• Hazoor S.A.W.W Saabqa Umton Kay Ghawah Hain

    سابقہ اُمتوں کے گواہ بھی حضورﷺہیں
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر565 صفحہ265

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 565 Page 265


    حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،جب حضرت نوحؑ اپنی امت کولے کربارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دریافت فرمائیں گے کہ کیا تم نے میرے احکامات پہنچا دئیے تھے؟جواب دیں گے،ہاں میرے رب،پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا،کیا تمھارے تک میرے احکام پہنچائے گئے؟وہ جواب دیں گے کہ نہیں،بلکہ ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں تھا،اللہ تعالیٰ حضرت نوحؑ سے فرمائے گا،کیا تمھاری گواہی دینے والا کوئی ہے؟عرض کریں گے،حضرت محمدﷺاور ان کی امت گواہ ہے،پس یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے احکام پہنچا دئیے تھے۔


    اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ حضورﷺ صرف اپنی امت کے گواہ نہیں بلکہ سابقہ امتوں کی بھی گواہی دینے والے ہیں،اور گواہ وہی ہوتا ہے جو موقع پر موجود ہو اور جو موجود نہ ہو اُس کی گواہی تسلیم نہیں کی جاتی اور نہ ہی اُسے گواہ مانا جاتا ہے اور موجود کے متعلق حاضر وناظر کی بحث کرنا بالکل خلافِ فرموداتِ اللہ ورسولﷺہے۔
    بقول راقم


    تاریخِ زمانہ میں تمﷺ جیسا نہیں کوئی
    ہر ایک کی مشکل میں دیوار محمد ﷺ ہیں

  • Bani Adam K Sultan S.A.W.W

    تمام بنی آدم کے سلطان
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر566صفحہ265
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1823صفحہ858
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر593صفحہ نمبر735
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1482صفحہ573

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 566 Page 265

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1823 Page 858

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 593 Page 735

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1482 Page 573

     

    حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی خدمت میں گوشت(بھنا ہوا) لایا گیا چنانچہ ایک دستی اُٹھا کر آپ کیلئے پیش کی گئی کیونکہ دستی کا گوشت آپ کو بہت پسند تھا،پس آپ نے اس میں سے تناول فرمایا اور اسکے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے روز سب لوگوں کا سردار میں ہوں،کیا تم اسکی وجہ جانتے ہو؟سنو! اگلے پچھلے سارے انسانوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرلیا جائے گا،جو ایسا ہوگا کہ پکارنے والے کی آواز سُن سکیں گے اور سب کو دیکھ سکیں گے اورسورج لوگوں کے اتنا قریب آجائے گا کہ گرمی کی شدت سے تڑپنے لگیں گے اور وہ ناقابلِ برداشت ہوجائے گی تو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم اپنی حالت نہیں دیکھتے؟پھر تم ایسی ہستی کو تلاش کیوں نہیں کرتے جو تمھارے رب کے پاس تمھاری شفاعت کرے؟چنانچہ لوگ دوسروں سے کہیں گے کہ تمھیں حضرت آدمؑ کی خدمت میں جانا چاہیے،پس وہ حضرت آدمؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کریں گے کہ آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں،آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ خاص سے بنایا ہے آپ کے اندر اس نے اپنی جانب کی روح پھونکی تھی اور اس نے فرشتوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کیلئے سجدہ کیا تھا،لہٰذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے،کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت آدمؑ فرمائیں گے کہ آج میرے رب نے غضب کا ایسا اظہار فرمایا ہے کہ ایسا نہ اس سے پہلے کبھی فرمایا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا فرمائے گا،تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ،تم حضرت نوحؑ کے پاس چلے جاؤ، پس وہ حضرت نوحؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کریں گے،اے حضرت نوحؑ ! آپ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے آنے والے رسول تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبداً شکورا کا نام دیا تھا،آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے،آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ گئے ہیں؟وہ ان سے فرمائیں گے کہ آج میرے رب عزوجل نے غضب کا وہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ کبھی اس سے پہلے ایسا اظہار فرمایا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا اظہار فرمائے گا، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ،تم حضرت ابراہیمؑ کے پاس چلے جاؤ،پس لوگ حضرت ابراہیمؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے،اے حضرت ابراہیمؑ !آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور زمین والوں میں اس کے خلیل ہیں،آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں،کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟وہ ان لوگوں سے فرمائیں گے کہ بیشک میرے رب نے غضب کا آج ایسا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا کیا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا کرے گا،تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ،تم حضرت موسیٰؑ کے پاس چلے جاؤ، پس لوگ حضرت موسیٰؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے،اے حضرت موسیٰؑ ! آپ اللہ کے رسول ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت اور ہمکلامی کے ساتھ دوسرے انبیاء کرام پر فضیلت دی تھی،آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں،کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں؟وہ فرمائیں گے کہ میرے رب نے آج غضب کا ایسا اظہار فرمایا کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا کیا اور نہ بعد میں کبھی ایسا کرے گا،تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم حضرت عیسیٰؑ کے پاس چلے جاؤ،چنانچہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے،اے حضرت عیسیٰؑ !آپ اللہ کے رسول اور اُس کا ایک کلمہ ہیں جو اُس نے حضرت مریمؑ کی جانب القا فرمایا ہے نیز آپ اُس کی جانب کی روح ہیں اور آپ نے پنگوڑے کے اندر لوگوں سے باتیں کی تھیں لہٰذا آپ ہماری شفاعت فرمائیں،کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت عیسیٰؑ فرمائیں گے کہ آج میرے رب نے غضب کا وہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا غضب فرمایا اور نہ اسکے بعد ایسا فرمائے گا ،تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ،ارے تم محمد مصطفیﷺ کے حضور جاؤ،چنانچہ لوگ محمد مصطفیﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوں گے،اے محمد مصطفیﷺ! آپ اللہ کے رسول اور انبیائے کرام میں سب سے آخری ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دئیے تھے لہٰذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے،کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ ہم کس حال کو پہنچ گئے ہیں؟پس میں(یعنی حضرت محمد مصطفیﷺ)اس کام کیلئے چل پڑوں گا اور عرشِ عظیم کے نیچے آکر اپنے رب عزوجل کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں
    گا ، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر ایسی حمدیں اور حسنِ ثناء ظاہر فرمائے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر ظاہر نہیں فرمائی ہونگی،پھر مجھ سے فرمایا جائے گا،اے محمدﷺ! اپنا سر اٹھاؤ،مانگو کہ تمھیں دیا جائے گا،شفاعت کرو کہ تمھاری شفاعت قبول فرمائی جائے گی،پس میں اپنا سر اٹھا کر عرض کرونگا،اے رب!میری امت، پس فرمایا جائیگا کہ اے محمدﷺ!اپنی امت کے اُن لوگوں کو جن کا ہم نے حساب نہیں لینا ’’باب الایمن‘‘سے جنت میں داخل کردو‘‘


