• Hajr e Aswad Hazrat Umar R.A

    حجرِ اسود و حضرت عمرؓ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1496صفحہ نمبر630

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1496 Page 630


    حضرت عمرؓ حجر اسودکے پاس آئے اور اُسے بوسہ دے کر کہا،میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع،اگر میں نے نبی کریمﷺکوتجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
    اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ حضرت عمرفاروقؓ اپنا عقیدہ بتا رہے ہیں کہ میں اس پتھر کو بوسہ صرف اس لیے دے رہا ہوں کہ میرے آقاﷺنے اسے بوسہ دیا ہے یعنی صاحبِ ایمان کے نزدیک سب سے پہلی شرط حضورﷺکی ذات ہے جیسا حضورﷺنے کیا وہی کرنا عبادت ،جس سے روکا ،اُس سے رُکنا عبادت،جن پتھروں کو کنکریاں ماری،اُن کو کنکریاں مارنا عبادت اور جسے بوسہ دیا اُسے بوسہ دینا عبادت ،معلوم ہوا کہ اصل اصول بندگی اُس تاجور کی ہے۔
    اسی طرح ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں۔


    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1504صفحہ نمبر633
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1506صفحہ نمبر634

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1504 Page 633

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1506 Page 634


    زید بن اسلم کے والد ماجد سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حجرِ اسودسے کہا،خدا کی قسم!میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے،نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع،اگر میں نے رسول اللہﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ دیتا۔
    کتنے عظیم تر ہیں تیرے باوفا وُہ بندے
    اُلفت میں جو تمھاری جینا سِکھا گئے ہیں

  • Nisbat Se Jagah Ka Mokaam

    حضورﷺکی نسبت سے جگہ کامقام
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1498صفحہ نمبر631


    نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓجب کعبہ میں داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے چلے جاتے جہاں سے داخل ہوئے تھے اور دروازے کی طرف پیٹھ کرکے چلتے رہتے یہاں تک کہ ان کے اور سامنے والی دیوار کے درمیان قریباً تین گز کا فاصلہ رہ جاتاکیونکہ اُس جگہ نماز پڑھنے کا قصد کرتے جو اُنھیں حضرت بلالؓ نے بتائی کہ رسول اللہﷺنے اس جگہ نماز پڑھی تھی ۔
    حضرت ابن عمرؓ کا اُس مخصوص جگہ نماز پڑھنا کہ جہاں رسول اللہﷺنے نماز پڑھی تھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صحابہ کبارؓ کی نظر میں حرم شریف کے اندر بھی وہی جگہ زیادہ محبوب ہے جس جگہ نے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے محبوب ﷺکے جسم اقدس کو مس کیا ہے،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بھی پورے شہرِ مکہ کی (پارہ۳۰ میں) اپنے محبوب کی وجہ سے قسم اٹھائی،ایسی ہی ایک اور روایت کا مطالعہ فرمائیں۔


    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1505صفحہ نمبر633

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1505 Page 633


    حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے تنگی اور آسانی میں ان دونوں رکنوں کو بوسہ دینا ترک نہیں کیاجب سے میں نے رسول اللہﷺکو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔
    بقول راقم


    عبادت خدا کی ساری تقلیدِ شاہِ طیبہﷺ
    پَردے میں رہنے والے پردہ اُٹھا گئے ہیں

  • Hukm E Mustafa S.A.W.W Hukam E Khuda Hay

    حکمِ مصطفیﷺحکمِ خدا ہے
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1621 صفحہ نمبر671

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1621 Page 671


    حضرت عبداللہؓ بن عمروبن العاص سے روایت ہے کہ وہ موجود تھے جب نبی کریمﷺیوم النحر کو خطبہ دے رہے تھے،ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہواکہ میں نے فلاں کام سے پہلے فلاں کام کرلیا ہے؟پھر دوسرا کھڑا ہوکرعرض گزار ہوا کہ میں نے فلاں کام فلاں کام سے پہلے کرلیا یعنی قربانی سے پہلے سرمنڈالیا یا رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی یا اسی طرح کے سوالات،نبی کریمﷺنے اُن سب کے متعلق فرمایا کہ اب کرلو اور کوئی مضائقہ نہیں اُس روز آپ سے جس بات کے متعلق بھی پوچھا گیا تویہی فرمایا کہ اب کرلو اور کوئی ڈر نہیں ہے۔


