• Ikhteyarat E Rasool Allah S.A.W.W

    اختیاراتِ رسول اللہﷺ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر840صفحہ نمبر403

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 840 Page 403


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،اگر میں اپنی اُمت کیلئے مشقت نہ سمجھتا یا اگر میں لوگوں پر مشقت شمار نہ کرتا تومیں اُنھیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔


    اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺکو بے شمار اختیارات عطا فرمائے یعنی اگر حضورﷺایسا حکم دے دیتے تو وہی رب تعالیٰ کی رضا بن جاتا اور وہی شریعتِ مطہرہ کا قانون بن جاتا،ایسا کہنا کہ رسول اللہﷺکی مرضی سے کچھ نہیں ہوتایاد رہے کہ ایسا عقیدہ اللہ تعالیٰ کی سخاوت اور عطاؤں کا انکار کرنے کے مترادف ہے اور یہ انکار ہی کفر کہلاتا ہے،جب کہ شیطان کے متعلق سب کا کہنا ہے کہ وہ ہر بندے کے ساتھ بھی اور گمراہ کرنااُس کے اختیار میں بھی ہے پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان نے یہ طاقت کہاں سے لی ہے تو ایک ہی جواب سُنائی دیتا ہے کہ دینے والا تو صرف اللہ ہی ہے ،پھر سوچنے والی بات کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے شر پھیلانے کے اختیارات دئیے ہیں اُس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تعلق کیسا ہے؟تومعلوم ہوتا ہے اُس کے ساتھ نفرت کا تعلق ہے،پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جس سے نفرت ہے اُس کو تو طاقت عطا فرما دی توکیا اپنے دوستوں کوخیر کی طاقت سے محروم رکھا،ذرا سوچیے یہ اعتراض کس پر اٹھتا ہے ؟اللہ تعالیٰ ایسے عقائد سے محفوظ رکھے،ایسے عقائد حقیقت کے بالکل متضاد ہیں اگر ابلیس کے پاس گمراہ کرنے کی طاقت ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو سیدھے راہ پر لگانے کی طاقت عطا فرمائی ہے،اگر ابلیس کے پاس شر کی طاقت ہے تو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خیر کی طاقت ہے،اگر ابلیس کے پاس شر پھیلانے کے اختیارات ہیں تو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے پاس خیرپھیلانے کے اختیارات ہیں،اگر ابلیس گمراہ کرسکتا ہے تو اللہ کے محبوب بندے سیدھے راستہ پر چلا سکتے ہیں۔


    عمرانؔ اُن سے پوچُھو جن کو خبر مِلی ہے
    اندھے ہوں جنکے رہبر دوزخ میں جا رہے ہیں

  • Badlon Ki Ataat

    بادلوں کی اطاعت
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر884صفحہ نمبر416
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر958صفحہ نمبر442
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر959صفحہ نمبر442
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر964صفحہ نمبر444

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 884 Page 416

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 958 Page 442

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 959 Page 442

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 964 Page 444


    حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺکے زمانہ میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے،جب نبی کریمﷺجمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے تو ایک اعرابی کھڑا ہوکر عرض گزار ہوا،یارسول اللہﷺمال ہلاک ہوگیا اور بچے بھوک سے مرگئے،اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیجئے،آپ نے ہاتھ اُٹھائے،ہم نے آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھا،قسم اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،ہاتھ کیا اُٹھائے پہاڑوں جیسے بادل آگئے،آپ منبر سے اُترے بھی نہیں کہ میں نے بارش کے قطرے آپ کی ریش مبارک سے ٹپکتے دیکھے،اُس روزبارش برسی،اگلے روز بھی یہاں تک کہ اگلے جمعہ تک،پس وہی اعرابی کھڑا ہوا یا کوئی دوسرا اور عرض گزار ہوا،یارسول اللہﷺمکانات گِر گئے اور مال ڈوب گیا،اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیجئے پس آپ نے ہاتھ اُٹھائے اور کہا،اے اللہ!ہمارے اِردگرد،ہم پر نہیں،پس جس طرف دستِ مبارک سے اشارہ کرتے اُدھرکے بادل چھٹ جاتے یہاں تک کہ مدینہ منورہ ایک دائرہ سابن گیا،اور جو بھی آتا اس بارش کا حال بیان کرتا۔


