• Khaney Say Tasbeeh Ki Awaz

    کھانے سے تسبیح کی آواز
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر790صفحہ367

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 790 Page 367

    حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے (علقمہ سے)فرمایا،ہم برکت والے معجزات کو گنتے رہے ہیں جبکہ تم خوف دلانے والے معجزوں کو شمار کرنے میں لگے رہتے ہو،ایک سفر میں ہم رسول اللہﷺکے ہمراہ تھے کہ پانی کی قِلت ہوگئی،آپ نے فرمایا،کچھ بچا ہوا پانی لے آؤ،ایک برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا،آپ نے برتن میں اپنا دستِ مبارک ڈالااور فرمایا، پاک پانی کی طرف آؤ،جواللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور برکت والا ہے، میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہﷺکی مبارک انگلیوں سے اُبل رہا تھا، علاوہ بریں ہم آپ کے کھانے سے تسبیح پڑھنے کی آواز سُنا کرتے تھے۔

  • Hazoor S.A.W.W  Ki Ziarat

    حضورﷺکی زیارت
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر798صفحہ371

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 798 Page 371


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،تم میں سے کسی پر ایسا وقت بھی آئے گاکہ اس کے لیے میری زیارت اپنے مال وجان کی طرح ہرچیز سے عزیز ترین ہوگی۔


    تیرےﷺ روپ کا تصور میری زندگی کا حاصل
    اسی ایک ہی لگن سے ہم بامزا رہے ہیں

  • Hazrat Sabat Bin Qais

    حضرت ثابت بن قیسؓ

    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر818صفحہ380

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 818 Page 380

     

    حضرت انسؓ بن مالک کابیان ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،کوئی ایسا ہے جو ثابتؓ بن قیس کی خبر لاکر دے،ایک آدمی عرض گزار ہوا، یارسول اللہﷺمیں آپ کو ان کی خبر لاکر دوں گا،پس وہ گئے اور دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں،پوچھا،آپ کا کیا حال ہے؟جواب دیا کہ بُرا حال ہے کیونکہ میں نبی کریمﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کربیٹھا تھا لہٰذا میرے تمام عمل ضائع ہوچکے ہوں گے اور جہنمیوں میں میرا شمار ہوگیا ہوگا،اس آدمی نے آکر آپ کے گوش گزار کیا کہ وہ یہ کچھ کہتے ہیں،پس حضرت موسیٰؓ بن انس فرماتے ہیں کہ وہ آدمی بہت بڑی بشارت لے کر دوبارہ گیا،آپ نے فرمایا،ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہیں۔


    معلوم ہوا کہ بارگاہِ مصطفیﷺمیں بے ادبی کے ارادے سے آواز بڑھانے پر تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں جس کے متعلق سورہ الحجرات میں وضاحت کی گئی ہے ،اس حدیثِ پاک میں حضرت ثابتؓ کے متعلق ذکر کیا گیا ہے جوکہ سماعت کی کمزوری کے باعث اونچا سنتے اور اونچا بولتے تھے جب انہوں نے سورہ الحجرات میں نازل شدہ حکمِ الہٰی سُنا تو گھر میں جاکراپنے آپ کو قید کرلیا، اور ہمہ وقت گریہ زاری کرنے لگے ،یہ سمجھ کر کہ میں ہی بارگاہِ نبویﷺ میں اونچا بولتا ہوں لہٰذا میرے دونوں جہان تباہ ہوگئے ہیں،لیکن غیب دان آقاﷺنے فوراً اپنے عاشق کی خبر لی اور خوش خبری بھیجی کہ تم جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہو ،اس کے علاوہ بہت بڑی بشارت میں یہ شامل تھا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ ثابتؓ دنیا میں بھی ہمیشہ کامیاب ہوگا اور اسے جب بھی موت آئے گی تو صرف شہادت ہی کی موت آئے گی اور آخر میں فرمایا کہ کسی نے زندہ جنتی دیکھنا ہو تو میرے اس عاشق کو دیکھ لے پھر اسی طرح ہوا دُنیا میں بھی ہمیشہ باعزت رہے اور زندگی کا اختتام شہادت سے ہوا۔واضح ہوا کہ ظاہری طور پر آواز اونچی ہونے کا صرف حکم نہیں بلکہ ہر وہ عقیدہ اور آواز جس کے پیچھے رسول اللہﷺکی توہین کا ذرا برابربھی پہلودکھائی دیتا ہو، وہ بڑا بول ہے جو تمام اعمالِ صالح کو نیست و نابود کردیتا ہے۔


