• Unglion Se Chashmay

    انگلیوں سے چشمے
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر197 صفحہ نمبر184

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 197 Page 184


    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے پانی کا برتن منگایا تو خدمتِ عالی میں کھُلے منہ کا پیالہ پیش کیا گیا جس میں ذرا سا پانی تھا،آپ نے اس میں مبارک اُنگلیاں ڈالیں۔۔۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں پانی کو دیکھ رہا تھا جو آپ کی اُنگلیوں سے پھوٹ کر بہہ رہا تھا،حضرت انسؓ نے فرمایا کہ میں نے وضوکرنے والوں کا اندازہ کیا تو وہ ستر(۷۰)سے اسی(۸۰)تک تھے۔
    واضح ہوا کہ حضورﷺنے اپنے جانثاروں کی اس انداز میں مشکل کشائی فرمائی جس کا نظارہ اس سے پہلے چشمِ فلک نے کبھی نہیں دیکھا تھا،پتھروں سے تو پانی کے چشمے جاری ہوتے رہے ہیں مگر یہ کام صرف اللہ کے حبیبﷺہی کا ہے جنہوں نے اپنی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کردئیے اور اپنے عشاق کی حاجت روائی فرمادی۔


    مختارِ کُل نے تُجھ کو مختارِ کُل بنایا

    اُمت کو کیا خطر ہو نگہبان شاہِ عربیﷺ

  • Qabar Par Sabz Shakh Garh Dena

    قبر پر سبز شاخ گاڑدینا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر215 صفحہ نمبر188
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1271 صفحہ نمبر553
    بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر989 صفحہ نمبر390

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 215 Page 188

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1271 Page 553

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 989 Page 390


    حضرت ابن عباسؓ سے روایت کہ نبی کریمﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ انھیں عذاب ہورہا ہے اور کسی کبیرہ گناہ کے باعث نہیں، ان میں سے ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا،پھر ایک سبز ٹہنی لی اور اُس کے دو حصے کرکے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا،لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہﷺایسا کیوں کیا؟فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں تو شاید ان کے عذاب میں کمی ہوتی رہے۔


    مذکورہ حدیثِ پاک بتا رہی ہے کہ حضورﷺسے قبر اور عالمِ برزخ کے حالات مخفی نہیں،یہاں تک کہ آپ نے واضح فرمادیا کہ ان قبر والوں کو کس عمل کی وجہ سے عذاب ہورہا ہے،یہ بھی معلوم ہواکہ مزاروں پر سبز شاخ یا پھول ڈالنے درست ہیں اور صاحبِ مزار کیلئے تسکین کا باعث ہیں۔

    دستگیرِ عاجزانِ بے نوا عمرانؔ تم ہو المدد نظرِ کرم میرے سخی مشکل کشا ہو

  • Pehlay Or Akhri Nabi S.A.W.W

    سب سے پہلے اور آخری
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر 235 صفحہ نمبر194

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 235 Page 194

     


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سناکہ ہم ہی سب میں آخری اور سب سے پہلے ہیں۔
    اوّل و آخر ظاہر و باطن تیرے جلوے میری خاطر
    رحمتِ عالم شانِ عالم ابتدا ہو انتہا ہو

  • Luaab E Dehan

    لعاب دہن کا احترام بخاری شریف جلد نمبر1باب نمبر168 صفحہ نمبر195

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 168 Page 195

     

    عروہ ،مسور اور مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺحدیبیہ سے تشریف لائے،حدیث بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺنے جب بھی تھوک پھینکا تو وہ اُن میں سے کسی آدمی کے ہاتھ پر گِرا۔۔۔جسے وہ اپنے منہ اور جسم پر مَل لیتا۔ حضورﷺکے تھوک مبارک کو صحابہ کبار کا اپنے ہاتھوں پر لینا اور اس کو چہروں اور جسموں پر مل لینا،صحابہ کے عشقِ مصطفیﷺکا منہ بولتا ایسا ثبوت ہے جس کے متعلق بظاہر قرآنی حکم موجود نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے کاحضورﷺنے حکم صادر فرمایااور نہ ہی ایسا کرنے سے منع فرمایا کیونکہ اس عمل کی بنیاد عشق پر ہے اور عشقِ مصطفیﷺہی ایمانِ کامل ہے،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث میں ہر بات کا تصریحاً حکم ہونا ضروری نہیں بلکہ کچھ احکام دلیلِ مطابقی سے بھی ثابت ہوتے ہیں،یہاں اُن لوگوں کوبھی غور کرنا چاہیے جو حضورﷺکا ادب واحترام بڑے بھائی جتنا کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں اور پھر صحابہ کبارؓ سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں ،کیا کوئی بڑے بھائی کا اس طرح ادب واحترام کرسکتا ہے ،ہرگز نہیں۔