    اس مضمون سے واضح ہے کہ حضورﷺکی بارگاہ میں مشکل کے وقت فریاد کرنا کوئی شرک یا بدعت نہیں بلکہ صحابہ کبارؓ کا طریقہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب بھی عطا فرماتا ہے تو وہ دستِ مصطفیﷺسے عطا فرماتا ہے،جب حضورﷺنے اعرابی کی عرض پر اپنے ہاتھ اُٹھائے تو اسقدر بارش برسی کہ اگلے جمعہ تک برستی رہی،اللہ تعالیٰ کی رحمت کو گوارا نہیں تھا کہ جسے دوعالمﷺکے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے وہ ہاتھ اُٹھائے تو پھر عطا کا سلسلہ اُن کی مرضی کے بغیر بند کردیا جائے لہٰذا اُسی بارگاہ میں دوبارہ سوال کیا گیا تو سائل اپنی مراد کو پاگئے ۔
    بقول راقم۔


    مدت سے غم کے مارؤ گبھراؤ نہ اَلم سے
    دافعِ ہر بَلا ہیں واللہ حبیبِ اللہ ﷺ

  • Fitnay ki Jagah

    فتنے کی جگہ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر976صفحہ نمبر448
    بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر1971صفحہ نمبر777

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 976 Page 448

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 1971 Page 777


    ابن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کہا،اے اللہ!ہمیں ہمارے شام میں برکت دے اور ہمارے یمن میں،لوگ عرض گزار ہوئے اور ہمارے نجد میں،دوبارہ کہا،اے اللہ!ہمیں ہمارے شام میں برکت دے اور ہمارے یمن میں،لوگ پھر عرض گزار ہوئے اور ہمارے نجد میں،فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور شیطان کا گروہ وہیں سے نکلے گا۔

    اس حدیث سے واضح ہے کہ شام اور یمن کے علاقے برکت والے ہیں اور نجد کا علاقہ منحوس ہے اسی لیے آپ نے دعائے رحمت سے محروم رکھاکیونکہ نگاہِ مصطفیﷺسے پوشیدہ نہیں تھا کہ اس علاقہ سے شیطان جیسی توحید کے علمبردار نکلیں گے جو ہر لحاظ سے شیطان کی پیروری کرتے دکھائی دیں گے اور کھلم کھلاانبیائے کرام واولیائے کرام کی گستاخیاں کریں گے اسی لیے حضور ﷺنے فرمایا اس علاقہ سے زلزلے و فتنے اور شیطان کی جماعت نمودار ہوگی،جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برس رہی ہوگی اور وہ رحمتِ دوعالمﷺاور اُن کے عشاق سے محبت کو شرک قرار دے گی ،شیطان جیسی توحید انبیاء کرام واولیائے کرام کی گستاخیوں کے علاوہ کچھ نہیں،اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین

    عزازیل کے مراتب کیوں خاک میں مِلے ہیں تعظیم کے جو مُنکر لعنت اُٹھا رہے ہیں

  • Jannat ka bagh

    جنت کا باغ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1116صفحہ نمبر496
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1117صفحہ نمبر496

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1116 Page 496

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1117 Page 496


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،میرے کاشانہء اقدس اور میرے منبر کا درمیانی حصّہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔


    اُن کے قدم پڑے تو تسکیں زمیں نے پائی
    قسمیں خدا اُٹھائے شاہکارِ دو جہاں ہیں

  • Jang e Mota ki khabar

    جنگِ موتہ کی خبر
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1168صفحہ نمبر516
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر65صفحہ نمبر65