    تیرے حضور میں جو آواز کچھ بڑھائے
    اعمال اُسکے سارے ویران شاہِ عربیﷺ

  • Nusrani Ki Beadbi

     نصرانی کی بے ادبی

    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر822صفحہ382

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 822 Page 380

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی مسلمان ہوگیا اور اس نے سورہِ بقرہ اور سورہِ آلِ عمران پڑھ لی،پس وہ نبی کریمﷺکی خدمت میں وحی کی کتابت کرنے لگا، اس کے بعد وہ پھر نصرانی ہوگیااورکہتا کہ محمد(ﷺ)تو اتنا ہی جانتے ہیں جو میں نے لکھ دیا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اسے موت دی اور اسے دفن کردیاگیا لیکن اگلی صبح اس کی لاش زمین پر باہر پڑی دیکھی،وہ کہنے لگے کہ یہ محمد(ﷺ)اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہوگاکیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ کرآیا تھا،اس لیے ہمارے ساتھی کی قبر کھودڈالی،دوسری مرتبہ انہوں نے اس کے لیے اور گہری قبر کھودی لیکن اگلی صبح وہ پھر باہر پڑا ہوا تھا کہنے لگے،یہ محمد(ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کا فعل ہے کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا تھا،لہٰذا ہمارے ساتھی کی قبر کھود ڈالی،تیسری دفعہ انہوں نے اس کے بساط بھر خوب گہری قبرکھودی لیکن اگلی صبح کو اسے زمین کے اوپر پڑا ہوا پایا،اب وہ سمجھے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک لوگوں کی جانب سے نہیں ہے پس اسے پڑا رہنے دیا۔
    معلوم ہوا کہ حضورﷺکی گستاخی اور بے ادبی ہی دونوں جہان کی تباہی کا باعث ہے ،جب اُس نصرانی نے کلمہ پڑھا تو قرآنِ پاک کی دوسورتوں کو یاد کیا لیکن حضورﷺکی گستاخی کرنے کی وجہ سے اُسے اللہ تعالیٰ نے دینِ سے خارج کردینے کے علاوہ دنیا میں بھی نشانِ عبرت بنادیا کیونکہ حضورﷺکا فرمان ہے کہ اچھی طرح جان لو کہ زمین اللہ اوراُس کے رسولﷺ کی ہے،اسی لیے نصرانی کو مرنے کے بعد زمین نے قبول نہیں کیا۔
    فخرِ ہنر سے حاصل ہوتی نہیں ہے منزل
    گر تیرا کرم ہو شامل ہر سُو جمال ہے

  • Hazrat Fatima R.A. Se Sargoshi

    حضرت فاطمہؓ سے سرگوشی

    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر828صفحہ385
    بخاری شریف جلد 2 ،حدیث نمبر910صفحہ424

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 828 Page 385

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 910 Page 424

     

    حضرت عائشہؓ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺنے اپنے مرضِ وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو بلایا اور پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی فرمائی تو وہ ہنس پڑیں،حضرت صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریمﷺنے میرے کان میں کہا کہ اپنے اسی مرض میں میرا وصال ہوجائے گا پس میں رونے لگی پھر آپ نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلے تم میرے پیچھے آؤ گی،اس پر میں ہنس پڑی‘‘
    اس سے واضح ہوا کہ دوعالم کی خبر رکھنے والے آقاﷺنے اپنے وصال سے پہلے ہی اپنے اور حضرت فاطمہ الزہراؓ کے وصال کے متعلق خبر دے دی۔

  • Hazoor S.A.W.W Se Kuch Poshida Nahi

    کچھ پوشیدہ نہیں
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر833صفحہ386

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 833 Page 386

     

    حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی کریمﷺنے مجھ سے فرمایا،کیا تمھارے پاس قالین ہیں؟میں عرض گزار ہوا کہ ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے؟ارشاد فرمایا،یاد رکھو عنقریب تمھارے پاس قالین ہوں گے،پس آج میں جو اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنا قالین مجھ سے ذرا پرے ہٹا لو تو وہ جواب دیتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے کیا یہ نہیں فرمایا تھا کہ تمھارے پاس قالین ہوں گے،پس میں خاموش ہوجاتا ہوں۔

  • Chand Ka Shaq Hona

    چاند کا شق ہونا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر839صفحہ389

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 839 Page 389

     

    حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ اہلِ مکہ نے رسول اللہﷺسے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا تو آپ نے انہیں چاند کے دوٹکڑے کرکے دکھا دئیے تھے، یہ حدیث حضرت انسؓ سے دوسندوں کے ساتھ مروی ہے۔
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر,840,838صفحہ389کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود ہیں،معلوم ہوا کہ ہمارے آقاومولاﷺکا حکم صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ آسمانوں پر بھی چلتا ہے،بلاشُبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری بادشاہی کے اختیارات اپنے محبوبﷺکو عطا فرمائے ہیں۔
    دو نیم ماہ کو کیا سورج پلٹ دیا ہے
    فیضانِ بے بہا ہیں واللہ حبیبِ اللہ ﷺ

  • Behter Zamana

    سب سے بہتر زمانہ
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر851صفحہ393
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر852صفحہ393

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 851 Page 393

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 852 Page 393


    حضرت عمرانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،سب زمانوں سے میرا زمانہ بہتر ہے پھر جواِن کے بعد ہوں گے،پھر جو اِن کے بعد ہوں گے،پھر جو اِن کے بعد ہوں گے، حضرت عمرانؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ اپنے بعد آپ نے دوزمانوں کا ذکر فرمایا... یا تین کا،پھر تمھارے بعد ایسے لوگ ہوں گے کہ انہیں گواہ بھی نہیں بنایا جائے گا لیکن گواہی دیں گے ،وہ خیانت کریں گے حالانکہ انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور نذر مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے،وہ بڑے موٹے تازے ہوں گے۔


    حدیث نمبر852کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں

    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کا زمانہ تمام زمانوں سے افضل ہے اس کی وجہ حضورﷺکی ذاتِ اقدس ہے جس نے اُس زمانے کو تمام زمانوں سے بہتر بنا دیا اور جو آپ سے محبتِ کامل کے ساتھ دائرہِ اسلام میں داخل ہو گیا وہ بھی بہترین بن گیا،زمانے سے مرادشب وروز کا تسلسل نہیں بلکہ حضورﷺ اور آپ سے محبتِ کامل رکھنے والے صاحبِ ایمان مراد ہیں جنہوں نے محبت کی آنکھ سے حضورﷺکی زیارت بھی کی اور تصدیقِ قلب کے ساتھ کلمہ بھی پڑھا،وگرنہ ابوجہل اور ابولہب وغیرہ اُس زمانے کا حصہ نہیں ہیں۔

  • Kisi Aor Roz Ana

    کسی اور روز آنا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر859صفحہ396

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 859 Page 396


    حضرت جبیرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں ایک عورت حاضر ہوئی تو آپ نے اس سے فرمایا کہ پھر کسی روز آنا،عرض گزار ہوئی کہ اگر میں پھر آؤں اور آپ کونہ پاؤں تو کیا کروں؟اس کی مراد وصال سے تھی،نبی کریمﷺنے فرمایا،اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوجانا۔

  • Shan E Hazrat Abu Bakar Sadique R.A

    شانِ ابوبکر صدؓیق
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر861صفحہ396