  • Hazoor S.A.W.W Ka Tasawar Kerna

    حضورﷺکا تصور کرنا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر266 صفحہ نمبر205
    بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر857 صفحہ نمبر347

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 266 Page 205

     Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 857 Page 347

     


    حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا،گویا میں اب بھی نبی کریمﷺکی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جب کہ آپ حالتِ احرام میں تھے۔


    اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوا کہ حضورﷺ کی مقدس صورت یا کسی اور ادا کا تصور باندھنا محبتِ رسولﷺکی نشانی اور خوش بختی کی علامت ہے ۔


    روشن روشن رات ہماری جلوہ فرما ذات تمھاری
    ہر سو آقا تیری ضیاء صلے علیٰ حق صلے علیٰ
    صلے علیٰ حق صلے علیٰ

  • Waseela Se Namazain Kum Hueen

    وسیلہ سے نمازیں کم ہوئیں
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر339 صفحہ نمبر235

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 339 Page 235

     


    اس حدیث کے راوی حضرت ابوذرؓ ہیں اور نمازوں سے متعلق حصہّ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،پس اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر پچاس نمازیں فرض کیں،میں اس کے ساتھ لوٹا اور حضرت موسیٰؑ کے پاس سے گزرا،اُنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کیلئے کیا فرض کیا ہے؟میں نے کہا کہ پچاس نمازیں،اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں یہ طاقت نہیں ہے،میں واپس لوٹا تو اُن کا ایک حصہّ کم کردیا گیا ،میں حضرت موسیٰؑ کی طرف لوٹا اور کہا کہ ایک حصہّ کردیا گیا ہے،اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف پھر جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں اِن کی طاقت نہیں ہے پس میں واپس گیا تو ایک حصہّ مزید کم کردیا گیا،میں ان کی طرف آیا تو انھوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی اُمت میں ان کی طاقت بھی نہیں ہے،میں واپس لوٹا تو فرمایا کہ یہ پانچ رہ گئیں اور یہی پچاس ہیں۔


    اس حدیثِ پاک سے واضح ہے کہ نمازوں کا اصل تحفہ پچاس تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وسیلہ سے پچاس کی جگہ پانچ رہ گئیں یعنی جو پانچ ادا کرے گا اُسے ثواب پچاس ہی کاملے گا،اب جو انبیاء کرام واولیائے کرام کے وسیلہ کے قائل ہی نہیں،انصاف کی بات ہے کہ اُن کو وسیلے سے کم ہونے والی نمازیں پڑھنے کا حق نہیں بنتا بلکہ پوری پچاس ادا کرنی چاہیے ،واضح ہے کہ اس متعلق اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺ دونوں ہی نے وسیلہ پسند فرمایااور وسیلہ بھی اُن کا جن کے متعلق حضورﷺنے فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں یعنی قبر والے کا وسیلہ آسمانوں پر نمازوں کی کمی کا باعث بنا،اہلِ ذکر فرماتے ہیں دراصل اللہ تعالیٰ ورسول اللہﷺسے مخفی نہیں تھا کہ پچاس کی جگہ پانچ رہ جائیں گی مگر یہاں حضورﷺحضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا وسیلہ بنے،جب اللہ تعالیٰ کی زیارت سے مستفید ہوکر آتے تو موسیٰ علیہ السلام راستہ میں بیٹھے آپ کے چہرہِ اقدس کو دیکھ کرلذتِ جمال سے فیضیاب ہوتے۔


    دستِ اولیاء دستِ انبیاء است
    دستِ انبیاء دستِ خدا است

  • Khashu O Khazu

    حضورﷺسے خشوع ورکوع پوشیدہ نہیں
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر404 صفحہ نمبر255
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر703 صفحہ نمبر357