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1168 Page 516

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 65 Page 65


    حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،جھنڈا زید نے لے لیا،وہ شہید کردئیے گئے پھر جعفر نے لے لیا وہ بھی شہید کردئیے گئے پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے لے لیا وہ بھی شہید کردئیے گئے اور رسول اللہﷺکی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں تھے،پھر بغیر امیر بنائے اُسے خالدؓ بن ولید نے لے لیا اور اُسے فتح مرحمت فرمادی گئی۔


    اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺمدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوکر جنگِ موتہ کے علمبرداروں کی خبر دیتے رہے کہ اب جھنڈا فلاں نے اُٹھا لیااب وہ شہید ہوگئے ہیں حتیٰ کہ آخر تک بتا دیا کہ اب جھنڈا خالدؓ بن ولید نے سنبھال لیا ہے اور ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے فتح مرحمت فرمادی ہے یہ تمام خبریں حضورﷺ نے مدینہ منورہ میں بیٹھ کر دے دیں،واضح ہے کہ نگاہِ مصطفیﷺسے کچھ پوشیدہ نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طاقت کے سبب ہر غیب سے واقف ہیں۔


    دِلدارِ لَم ےَزلﷺ کی خیرات بٹ رہی ہے
    نورِ خدا کی ہر سُو سوغات بٹ رہی ہے
    اُن کی تجلیوں سے پُرنور دوجہاں ہیں
    وَلیوں پہ کیسی کیسی کرامات بٹ رہی ہے

  • Sayal Ko Khali Nahi Jany Dety

    سائل کو خالی نہیں جانے دیتے
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1197صفحہ نمبر524
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1953صفحہ نمبر783

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1197 Page 524

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1953 Page 783


    حضرت سہلؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت بُنی ہوئی حاشیے والی چادرلے کر نبی کریمﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئی،تم جانتے ہو کہ بُردہ کیاہے؟لوگوں نے کہا کہ چادر،فرمایا ،ہاں.عورت عرض گزار ہوئی کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں.نبی کریمﷺ نے وہ لے لی اور آپ کو ضرورت بھی تھی،آپ اُسے ازار بناکر ہمارے پاس تشریف لائے.فلاں نے اُس کی تعریف کی اور کہا کہ کتنی اچھی ہے یہ مجھے پہنا دیجئے.لوگوں نے کہا تم نے اچھا نہیں کیاکیونکہ نبی کریمﷺکو اس کی ضرورت تھی اور پھر تم نے یہ جانتے ہوئے سوال کردیا کہ حضورﷺسائل کو خالی نہیں لوٹاتے،اُس نے کہا ،خداکی قسم میں نے یہ پہننے کیلئے نہیں مانگی بلکہ اس لیے مانگی ہے کہ اسے اپنا کفن بناؤں.حضرت سہلؓ نے فرمایا کہ وہی اُس کا کفن ہوئی۔


    اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺکسی سائل کوخالی ہاتھ نہ واپس کیا کرتے اور صحابہ کبارؓ بھی آپ کی بارگاہ میں سوال کیا کرتے اور اُن کو حضورﷺعطا فرمایا کرتے،اسی لیے سوال کرنے والے سے جب صحابہ کبارؓ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضورﷺکسی کا سوال رد نہیں فرماتے لیکن سائل نے بھی واضح کردیا کہ میں نے یہ اس لیے مانگی ہے کہ اس کو حضورﷺسے نسبت ہوگئی ہے اورمیری خواہش ہے کہ اب یہ میرا کفن بنے پھر اسی طرح ہوا کہ وہی اُن کا کفن بنی۔


    اُنکی عطا پہ ہر پل پَلتے ہیں مجھ سے لاکھوں
    نعمت اُنہی کا صدقہ دن رات بٹ رہی ہے

  • Qabar ki Nijat

    قبر کی نجات:
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1251 صفحہ نمبر544
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1284 صفحہ نمبر557