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 861 Page 396


    حضرت ابودرداؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ بھی اپنی چادر کا کنارا پکڑے ہوئے حاضر ہوئے یہاں تک کہ ان کا گھٹنا ننگا ہوگیا،نبی کریمﷺنے فرمایا،تمھارے یہ صاحب لڑجھگڑ کر آرہے ہیں، پس انہوں نے سلام کیا اور بتانے لگے کہ میرے اور عمرؓبن خطاب کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی تو جلدی میں میرے منہ سے ایک بات نکل گئی جس پر مجھے بعد میں ندامت ہوئی اور میں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا،لہٰذا میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا ہوں،آپ نے فرمایا،اے ابوبکرؓ!اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے،یہ تین مرتبہ فرمایا،اس کے بعد حضرت عمرؓ نادم ہوکر حضرت ابوبکرؓؓ کے درِ دولت پر حاضر ہوئے اور ان کے بارے میں پوچھا،جواب ملا وہ گھر نہیں ہیں،پس رسول اللہﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا،اس وقت نبی کریمﷺکے پُرنور چہرے کا رنگ بدل گیا اور یہ صورتِ حال دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ ڈر گئے اور گھٹنوں کے بل ہوکر عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺ!خدا کی قسم مجھ سے بڑی زیادتی ہوئی ہے، یہ دومرتبہ عرض کیا،پس نبی کریمﷺنے فرمایا،بے شک جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث فرمایاتو تم سب لوگوں نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے لیکن اکیلے ابوبکرؓ نے کہا یہ سچ فرماتے ہیں اور پھر اپنی جان اور اپنے مال سے میری خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی،پھر دومرتبہ فرمایا کہ کیا تم میرے ایسے صحاؓبی کو چھوڑ دو گے؟اس کے بعد ابوبکرؓ سے کسی نے اُف بھی کہنے کی جراٗت نہ کی۔


    اس حدیثِ پاک سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں،اوّل یہ کہ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ حضورﷺکی بارگاہ میں پہنچے تو پہلے ہی حضورﷺنے خبر دے دی کہ تمھارے یہ صاحب لڑجھگڑکر آرہے ہیں،جوکہ حضرت ابوبکرؓ کی عرض سے سب پر واضح ہوگئی،دوئم دونوں حضرات نے اپنے جھگڑے پر ندامت کا اظہار کیا پہلے حضرت ابوبکرؓ نے معافی مانگی مگر حضرت عمرؓ نے معاف نہ کیا جس پر حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے تمام ایمان والوں کو راستہ دکھایا کہ جب کہیں سے بات نہ بنے تو بارگاہِ مصطفیﷺمیں حاضر ہوجاؤ،پھر حضرت عمرؓ نے بھی ایسا ہی کیا جب حضرت ابوبکرؓ گھر سے نہ ملے تو سیدھے دربارِ نبیﷺمیں حاضر ہوگئے،سوئم حضرت ابوبکر صدیقؓنے حضورﷺکے چہرہِ انور کی حالت دیکھ کر حضرت عمرؓ کے حق میں التجاپیش کی کہ غلطی مجھ سے ہوئی ہے یعنی سچے کی بارگاہ میں اعترافِ جرم کا سبق سکھایا،چہارم حضرت ابوبکر صدیقؓ و دیگر صحابہ کبارؓ کو غصہ دلانا عین حضورﷺ کو غصہ دلانا ہے،اُن کی شان میں بے ادبی اللہ تعالیٰ ورسولِ اکرمﷺکی ناراضگی کا باعث ہے،بالخصوص حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تمام لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو صرف ابوبکرؓ نے ہرلحاظ سے میری تصدیق اور خدمت کی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ودیگر صحابہؓ کا محبت کے ساتھ محفل میں تذکرہ کرنا حضورﷺکی سنت ہے،سچ ہے کہ صادق کی تصدیق اور محبت نے حضرت ابوبکر کو صدؓیقِ اکبر بنادیا۔


    کتنے عظیم تر ہیں تیرے باوفا وُہ بندے
    اُلفت میں جو تمھاری جینا سِکھا گئے ہیں

  • Sahaba Ko Gali Mat Do

    صحاؓبہ کو گالی مت دو
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر870صفحہ402