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 404 Page 255

     Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 703 Page 357

     

    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا،تم کیا یہی دیکھتے ہو کہ میرا منہ اِدھر ہے؟خدا کی قسم،مجھ پر نہ تمھارا خشوع وخضوع پوشیدہ ہے اور نہ تمھارے رکوع،میں تمھیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔


    اس حدیثِ پاک میں حضورﷺکا فرمانا کہ مجھ پر تمھارے خشوع ورکوع پوشیدہ نہیں ہیں،اس میں خود حضورﷺنے واضح فرمادیا کہ میری نگاہ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے کیونکہ رکوع تو ظاہری اور جسمانی فعل کا نام ہے مگر خشوع تو قلبی کیفیت کا نام ہے جو خوفِ خدا سے پیدا ہوتی ہے،یہ بھی واضح فرما دیا کہ میں تمھیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور تمھارے رکوع مجھ پر ظاہر ہیں اور ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ تمھاری قلبی کیفیت بھی مجھ پر عیاں ہے کیونکہ دیکھنا آنکھوں میں موجود اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور کاکام ہے اور جن کا مکمل سراپاء ہی اللہ تعالیٰ کا نور ہو بھلا اُن سے کوئی چیز کیسے پوشیدہ ہوسکتی ہے یعنی نہ حضورﷺکی نگاہ سے ہمارے ظاہر پوشیدہ ہیں اور نہ ہی باطن،اسی طرح اگلی حدیث میں بھی فرمایا۔


    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر405 صفحہ نمبر256

     Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 405 Page 256

     

    حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایاکہ نبی کریمﷺنے ہمیں نماز پڑھائی پھر منبر پر جلوہ افروز ہوکر نماز اور رکوع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمھیں پیچھے سے بھی اُسی طرح دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے تمھیں دیکھتا ہوں۔
    یہ مضمون کچھ کمی بیشی کے ساتھ جلد نمبر1 حدیث نمبر 703,686, 681,680میں بھی موجود ہے،حدیث نمبر702صفحہ357کے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں۔


    ہر سُو نگاہ ہے اُن کی لاجیں نبھا رہے ہیں
    ایسے وہ دِلرُبا ہیں واللہ حبیبِ اللہ ﷺ

  • Nisbat Se Jaga Ki Azmat

    نسبت سے جگہ کی عظمت
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر410صفحہ نمبر258
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر632صفحہ نمبر333

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 405 Page 256
    محمود بن ربیع انصاری سے روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالکؓ رسول اللہ ﷺکے اُن اصحابؓ میں سے ہیں جو انصار سے غزوہِ بدر میں شریک ہوئے تھے کہ وہ رسول اللہﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، یارسول اللہﷺ!میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں،جب بارش ہوتی ہے تو وہ نالہ بہنے لگتا ہے جو میرے اور اُن کے درمیان ہے لہٰذا میں مسجد میں حاضر ہوکر انھیں نماز نہیں پڑھا سکتا،یارسول اللہ ﷺ !میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے غریب خانے میں نماز پڑھیں تاکہ میں اُسے نماز کی جگہ بنا لوں،رسول اللہﷺنے اُن سے فرمایا،اِن شآء اللہُ تَعَالیٰ میں ایسا کروں گا،حضرت عتبانؓ کا بیان ہے کہ اگلے روز دن چڑھے رسول اللہﷺاور حضرت ابوبکرؓ میرے پاس تشریف لائے،داخل ہونے پر آپ بیٹھے نہیں۔۔۔پھر فرمایاتم کس جگہ چاہتے ہو کہ تمھارے گھر میں نماز پڑھوں،پس میں نے گھر کے گوشے کی طرف اشارہ کردیا ،آپ نے دورکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیر دیا۔