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1251 Page 544

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1284 Page 557


    حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،بندے کو جب اُس کی قبرمیں رکھا جاتا ہے اور اُس کے ساتھی لوٹتے ہیں اور وہ اُن کے جوتوں کی آہٹ سُن رہا ہوتا ہے تو اُس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اور اُسے بٹھا کرکہتے ہیں،تو اس ہستی کے متعلق کیا کہا کرتا تھایعنی محمد مصطفیﷺکے متعلق؟اگر مومن ہوتو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں.اُس سے کہا جائے گاکہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے پس دونوں کو دیکھتا ہے.قتادہؓ نے ہم سے ذکر کیا کہ اُس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے. پھر حدیثِ انسؓ کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا ،اگرمنافق یاکافر ہوتو اُس سے کہا جاتاہے کہ تو اس ہستی کے متعلق کیا کہا کرتا تھا؟وہ کہتا ہے مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا جولوگ کہتے تھے.اُس سے کہا جاتا ہے،تونے نہ جانا اور نہ سمجھا. اُسے لوہے کے گُرز سے مارا جاتا ہے تو وہ چیختا چلاتا ہے جس کو سب قریب والے سُنتے ہیں سوائے جنوں اور انسانوں کے۔


    اس حدیثِ نبویﷺسے معلوم ہوا کہ ہر مردہ سُنتا ہے جب ہر مردہ سن سکتا ہے توپھر اللہ تعالیٰ کے نبی اور ولی کیسے نہیں سن سکتے؟ یقیناًوہ بھی سُنتے ہیں اس بات کا انکار جہالت کی دلیل ہے اور اگلی بات کہ ہر قبر میں حضورپاکﷺکی تشریف آوری ہوتی ہے اور بخشش کا سارا دارومدار اُن کی پہچان پرہی موقوف ہے اور حضورﷺکی پہچان صرف کامل ایمان والا ہی کرسکے گا.اور یہ بھی معلوم ہواکہ جو ہر قبر میں تشریف لاتے ہیں وہ ہمہ وقت موجود ہیں یعنی حاضر وناظر ہیں. قابلِ غور بات ہے جب انسان یہ دنیا کی زندگی گزار کر مقامِ قبر میں پہنچتا ہے تو اس کی نجات صرف حضورﷺکی ہی پہچان سے ہوگی.اور پہچان صرف وہی کرپائے گا جس نے اس دنیا میں حضورﷺسے بنا کررکھی ہوئی ہے.اسی لیے جب فرشتے مومن کا صحیح جواب سُنتے ہیں تو کہتے ہیں دیکھ پہلے تمھارا ٹھکانہ جہنم تھا صرف اس کے بدلے میں یعنی پہچانِ مصطفیﷺکے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تمھارا وہ ٹھکانہ بدل کر تمھیں جنت میں عطا فرمادیا ہے۔


    پہچان سے حضورﷺ کی سوال ہوگئے ختم
    آپ تک ہی منکر و نکیر کا ہے سلسلہ

  • Shohda e Ohad Per Namaz Parhna

    شہدائے اُحد پر جلوہ گری
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1257صفحہ نمبر546
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر805صفحہ نمبر374
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر1213صفحہ نمبر555
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر1254صفحہ نمبر572
    بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر1347صفحہ نمبر526

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1257 Page 546

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 805 Page 374

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 1213 Page 555

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 1254 Page 572

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 1347 Page 572


    حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریمﷺشہدائے اُحد پر نماز پڑھنے کیلئے تشریف لے گئے جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر منبر پر جلوہ افروز ہوکر فرمایا،بے شک میں تمھارا سہارا اور تم پر گواہ ہوں اور بے شک خدا کی قسم،میں اپنے حوض کو اب بھی دیکھ رہاہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کُنجیاں عطا فرمادی گئی ہیںیا زمین کی کنجیاں اور بے شک خدا کی قسم مجھے تمھارے متعلق ڈر نہیں ہے کہ میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی محبت میں نہ پھنس جاؤ۔