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 870 Page 402

     حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،میرے کسی صحاؓبی کو گالی مت دو،اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مُد یا نصف کے برابر بھی ثواب کو نہیں پہنچے گا۔
    معلوم ہوا کہ صحابہ کبارؓ کی بے ادبی اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکے غصے کو دعوت دینے کے مترادف ہے،اُن کی تعریف اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور یہ بھی فرمایا کہ بعد میں آنے والے اُحد پہاڑ جتنا بھی سونا خیرات کریں تو میرے صحابہؓ کی ایک مُد یا نصف کے برابر بھی ثواب میں نہیں پہنچ سکتے ،بلاشبہ اُن کو یہ بلند تر مقام رسول اللہﷺکی قربت ہی کی وجہ سے ملا ہے اگر آج کوئی شخص صحاؓبہ کی مکمل حیاتِ طیبہ کے مطابق بھی عمل کرے تو وہ اُن کے قدموں تک بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتا ،آخر اس کی کیا وجہ ہے؟وہ بھی مسلمان اور آج والے بھی مسلمان ،فرق صرف یہ ہے کہ آج والوں کی ظاہری آنکھ کو وہ دیدار نہیں نصیب ،جوکہ صحابہؓ نے دورانِ نماز بھی نہیں چھوڑا،اگر صرف نمازیں پڑھنے ہی سے صحابیؓ بنا جاسکتا تو کیا آج نمازیوں کی کمی ہے؟اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہﷺنے واضح فرمادیاہے کہ اے میری برابری کے دعوے کرنے والوں!تم اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کرلو تو میرے غلاموں کی بھی مثل نہیں ہوسکتے،سبحان اللہ جس آقاﷺکا ایمان کی حالت میں دیدار کرنے والے لامثل ہوگئے ہیں تو اُس دیدار دینے والے اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺکاکیاکہنے۔

  • Ohad Pahar Ka Wajad

    اُحد پہاڑکا وجد
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر872صفحہ404
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر883صفحہ408
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر896صفحہ414

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 872 Page 404

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 883 Page 408

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 896 Page 414

     

    حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺاورحضرت ابوبکر،ؓ حضرت عمرؓ،حضرت عثمانؓ ایک روز اُحد پہاڑ پر چڑھے تو ان کے باعث اسے وجد آگیا، آپ نے فرمایا،اُحد ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر ایک نبیﷺ،ایک صدیقؓ اوردو شہید ہیں۔ 


    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ اُحد پہاڑ نے باقاعدہ حضورﷺکے عاشق ہونے کا ثبوت دیا یعنی حضورﷺکی آمد پراس طرح استقبال کیا کہ وجد میں آکر جھومنے لگا،جیسا کہ پچھلے صفحات پر حدیثِ پاک گزری ہے جسمیں حضورﷺ نے فرمایا کہ اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضورﷺنے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا ، حالانکہ مستند حدیث بتا رہی ہے کہ حضورﷺنے صرف مردہ انسانوں ہی کو نہیں بلکہ بے جان پتھروں کو بھی زندگی عطا فرمائی جو کبھی جانداررہے ہی نہیں تھے ، پھرصرف زندگی ہی نہیں عطا فرمائی بلکہ وہ حضورﷺسے محبت کرنے لگے ،جن میں اُحد پہاڑ بھی شامل ہے جس نے حضورﷺکی آمد پر وجد میں آکر اپنے زندگی اور محبت کا باقاعدہ ثبوت پیش کیا،اگلی بات اس حدیثِ پاک میں حضورﷺنے حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کو شہید فرمایا،یعنی غیب جاننے والے آقاﷺنے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی بتا دیا کہ میرے یہ دونوں صحاؓبہ شہید کیے جائیں گے۔


    عیسیٰؑ نے لاریب مُردے جگائے
    آقاﷺ سے پتھروں نے کلمہ پڑھا ہے
    یہ رنگین دُنیا ہے خیرات تیری
    حُسنِ محمدﷺ کی ساری عطا ہے
    ہیں عمرانؔ تیرے ہی انوار سارے
    زمانہ یہ سارا تمھارا گدا ہے

  • Jis Se Mohabbat Akhrat Osi Key Sath

    جس سے محبت آخرت اُسی سے
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر885صفحہ408
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1099صفحہ431
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1103صفحہ432

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 885 Page 408

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1099 Page 431

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1103 Page 432

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے نبی کریمﷺسے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟فرمایا،تم نے اس کیلئے کیا تیار کر رکھا ہے؟عرض گزار ہوا،میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہوں...فرمایا،تم ان کے ساتھ ہو جن سے محبت رکھتے ہو،حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اتنا کسی چیز نے خوش نہیں کیا،جتنا نبی کریمﷺکے اس فرمان نے کیا کہ تم اُس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو‘‘