    اس حدیثِ پاک میں حضورﷺکے ایک جانثار کی بے انتہا محبت اور والہانہ عقیدت کا تذکرہ کیا گیا ہے جو انھیں دونوں جہان کے محبوبﷺسے تھی اسی محبت کے سبب انھوں نے بارگاہِ نبویﷺمیں عرض پیش کی کہ میرے آقاﷺمیری نظر کمزور ہوچکی ہے اگر آپ مہربانی فرمائیں تو میرے گھر کو وہی نسبت عطا فرما دیں جو آپ کے قدموں سے زمینِ مکہ کو ملی ہے اور آپ کی ہی مرضی سے مدینہ منورہ کو ملی ہے لہٰذا حضورﷺنے اپنے غلام کی عرض کو قبول فرماتے ہوئے اُن کے گھر کو اپنی نسبت سے رشکِ جنت بنا دیا،صحابی کی محبت اور عقیدت بتا رہی ہے کہ نماز میں حضوری کا مقام شوقِ مصطفیﷺکے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔


    توحید پرستوں کا عمرانؔ عقیدہ ہے
    اِک شوقِ محمدﷺ سے پُرکیف عبادت ہے

  • Sanah Khawan E Mustafa S.A.W.W

    ثناء خوانِ مصطفیﷺ
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر437 صفحہ نمبر269
    بخاری شریف جلد نمبر3حدیث نمبر1084 صفحہ نمبر426

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 437 Page 269

    Bukhari Sharif Jild number 3 Hadith number 1084 Page 426


    حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے حضرت حسان بن ثابتؓ انصاری سے سنا کہ وہ حضرت ابوہریرہؓ سے گواہی طلب کررہے تھے کہ اے ابوہریرہؓ!میں آپ کو اللہ کی قسم دیتاہوں،کیا آپ نے نبی کریمﷺکو یہ فرماتے ہوئے سُنا،اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے جواب دو،اے اللہ!اس کی رُوح القدس سے مدد فرما،حضرت ابوہریرہؓ نے کہا،ہاں۔


    اس روایت میں حضرت حسانؓ کے بلند مقام کا ذکر ہے جو انھیں حضورﷺکی ثناء خوانی سے حاصل ہوا،حضرت حسان بن ثابتؓ بارگاہِ نبویﷺکے شاعر تھے اور کفار کی گستاخی کا حضورﷺکیطرف سے جواب دیا کرتے تھے اسی لیے حضورﷺنے اُن کیلئے دُعا فرمائی کہ اے اللہ!حسانؓ کی رُوح القدس سے مدد فرما،اسمیں تمام حضورﷺکے اوصاف بیان کرنے والے عشاق کو خوش خبری ہے جو بھی حضرت حسانؓ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حضورﷺکی تعریف بیان کرتے ہیں وہ اس دعا کے فیضان سے مستفید ہوتے رہیں گے۔


    عمرانؔ ساری لذتیں ہیں الفتِ سرکارﷺ میں
    زندگانی کا خزانہ نعت تیری یانبی ﷺ

  • Qabar Per Namaz Parhna

    قبر پرنماز پڑھنا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر 441 صفحہ نمبر271

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 441 Page 271


    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کہ ایک سیاہ فام مرد یاعورت مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتا تھا،وہ فوت ہوگیا،نبی کریمﷺنے اُس کے متعلق پوچھا،لوگ عرض گزار ہوئے کہ وہ فوت ہوگیا فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہیں بتایالہٰذا مجھے اُس مرد یا عورت کی قبر بتاؤپس آپ اُس کی قبر پر تشریف لے گئے اور اُس پر نماز پڑھی۔

  • Chamak Tujh Se Patay Hain Sub Panay Waley

    چمک تجھ سے پاتے ہیں 
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر448 صفحہ نمبر273
    بخاری شریف جلد نمبر2حدیث نمبر992 صفحہ نمبر449

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 448 Page 273

    Bukhari Sharif Jild number 2 Hadith number 992 Page 449


    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکے اصحاب میں سے دو حضرات نبی کریمﷺکے پاس سے باہر نکلے جن میں سے ایک حضرت عبادبن بشیرؓ تھے اور میرے خیال میں دوسرے حضرت اُسیدبن حضیرؓ تھے،رات اندھیری تھی اور اُن کے ساتھ چراغ جیسی چیزیں تھیں جو اُن کے ہاتھوں میں چمک رہی تھیں جب وہ جدا ہوئے تو ہر ایک کے ساتھ علیحدہ شمع تھی،یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں میں پہنچ گئے۔