    اسی جلد کی ایک روایت جوکہ حضرت انسؓ سے مروی ہے کے آخری الفاظ اس طرح ہیں’’پھر میں(یعنی محمدمصطفیﷺ)اپنا سر اٹھاؤنگااور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمدیں بیان کروں گا جنکی مجھے تعلیم فرمائی جائیگی،پھر شفاعت کرونگا،جسکی میرے لئے ایک حد مقرر فرما دی جائیگی تو میں ایک گروہ کو جنت میں داخل کرکے واپس لوٹ آؤنگا،پھر میں اپنے رب کو دیکھ کر حسبِ سابق کروں گا،حکم ہوگا شفاعت کرو اور میرے لیے ایک حد مقرر فرما دی جائیگی تو میں دوسرے گروہ کو جنت میں داخل کرکے واپس لوٹ آؤنگا،پھر تیسری دفعہ اسی طرح واپس آؤنگا،پھر چوتھی دفعہ اسی طرح واپس لوٹوں گا‘‘


    مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ بروزِ قیامت تمام بنی آدم کے سرداروسلطان حضرت محمد مصطفیﷺہیں،دوسری اہم بات، لوگ اس دنیا میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی نبی یا ولی سے مدد مانگنی جائز نہیں بلکہ یہ شرک ہے،مذکورہ مستند فرمان بتا رہے ہیں کہ جس روز قیامت برپا ہوگی اور خدا تعالیٰ خود سامنے موجود ہوں گے اُس وقت بھی لوگ براہ راست اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرنے کی ہرگز جرات نہ کرسکیں گے بلکہ سبھی وسیلہ تلاش کریں گے بل آخر بارگاہِ مصطفیﷺ سے مشکل کشائی ہوگی اور حاجت روائی ہوگی،یعنی حضورﷺ کے احسان اور عطا کے بغیر کام نہیں بنے گا۔یعنی ہم دونوں جہانوں میں حضور نبی کریمﷺ کے سائل ہیں اور اُن کی عطاؤں کے محتاج ہیں۔
    بقول راقم