    واضح ہوا کہ حضورﷺشہدائے اُحد پر کمال شفقت فرماتے ہوئے تشریف لے جاتے خاص طور پر مذکورہ روایت آخری سال سے تعلق رکھتی ہے،اہلِ ذکر نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کے لفظ صلوٰۃ کا دعا کے معنی میں ہونے پر اجماع ہے یعنی صالحین اور شہدا کی قبور پر جانا حضورﷺکی سنت ہے،آگے فرمایا کہ میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہاہوں،یعنی زمین پر بیٹھ کر فرمایا کہ میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہاہوں جوآقاﷺزمین پر بیٹھ کر حوضِ کوثر کودیکھ سکتے ہیں اُن سے دنیا کی کوئی چیز کیسے پوشیدہ ہوسکتی ہے؟ اور یہ بات قسم اُٹھا کر نمایاں کردی،یہ بھی فرمایا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے والا منصب مجھے عطا فرمایا ہے اب جس کو جو کچھ ملے گامیرے ہی در سے ملے گا،چاہے کوئی انکار کرکے کھائے یا اقرار کرکے ، آخری بات پھر قسم اُٹھا کر ارشاد فرمائی کہ مجھے تمھارے متعلق یہ ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ہاں یہ خدشہ ہے کہ کہیں دنیا کی محبت میں نہ پھنس جاؤ،خاص طور پر یہ ارشاد شہداء کی قبور پر فرمایا کیونکہ حوضِ کوثر کودیکھنے والے آقا سے دورِ حاضر کے شرک کے ٹھکیدار پوشیدہ نہیں تھے اسی لیے جو قبور سے متعلقہ شرک شرک کے فتوے لگاتے ہیں وہ جان لیں کہ حضورﷺنے واضح فرمادیا ہے کہ میری امت شرک نہیں کرے گی،ہاں دُنیا کی محبت میں پھنس جانے کا خدشہ ظاہر فرمایا،دراصل دنیا کی محبت میں اسیر ہونے ہی کی وجہ سے ہم برگزیدہ لوگوں کی محفل سے دور ہوجاتے جو دین سے دوری کاسبب بنتی ہے اس طرح ہم ہر نماز،روزہ،قرآن وغیرہ تلاوت کرنے والے اور لمبی داڑھی رکھنے والے کو دین کا ٹھکیدار سمجھتے ہوئے اُس سیدھے راستے سے دور ہوجاتے ہیں جس کی پہچان ہی انعام یافتہ بندوں کا گروہ ہے۔


    عکسِ شبیہِ شاہا شاہوں میں جلوہ گر ہے
    یہی وجہ ہے اُنکی مرقد بھی پُر اثر ہے
    عشقِ حبیبِ یزداںﷺسینے میں گر ہے تیرے
    تجھ سا غنی نہ کوئی تجھ سا نہ تاجور ہے

  • Hazrat Jabar R.A key Walid e Mohtaram

    حضرت جابرؓ کے والدِ ماجد
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1263صفحہ نمبر549

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1263 Page 549


    حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب غزوہ اُحد کا وقت آگیا تو میرے والدِ ماجد نے مجھے رات کے وقت بُلایا اور فرمایا،میں یہی دیکھتا ہوں کہ نبی کریم ( ﷺ) کے اصحاب میں سب سے پہلے شہید کیا جاؤں گا اور میں اپنے بعد کسی کو نہیں چھوڑ رہا جو رسول اللہﷺ کے علاوہ مجھے تم سے عزیز ہو،میرے اوپر قرض ہے اُسے ادا کردینا اوراپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،صبح ہوئی توسب سے پہلے وہی شہید کیے گئے اور ایک دوسرے کے ساتھ قبر میں دفن کیے گئے پھر میرا دِل اس پر رضامند نہ ہواکہ دوسروں کے ساتھ چھوڑے رکھوں لہٰذا چھ(6)ماہ کے بعد میں نے انھیں نکالا تووہ اسی طرح تھے جیسے دفن کرنے کے روز تھے‘‘