    بخاری شریف کی دوسری روایت میں چراغ کی جگہ نور کے الفاظ ہیں،یعنی ایک اندھیری رات میں حضورﷺکے دو اصحاب گھر جانے کیلئے نکلے تو ان کے سامنے نور تھا اور جب وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو دونوں کے آگے اسی طرح الگ الگ نور چمکنے لگا،یقیناًیہ ساری نورانیت سراجاًمنیرا کی عطا کردہ ہے یہ حضورﷺکا نورانی معجزہ بھی ہے اور صحابہ کی کرامت بھی۔


    پھوٹتی ہے روشنی جسقدر جہان سے
    سراج کا ہے سلسلہ منیر کا ہے سلسلہ

  • Azaan Ki Ebtada

    اذان کی ابتدا 
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر574 صفحہ نمبر315

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 574 Page 315


    حضرت ابن عمرؓ فرمایا کرتے،مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تو نماز کے لیے اندازے سے جمع ہوجایا کرتے اور اس کیلئے اعلان نہیں ہوتا تھا،ایک روز اُنہوں نے اس بارے میں

  • Hazoor S.A.W.W Ko Dekh Ker Namaz Mein Khara Hona

    حضورﷺکودیکھ کر نماز میں کھڑا ہونا  
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر606 صفحہ نمبر324
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر607 صفحہ نمبر325
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر860 صفحہ نمبر409

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 606 Page 324

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 607 Page 325

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 860 Page 409


    عبداللہ بن ابوقتادہؓ کے والد ماجد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا، جب نماز کیلئے اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوا کرو یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو۔


    بامُراد ہوگئے جو باادب رہے سدا
    تعظیم سے حضورﷺ کی توقیر کا ہے سلسلہ

  • Namaz Mein Hazoor S.A.W.W Ki Ziarat Kerna

    نماز میں حضورﷺکی زیارت کرنا 
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر644 صفحہ نمبر336
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر645 صفحہ نمبر337

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 644 Page 336

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 645 Page 337


    حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اُنھیں نبی کریمﷺکی بیماری میں نماز پڑھایا کرتے جس میں کہ وصال فرمایا،یہاں تک کہ جب پیر کا روز ہوا اور وہ نماز میں صف بستہ تھے تو نبی کریمﷺنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور ہماری طرف دیکھنے لگے،آپ کھڑے تھے اور آپ کا چہرہ انور گویا مصحف کا ورق تھا پھر تبسم ریزی فرمائی۔۔۔ہم نے مضبوط ارادہ کرلیا کہ از راہِ مسرت نبی کریمﷺکا دیدار کرتے رہیں پس حضرت ابوبکرؓ ہٹنے لگے کہ صف میں مل جائیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ نبی کریمﷺشاید نماز کیلئے تشریف لے آئیں ، آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ گِرا دیا،نبی کریمﷺ نے اُسی روز وصال فرمایا۔


    اسی جلد نمبر اوّل کی

    حدیث نمبر1127صفحہ نمبر 500 کے الفاظ اس طرح ہیں

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1127 Page 500

     

    حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ پیر کے روز جب مسلمان نمازِ فجر میں تھے اور حضرت ابوبکرؓانھیں نماز پڑھا رہے تھے تونبی کریمﷺاُن کے سامنے ہوئے اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ ہٹادیا،آپ نے اُنھیں صف بستہ دیکھ کر تبسم ریزی فرمائی،حضرت ابوبکرؓنے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید رسول اللہﷺنمازکیلئے تشریف لانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے اپنی نماز توڑنے کا ارادہ کیا خوش ہوکر کہ اُنھوں نے نبی کریمﷺکودیکھا،آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ پوری کرلو،پھر حجرے میں داخل ہوگئے،پردہ گِرا دیا اور اُسی روز وصال فرمایا۔