    مجھ سے سوال تیرا تجھ سے سوال میرا
    یعنی قبر حشر میں وہی کام آرہا ہے
    پہچان لو ابھی سے صورت نجات کی ہے
    یہ عاشقانہ منظر سرِعام آرہا ہے
    عمرانؔ مصطفیﷺ کی چاہت میں دو جہاں ہیں
    اہلِ عرش سے جاری پیغام آرہا ہے


     ؂ایس جگ توں لے کے حشر توڑی بنی آدمؑ دے ہین سردار آقاﷺ
    اُمتی اُمتی پکار دے پئے ہوسن پالنہار تے ذی وقار آقاﷺ
    نفسی نفسی چتار دے لوک سارے تیرے کول آؤسن سائلاں ہار آقاﷺ
    دن حشر دے نشر عمرانؔ ہوسی مددگار نے سِربازار آقاﷺ

  • Gustakh e Mustafa S.A.W.W Ki Pehchan

    گستاخانِ مصطفیﷺکی پہچان اور سزا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر569صفحہ270
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر815صفحہ378
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1480صفحہ680
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1778صفحہ827
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1095صفحہ429

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 569 Page 270

      Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 815 Page 378

      Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1480 Page 680

      Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1778 Page 827

      Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 1095 Page 429

     

    حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے یمن سے رسول اللہﷺکی خدمت میں چمڑے کے تھیلے میں بھر کر کچھ سونا بھیجا،جس سے ابھی مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی،حضورﷺنے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا،کچھ لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری،جب یہ بات نبی کریمﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا،کیا تم مجھے امانتدار شمار نہیں کرتے حالانکہ آسمان والے کے نزدیک تو میں امین ہوں اُس کی خبریں تو میرے پاس صبح و شام آتی رہتی ہیں،راوی کا بیان ہے کہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوگیا،جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں،اونچی پیشانی،گھنی داڑھی، سرمنڈا ہوا اور اونچا تہ بند باندھے ہوئے تھا،وہ کہنے لگا،اے اللہ کے رسول خدا سے ڈرو، آپﷺ نے فرمایا،تیری خرابی ہو،کیا میں خدا سے ڈرنے کا تمام اہلِ زمین سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟پھر وہ آدمی چلا گیا،حضرت خالدؓ بن ولیدعرض گزار ہوئے، یارسول اللہﷺ!کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ فرمایاجانے دو، راوی کا بیان ہے کہ آپ نے پھر اُس کی جانب توجہ فرمائی اور وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھااس وقت فرمایا کہ اس کی پشت سے ایسی قوم پیدا ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بڑے مزے سے پڑھے گی لیکن قرآنِ کریم ان کے
    حلق سے نیچے نہیں اترے گا،دین سے اس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے،میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر میں اُن لوگوں کو پاؤں تو قومِ ثمود کی طرح انہیں قتل کردوں۔


    عزازیل کے مراتب کیوں خاک میں مِلے ہیں
    تعظیم کے جو مُنکر لعنت اُٹھا رہے ہیں

  • Deen Se Kharaj Honey Waley Log

    دین سے خارج ہوں گے
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر815صفحہ378

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 815 Page 378


    حضرت ابوسعیدؓ خدری فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے اور آپ مال تقسیم فرما رہے تھے پس بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا،یارسول اللہﷺ! انصاف سے کام لو،آپﷺنے فرمایا،تیری خرابی ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو ناکام و نامراد رہ جاؤں گا،حضرت عمرؓ عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺ!اجازت مرحمت فرمائیے کہ میں اس( گستاخ )کی گردن اڑا دوں،فرمایا،جانے دو کیونکہ اس کے اور بھی ساتھی ہیں تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے بالمقابل حقیر جانو گے اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے بالمقابل،یہ قرآن بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا،یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے اگر ان کے پکڑنے کی جگہ کو دیکھا جائے تو کچھ نہیں ملے گا۔


    اور مولا علیؓ کی روایت میں آخری الفاظ اس طرح ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ آخر زمانے میں ایک ایسی قوم آئے گی جو عمر کے لحاظ سے چھوٹے اور میزان پر کھوٹے ہوں گے وہ سرورِ کائناتﷺ کی حدیثیں بیان کریں گے لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر،تم جہاں بھی انہیں پاؤ قتل کر ڈالو کیونکہ قیامت کے روز ان کے قاتل کو ثواب ملے گا۔