    اس حدیثِ پاک سے کئی باتیں واضح ہیں اوّل جو حضور نبی کریمﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے اُسے اپنی شہادت کا وقت تک معلوم ہوجاتا ہے کیونکہ حضرت عبداللہؓ نے اپنے بیٹے حضرت جابرؓ سے فرمایا مجھے سب سے زیادہ رسول اللہﷺ عزیز ہیں اُس کے بعد تم،اور ساتھ ہی فرما دیا کہ میں یہی دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلے میں شہید کیا جاؤں گا جوکہ دوسرے روز سچ ثابت ہوا، دوئم جو حضور نبی کریم ﷺسے سچی محبت رکھتا ہے وہ عرب جیسے گرم علاقہ میں بھی چھ ماہ کے بعد قبر سے نکالا جاتا ہے تو اُس کا جسم بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔


    حُسنِ نبیﷺ سے جن کی روشن ہیں دِل کی راہیں
    باغِ بہشت واللہ ایسوں کی ہر قبر ہے

  • Garheye Waly Kuffaar

    گڑھے والے کفار
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1279صفحہ نمبر556

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1279 Page 556


    حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺگڑھے والے کفار کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا،جو تمھارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے اُسے سچا پالیا،عرض کی گئی کہ آپ مُردوں کو پُکار رہے ہیں؟فرمایا کہ تم اِن سے زیادہ نہیں سُنتے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔


    اس حدیثِ پاک سے بھی واضح ہے کہ مرنے کے بعد اگر کفار سُن سکتے ہیں تو پھر اللہ کے نبیوں اور ولیوں کو پکارا جائے تو وہ کیسے نہیں سُن سکتے؟یقیناًمستند حدیث بتا رہی ہے کہ مرنے کے بعد جب کفارسُن لیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بھی سُن سکتے ہیں۔


    علمِ خدا کی دولت سرکارﷺ کی عطا ہے
    عرب و عجم کے باسی حق بات پا گئے ہیں

  • Qabar K Halat Ki Khabar

    قبر کے حالات کی خبر دی
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1285صفحہ نمبر558

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1285 Page 558


    حضرت ابن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاریؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺباہر تشریف لے گئے اور سورج غروب ہوچکا تھا،آپ نے ایک آواز سُنی تو فرمایاکہ یہودی کو اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔


    اس حدیث سے ثابت ہے کہ نگاہِ مصطفیﷺسے اہلِ قبور کے حالات پوشیدہ نہیں اور حضورﷺوہ بھی سُن سکتے ہیں جہاں دوسرے لوگوں کی رسائی نہیں، اسی لیے آپ نے آواز پہچان کر اپنے صحابی کو آگاہ فرمایا کہ آواز کیسی تھی اور کس وجہ سے نکلی تھی۔

  • Foat Shuda Ko Sawab Bhejna

    فوت شدہ کو ثواب سے فائدہ دینا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1298صفحہ نمبر562

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1298 Page 562


    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوا کہ میری والدہ محترمہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے ،اگر انہیں قوت گویائی حاصل رہتی تو خیرات کرتیں،اگر میں ان کی جانب سے خیرات کروں تو کیا انھیں ثواب ملے گا؟ فرمانِ رسالتﷺہوا،ہاں(تم)ان کی جانب سے خیرات کرو۔


    اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ ایمان کو مرنے کے بعد صدقہ خیرات کا ثواب ملتا ہے اسی لیے حضورﷺنے اپنے صحابی کو بتایا کہ ہاں تم ایسا کرو تمھاری والدہ کو اس کا ثواب پہنچ جائے گا۔

  • Mazaar Kohaan Numa

    حضورﷺکی مزار کوہان نما
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1301 صفحہ نمبر563

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1301 Page 563


    سفیان التمار سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺکی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھا۔

  • Pair(Paon) Ka Zahir Hona

    قبرِانور سے پیر کا ظاہر ہونا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1302صفحہ نمبر563

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1302 Page 563


    ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ جب ولید بن عبدالملک کے زمانے میں دیوار اُن پر گری تو ایک پَیر ظاہر ہوا،لوگ ڈر گئے اور سمجھے کہ شاید یہ نبی کریمﷺکا پیر مبارک ہے، اُنھیں پہچاننے والا کوئی نہ ملا یہاں تک کہ حضرت عروہؓ نے کہا، خدا کی قسم! یہ نبی کریمﷺ کا پیر نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کا پیر ہے۔