    معلوم ہوا کہ حضورﷺکے صحابہ کباؓر کسقدر ٹوٹ کراپنے آقا ومولاﷺسے محبت کیا کرتے تھے کہ دورانِ نمازبیت اللہ سے چہرہ ہٹا کر حضورﷺکا دیدار کرنے لگے جس کا ثبوت ان کے یہ الفاظ ہیں کہ ہم نے دیکھا حضورﷺتبسم ریزی فرما رہے تھے اور آپ کا چہرہِ انور مصحف کا ورق معلوم ہورہا تھاپھر اس قدر حضورﷺکے دیدار کی خوشی کارنگ غالب آیا کہ نمازوں کو توڑنے کا ارادہ کرلیا،ان الفاظ سے واضح ہے کہ صحابہ کا عقیدہ یہ تھا کہ دورانِ نماز حضورﷺکو دیکھنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔۔۔کیونکہ دورانِ نماز وہ دیدار تو کررہے تھے مگر اُس وقت یہ نہیں فرمایا کہ ہماری نماز ٹوٹ گئی بلکہ دیدارکی خوشی میں نماز توڑ لینے کا ارادہ کیا لیکن حضورﷺنے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کرلو،آج بعض لوگ کہتے ہیں کہ معاذ اللہ حضورﷺکا نماز میں خیال آنے سے نماز نہیں ہوتی،ذرا ان مستند احادیث پر غور کریں کہ صحابہ کو صرف خیال نہیں آیا ،اُنھوں نے تو خوب جمالِ مصطفیﷺکا مزا لے لے کر نماز ادا کی کیونکہ اسی جمالِ یار نے ہی تو ان کو صحابیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا تھااس لیے تو کوئی جسقدر عبادت کرلے صحابہ کی خاکِ پاء جیسا نہیں ہوسکتااور یہ منفرد مقام اُن کو صرف نگاہِ عشق سے محبوب برحق کے جلوے سمیٹنے سے حاصل ہوا ہے۔


    تعظیم نمازوں میں عشاق کریں واعظ
    تو اُن کے تخیل سے مصروفِ بغاوت ہے
    کم بخت کیا جانیں توحید پرستی کو
    اِک عشق محمدﷺ سے سجدوں میں حلاوت ہے

  • Duran E Namaz Muhamamd S.A.W.W Ka Adab Kerna

    دورانِ نماز حضورﷺکا ادب کرنا 
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر648 صفحہ نمبر338
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1139 صفحہ نمبر504
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1123 صفحہ نمبر499
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر1156 صفحہ نمبر511
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر2499 صفحہ نمبر983

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 648 Page 338

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1139 Page 504

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1123 Page 499

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 1156 Page 511

    Bukhari Sharif Jild number 1 Hadith number 2499 Page 983

     

    حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے پس رسول اللہﷺکو رُکنا پڑا اور نماز کا وقت ہوگیاتوحضرت بلالؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضرہوکر کہا،نبی کریمﷺکو رُکنا پڑگیالہٰذا آپ لوگوں کی امامت فرمائیں،فرمایااچھا اگر آپ حضرات چاہتے ہیں پس حضرت بلالؓ نے نماز کی اقامت کہی تو حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھ کر نماز پڑھانے لگے،پس رسول اللہﷺ تشریف لے آئے اور صفوں میں سے چلتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوگئے،لوگوں نے تالی بجائی لیکن حضرت ابوبکرؓ نماز میں ادھر اُدھر توجہ نہیں کیا کرتے تھے جب لوگوں نے زیادہ بجائیں تو رسول اللہﷺاُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیتے ہیں کہ نماز پڑھاتے رہیں،حضرت ابوبکرؓ نے ہاتھ اُٹھا کر اَلْحَمدُ لِلِہ کہا اور اُلٹے پاؤں پیچھے آگئے،رسول اللہﷺآگے بڑھ گئے اورلوگوں کو نماز پڑھائی،جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا اے لوگو!تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں کوئی چیز دیکھتے ہو تو تالیاں بجانے لگتے ہو،تالی تو عورت کے لیے ہے اگرنماز میں کوئی چیز دیکھو تو سُبْحانَ اللہ کہو،کیونکہ جو بھی سبحان اللہ سُنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا،اے ابوبکرؓ!تمھیں کس چیز نے روکا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہتے جب کہ میں نے تمھیں اشارہ کیا تھا؟حضرت ابوبکرؓعرض گزار ہوئے،ابنِ ابوقحافہ میں یہ جرات نہیں کہ رسول اللہﷺ کے آگے کھڑا ہوکر نماز پڑھے۔