    معلوم ہواکہ حضورﷺکی مرضی ہی رب تعالیٰ کی مرضی ہے جس طرح حضور ﷺچاہتے ہیں اللہ تعالیٰ وہی قانون بنا دیتا ہے اور وہی طریقہ رب تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور دوسری بات کہ حضورﷺنے ہمیشہ دوسروں کیلئے آسانی کا راستہ پیدا فرمایا اور سختی کو پسند نہیں فرمایا۔

  • Ikhteyarat E Mustafa S.A.W.W

    اختیاراتِ مصطفیﷺ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1665 صفحہ نمبر672

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1665 Page 672


    حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے یوم النحر کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا،کیا تم جانتے ہوکہ یہ کونسا دن ہے؟ ہم عرض گزار ہوئے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ خاموش رہے اور ہم سمجھے کہ شاید اس کا کوئی اور نام لیں گے،فرمایا،کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کیوں نہیں. فرمایا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کہ اللہ اور اُسکا رسول بہتر جانتا ہے، آپ خاموش رہے تو ہم سمجھے کہ اس کا کوئی اور نام لیں گے،فرمایاکہ کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ہم عرض گزار ہوئے ضرور،فرمایا یہ کونسا شہر ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کہ اللہ بہتر جانے اوراُس کا رسول.آپ خاموش رہے تو ہم سمجھے کہ شاید اس کا کوئی اور نام لیں گے.فرمایا کہ کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کہ ضرور ہے۔


    اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ صحابہ کبارؓ بارگاہِ نبوی میں کسقدر باادب ہیں اور اُن کا عقیدہ واضح ہے کہ حضورﷺ مختارِ کُل ہیں جب حضورﷺنے یوم کے متعلق پوچھا تو جاننے کے باوجود عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں اور حضورﷺکی خاموشی سے اندازہ لگایا کہ حضورﷺ اس کانام تبدیل فرما دیں گے یعنی حضورﷺجوچاہیں وہی کرسکتے ہیں اسی طرح مہینے اور شہر کے متعلق صحابہ کبارؓ نے باادب عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں پھر حضورﷺ کی خاموشی سے وہی اندازہ لگایا کہ ضرور نیا نام ارشاد فرمائیں گے یعنی صحاؓبہ کا عقیدہ واضح ہے کہ وہ ہر سوال کے جواب میں یہی عرض کرتے کہ اللہ اور اُسکا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں اور جو کچھ کرنا چاہیں وہی کرسکتے ہیں، ہرسوال کے جواب میں صحاؓبہ کا کہنا کہ اللہ اور اسکا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں یہی واضح کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو ہر چیز کا علم اور اختیار دیا ہے۔


    مُختارِ کُل وہ شاہِﷺ دوسرا ہیں
    تخلیقِ عالم میرے مصطفیﷺ ہیں
    جملہ رسولوں کے اوصافِ اکمل
    تیریﷺ ذات میں وہ سبھی بخدا ہیں

  • Hazoor S.A.W.W  Wo Dekh Sakty Hay Jo Dosray Nahi Dekh Saktay

    وہ دیکھتے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1751 صفحہ نمبر714

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1751 Page 714


    حضرت اُسامہ بن زیدؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺمدینہ منورہ کے مکانات میں سے ایک اُونچے مکان پر چڑھے تو فرمایا،کیا تم دیکھ رہے ہوجو میں دیکھتا ہوں؟ بے شک میں تمھارے گھروں پر فتنوں کے گِرنے کی جگہوں کو دیکھ رہاہوں، جیسے بارش کے قطروں کے گِرنے کے مقامات۔


    اس حدیث سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو وہ سب کچھ دیکھنے کی طاقت عطا فرمائی ہے جسے کوئی دوسرا نہیں دیکھ سکتا اسی لیے فرمایاکہ کیا تم دیکھ رہے ہوجسے میں دیکھ رہاہوں۔


    حادثوں کا سلسلہ دُور تک تھا چار سُو
    بچا گئی وُہ چشمِ تَر یہ کاروانِ زندگی

  • Dejal Dakhal Nahi Ho Ga

    دجال داخل نہیں ہوگا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1754صفحہ نمبر715