    حُسنِ نبیﷺ سے جن کی روشن ہیں دِل کی راہیں
    باغِ بہشت واللہ ایسوں کی ہر قبر ہے

  • Ohad Pahar Ki Mohabbat Or Poshida Batay

    اُحد کی محبت اور پوشیدہ باتیں:
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1388صفحہ نمبر596

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1388 Page 569


    حضرت ابوحُمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریمﷺکی معیت میں غزوہ تبوک کیا،جب ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو ایک عورت اپنے باغ میں تھی،نبی کریمﷺنے اپنے اصحاب سے کہا کہ اندازہ لگاؤ اور رسول اللہﷺ نے دس وسق کا اندازہ کیا،اُس عورت سے فرمایا کہ جتنی کجھوریں برآمد ہوں اُن کا حساب رکھنا جب ہم تبوک پہنچے تو فرمایا،آج رات بہت سخت آندھی آئے گی لہٰذاکوئی کھڑا نہ ہواور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اُس کا گُھٹنا باندھ دے،ہم نے وہ باندھ دئیے اور سخت آندھی آئی،ایک آدمی کھڑا ہوا تو اُسے پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا،ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریمﷺکی خدمت میں ایک خچر اور چادر بطور تحفہ بھیجی،آپ نے اُس کا ملک اُسی کیلئے لکھ دیا،جب وادی القریٰ میں آئے تو اس عورت سے کہا،تمھارے باغ سے کیا حاصل ہوا؟عورت نے کہا دس وسق کجھوریں جوکہ رسول اللہﷺنے اندازہ کیا تھا، نبی کریمﷺنے کہا،میں جلد مدینہ منورہ پہنچنا چاہتا ہوں،جب اُحد نظر آیا تو فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔


    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺکو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا بنا کربھیجا ہے،جیسے آپ نے کجھوروں اور آندھی کے متعلق قبل از وقت خبر دی جس نے آندھی سے قبل حضورﷺکے حکم کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اسے آندھی نے اُٹھا کر پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا، آج بھی جو حضورﷺکے اوصاف ماننے سے انکار کرتے ہیں اور طرح طرح کی بے ادبیاں کرنے لگتے ہیں اُن کو بھی نفسِ امارہ اور شیطانی آندھیاں اُٹھا کر دامنِ مصطفیﷺسے دور پھینک دیتی ہیں،آخر میں فرمایا کہ یہ اُحد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اورہم اس سے محبت فرماتے ہیں قابلِ غور بات ہے کہ محبت کرنا جاندار کا کام ہے جس سے واضح ہے کہ ہمارے آقاﷺکی نگاہِ کرم سے اُحد پہاڑ کو زندگی بھی عطا کی گئی اور اپنی محبت کا انعام بھی ،پھر یہ بھی انعام ملاکہ حضورﷺ نے خود اس بات کی تصدیق فرما دی اور فرمایا کہ ہم بھی اُحد سے محبت کرتے ہیں۔


    اسی طرح اُحد پہاڑ کے متعلق ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں۔


    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر592 صفحہ نمبر286
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر1253 صفحہ نمبر572

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 592 Page 286

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 1253 Page 572


    حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا،یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اے اللہ!بیشک حضرت ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں ان دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ کو حرم بناتا ہوں۔


    مُردے صرف تو زندہ کیے نہیں ہیں شاہﷺ نے
    اُن کی نگاہ سے پتھر کلمہ سُنا رہے ہیں
    عمرانؔ اُن سے پوچھُو جن کو خبر مِلی ہے
    سر کو جھکانے والے ثمرات پا رہے ہیں

  • Dosray Ki Jagah Per Hajj Kerna

    دوسرے کی جگہ پر حج کرنا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1418 صفحہ نمبر606

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1418 Page 606


    حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا،حضورﷺکے پاس عورت آئی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہﷺ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے میرے والدِ محترم بہت بوڑھے ہوگئے اور سواری پر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں اُن کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟فرمایا ہاں اور یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے۔

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)