• Yahoodion Ka Jalawatan

    یہودیوں کا جلاوطن ہونا
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر3 صفحہ 26

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 3 Page 26


    جب اہلِ خیبر نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ہاتھ پاؤں مروڑ ڈالے تو حضرت عمرؓخطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بیشک رسول اللہﷺنے خیبر کے یہودیوں سے اُن کے اموال کے بارے میں ایک معاہدہ کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہم تمھیں اِن اموال پر قائم رکھیں گے جب تک اللہ تمھیں اس معاہدہ پر قائم رکھے گا.اور عبداللہؓ بن عمر تو اپنی اُس زمین پر گئے تھے جو وہاں خیبر کے نزدیک تھی تورات میں اُن پر ستم ڈھایا گیاکہ اُن کے دونوں ہاتھ اور پاؤں مروڑ دئیے گئے اور وہاں یہودیوں کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ہے جس پر شبہ کریں،لہٰذا میں انھیں جلاوطن کرنا چاہتا ہوں جب حضرت عمرؓ نے اس بات کا مضبوط ارادہ کرلیاتو ابوحقیق یہودی کے خاندان سے کوئی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض گزار ہوا،اے امیرالمومنین!آپ ہمیں کیوں نکال رہے ہیں جبکہ حضرت محمدﷺنے ہمیں برقرار رکھا تھااور یہاں کی زمینوں کے بارے میں ہم سے معاہدہ کیا تھااس پر حضرت عمرؓنے فرمایا،کیا تمھارا یہ گمان ہے کہ میں رسول اللہﷺکا وہ ارشادِ گرامی بھول گیا ہوں جبکہ اُنہوں نے تم سے فرمایا تھاکہ اُس وقت تمھارا کیا حال ہوگاجب تو خیبر سے نکالا جائے گا اور تیرا اُونٹ تجھے لیے ہوئے راتوں کو مارا مارا پھرے گا،وہ کہنے لگا یہ توابوالقاسم (رسول اللہﷺ)نے ازراہِ مذاق کہا تھا،فرمایاکہ اے خداکے دشمن!تم نے غلط بیانی کی ہے پھر حضرت عمرفاروقؓ نے انھیں جلاوطن کردیا۔


    اس حدیثِ پاک میں وقت سے بہت پہلے یہودیوں کے نکال دینے کی خبر موجود ہے جوکہ حضورﷺنے دی تھی حالانکہ  ۷ ؁ھ میں خیبر کے یہودیوں سے معاہدہ ہوا تھا اور وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جلاوطن کیے گئے تھے،جب ابوحقیق یہودی کے گھرانہ کے ایک شخص سے حضرت فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ کیا تمھارا خیال ہے کہ میں وہ رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی بھول گیا ہوں جب حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اُس وقت تمھارا کیا ہوگا جب تمھیں خیبر سے نکال دیا جائے گا اور راتوں کو تیرا اُونٹ تجھے لیے مارا مارا پھرتا رہے گا۔


    دونوں عالم پہ ہے تیری حکمرانی جاوداں
    کون جانے کتنا اُونچا شان کا ہے سلسلہ

  • Adab E Sahaba Kabaar R.A

    آدابِ رسول اللہﷺوصحابہ کبارؓ
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر4 صفحہ 27تا30