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1754 Page 715


    حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،کوئی شہر ایسا نہیں جس کو دجال برباد نہیں کردے گاسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے.ان کے راستوں میں سے کوئی راستہ ایسا نہیں ہوگا جس پر صف بستہ فرشتے حفاظت نہ کررہے ہوں گے پھر مدینہ منورہ کے رہنے والوں کو تین جھٹکے لگیں گے جن کے باعث اللہ تعالیٰ ہرکافر اور منافق کواس سے نکال دے گا۔


    اس حدیثِ پاک میں بھی غیب دان نبیﷺنے دجال کے فتنے کے متعلق اپنے عشاق کو آگاہ فرمایا کہ دجال کا فتنہ بہت سخت ہوگا وہ تمام شہر برباد کردے گا لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا کیونکہ وہاں فرشتے صف بستہ دربانی کے فرائض انجام دے رہے ہونگے جواُس کو داخل نہیں ہونے دیں گے یہ اس لیے کہ یہ دونوں شہر اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی نشانیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جس طرح حضورﷺنے فرمایا کہ مکہ مکرمہ کو حضرت ابراہیمؑ نے حرم بنایا اور میں مدینہ منورہ کو حرم بناتا ہوں،اسی لیے اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں کہ جن شہروں کو میرے محبوب بندوں نے حرم بنایا وہاں دجال داخل ہوسکے،یہ بھی اس حدیث میں واضح ہے کہ ان شہروں میں کافروں اور منافقوں کا بسیرا ہونا کوئی عجیب بات نہیں مگر جب دجال کا فتنہ ظاہر ہوگا تو تمام فتنہ پسند اور فتنہ پھیلانے والے زلزلوں کے جھٹکوں کے باعث اُٹھا کر باہر پھینک دئیے جائیں گے اور وہ سبھی دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔مدینہ منورہ کے متعلق حضور ﷺ کی دعا کا مطالعہ فرمائیں اور اس شہر کی عظمت کا اندازہ لگائیں۔


    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1758 صفحہ نمبر717

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1758 Page 717


    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا کی،اے اللہ! مدینہ منورہ میں اُس سے دوگنی برکت رکھ جتنی تونے مکہ مکرمہ میں رکھی ہے۔

  • Hazoor S.A.W Ki Misal Nahi

    حضور ﷺ کی مثل نہیں
    بخاری شریف جلد 1 حدیث نمبر1794 صفحہ نمبر729
    بخاری شریف جلد 3 حدیث نمبر2105 صفحہ نمبر837

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1794 Page 729

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 2105 Page 837


    ’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے وصال کے روزے رکھے تو لوگوں نے بھی رکھے اُنھیں تنگی ہوئی توآپ ﷺ نے اُنھیں منع فرمایا،عرض گزار ہوئے کہ آپ ﷺ تورکھتے ہیں، فرمایا کہ میں تمھاری مثل نہیں ہوں،مجھے کھلایا پلایا جاتا ہے‘‘


    اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺکی کوئی مثل اور مثال نہیں ہے بعض لوگ چند ظاہر داری کی باتیں موضوع بناکر برابری کے دعوے کھڑے کردیتے ہیں جن سے اُن کے جملہ اعمال نیست ونابود کردئیے جاتے ہیں ،اُن کو یہ تو نظر آتا ہے کہ ہماری طرح حضورﷺکے بھی دوہاتھ تھے مگر یہ دکھائی نہیں دیتا کہ حضورﷺکے ہاتھوں سے پانی کے چشمے جاری ہوتے اور اُن ہاتھوں کواللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ قرار دیتا ہے ،اسی طرح اُن کو دوپاؤں تو دکھائی دیتے ہیں مگر یہ دکھائی نہیں دیتا کہ رسول اللہﷺکے نقش قدم کی اللہ تعالیٰ قرآن میں قسم اُٹھاتا ہے،اسی لیے آقاﷺنے فرمادیا کہ تم میں سے کوئی بھی میری مثل نہیں۔


    تیری حقیقتوں سے واقف تو لَم ےَزل ہیں
    اوصاف تیرے آقاﷺ لابیان مانتے ہیں
    حُسنِ جمالِ ہستی خیرات ہے تمھاری
    تخلیق کا سبب ہو دو جہان مانتے ہیں

  • Mukhtar E Qul Nabi Allah S.A.W.W

    مختارِ کُل نبی ﷺ
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر1806 صفحہ 733
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر 1807صفحہ 735
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر336 صفحہ 169
    بخاری شریف جلد3حدیث نمبر1096 صفحہ 430