    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر816صفحہ379


    ان احادیثِ مبارکہ میں حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والے شخص کا مکمل حلیہ تک موجود ہے ،ایسے گستاخ لوگوں کی پہچان موجودہ دور میں انتہائی مشکل ہوگئی ہے کیونکہ ہر شخص نماز،روزہ اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والے شخص کو صاحبِ ایمان سمجھنے لگتا ہے حالانکہ مذکورہ احادیث بتا رہی ہیں کہ جس شخص نے حضور نبی کریمﷺکی بارگاہ میں گستاخی کی اُس کے متعلق حضور ﷺنے فرمایا کہ یہ نمازیں کثرت سے پڑھیں گے اور روزے بہت زیادہ رکھیں گے اسی طرح قرآنِ کریم کی تلاوت کثرت سے کریں گے مگر اس کے باوجود دین سے خارج ہوں گے ،اس لیے کہ ان کے دل محبتِ رسول ﷺسے خالی ہوں گے بلکہ حضورﷺکی شان میں گستاخی اور بے ادبی ان کی خاص پہچان ہوگی،جیسا کہ شروع میں حدیثِ نبویﷺ تحریر کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک صاحبِ ایمان نہیں ہوسکتا جب تک میں اُسے اُس کے والد اور اولاد سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں، درحقیقت حضورﷺ کی محبت ہی اصل ایمان ہے اور محبت بھی ایسی خالص مانگی گئی ہے جوہرچیز سے بڑھ کر ہو،حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کرہو،ایسی محبت ہی کو اہلِ ذکر عشقِ نبیﷺکا نام دیتے ہیں اور عشق کا پہلا قرینہ ہی ادب ہے اورعشق والوں کے نزدیک معمولی بے ادبی بھی قابلِ معافی نہیں کیونکہ عشق والے بے ادبی نہیں کرتے،اُن کے نزدیک تو سگِ کوئے مصطفیﷺبھی قابلِ صد تعظیم ہیں،عشقِ مصطفیﷺہی مومن ومنافق کی پہچان ہے۔


    اِس میں قصور کس کا اندھے بنے رہو تو
    روشن خدا کی راہیں چمکارِ مصطفیﷺ سے

  • Salam O Darood Shareef Ka Tohfa

    سلام ودرود کا تحفہ
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر595صفحہ287

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 595 Page 287

     

    حضرت عبدالرحمانؓ فرماتے ہیں کہ مجھے کعبؓ ملے تو میں نے کہا،کیا میں تمھیں ایسا تحفہ نہ دوں جومیں نے نبی کریمﷺسے سُنا ہے،کہنے لگے ،ضرور مجھے ایسا تحفہ دیجئے،فرمایا،ہم نے رسول اللہﷺسے سوال کیا،یارسول اللہﷺ!آپ پر اہلِ بیت سمیت ہم کیسے درود بھیجا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام عرض کرنے کا طریقہ تو بتا دیا ہے،فرمایا ،تم یوں کہا کرو،اس کے بعد درودِ ابراہیمی مکمل پڑھا۔


    یزداں بھی با ملائک تجھ پہ درُود بھیجے
    قلب و زباں سے رب کا فرمان مانتے ہیں

  • Balon Ko Rangna (Khizab)

    بالوں کو رنگنا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر679صفحہ327

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 679 Page 327

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،بے شک یہود ونصاریٰ اپنے بالوں کو نہیں رنگتے لیکن تم ان کے خلاف کیا کرو۔

  • Khudkushi Se Jannat Haram Ho Jati Hay

    خودکُشی سے جنت حرام
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر680صفحہ327

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 680 Page 327

     

    حضرت جندب بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو زخم آگیا،اس نے بے قرار ہوکرچھری لی اور اپنا زخمی ہاتھ کاٹ ڈالا،خون اتنا جاری ہوا کہ وہ مرگیا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا،میرے بندے نے خود فیصلہ کرکے میرے حکم پر سبقت کی ہے لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کردی۔


    معلوم ہواکہ خودکُشی کرنے والے پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے ،آج اکثر لوگ نفسِ امارّہ کی غلامی اورپاکیزہ محفلوں سے دوری کی وجہ سے اس شیطانی فعل کے مرتکب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اُن پر جنت حرام کردی جاتی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ میں صبر کرنے والوں کو اپنا دوست رکھتا ہوں ،جب تک زندگی میں تکلیفات ظاہر نہیں ہوں گی تو صبر کا اظہار کیسے ہوگا اور پھر اللہ تعالیٰ کی دوستی کا انعامِ عظیم کیسے ملے گا؟،اللہ تعالیٰ صبر کرنے اور صابرین کی سنگت سے فیض یاب فرمائے۔(امین)