    مذکورہ فرمان سے معلوم ہوا کہ انسان کی آخرت اُسی کے ساتھ ہوگی جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں محبت رکھتا ہے ،اللہ تعالیٰ اپنے محبوبﷺاور محبوب کے پیاروں کے ساتھ سچی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ آخرت میں اُن کی سنگت نصیب ہوسکے،بعض نام نہاد نمازی بھی ہیں جن کے دل محبت رسولﷺ کی بجائے ابلیس کی طرح بغضِ رسولﷺسے بھرے ہوئے ہیں، لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جس کے ساتھ اس دنیا میں محبت ہے آخرت اُسی کے ساتھ ہوگی۔
    بقول راقم
    ہے جس سے محبت ہے محشر اُسی سے 
    ابھی عاقبت کا بھلا مانگ لو
    نہ غیروں سے مانگو کبھی دربدر
    جو شاہِ اُممﷺ کا گدا مانگ لو

  • Mola Ali R.A. Ki Nisbat

    مولا علیؓ کی نسبت
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر903صفحہ421

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 903 Page 421

     

    حضرت سعدؓ بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے حضرت علی المرتضیؓ سے فرمایا،کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تمھاری وہی نسبت ہو جو حضرت ہارونؑ کو حضرت موسیٰؑ سے تھی۔


    اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ مولا علیؓ کا بارگاہِ نبویﷺمیں بہت بلند مقام ہے ،اسی لیے فرمایا کہ اے علیؓ!تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰؑ کیلئے حضرت ہارونؑ تھے،اسی لیے تمام اولیاء اللہ سرکارِ علیؓ کو ولایت کا بادشاہ مانتے ہیں 

  • Waseelay Se Dua Mangna

    وسیلہ سے دُعا مانگنا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر907صفحہ422

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 907 Page 422

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب لوگ قحط سے دوچار ہوتے تو حضرت عمرؓبن خطاب ہمیشہ حضرت عباسؓبن عبدالمطلب کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے، وہ کہا کرتے،اے اللہ!ہم تیرے نبیﷺ کے وسیلے سے بارش مانگا کرتے تھے،اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبیﷺ کے محترم چچاکو وسیلہ بناتے ہیں،پس ہم پر بارش برسا،راوی کا بیان ہے کہ بارش ہوجاتی۔


    اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہﷺواولیائے کرام کا وسیلہ پیش کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ عمل حضورﷺکے روشن ستاروں کی سنت ہے،لہٰذا اپنی دعاؤں کوقبولیت کے مقام پر فائز کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا وسیلہ اختیار کرتے رہنا چاہیے۔

  • Hazoor S.A.W.W  Key Jisam Ka Hisa

    حضورﷺکے جسم کا حصہ
    بخاری شریف جلد 2حدیث نمبر909صفحہ424

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 909 Page 424

     

    حضرت مسور بن مخزمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،فاطمہؓ میرے جسم کا حصہ ہے،جس نے اسے غصّہ دلایا اُس نے مجھے غصّہ دلایا۔
    نبی کریم ﷺکے مذکورہ ارشادِ گرامی سے واضح ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ حضورﷺکے جسم کا حصہ ہیں جس نے اُن کو تکلیف پہنچائی اُس نے خود نبی کریم ﷺ کوتکلیف پہنچائی،اب ذرا اُن سیاہ باطن لوگوں کے حشر کا اندازہ لگائیں جنہوں نے حضرت امام حسنؓ کو زہر دیا اور امام حسینؓ اور اُن کے بچوں و غلاموں کو کربلا کے جنگل میں بھوکاپیاسا رکھ کر نہایت بے دردی سے شہید کیا،کچھ لوگ تو آج بھی اُن منافقین کی کھلی تقلید کرتے ہوئے یزید کو امیر المومنین کہتے پھرتے ہیں اوریزید کو جنتی ثابت کرنے کی پوری کوشش میں رہتے ہیں،اُن کو معلوم ہونا چاہیے جس نے حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو تکلیف پہنچائی اُس نے براہ راست حضور نبی کریم ﷺ کواذیت دی اور سرکار دوعالم ﷺ کواذیت دینا رب تعالیٰ کو اذیت دینا ہے اور ایسے بد عقیدہ پر دونوں جہان میں رب تعالیٰ و رسول اللہ ﷺکی لعنت اور عذابِ عظیم ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس طرح فرمایا ہے۔