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1806 Page 733

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1807 Page 735

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 336 Page 169

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 1096 Page 430


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ’’ ہم نبی کریم ﷺکی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی حاضرِ بارگاہ ہوکر عرض گزار ہوا،یارسول اللہﷺ!میں ہلاک ہوگیا،فرمایا کہ تمھیں کیا ہوا؟عرض کی کہ میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں،رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کیا تمھیں آزاد کرنے کے لیے ایک گردن(یعنی غلام) میسرہے؟عرض کی نہیں،فرمایا کہ کیا تم دو مہینوں کے متواتر روزے رکھ سکتے ہو؟عرض گزار ہوا کہ نہیں،فرمایا کہ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھِلا سکتے ہو؟ عرض کی نہیں ، (یعنی اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا) پس نبی کریمﷺ کچھ دیر خاموش رہے اور ہم وہیں تھے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک عرق پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں،عرق ایک پیمانہ ہے، فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟سائل عرض گزار ہوا کہ میں حاضر ہوں، فرمایا کہ انھیں (یعنی کھجوریں)لے کر خیرات کردو(تمھارے روزے کا کفارہ ادا ہوجائے گا) وہ آدمی عرض گزار ہوا،یارسول اللہﷺ!کیا اپنے سے زیادہ غریب پر؟خدا کی قسم! اِن دونوں سنگلاخ میدانوں کے درمیان کوئی گھر والے ایسے نہیں جو میرے گھر والوں سے زیادہ غریب ہوں،پس نبی کریمﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دانت نظر آنے لگے، پھر فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔


    اس حدیث سے واضح ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کوبے شمار اختیارات عطا فرمائے ہوئے تھے،اسی لیے جب سائل نے حضورﷺ کی بارگاہ میں سوال کیا تو سرکارﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تم غلام آزاد نہیں کرسکتے اور نہ ہی متواتر دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو اور نہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھِلا سکتے ہو تو اب اس مسئلہ کا میرے پاس کوئی حل نہیں ،میرے اختیارات تو وہی تھے جو میں نے تمھیں بتا دئیے،نہیں میرے دوستو!میرے آقاﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اَن گنت اختیارات عطا فرمائے ہیں اسی لیے حضورﷺنے سوالی کو مایوس نہیں فرمایا، اور نہ میرے آقاﷺنے یہ فرمایا کہ تم مجھ سے کیوں مانگنے آگئے ہو،جاؤ اللہ تعالیٰ کے حضور سوال کرؤ،وہی تمھاری ضرورت پوری فرمائے گا،سوالی بھی کوئی عام نہیں تھا بلکہ حضورﷺ کا صحابی تھا جسے معلوم تھا کہ محمد مصطفی ﷺکی عطا ہی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جب بھی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے تو حضورﷺکے صدقہ ہی عطا فرماتا ہے اسی لیے تو رب تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں واضح اعلان فرما دیا ہے۔


    ترجمہ!’’اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب(ﷺ) تمہارے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمادیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول فرمانے والا مہربان پائیں‘‘۔
    (پارہ 4،النسآ،آیت64

    اس آیہء کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے گناہ کی معافی مانگنے والوں کو درِ مصطفیﷺپر حاضر ہونے کا حکم صادر فرمایاہے،معلوم ہوا کہ حضورﷺ احسان فرمانے والے مختارِ کُل نبیﷺہیں،ایک بات یہ واضح ہوئی کہ گناہ تو کیا رب کا مگر جانا کہاں ہے؟ صرف بارگاہِ رسول اللہﷺ پر،یعنی درِ مصطفیﷺ ہی درِ خدا ہے تیسرا اہم حکم یہ ہے اگر حضورﷺ تمھاری توبہ قبول کرتے ہوئے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کروائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے،یعنی حضورﷺ کو راضی کیے بغیر رب تعالیٰ راضی نہیں ہوگا۔
    بقول راقم


    جن کا نہیں سہارا اُن کا وہ آسرا ہیں
    حاجت روا دَوا ہیں واللہ حبیبِ اللہ ﷺ

  • Ustan E Hannana

    اُستنِ حنّانہ
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر1955 صفحہ 783
    بخاری شریف جلد2حدیث نمبر792 صفحہ 369