  • Qaatal Jannat Mein

    قاتل جنت میں
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر687 صفحہ332

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 687 Page 332

     

    حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ۹۹قتل کیے تھے،پھر اس کا حکم پوچھنے کی غرض سے ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟اس نے جواب دیا ،نہیں ہوسکتی.اس نے راہب کوبھی ملکِ عدم پہنچا دیاوہ اسی طرح مسئلہ پوچھتا رہا،یہاں تک کہ اس سے ایک آدمی نے کہا کہ تو فلاں بستی (شریف)میں چلا جا،قضائے الہیٰ سے اُسے راستے میں موت آگئی اور اس نے اپنا سینہ اس بستی(شریف)کی جانب جھکا دیا،اب رحمت اور عذاب کے فرشتے آکر جھگڑنے لگے،پس جس بستی کی طرف وہ جارہا تھااللہ تعالیٰ نے اسے نزدیک ہونے کا حکم دیا اور جس بستی سے وہ آیا تھا اسے پرے ہٹ جانے کا حکم فرمایا،پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کی جائے وفات سے دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لو،تو اس بستی سے ایک بالشت نزدیک نکلا،پس اس کی مغفرت فرما دی گئی۔


    یہ حدیثِ مقدسہ صحاح ستہ کی دیگر کتب میں بھی موجود ہے یہاں یہ روایت اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہے،اس میں حضورﷺنے بنی اسرائیل کے ایک ۹۹قتل کرنے والے شخص کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ایک دن وہ گناہوں کی دنیا سے تنگ آکر توبہ کاراستہ پوچھنے ایک راہب کے پاس گیالیکن اُس نے اُسے مایوس کیا بل آخر اُس نے راہب کو بھی قتل کردیا لیکن اور زیادہ ندامت میں اسیر ہوگیا ایک دن اُسے ایک شخص نے بتایا کہ فلاں بستی شریف کی طرف چلا جا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں تو اس طرح ضرور تیری توبہ قبول ہوجائے گی لہٰذا وہ روانہ ہوگیا اور راستہ میں اُسے موت آگئی ،مرتے وقت اُس نے اپنا سینہ ولیوں کی بستی کی طرف جھکا دیا،بعدازاں اُس کے متعلق فرشتوں میں تکرار شروع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ اس طرح فرمایا کہ اس کی لاش سے زمین کی پیمائش کرنے کا حکم صادر فرمایا اگر اپنے گھر کے نزدیک نکلے تو جہنم رسید کیا جائے اگر ولیوں کی بستی کی طرف نکلے تو جنت بھیج دیا جائے یہ فیصلہ دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ ولیوں کی بستی کی طرف سمٹ جا،لہٰذا جب پیمائش کی گئی تو وہ ایک بالشت ولیوں کی بستی کی طرف نکلا اسطرح اُس کی مغفرت فرما دی گئی۔


    سامانِ حق ہے سارا عمرانؔ کیا نہیں ہے
    دامن پھیلا کے بھر لو بازارِ اولیاء سے

  • Saaz Key Sath Geet Gana

    سازکے ساتھ گیت سُننا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر742صفحہ351

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 742 Page 351


    حضرت عائشہ صدؓیقہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدؓیق میرے پاس تشریف لائے، زمانہِ حج کے باعث میرے پاس دو لڑکیاں گارہی تھیں اور دَف بجا رہی تھیں اور نبی کریمﷺ کپڑا اُوڑھ کر آرام فرمارہے تھے حضرت ابوبکرؓ نے لڑکیوں کو ڈانٹا، نبی کریمﷺ نے اپنے چہرہِ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا، اے ابوبکرؓ!اِن سے کچھ نہ کہو...کیوں کہ یہ عید اور حج کے دن ہیں ‘‘۔


    اس سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر ساز کے ساتھ اچھا کلام سُننا کوئی بدعت یا خلافِ شریعت نہیں کیونکہ اُم المومنین حضورﷺکی موجودگی میں ساز کے ساتھ لڑکیوں کا گیت سنتی رہیں اورجب حضرت ابوبکرؓ نے منع فرمایا تو حضورﷺنے روکا،اور فرمایا کہ یہ خوشی کے ایام ہیں انھیں مت روکو ۔

  • Raks Kerna

    رقص کرنا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر742صفحہ351

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 742 Page 351

     

    حضرت عائشہ صدؓیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے مجھے کپڑے میں ڈھانپ رکھا تھا اور میں حبشیوں کو مسجد میں مشق(رقص) کرتے دیکھ رہی تھی، حضرت ابوبکرصدؓیق نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریمﷺنے فرمایاانہیں نہ روکو...اے بنی آرفدہ تم تسلی سے اپنا کام کرتے رہو‘‘


