافق کی مثال
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر602صفحہ259
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر603صفحہ259

    Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 602 Page 259

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 603 Page 259

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ مومن کی مثال کھیتی کے پودوں جیسی ہے،جب ہوا آتی ہے تو اسے ایک جانب جھکا دیتی ہے اور جب رک جاتی ہے تو سیدھا ہوجاتا ہے یعنی بلا سے محفوظ ہوجاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے جو اکڑ کر سیدھا کھڑا رہتا ہے،یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اسے بیج وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔


    معلوم ہوا کہ اہلِ ایمان پر تکلیفات کی تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں جو ان میں عاجزی پیدا کرتی ہیں لیکن وہ دونوں حالتوں میں اپنے مالک کو یاد رکھتا ہے لیکن منافقین ہمیشہ صنوبر کے درخت کی مانند غرور میں مبتلا رہتے ہیں لیکن ایک ہی دفعہ قہرِ خداوندی کا سخت طوفان اُن کوجڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے ۔ حدیث نمبر602کے راوی حضرت کعب بن مالکؓ ہیں۔

  • Achay Or Buray Ki Misaal

    اچھے اور بُرے کی مثال
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر497صفحہ266

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 497 Page 266

     

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ اچھے اور بُرے مصاحب کی مثال مُشک والے اور بھٹھی دَھونکنے والے جیسی ہے کیونکہ مشک والا یا تو تحفتہً یاتو تمھیں تھوڑی بہت دے گا،یاتم اس سے خرید لوگے ورنہ عمدہ خوشبو تو تمھیں پہنچ ہی جائے گی،رہی بھٹھی والے(لوہار)کی بات تو یاتمھارے کپڑے جلادے گا ورنہ تمھیں(بھٹھی کی)بدبو تو پہنچ ہی جائے گی۔


    اس حدیثِ پاک میں حضورﷺنے واضح طور پر مثال دے کربات سمجھائی ہے کہ اگر تم صالحین کی صحبت میں بیٹھو گے تو وہ تم پر اس طرح اثر کرے گی جیسے خوشبو والے کی دوکان کا اثر ہوتا ہے یعنی تمھاری گفتگو ،عقائداور اعمال میں اس کا اثر پیدا ہوجائے گا، اور بالکل اس کے متضاد صحبتِ بد تمھارے اندر شیطانی تحریک کو تیز کردے گی،اور یہ بھی سابقہ صفحات پر حدیثِ مبارکہ درج کی گئی ہے کہ اس دُنیا میں جس کے ساتھ سنگت اور محبت ہوگی پھر آخرت بھی اُسی کے ساتھ ہوگی۔


    جس دے نال پریت لگائیے رنگ اُوسے دا چڑھدا
    ظاہر باطن دھیرے دھیرے اوڑک ظاہر کردا

  • Imam E Hassan R.A Se Mohabbat

    امام حسنؓ سے محبت
    بخاری شریف جلد3،حدیث نمبر828صفحہ340

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 828 Page 340

     

    جبیرؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا،میں مدینہ منورہ کے بازاروں میں سے ایک بازار کے اندر رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا جب آپ واپس لوٹے تو میں بھی واپس لوٹا،آپﷺ نے فرمایا کہ ننھا مُنا کہاں ہے؟ تین مرتبہ فرمایا کہ حسنؓ بن علیؓ کو بلاؤ،چنانچہ حسنؓ بن علیؓ کھڑے ہوئے اور چل پڑے اور اُن کی گردن میں سِحاب(ایک قسم کا ہار)تھا نبی کریمﷺ نے اپنے دستِ مبارک پھیلا کرفرمایا کہ ایسے،امام حسنؓ نے بھی ہاتھ پھیلا کر کہا کہ ایسے، چنانچہ آپ نے انھیں سینے سے لگا کر کہا،اے اللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی اس سے محبت فرما اور اُس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اُس وقت سے کوئی اور مجھے حسنؓ بن علیؓ سے زیادہ پیارا نہیں جب سے رسول اللہﷺ نے اُن کے متعلق یہ فرمایا‘‘۔


    اس حدیثِ پاک سے واضح ہے حضورﷺکو امام حسن بن علیؓ سے بے پناہ محبت تھی اسی لیے آپﷺ نے فرمایا کہ یا اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں توبھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما،معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺامام حسنؓ سے انتہا درجہ محبت فرماتے تھے اسی لیے رب تعالیٰ کے حضور بھی عرض کیا کہ تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما،یعنی امام حسنؓ سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺکی سنت بھی ہے اور حکم بھی ہے۔


    ہے عمرانؔ میری محبت کا مرکز
    محمدﷺ و زہراؓ علیؓ اور حسنینؓ

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)