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1955 Page 783

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 792 Page 369


    حضرت جابربن عبداللہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہﷺکی بارگاہ میں عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ!کیا میں آپ کیلئے ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ بیٹھا کریں کیونکہ میرا ایک غلام بڑھئی ہے،فرمایا اگر تم چاہو. پس آپ کیلئے منبر بنادیا گیا جب جمعہ کے روز نبی کریمﷺاس منبر پر جلوہ افروز ہوئے جو آپ کیلئے بنایا گیا تھاتو کھجور کی وہ لکڑی چیخنے لگی جس کے پاس آپ خطبہ دیا کرتے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھٹ جاتی..پس نبی کریم ﷺ نیچے اُترے اور اُسے لے کر سینے سے لگا لیا،وہ لکڑی بچے کی طرح روئی جس کو چُپ کرایا جاتا ہے،یہاں تک کہ اُسے قرار آگیا۔
    منبر بننے سے پہلے حضورﷺکجھور کی جس خشک لکڑی کے ساتھ پشت ٹیک کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے،جب علہحدہ منبر بن گیا توحضورﷺاُس پر خطبہ ارشاد فرمانے کیلئے بیٹھے لیکن کجھور کی وہ خشک لکڑی جس کوآپ کی پشت لگنے کی وجہ سے صرف زندگی نہیں بلکہ حضورﷺکی محبت سے قوتِ گویائی بھی حاصل ہوگی ،اُس نے سرکارﷺکے فراق میں چیخنا شروع کردیاجس کی آواز وہاں موجود تمام صحابہ نے سُنی،حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ یوں محسوس ہوا کہ یہ عنقریب پھٹ جائے گی مگر حضورﷺنے اُس اُستنِ حنانہ کوقریب جاکر سینے سے لگا لیاجس سے اُسے قرار آگیا۔


    اِک دعویٰ نہیں میرا شیدائی خدائی ہے
    ہر دِل ہے تمنائی دِلدار محمد ﷺ ہیں

  • Torait Mein Tareef

    توریت میں حضورﷺ کی تعریف
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر1982 صفحہ 792 

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1982 Page 792


    عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓسے ملا اور عرض گزار ہوا کہ مجھے رسول اللہﷺکی وہ تعریف بتائیے جو توریت میں ہو. فرمایا کہ خدا کی قسم!توریت میں بھی آپ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآنِ مجید میں ہیں یعنی اے نبیﷺ !بے شک ہم نے آپ کوبھیجا ہے گواہ بناکر اورخوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اوراَن پڑھوں کی جائے پناہ،تم میرے بندے اور میرے رسول ہو،میں نے تمھارا نام متوکل رکھا ہے کہ ترش رُو،سنگ دل اور بازاروں میں شور مچانے والے نہیں ہواور بُرائی کا بدل بُرائی سے نہیں دیتے ہو بلکہ معاف اور درگذرکرتے ہو۔


    معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ نے توریت اور دیگر کتب سابقہ میں بھی اپنے محبوبﷺ کی تعریفیں بیان کی ہیں،سابقہ انبیائے کرام سے بھی اپنے محبوبﷺکی تعریف کے خطبے پڑھوائے اور اپنی اپنی امتوں کے سامنے چرچے کروائے، حضورﷺکے اوصاف بیان کرنا اللہ تعالیٰ کا اپنا طریقہ ہے اور اسی میں رب تعالیٰ کی خوشنودی ہے اسی لیے سابقہ انبیاء کرام نے بھی حضورﷺکی تعریف بیان کر کے اللہ تعالیٰ کوراضی کیا،اللہ تعالیٰ اپنے محبوبﷺکے اوصاف بیان کرنے کی ہمیشہ توفیق عطا فرمائے۔ امین


    چرچے اُنہی کے ہر پَل عرش و فرش پہ ہر سُو
    ذاکر جو خود خدا ہیں واللہ حبیبِ اللہ ﷺ

  • Hazarat Jabar R.A Ka Qarz

    حضرت جابرؓکا قرض
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر1984 صفحہ 793
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر2225 صفحہ 874
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر2226 صفحہ 874
    بخاری شریف جلد 2حدیث نمبر50 صفحہ 58
    بخاری شریف جلد 2حدیث نمبر1224 صفحہ 559