    زندگی بھی خوبصورت تیرے ہی دم سے ہے
    رنگِ حیات سارا تیرے دم قدم سے ہے
    ہے تیری نگاہ کا حاصل یہ جنونِ جاودانی
    یہ شوق عشق ومستی تیرے کرم سے ہے

  • Sub Se Haseen O Jameel Aqa S.A.W.W

    سب سے حسین وجمیل
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر761 صفحہ357
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر763 صفحہ357

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 761 Page 357

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 763 Page 357

     

    حضرت ابن عازبؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺمیانہ قد تھے،دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا،گیسوئے مبارک کانوں کی لو تک پہنچتے تھے،میں نے آپ کو سرخ حُلے میں ملبوس دیکھا ہے اور ہرگز کسی کو آپ سے حسین وجمیل نہیں دیکھا۔


    جو دولت حُسن کی بٹی ہے جہاں میں
    یہ صدقہ تجھیﷺ کا لٹایا گیا ہے

  • Khusbo e hazoor S.A.W.W

    خوشبوئے حضورﷺ
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر773صفحہ360

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 773 Page 360

     

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے ریشم کو مس نہیں کیا جو نبی کریمﷺکی مبارک ہتھیلی کے مانند ملائم ہو اور میں نے خوشبو یا عطر ایسا نہیں سونگھا جونبی کریمﷺکی خوشبو یا عطر(پسینہ)کی طرح خوشبودار ہو۔
    تیرے حُسن کی تجلی جس نے ذرا بھی دیکھی
    ایسا جنوں مِلا ہے ہوش و خِرد گنوائے
    وَالفجر اُن کا مکھڑا دن بھر کا آسرا ہے
    والیّل زلف اُن کی راتیں میری سجائے

  • Hazoor S.A.W.W ka tasawar kerna

    حضورﷺ کا تصور
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر779صفحہ361
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر804صفحہ332

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 779 Page 361

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 804 Page 332

     

    حضرت ابوحُجیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں اچانک نبی کریمﷺکی بارگاہ میں حاضر ہواجبکہ آپ خیمے کے اندر جلوہ افروز تھے پھر حضرت بلالؓ باہر نکلے،انہوں نے نماز کیلئے اذان کہی اور اندر چلے گئے،پھر رسول اللہﷺکے وضو سے بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے،لوگ اسے حاصل کرنے کیلئے دوڑ پڑے،پھر رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے،گویا میں آپ کی مبارک پنڈلیوں کی سفیدی اب بھی دیکھ رہاہوں۔


    مذکورہ حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول اللہﷺکے عشاق حضورﷺکے وضوکا پانی حاصل کرنے کیلئے اس قدر کوشاں رہتے کہ ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی سعی کرتا،بلاشبہ یہ عشقِ مصطفیﷺکی سچائی کا کامل ثبوت ہے،دوسری بات کہ حضورﷺکے چہرہ اقدس یا آپ کے وجودِ مسعود کے کسی حصّہ کا تصور کرنا صحابہؓ کی سنت ہے اسی لیے حضرت ابوحُجیفہؓ فرماتے ہیں کہ گویا میں آپ کی مبارک پنڈلیوں کی سفیدی اب بھی دیکھ رہا ہوں،اور جہاں محبت کامل ہوتی ہے اُن عشاق کی نظر اپنی محبوب کے قدموں اور پنڈلیوں کو تصورمیں بھی بوسے دیتی رہتی ہے۔


    سراجاً منیرا سے دِل کو سجا لے
    لحد میں منور دِیا لے کے چل

  • Unglion se pani k chashmay

    انگلیوں سے پانی کے چشمے
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر783صفحہ363
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر784صفحہ364

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 783 Page 363

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 784 Page 364


    حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ نبی کریمﷺکی خدمت میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا اور آپ زورا کے مقام پر تھے،آپ نے برتن کے اندر اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ کی انگشت ہائے مبارک کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے وضو کرلیا،قتادہؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا،آپ کتنے تھے؟جواب دیا،تین سو یاتین سوکے لگ بھگ۔

  • Sub Ko Sarab Kiya

    سب کو سیراب کیا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر787صفحہ364
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1316صفحہ609