    ان احادیثِ مبارکہ میں بھی صحابہ کبارؓ کے عشقِ مصطفیﷺکے رنگ نمایاں ہیں، حضورﷺکی کامل محبت ہی کامل ایمان کا معیار ہے جب محبت اس قدر کامل ہوجائے تو اُسے عشق کہا جاتا ہے اور ادب عشق کے درخت کا پھل ہے اسی لیے جب حضورﷺ عمرو بن عوف قبیلہ میں صلح کروانے کیلئے تشریف لے گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جماعت کروائی اور دوران نماز حضورﷺ تشریف لے آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوگئے ، جس صحابی کی نظر حضورﷺپر پڑی اُسی نے ہی تالی بجانی شروع کردی حتیٰ کہ جب بہت زیادہ تالیاں بجنے لگیں تو حضرت ابوبکرؓ نے بھی امامت کا مصلہ خالی چھوڑ دیا حالانکہ حضورﷺنے اشارہ سے حکم بھی دیا کہ آپ نماز پڑھاتے رہیں مگر حضورﷺکے ادب میں حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ آئے اور بعد میں حضورﷺنے نماز مکمل کرائی،بعد از نماز حضورﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ میرے صحابہ!تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی میری تعظیم وتکریم کرنے لگے ہو لہٰذا تمھاری نماز نہیں ہوئی دوبارہ پڑھ لو،ایسا کوئی کلمہ کسی حدیث میں نہیں صرف فرمایا،اے ابوبکرؓ!تمھیں حکم بھی دیا تھا کہ تم نماز پڑھاتے رہتے جس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ!ابن ابو قحافہ یعنی ابوبکرؓ کی مجال نہیں کہ وہ حضورﷺکے آگے کھڑا ہوکر اور حضورﷺکی طرف پشت کرکے نماز پڑھے اس طرح ابوبکرؓ کی نماز نہیں ہوتی،قارئین کرام یہ وہ رسول اللہﷺ کی تعظیم وتکریم کے مستند ثبوت ہیں جو حضورﷺ کے صحابہ نے حضورﷺکی محبت میں اپنی روشن زندگیوں سے رقم کیے ہیں،جن کے زمانے کابھی کوئی ثانی نہیں اور جن کی عبادتوں کی بھی کوئی مثل نہیں،انھیں معلوم تھا کہ دین کی اصل زندگی محبت مصطفیﷺ کی ہے۔


    تعظیمِ شاہِ عربیﷺ فرائض کی اصل روح ہے
    صحابہؓ نماز میں بھی تالی بجا رہے ہیں

  • Hazoor S.A.W Se Kuch Poshida Nahi

    حضورﷺسے کچھ پوشیدہ نہیں

  • Namaz Key Bad Unchi Awaz Mein Zikar Kerna

    فرض نماز کے بعدبلند آواز میں ذکر کرنا
    بخاری شریف جلد نمبر1حدیث نمبر798صفحہ نمبر390


    ابو معبد مولیٰ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے اُنھیں بتایا کہ بلند آواز سے ذکر کرنا جب کہ لوگ فرض نماز سے فارغ ہوجاتے یہ نبی کریمﷺکے زمانہ مبارک میں رائج تھا،حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ میں لوگوں کے فارغ ہونے(نماز سے)کو اسی سے جان لیتا جبکہ اس(بلند آواز سے ذکر کرنے)کو سُنتا۔


    اس حدیثِ مقدسہ سے واضح ہے کہ رسول اللہﷺکے زمانے مبارک میں نمازکے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا معمول تھابعض لوگ ایسا کرنے کو بدعت قرار دیتے ہوئے عقلی دلیل پیش کرتے ہیں کہ اونچی آواز سے ذکر کرنے سے دوسروں کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے حالانکہ مستند حدیثِ مقدسہ کے مقابلے میں عقلی دلیل پیش کرنا کھلی جہالت ہے،اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۱۴ میں سخت سزا سنائی،یعنی جو مسجدوں میں ذکرِ الہیٰ سے روکتے ہیں دنیا میں رسوائی وذلت اور آخرت میں عذابِ عظیم کے مستحق ہوں گے۔

    توحید پہ عقیدہ مُحکم اُنہی سے وَاللہ

    لا شریک ذاتِ اقدس رحمٰن ہے ہمارا

 

تصانیف عمران آفتاب سیدن

جمعہ خطابات عمران آفتاب سیدن

تصاویر(Picture Gallery)