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1984 Page 793

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2225 Page 874

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2226 Page 874

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 50 Page 58

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 1224 Page 559


    حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہؓ وفات پاگئے تو اُن کے اوپر قرض تھا،میں نے قرض خواہوں کے مقابلے پر نبی کریمﷺسے مدد چاہی کہ وہ اپنے قرض میں سے کچھ گھٹا دیں،نبی کریمﷺنے انھیں بُلایا لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا تو نبی کریمﷺنے مجھ سے فرمایا،جاؤاور ہرقسم کی کجھوریں علہحدہ رکھناپھر میرے لیے پیغام بھیج دینا،میں نے ایسا ہی کرکے نبی کریمﷺکیلئے پیغام بھیج دیا،آپ ان کے اوپر یا درمیان میں بیٹھ گئے،پھر فرمایا کہ لوگوں کو ناپ دو،میں نے انھیں ناپ دیا،یہاں تک کہ سب کا قرض ادا کردیااور میری تمام کجھوریں بچ رہیں گویا ایک بھی کم نہ ہوئی ہو۔


    اس حدیث پاک میں حضرت جابرؓ نے اپنے والد ماجد کے اُس قرضے کا ذکر فرمایا ہے جو اُن کے ذمے واجب الادا تھا مگر وہ غزوہِ اُحد میں جامِ شہادت نوش فرما گئے اور قرض خواہ حضرت جابرؓ سے مطالبہ کرنے لگے،جب پھل کا موسم آیا تو آپ نے دیکھا کہ پھل کی نسبت قرض بہت زیادہ ہے توآپ نے نبی کریم ﷺ سے مدد مانگی،حضورﷺنے اس طرح مدد فرمائی کہ تمام قرض بھی ادا ہوگیا اور کجھور یں بھی اسی طرح رہیں یعنی حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان میں سے ایک کجھور بھی کم نہیں ہوئی،یہ بھی واضح ہوا کہ حضورﷺسے مدد مانگنا کوئی شرک نہیں بلکہ صحاؓبہ کا طریقہ ہے ۔


    پیشِ نظر جو آپ تھے تو آبرو بھی بن گئی
    بھٹکا نہیں ہے در بدر یہ کاروانِ زندگی

  • Dam Per Muawza Layna

    دم پر معاوضہ لینا
    بخاری شریف جلد 1حدیث نمبر2120 صفحہ 834

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2120 Page 834


    حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکے اصحابؓ کی ایک جماعت سفر پر نکلی تووہ عرب کے ایک قبیلے کے پاس ٹھہرے.اُن سے مہمانی کے لیے کہا توانھوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا.اُس قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا تو انھوں نے بھاگ دوڑکی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا،بعض نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ...جواُترے ہوئے ہیں،شاید ان کے پاس کوئی چیز ہوپس وہ اُن کے پاس آئے اور کہا کہ اے لوگو!ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور ہم نے سب کچھ کرکے دیکھ لیا مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا،کیا آپ میں سے کسی کے پاس کچھ ہے؟ایک نے کہا،ہاں خدا کی قسم میں دم کرلیتا ہوں لیکن ہم نے آپ کو میزبانی کیلئے کہا توآپ نے مہمان نوازی سے انکار کردیا لہٰذا میں اُس وقت تک دم نہیں کروں گاجب تک ہمارے لیے معاوضہ مقررنہ کرو.چنانچہ کچھ بکریاں دینے پر اتفاقِ رائے ہوگیاپس وہ گئے اور اُس پر تھتکارا اورسورہٗ فاتحہ پڑھی توایسے ہوگیاجیسے کسی نے رسیاں کھول دی ہوں.وہ چلنے پھرنے لگا اورکوئی تکلیف نہ رہی.پس انھوں نے مقررہ بکریاں ادا کردیں،کسی نے کہا انھیں تقسیم کرلیجئے،دم کرنے والے نے کہاکہ ایسا نہ کیجئے،یہاں تک کہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں پہنچیں،آپ سے ذکر کریں اور دیکھیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں پس رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ذکر کیاتوفرمایا،تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ دم کیا جاتا ہے؟پھرفرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا،تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ ایک حصہ میرا بھی رکھنا اور رسول اللہﷺ ہنس پڑے۔


    مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ جسمانی امراض کیلئے قرآنِ کریم کی آیات پڑھ کردم کرنا جائز ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم میں جسمانی شفا بھی ہے اور اس پر معاوضہ لینا بھی درست ہے لیکن اس کو سوداگری نہیں بنانا چاہیے کیونکہ صوفیاء کرام اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺکی خوشنودی اور دینِ حق کی اشاعت کیلئے یہ ڈیوٹی انجام دیتے رہے ہیں۔