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 787 Page 364

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1316 Page 609


    حضرت جابربن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے روز لوگوں کو پیاس لگی اور نبی کریمﷺکے حضورایک چھاگل رکھی ہوئی تھی جس سے آپ نے وضو فرمایا، پھر لوگ آپ کے گرد آکر جمع ہوگئے،دریافت فرمایا،تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ عرض گزار ہوئے، ہمارے پاس وضو کیلئے پانی نہیں ہے،پس یہی ذرا سا پانی ہے جو آپ کے حضور رکھا ہوا ہے،پس آپ نے اپنا دستِ مبارک چھاگل میں ڈالا توپانی آپ کی انگشت ہائے مبارک سے اُبل پڑاجیسے چشمے،پس ہم نے پیا اور وضو کیا،میں(سالم راوی) نے دریافت کیا آپ اُس وقت کتنے تھے؟فرمایا، اگر ہم لاکھ ہوتے تب بھی پانی سب کیلئے کافی ہوتالیکن ہم پندرہ سو تھے۔


    اس حدیثِ پاک سے بھی واضح ہے کہ حضورﷺکے اصحابؓ مشکل کے وقت حضورﷺ ہی سے مدد چاہتے اگر یہ طریقہ دورِ حاضر کے مطابق توحید کے منافی ہوتا تو حضورﷺ صحاؓبہ کو منع فرما دیتے کہ صرف اللہ ہی سے مدد مانگا کرو تمھیں کیا معلوم چودہویں صدی کے کچھ لوگ ایسا کرنے کو شرک قرار دیں گے، یقیناًحضورﷺکے صحابہؓ سے بڑھ کر کوئی علم والا نہیں ہے اور اُن کا زمانہ تمام زمانوں سے افضل ہے،انھیں یہ معلوم تھا کہ ہمیں سب کچھ اسی در سے ملا ہے بلکہ خود خدا بھی اسی در سے ملا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے محبوبﷺکو تمام خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائیں ہیں اور تقسیم کرنے والا بناکربھیجاہے،اگلی بات کہ جب صحابہ کبارؓ نے مشکل کے وقت حضورﷺکے گرد حلقہ بنایا توحضورﷺ نے فرمایا کہ میرے صحاؓبہ تمھیں کیا ہوا ہے؟عرض کی گئی کہ پانی نہیں ہے یہ سُن کر مختارِ کُل نبیﷺنے اپنی مبارک انگلیوں کو چھاگل میں ڈال دیا جس سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے اور تمام صحابہؓ نے وضو بھی کیا اور پیاس بھی بجھائی،قارئین کرام پتھروں سے پانی کے چشمے جاری ہوتے تو لوگوں نے دیکھے اور سنے ہونگے مگر انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کے حبیبﷺہی کاکام ہے اور انہی نے کرکے دکھایا ہے۔

  • Qoonvain Ko Bhi Pani Atta Kiya

    کنوئیں کو بھی پانی عطا کیا
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر788صفحہ365
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1314صفحہ607
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر1315صفحہ609

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 788 Page 365

     Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1314 Page 607

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 1315 Page 609

     

    حضرت ابن عازبؓ فرماتے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ کے روز ہماری تعدادچودہ سو تھی،ہم حدیبیہ کنوئیں سے پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا،پس نبی کریمﷺکنوئیں کی منڈیر پر آبیٹھے اور پانی طلب فرمایا،اس سے کُلی کی اوراس میں لعابِ دہن ڈال کر دعا کی اوروہ پانی کنوئیں میں ڈال دیا،تھوڑی ہی دیر بعدہم اس سے پانی پینے لگے،یہاں تک کہ خوب سیراب ہوئے اور ہمارے مویشی بھی سیراب ہوگئے۔


    یوں در بدر جو بھٹکیں تیرے گدا نہیں ہیں
    تیری ذات پانے والے بھچھیا لُٹا رہے ہیں

  • Muhhammadi S.A.W.W Langar

    محمدی لنگر
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر788صفحہ365
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر348صفحہ176