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 4 Page 27 to 30


    عروہ،مسوراورمروان کا بیان ہے
    حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہﷺکی تعظیم کا شاندار منظر
    عروہ صحابہء رسول کو حدیبیہ کے مقام پر غور سے دیکھنے لگا،راوی کابیان ہے کہ وہ دیکھتا رہاکہ جب بھی رسول اللہﷺتھوکتے تووہ کسی نہ کسی صحابیؓ کے ہاتھ میںآتا،جس کو وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا،جب آپ کسی بات کا حکم دیتے تو فوراً تعمیل کی جاتی تھی،جب آپ وضو فرماتے تو لوگ آپ کے مستعمل پانی کو حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے،ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ پانی میں حاصل کروں،جب لوگ آپ کی بارگاہ میں گفتگو کرتے تو اپنی آوازوں کو پست رکھتے تھے اورتعظیم کے باعث آپ کی طرف نظر جما کرنہیں دیکھتے تھے،اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا،اے قوم!واللہ، میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کرگیا ہوں،میں قیصروکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم!میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد(ﷺ)کے اصحابؓ ان کی تعظیم کرتے ہیں،خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعابِ دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے،جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے ،جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً اُن کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے،جب وہ وضو فرماتے ہیں تویوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا مستعمل پانی حاصل کرنے پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجائیں گے،وہ اُن کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے،انہوں نے تمھارے سامنے عمدہ تجویز رکھی ہے پس اُسے قبول کرلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کبارؓ اپنے آقاومولاﷺکی اسقدر تعظیم کرتے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی،اسی لیے عروہ عشاقِ مصطفیﷺکا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ اُس نے اس سے پہلے ایسی تعظیم وتکریم کسی کی ہوتی نہ دیکھی تھی،جب حضورﷺ اپنا لعابِ دہن نیچے گِرانے لگتے تو صحابہ کبارؓ نیچے ہاتھ رکھ لیتے اور فوراً چہروں وجسموں پر مل لیتے اسی طرح جب حضورﷺ وضو فرماتے تواستعمال شدہ پانی حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے،کیا معاذاللہ صحاؓبہ کو معلوم نہیں تھا کہ وضو کا استعمال شدہ پانی مکروہ ہوتا ہے پھر وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟اس لیے کہ حضورﷺکے استعمال شدہ پانی میں ہربیماری کی شفا ہے اور نہ ہی اُن کو حضورﷺنے ایسا کرنے سے منع فرمایا،حالانکہ وہ سب سے زیادہ حکم کی تعمیل کرنے والے تھے ،جہاں محبت کامل ہوتی ہے وہاں تعظیم وتکریم کا اظہار پوشیدہ نہیں رہتا ،اسی لیے مکہ کا مشرک تعظیمِ رسول اللہﷺدیکھ کر بول اُٹھا کہ خدا کی قسم!میں نے آج تک کسی بادشاہ کی بھی ایسی تؑ ظیم ہوتی نہیں دیکھی جیسی محمدﷺکے اصحابؓ اُن کی کرتے ہیں۔

    جہاں بھر کے شاہوں سے بیشک ہیں اعلیٰ جو ادنیٰ سے ادنیٰ بھی تیرے گدا ہیں عشقِ محمدﷺ کے شہداء تو دِیکھو زمانے میں عمرانؔ ہر سُو بقا ہیں

  • Foat Shuda K Liye Kherat Karna

    فوت شدہ کیلئے خیرات کرنا
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر32 صفحہ 50

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 32 Page 50


    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالتﷺ میں عرض گزار ہوئے کہ میری والدہ محترمہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے ،اگر انہیں قوت گویائی حاصل رہتی تو خیرات کرتیں،پس کیا میں ان کی جانب سے خیرات کرسکتا ہوں ؟فرمانِ رسالتﷺہوا،ہاں(تم)ان کی جانب سے خیرات کرو۔


    تیرے نقشِ پاء کا پتہ پانے والے
    جہاں بھر کے آقاﷺ وہی راہنما ہیں

  • Mannat Ka Pura Kerna

    منت کا پورا کرنا
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر33 صفحہ50
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر34 صفحہ51

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 33 Page 50

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 34 Page 51


    اسی طرح حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہؓ نے رسول اللہ ﷺسے فتویٰ پوچھا اور عرض کیا کہ میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمے ایک منت کا پورا کرنا باقی ہے،ارشاد فرمایا،تم ان کی طرف سے پوری کرو۔


    حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے جو بنی ساعدہ کی برادری سے تھے،جب ان کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا تو یہ ان کے پاس موجودنہ تھے،یہ بارگارہِ رسالتﷺمیں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اللہﷺمیری والدہ محترمہ کامیری عدم موجودگی میں انتقال ہوگیا ہے، اگرمیں اِن کی جانب سے کچھ صدقہ خیرات کروں تو کیا انھیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے،ارشاد فرمایا،ہاں...عرض گزار ہوئے تو میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرامنحراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔


    تیرےﷺ پاک وہ زمانے مہتاب کی مثل ہیں
    شبِ زندگی میں روشن منزل دِکھا رہے ہیں

  • Hazrat Khuzaima R.A Ki Gawahi Do K Brabar

    حضرت خزیمہؓ کی گواہی دو کے برابر
    بخاری شریف جلد2 ،حدیث نمبر72 ،صفحہ69

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 72 Page 69


    حضرت زیدؓ بن ثابت سے روایت ہے،جب مختلف صحائف سے نقل کرکے قرآن مجید ایک جگہ کیا گیاتو مجھے سورہٗ الاحزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی حالانکہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس کی تلاوت کرتے ہوئے سُنا تھا،مجھے وہ آیت حضرت خزیمہؓ بن ثابت انصاری کے سوا اور کسی کے پاس سے نہ ملی،جن کی گواہی کو اللہ کے رسولﷺ نے دوآدمیوں کی گواہی کے برابر بنادیا تھا۔


    اس حدیث سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو خصوصی اختیارات عطا فرمائے ہیں حالانکہ قرآنِ پاک کے مطابق حدودوقصاص میں کم از کم دو مردوں کی گواہی ضروری ہے لیکن رسول اللہﷺ نے اپنے خصوصی اختیارات سے تنہا حضرت خزیمہؓکی گواہی دو مردوں کے برابر قرار دے دی۔


    شاہواں توں افضل نے خادم تساڈے
    معزز زمانے تے شاہکار تیرےﷺ

  • Jannati Honay Ki Khabar

    جنتی ہونے کی خبر
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر74صفحہ70

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 74 Page 70


    حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت حارثہ بن سراقہؓ کی والدہ محترمہ دربارِ نبوتﷺ میں حاضر ہوکرعرض گزار ہوئیں،یانبی اللہﷺ!مجھے حارؓثہ کا حال بتائیے جو بدر کی لڑائی میں مارا گیا تھا،جبکہ اسے نامعلوم تیرلگا تھا،اگر وہ جنت میں ہے تومیں صبر سے کام لُوں،اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو میں دل کھول کر اس پر گریہ زاری کروں؟ارشاد فرمایا،اے امِ حارثہؓ!وہ جنت کے باغوں میں ہے اور بے شک تیرے لختِ جگر نے فردوسِ اعلیٰ پائی ہے۔


    معلوم ہوا کہ حضورﷺسے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو تمام غیب کا جاننے والا بنا کربھیجا ہے اسی لیے جب حضرت حارثہؓ کی والدہ محترمہ نے حضورﷺسے حضرت حارثہؓ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کیا معلوم یہ باتیں توصرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے بلکہ آپ نے وہیں بیٹھ کر نگاہ اُٹھائی اور حضرت حارؓثہ کے مقام کی خبر دے دی کہ وہ جنت الفردوس میں مزے لے رہا ہے اور یہ بتا کر آپ نے واضح فرمادیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام طاقتیں عطا فرمائیں ہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جن کی نگاہ سے جنت اور عرشِ معلیٰ کے حالات پوشیدہ نہیں اُن کے سامنے اس دنیا کے حالات کی خبر دینا کیا معنی رکھتا ہے،اللہ تعالیٰ حق ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔امین


    مخفی صداقتوں کا شاہا امین تو ہے
    عمرانؔ میرے آقاﷺ اعتبارِ دو جہاں ہیں

  • Rasoolon Kay Peerokar

    رسولوںؑ کے پیروکار
    بخاری شریف جلد2 باب نمبر120 صفحہ97

    Bukahri sharif Jild number 2 Chapter number 120 Page 97


    حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سفیانؓ نے بتایا کہ مجھے قیصرِ روم نے کہا،میں تم سے یہ بات پوچھتا ہوں کہ تمھاری قوم کے سردار رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ ہیں یاغریب لوگ؟میں نے بتایا کہ غریب غربا،تو اس نے کہا، رسولوںؑ کے پیروکار غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔


    عاصی کو آس آقاﷺ تیرے آسرے سے ہر دَم
    جن کا نہیں ہے کوئی سینے سے تو لگائے

  • Haseen O Jameel Aqa S.A.W.W

    حسین وجمیل اور دلیرآقاﷺ
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر168صفحہ101
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر121صفحہ84
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر126صفحہ86