    اُوہ اسرار سمجھے نے قرآن والے
    جو تیریﷺ نشیلی ادا پا گئے نے
    تینوں تیرے مولا توں منگیا جنہاں اے
    اُوہ رب دے خزانے گدا پا گئے نے

  • Wali Allah Ki Karamat

    ولی اللہ کی کرامت
    بخاری شریف جلد1 حدیث نمبر2307 صفحہ 906
    بخاری شریف جلد1 حدیث نمبر657 صفحہ 319

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2307 Page 906

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 657 Page 319


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس کو جریج کہا جاتا تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اُس کی والدہ آئی اور اُسے بُلانے لگی اُس نے جواب نہ دیا...اور جی میں کہا کہ جواب دوُں ...یا...نماز پڑھوں، وہ پھر آئی اور کہا، اے اللہ...اِسے موت نہ دینا یہاں تک کہ فاحشہ عورت کو دیکھ لے، جریج نماز پڑھ رہاتھا کہ ایک عورت نے کہا جریج کو میں پھنساؤں گی ...وہ سامنے گئی اور مدعا بیان کیا لیکن اُس نے(جریج نے) اِنکار کردیا وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اوراپنے آپ کو اُس کے سپرد کردیا پس لڑکا جَنا اور کہا کہ وہ جریج کاہے ...لوگ آئے تو اُس کے عبادت خانے کو توڑ دیا اور اُسے اُتار کر گالی گُلوچ کی...اُس نے وُضو کیااور نماز پڑھی ...پھر لڑکے کے پاس آیا اور کہا، اے لڑکے تُمھارا باپ کون ہے؟اُس نے(بچے نے) کہا چرواہا، لوگوں نے کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنا دیتے ہیں، اُس نے کہا نہیں صرف مٹی کا۔

    اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں جب بنی اسرائیل کا ولی اللہ چند دنوں کے بچے کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طاقت سے قوتِ گویائی دے سکتا ہے تو پھر جو تمام انبیاء کرام کے امام اوربنی آدم کے سردارہیں اُن کی امت کے غوثِ اعظمؒ بارہ برس کی پانی میں غرق شدہ ناؤ نکال دیں تو کون سی عجیب بات ہے اور خواجہ غریب نوازؒ ایسے ہی بچے سے باپ کانام پوچھیں اور بچہ سب کچھ بتا دے تو عین حق ہے۔


    کتنے عظیم تر ہیں تیرے باوفا وُہ بندے
    اُلفت میں جو تمھاری جینا سِکھا گئے ہیں

  • Dua E Barkat

    دُعائے برکت
    بخاری شریف جلد1 حدیث نمبر2309 صفحہ907

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2309 Page 907


    حضرت سلمہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کے زادِ راہ ختم ہوگئے اور وہ تہی دست ہوگئے تو لوگ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے کہ اپنے اونٹ ذبح کر دیں توآپ نے انھیں اجازت دے دی،انھیں حضرت عمرؓ ملے اور انھیں بتایا توکہنے لگے کہ اونٹوں کے بغیر کیسے گزارہ کروگے؟پس وہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے،یارسول اللہﷺ!اپنے اُونٹوں کے بعد لوگ کیسے گزر اوقات کریں گے؟رسول اللہﷺنے فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کروا دو کہ اپنا بچا ہوا زادِ راہ لے آئیں چنانچہ ایک دستر خوان بچھا دیا اور اُس پر وہ سارا جمع کردیاپس رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور اُس پر دعائے برکت فرمائی پھر لوگوں کو بُلایا تووہ اپنے برتن بھر کر لے گئے۔


    اس سے معلوم ہوا کہ ہر پریشانی میں صحابہ کبارؓ بارگاہِ مصطفیﷺسے مدد مانگتے اور اس طرح ان کی مشکل کشائی ہوجاتی،یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنا حضورﷺکی سنت ہے اور اُسی دعائے برکت کے سبب صحابہ کبارؓ اپنے خالی برتن بارگاہِ نبویﷺسے بھر کر لے گئے۔


    تیرے دَر کی گدائی سے جسے بھچھیا ملا آقاﷺ
    اُسی کا دو جہانوں میں ظرف معمور رہتا ہے

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)