  • Emam E Hassan R.A Or Emam E Hussain R.A

    امام حسنؓ سے محبت
    بخاری شریف جلد 2حدیث نمبر937صفحہ433

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 937 Page 433

     

    حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے امام حسنؓ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور فرما رہے تھے،اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔

  • Hazoor S.A.W.W  Kay Moshabeha

    امام حسنؓ حضورﷺکے مشابہ
    بخاری شریف 2حدیث نمبر940صفحہ433

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 940 Page 433

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص امام حسنؓ بن علیؓ سے بڑھ کر نبی کریمﷺ کے مشابہ نہ تھا۔


    اس حدیثِ پاک سے واضح ہے کہ حسنین کریمینؓ عین بعین حضورﷺ کی شبیہ مبارک تھے،جس کی گواہی خود صحابہ کبارؓ دینے والے ہیں۔

  • Ehl E Bait Ki Mohabbat

    اہلِ بیت کی محبت
    بخاری شریف 2حدیث نمبر939صفحہ433

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 939 Page 433

     

    حضرت ابن عمرؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا،محمدرسول اللہﷺکی خوشنودی آپ کے اہلِ بیت کی محبت میں ہے۔

  • Dono Mere Phool

    دونوں میرے پھول ہیں
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر941صفحہ نمبر433

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 941 Page 433

     

    ابنِ ابو نعم فرماتے ہیں کہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حالتِ احرام کے متعلق دریافت کیا،شعبہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں مکھی مارنے کے بارے میں پوچھا تھا،حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ اہلِ عراق مکھی مارنے کا حکم پوچھتے ہیں اور انہوں نے رسول اللہﷺ کے نواسے کو شہید کردیا تھا، حالانکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ دُنیا میں یہ میرے پھول ہیں۔


    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ باغ رسالتﷺ کے دونوں پھول ہیں جن کے صورت وسیرت کی خوشبو آج بھی سیدھے راستہ کی طرف کھینچ رہی ہے،اور بے شمار منزلِ حق کی طرف جانے والوں کی رہنمائی کررہی ہے،ہر گلستان کاحُسن پھولوں ہی سے ہوتا ہے اسی لیے آقاﷺنے فرمایا کہ حسنؓ اور حسینؓ دونوں میرے پھول ہیں۔

  • Ashq E Mustafa S.A.W Ki Shaan

    عاشقِ مصطفیﷺکی شان
    بخاری شریف جلد2،باب نمبر 407صفحہ نمبر434

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 407 Page 434

     

    رسول اللہﷺنے حضرت بلالؓ سے فرمایاکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سُنی ہے۔


    سبحان اللہ حضرت بلالؓ نے عشقِ مصطفیﷺکی وجہ سے کسقدر بلند مرتبہ حاصل کیا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اے بلالؓ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سنی ہے۔


    جنت میں جوتوں کی آہٹ بھی پہنچے 
    زمیں پہ چلے جو بلالِؓ محمدﷺ

  • Hazoor S.A.W.W Sub Kuch Dekhtay Hain

    حضورﷺ سب کچھ دیکھتے ہیں
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر955صفحہ نمبر437

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 955 Page 437

     

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺنے فرمایا، اے عائشہؓ!یہ جبرئیل تمھیں سلام کہتے ہیں،میں نے جواب دیا ،اور عرض کیا کہ آپ(رسول اللہﷺ)جوکچھ دیکھتے ہیں وہ میں نہیں دیکھتی۔


    اس حدیثِ پاک میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کا مقام ومرتبہ واضح ہے کہ خود حضورﷺنے فرمایا کہ اے عائشہؓ! تمھیں حضرت جبرئیل سلام پیش کرتے ہیں، اور مائی صاحبہؓ نے عرض کیا،یارسول اللہﷺجو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہ میں نہیں دیکھ سکتی،یعنی آپ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔

  • Yad Mein Giria Zari Kerna

    حضورﷺ کی یاد میں گریہ زاری کرنا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر986صفحہ نمبر447

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 986 Page 447

     

    حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عباسؓ انصار کی ایک مجلس سے گزرے تو انہیں روتے ہوئے دیکھا،پوچھاکہ آپ کس بات پر رو رہے ہیں؟جواب دیا کہ ہمیں اپنی مجلسوں میں نبی کریمﷺکا بیٹھنا یاد آرہا ہے۔


    یہ حدیثِ پاک حضورﷺکی آخری علالت کے متعلق ہے جب حضورﷺکی علالت کی وجہ سے صحابہ کبارؓدیدار سے محروم ہوئے تواپنی مجلسوں میں حضورﷺ کو یاد کرکے گریہ زاری میں مبتلا رہنے لگے بالخصوص اس حدیثِ پاک میں انصار کا ذکر کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے محبوبﷺ کے دیدار میں نہایت مغموم رہنے لگے ،یہاں تک کہ اپنی مجلسوں میں سوائے رونے کے اور کام نہ
    ہوتا ،  یہ حضورﷺکے عشاق کی سچی محبت کا بہترین نمونہ ہے یعنی محبتِ رسولﷺ اور یادِ رسول ﷺمیں گریہ زاری کرنا عشاق کا طریقہ ہے۔ 

  • Tazeemi Qayam

    تعظیمی قیام کرنا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر991صفحہ نمبر448
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1290صفحہ نمبر589

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 991 Page 448

      Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1290 Page 589

     

    حضرت ابوسعیدؓخدری فرماتے ہیں کہ حضرت سعدؓ بن معاذ کے حکم پر(بنی قریظہ کے یہودی)قلعہ سے باہر نکل آئے،پھر انہیں بلایا گیا تو آپ(سعدؓ بن معاذ) گدھے پر سوار ہوکر آئے،جب مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریمﷺنے فرمایا،اپنے بہترین آدمی کیلئے تعظیمی قیام کرو...یا اپنے سردار کیلئے،


    معلوم ہوا کہ جن کو اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺنے عزت کے قابل بنایا ہے اُن کیلئے احتراماًقیام کرنا چاہیے بلکہ ایسا کرنا حضورﷺکا حکم ہے اسی لیے حضورﷺ نے حضرت سعدؓ کیلئے اُن کی قوم سے تعظیمی قیام کروایا۔

  • Takaleef Uthana

    دین میں تکالیف اُٹھانا
    بخاری شریف جلد2،حدیث نمبر1033صفحہ نمبر465

      Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1033 Page 465

     

    حضرت خبابؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کی ٹیک لگائے بیٹھے تھے،ان دنوں مشرکین کی جانب سے ہم پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے،میں عرض گزار ہوا کہ آپ دعا کیوں نہیں فرماتے؟آپ اُٹھ بیٹھے اور مبارک چہرہ سرخ ہوگیا، فرمایاتم سے پہلے لوگوں کے گوشت اور پٹھوں سے پار ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں پیوست کردی جاتی تھیں لیکن یہ چیز بھی انہیں دین سے نہ ہٹاتی تھی اور آرا ان کے سرپر درمیان میں رکھ کر چلایا جاتااور دو ٹکڑے کردئیے جاتے لیکن ان کو دین سے یہ چیز بھی نہ ہٹا سکی اور اس دین کو اللہ تعالیٰ ضرور مکمل فرمائے گا۔


    اس سے معلوم ہوا کہ راہِ حق میں تکالیف اُٹھانا اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ایمان والوں کا طریقہ ہے آج ہم ذرا سی تکلیف پر اللہ تعالیٰ ورسول اکرمﷺ سے نفسِ امارّہ کی اطاعت کرتے ہوئے شکوے شکایت شروع کردیتے ہیں حالانکہ اس راستہ میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کو سب سے زیادہ ظلم وستم سہنے پڑے ہیں ،آج ہم جن ہستیوں سے محبت کا بڑے زور وشور سے دعویٰ کرتے ہیں اگر ان جیسے حالات کا ہم کوسامنا کرنا پڑے تو فوراًشکایت کا دفتر کھول دیتے ہیں، سرکارِ علیؓ کا قول ہے کہ جس راستے کو تم سیدھا راستہ سمجھ کر چلے ہوئے ہو اگر اُس پر تکلیفات نہیں ہیں تو پھر رک جاؤ، کیوں کہ وہ سیدھا راستہ نہیں ہے اس لیے کہ سیدھے راستہ پر تکلیفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)