    Bukhari Sharif Jild Number 2 Hadith Number 788 Page 365

     Bukhari Sharif Jild Number 3 Hadith Number 348 Page 176


    حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہؓ نے حضرت امّ سلیم (والدہ حضرت انسؓ)سے فرمایا،میں نے رسول اللہﷺکی آواز سُنی ہے جس میں ضعف محسوس ہوتا ہے،میرا خیال ہے کہ آپ نے کوئی چیز نہیں کھائی،کیا تمھارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟انہوں نے اثبات میں جواب دیااور چندجَوکی روٹیاں نکال لائیں،پھر اپنا ایک دوپٹہ نکالااور اس کے ایک پلے میں روٹیاں لپیٹ دیں پھر روٹیاں میرے سپرد کرکے باقی دوپٹہ مجھے اُڑھادیا اور مجھے رسول اللہﷺکی جانب روانہ کردیا،میں روٹیاں لیکر گیا تو رسول اللہﷺ کو مسجد میں پایا،شمعِ رسالت کے گرد چند پروانے بھی موجود تھے،میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا تو رسول اللہﷺنے فرمایا،کیا تمھیں ابوطلحہؓ نے بھیجا ہے؟میں نے جواب دیا ،ہاں.فرمایا،کھانا دے کر؟میں عرض گزار ہوا ،ہاں،پس رسول اللہﷺنے اپنے اصحابؓ سے فرمایا،کھڑے ہوجاؤ،پھر آپ چل پڑے،میں ان سے آگے چل دیااور جاکرحضرت ابوطلحہؓ کو بتا دیا،حضرت ابوطلحہؓ نے فرمایا، اے امّ سلیم! رسول اللہﷺ لوگوں کو لے کر غریب خانے پر تشریف لارہے ہیں اور ہمارے پاس انھیں کھلانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،عرض گزار ہوئیں،اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں پس حضرت ابوطلحہؓ فوراًرسول اللہﷺکے استقبال کو نکل کھڑے ہوئے،یہاں تک کہ رسولِ خداﷺ کے پاس جاپہنچے، پس رسول اللہﷺ نے حضرت ابوطلحہؓ کو ساتھ لیا اور ان کے گھر جلوہ فرما ہوگئے، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا،اے اُمّ سلیمؓ!جو کچھ تمھارے پاس ہے لے آؤ،انہوں نے وہی روٹیاں حاضرِ خدمت کردیں،پھر رسول اللہﷺنے ان کے ٹکڑے کرنے کا حکم فرمایا اور حضرت ام سلیمؓ نے سالن کی جگہ کُپی سے سارا گھی نکال لیا،پھر رسولِ خداﷺنے اس پر وہی کچھ پڑھا جو خدا نے چاہا،پھر فرمایا کہ دس آدمیوں کو کھانے کیلئے بلا لو،پس اُنہوں نے سیرہوکر کھانا کھالیا اور چلے گئے، پھر فرمایا، دس آدمی کھانے کیلئے اور بلالو،چنانچہ وہ بھی سیر ہوکر چلے گئے،پھر فرمایا،دس آدمیوں کو کھانے کیلئے اور بلالو،پس انہیں بلایا گیاوہ بھی شکم سیر ہوکر کھا چکے اور چلے گئے،پھر دس آدمیوں کو بلانے کیلئے فرمایا گیا اور اسی طرح جملہ حضرات نے شکم سیر ہوکر کھاناکھا لیا،جملہ مہمان۷۰یا۸۰افراد تھے۔


    اس حدیثِ مبارکہ سے چند باتیں معلوم ہوئیں ،یہ کہ حضورﷺکے عاشق حضرت ابوطلحہؓ نے گفتگو ہی سے اندازہ لگا لیا کہ حضورﷺنے کوئی بھی کھانے والی چیز نہیں کھائی،یہ اندازہ کرنے کے بعد بے چین ہوگئے اور فوراًچند روٹیاں حضورﷺکی خدمت میں بھیج دیں،جب حضرت انسؓ روٹیاں لے کر پہنچے تو غیب جاننے والے آقاﷺنے خود ہی بتا دیا کہ تمھیں کس نے اور کیوں بھیجا ہے،بعدازاں وہ روٹیاں صرف خود تناول نہیں فرمائیں بلکہ غریب نواز آقاﷺ نے اپنے غلاموں کو بھی ساتھ لیا اورحضرت ابوطلحہؓ کے غریب خانہ کو اپنے قدموں سے عزت بخشی،جب حضرت ابوطلحہؓ نے صحاؓبہ کا ہمراہ آنا سنا تو حضرت ام سلیمؓ سے اظہار کیا کہ کھانا تووہی چند روٹیاں ہیں اور جو پانچ یا چھ بندوں کیلئے بھی ناکافی ہیں مگر حضرت ام سلیمؓ نے بڑے حوصلے سے کہا آپ فکر کیوں کرتے ہیں اللہ جانے اور اُس کا رسولﷺ جانے،پھرایسے ہی ہوا ،جب حضورﷺنے انہی چند روٹیوں پر دعا فرمائی تو وہاں موجود تمام صحابہؓ نے شکم سیر ہوکر محمدی لنگر کھایا۔


    میں آزاد عمرانؔ ہر دم فکر سے
    ہاتھوں میں دامن سخی کا لیا ہے

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)