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 168 Page 101

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 121 Page 84

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 126 Page 86


    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺسب لوگوں سے حسین وجمیل اور دلیر تھے،ایک رات اہلِ مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا تو لوگ آواز کی جانب دوڑے تو آپﷺلوگوں کو واپس آتے ہوئے ملے کہ صورتِ حال کی خبر بھی لے آئے، اس وقت نبی کریمﷺحضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور تلوار آپ کی گردن مبارک میں لٹک رہی تھی،آپ لوگوں سے فرما رہے تھے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے پھر ارشاد فرمایا،ہم نے اس گھوڑے کو دریا کی طرح تیز رفتار پایا ہے۔


    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ جن کے دل محبتِ رسولﷺسے منور ہوتے ہیں اُن کو حضورﷺکے اوصاف بیان کرنے ہی میں لطف آتا ہے اور نہ ہی اُن کی نظر میں کوئی اور حسین وجمیل اوردلیرہوسکتا ہے،ہوبھی کیسے؟جب اللہ تعالیٰ نے اُن سے حسین وجمیل کسی کو پیدا ہی نہیں فرمایا،اسی حدیث کے آخر میں حضور ﷺنے حضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے تو اسے دریا کی طرح تیز رفتار پایا ہے ،اس سے پہلے یہی گھوڑا نہایت سست رفتارمشہور تھا مگر جب اس کے ساتھ حضورﷺ کا جسمِ اقدس مس ہوا تو پھر یہی گھوڑا بہت تیز رفتار ہوگیا اور اس واقعے کے بعد کوئی گھوڑا اُس سے سبقت نہیں لے سکا۔

    بڑی پُرکشش ہے بڑی خوبصورت حجابِ بشر میں محمدﷺ کی صورت ہے جس سمت چمکا وہ عمرانؔ جلوہ پَل میں دُھلی ہے کفُر کی کدورت

  • Mola Ali R.A Aur Khebar Ki Fatah

    مولا علیؓ وخیبر کی فتح
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر201 صفحہ115
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر226 صفحہ125
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر898 صفحہ419
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر899 صفحہ419
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر1364 صفحہ632

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 201 Page 115

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 226 Page 125

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 898 Page 419

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 899 Page 419

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 1364 Page 632


    حضرت سلمہؓبن اکوع فرماتے ہیں کہ جنگِ خیبر کے لیے حضرت علیؓ آنکھیں دکھنے کے باعث نبی کریم ﷺکی فوج میں شامل نہیں ہوئے تھے ، انہوں نے سوچا کہ میں رسول اللہﷺ کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گیا ہوں پس حضرت علیؓ نکل کھڑے ہوئے اور رسول اللہﷺ سے جاملے،جب شام ہوئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح مرحمت فرمائی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا،صبح میں یہ جھنڈا ضرور ایسے شخص کو دوں گا یا ایسے شخص کے سپرد کروں گا جسکو اللہ اور اس کا رسولﷺدوست رکھتے ہیں یا یہ فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو دوست رکھتا ہے،اللہ تعالیٰ اسے فتح سے نوازے گا،اچانک ہماری ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی حالانکہ ہمیں ان کے آنے کی کوئی امید نہ تھی پس رسولﷺنے جھنڈا انہیں(سرکاؓرِ علی کو)عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح مرحمت فرمائی ۔


    مذکورہ روایت حضرت سہل بن سعدؓ کے حوالہ سے بھی رقم ہے اس حدیث مبارکہ سے واضح ہے سرکارِ علی المرتضیٰؓ کو اللہ تعالیٰ کے محبوب حضور محمد مصطفیﷺ نے مشکل کے وقت بلوا کر جھنڈا عطا کیا اور ساتھ وضاحت فرما دی کہ کل میں جھنڈا اُسے دوں گا جسے اللہ تعالیٰ و اُس کا رسولﷺ محبوب رکھتے اور وہ خود بھی اللہ تعالیٰ و رسول اللہﷺ کو محبوب رکھتا ہے ایسی حالت میں حضور نبی کریمﷺ نے مذکورہ ارشاد فرمایاجبکہ خیبر کا قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا حالانکہ یہ کام خود نبی کریمﷺبھی کرسکتے تھے مگر آپ نے یہی کام سرکار علیؓ سے کروا کر ہمیشہ کیلئے ثابت کردیا کہ جب تم مولا علیؓیعنی شہنشاہِ ولایت سے مدد مانگو گے تو کوئی شرک یا بدعت یعنی نیا کام نہیں کرو گے بلکہ خود مصطفی کریم ﷺکی سنتِ کے مطابق عمل کرؤ گے، اسی لیے آج بھی اہلِ ذکر مولا علیؓ کو مشکل کشا مانتے ،جانتے اور پکارتے ہیں۔


    جن کی ضرب نے پاش کیے باطل کے لشکر زور آور
    حیران ہیں دِیکھو ارض و سما حق مولا علیؓ حق مولا علیؓ

  • Khazanon Ki Kunjian

    خزانوں کی کنجیاں
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر229 صفحہ126

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 229Page 126


    حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،ایک روز جبکہ میں سو رہا تھاتومیرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں۔


    معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اپنے محبوبﷺکو عطا فرمادی ہیں یعنی اس دارالعمل سے جس کو جو کچھ ملے گا وہ حضورﷺہی کی مرضی اور عطا سے حاصل ہوگا،زمین کے بسنے والے تمام ذی روح حضورﷺ ہی کے سائل اور محتاج ہیں چاہے کوئی مانے یانہ مانے،کوئی حلال کرکے کھائے یا حرام کرکے،کوئی شکر ادا کرکے کھائے یا ناشکری کرکے،مگر ملتا سبھی کو اُسی سرکارﷺ سے ہے۔


    میں آزاد عمرانؔ ہر دم فکر سے
    ہاتھوں میں دامن سخی کا لیا ہے

  • Abu Jahal Ka Qatal

    دوبچوں نے ابوجہل کو قتل کیا
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر381 صفحہ191

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 381 Page 191


    حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دوران میں صف میں ذرا دم لینے کیلئے بیٹھ گیا تھا،اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دوکم سِن انصاری لڑکے نظر آئے،دل میں خیال گزرا کہ میں جوانوں کے درمیان ہوتا،ان میں سے ایک لڑکا مجھ سے کہنے لگا،چچا جان!آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں،میں نے جواب دیا،ہاں،لیکن اے بھتیجے!تمھیں اس سے کیا کام ہے؟لڑکے نےجواب دیا،مجھے معلوم ہواہے کہ وہ رسول اللہﷺکو گالیاں دیتا تھا،قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگرمیں اُسے دیکھ لوں تو میرا جسم اس وقت تک اس کے جسم سے جدا نہیں ہوگاجب تک ہم میں سے کسی ایک کو موت نہ آدبوچے،میں اس کی گفتگو سُن کر حیران رہ گیا،دوسرے لڑکے نے بھی مجھے دباتے ہوئے ایسی ہی گفتگو کی،دیر نہ گزری کہ ابوجہل لوگوں میں چلتا پھرتا نظر آیا،میں نے کہا،جسے تم پوچھتے ہو،تمھارا نشانہ وہ شخص ہے،دونوں لڑکے اپنی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے،اور پے در پے وار کرکے اُسے پچھاڑ دیا ، پھر دونوں بارگاہِ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی،آپ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کس نے اُسے قتل کیا ہے؟دونوں میں سے ہرایک نے کہا،میں نے قتل کیا ہے،فرمایا،کیا تم نے اپنی خون آلودہ تلواریں صاف کرلی ہیں؟دونوں نے عرض کیا ،جی نہیں،آپ نے تلواریں ملاحظہ کرکے فرمایا، تم دونوں نے اسے قتل کیاہے۔


    شاہواں توں افضل نے خادم تساڈے
    معزز زمانے تے شاہکار تیرےﷺ
    تیریﷺ پاک نسبت دا صدقہ ایہہ سارا
    لاخوف خادم نے سرکارﷺ تیرے

  • Hum Rasool Allah S.A.W.W. Per Qurban Honay Niklay

    ہم رسول اللہﷺپر قربان ہونے نکلے
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر382 صفحہ 192

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 382 Page 192


    حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ جنگِ حنین کے لیے ہم رسول اللہﷺکے ساتھ آپ پر قربان ہونے کے لیے نکلے۔


    اکیسر ہے اُنکی خاکِ لحد جو تجُھ پہ مِٹے بخدا شاہا
    ہیں سر وہ بلند تر برسوں سے جو تجھ پہ کٹے بخدا شاہا

  • Zameen Allah Tala O Rasool Allah S.A.W.W Ki Hay

    زمین اللہ اور اُسکے رسولﷺ کی ہے
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر404 صفحہ 205

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 404 Page 205


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں تھے کہ نبی کریمﷺمسجد سے باہر تشریف لے گئے اور ہم سے فرمایا،یہود کی طرف چلو،پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ بیتِ مدراس پہنچے،پس آپ نے یہودیوں سے فرمایا،اسلام لے آؤ،محفوظ ہوجاؤگے،ورنہ اچھی طرح جان لوکہ زمین اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ہے اور بیشک میں تمھیں اس جگہ سے نکال دینا چاہتا ہوں،پس جس کے پاس مال ہے وہ اسے فروخت کردے،ورنہ معلوم ہوجانا چاہیے کہ بے شک زمین اللہ کی اور اس کے رسولﷺ کی ہے۔


    اس حدیث پاک میں حضورﷺنے واضح طور پر یہودیوں سے فرمایا کہ اچھی طرح جان لو کہ زمین اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکی ہے،معلوم ہوا کہ جہاں جہاں خدا تعالیٰ کی خدائی کاسلسلہ ہے وہاں وہاں پر محمدمصطفیﷺکی مصطفائی سایہ فگن ہے،جب زمین اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکی ہے تو اس پر موجود ہر چیز پر بھی اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکی بادشاہی ہے۔


    حُسنِ جمالِ ہستی خیرات ہے تمھاری
    تخلیق کا سبب ہو دو جہان مانتے ہیں

  • Naam E Muhammad Lekhna Ushaaq Ka Tarika Hay

    محمد رسول اللہﷺ لکھنا عشاق کا طریقہ ہے
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر419 صفحہ 214
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر1395 صفحہ 644

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 419 Page 214

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 1395 Page 644


    حضرت ابن عازبؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺنے عمرہ کا ارادہ فرمایا تو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی اہلِ مکہ سے اجازت لینے کیلئے ایک آدمی بھیجا،انہوں نے شرط عائد کی کہ تین رات سے زیادہ مکہ میں ٹھہرنا نہیں ہوگا، راوی کا بیان ہے کہ شرائط نامہ حضرت علیؓ بن ابوطالب لکھ رہے تھے،انہوں نے لکھا یہ ہیں وہ شرائط جن پر محمد رسول اللہﷺ نے فیصلہ کیا ہے،کفارکہنے لگے،اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو روکتے کیوں اور آپ سے بیعت نہ کرلیتے، لہٰذا یوں لکھیے کہ ان باتوں پر محمد بن عبداللہ نے فیصلہ کیا ہے،آپ نے فرمایا،خداکی قسم،میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں اور خداکی قسم،میں اللہ کا رسولﷺ بھی ہوں، لہٰذا حضرت علیؓ سے کہا گیا کہ محمد رسول اللہ مٹا دیں،حضرت علیؓ نے کہا،خدا کی قسم، میں تو اسے کبھی نہیں مٹاوں گا۔


    معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہﷺ لکھنا عشاق کا طریقہ ہے اور اسے برداشت نہ کرنا کفار کا شیوہ ہے،یعنی محمد اللہ کے رسولﷺ ہیں ہمیشہ کیلئے حضورﷺپر درِنبوت بند کردیا گیا ہے ،یقیناًاُن کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا،پھر وہ ہمیشہ کیلئے حاضر و ناظر بھی ہیں جس کا بہت بڑا ثبوت کلمہ شریف کا حصہ رسالت بھی ہے یعنی رسول اللہﷺ کو حاضر وناظر جاننا اور اُس پر تصدیقِ قلب کے ساتھ ایمان رکھنا ،اور اسی تحریر کو مسجدوں پر لکھنا۔نیز حدیث نمبر1395کے آخر میں ہے کہ رسول اللہﷺنے سرکارِ علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔


    کیسے حُکم چلے نہ نوری پہ اُس بشر کا
    مسکن بنا لے دِل کو طیبہ کے تاجورﷺ کا
    جھگڑے مِٹا کے سارے خود کو مِٹا دے اُن پہ
    ذرا دیکھ آزما کے نسخہ یہ کاریگر کا

  • Rehmat Ghazab Per Ghalab

    رحمت غضب پر غالب
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر427 صفحہ218

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 427 Page 218


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرما چکا تولوحِ محفوظ میں جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے،لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پرغالب آگئی ہے۔


    تیری رحمتوں کے سائے دونوں جہاں پہ چھائے
    سایہء فگن ہیں ایسے سیاہ کار سب چھپائے

  • Allah Key Mehboob Banday

    اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر442 صفحہ227
    بخاری شریف جلد3 حدیث نمبر977 صفحہ386

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 442 Page 227

    Bukahri sharif Jild number 3 Hadith number 977 Page 386


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیلؑ کو ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو،پس حضرت جبرئیل ؑ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں،پھر حضرت جبرئیلؑ آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے لہٰذا تم بھی اُس سے محبت کرو،پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں،پھر زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔


    اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی اپنے خاص بندے سے محبت کرتا ہے تو پھر اس محبت کو صرف اپنے تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ حضرت جبرئیلؑ کو ندا کرتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تو بھی فلاں سے محبت کر پھر یہ محبت کا سلسلہ حضرت جبرئیلؑ تک بھی محدود نہیں رہتا بلکہ حضرت جبرئیلؑ تمام آسمانی مخلوق کو ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں اپنے مقبول ومحبوب بندے سے محبت فرماتا ہے چنانچہ تم بھی اس سے محبت کرو پھر یہ سلسلہ زمین تک پہنچ جاتا ہے اور زمین پر بسنے والوں کے دلوں میں اُسی خاص بندے کی محبت ڈال دی جاتی ہے،پھر لوگوں کی زبانوں پر خاص بندے کی عظمت کے نعرے شروع ہوجاتے ہیں اور جاہل لوگ اُسے شرک بتانے لگتے ہیں اور الفت کو پرستش قرار دینے لگتے ہیں،حالانکہ اس محبت میں خود اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیلؑ ودیگر آسمانی مخلوق اور زمین والوں کو شریک فرماتاہے، اللہ تعالیٰ شیطان جیسی نامراد توحید سے محفوظ رکھے جس کا انجام لعنت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ امین


    اللہ رسولِﷺ اکرم موجود ہیں یقینا
    معلوم ہو رہا ہے انوارِ اولیاء سے

  • Panch Jaan Daar Fasaq

    پانچ جاندار فاسق ہیں
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر541 صفحہ 256
    بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر542 صفحہ 256

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 541 Page 256

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 542 Page 256


    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،پانچ جانور فاسق ہیں،انہیں حرم میں بھی مار دینا چاہیے،چوہا،بچھو،کوا،چیل اور کاٹنے والا کتا۔

  • Pani Pilaney Say Bakhshish

    پانی پلانے سے بخشش
     بخاری شریف جلد2 حدیث نمبر548 صفحہ 258

    Bukahri sharif Jild number 2 Hadith number 548 Page 258

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،ایک فاحشہ عورت کی صرف اس لیے مغفرت فرمادی گئی کہ اس کا گزر ایک ایسے کتے کے پاس سے ہوا جو ایک کنوئیں کی منڈیر کے پاس مارے پیاس کے لبِ دم پڑا ہانپ رہا تھا،قریب تھا کہ پیاس سے مرجاتا،اس نے اپنا موزہ اُتار کردوپٹے سے باندھا اور پانی نکال کراسے پلایا تو یہی اس کی بخشش کا سبب ہوگیا۔


    اس سے معلوم ہواکہ مخلوقِ خدابالخصوص بے سہاروں کا سہارا بننااور ان کے کام آنا ،اللہ تعالیٰ کو بڑا ہی پسند ہے۔

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)